تیل کی آگ اور کفایت شعاری کی دستک
رفیع صحرائی
پاکستان ہی نہیں پوری دنیا اس وقت توانائی کے بحران میں مبتلا ہے۔ اس بحران کی شدت کو کم کرنے کے لیے پاکستان نے بچت کا راستہ اختیار کیا ہے جسے فوری طور پر نافذالعمل کر دیا گیا ہے۔ماضی میں جنگیں کبھی زمینوں کے لیے لڑی جاتی تھیں، کبھی سمندروں کے لیے اور کبھی نظریات کے لیے، مگر آج کی دنیا میں توانائی بھی ایک بڑی طاقت ہے۔ اور یہ طاقت بہت زیادہ اہم بھی ہے۔ جس ملک کے پاس تیل، گیس اور توانائی کے ذرائع ہیں، اس کی اہمیت بڑھ جاتی ہے اور جس ملک کا انحصار دوسروں کی توانائی پر ہو، عالمی بحران اس کے دروازے پر دستک ضرور دیتا ہے۔ آج پاکستان بھی اسی دستک کو سن رہا ہے۔مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگی کشیدگی اور آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل کی ترسیل میں رکاوٹوں نے عالمی توانائی منڈی کو شدید متاثر کیا ہے۔ امریکی انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن کے مطابق 2026 کی دوسری سہ ماہی میں آبنائے ہرمز سے خام تیل اور پٹرولیم مصنوعات کی ترسیل میں خلل کے باعث برینٹ خام تیل کی قیمت ایک موقع پر 118 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی۔یہ صرف اعداد و شمار نہیں، بلکہ دنیا کی معیشت کے لیے خطرے کی گھنٹی ہیں۔ پاکستان جیسے ملک کے لیے یہ صورت حال یقیناً زیادہ تشویش ناک ہے۔ درآمدی ایندھن مہنگا ہو تو صرف پٹرول مہنگا نہیں ہوتا، ٹرانسپورٹ کے اخراجات بڑھتے ہیں، بجلی کی پیداواری لاگت متاثر ہوتی ہے، صنعت پر دباو¿ بڑھتا ہے، اشیائے ضروریہ کی قیمتیں متاثر ہوتی ہیں اور بالآخر عام آدمی کے گھریلو بجٹ پر بوجھ پڑتا ہے۔ایسے وقت میں حکومت نے جو راستہ اختیار کیا ہے وہ بظاہر سادہ ہے مگر اس کے پیچھے ایک واضح معاشی منطق موجود ہے کہ جتنا ایندھن بچایا جاسکے، جتنا غیر ضروری خرچ روکا جاسکے، اتنا ہی بحران کا دباو¿ کم کیا جاسکتا ہے۔ حکومت نے بازاروں، دکانوں اور شاپنگ مالز کو رات نو بجے بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ شادی ہالز اور مارکیز رات دس بجے تک بند ہوں گے جبکہ ریسٹورنٹس، کیفے اور فوڈ آو¿ٹ لیٹس کے لیے رات گیارہ بجے تک کی حد مقرر کی گئی ہے۔ شادی کی تقریبات میں ون ڈش کی پابندی بھی اسی کفایت شعاری مہم کا حصہ ہے۔ ٹیک اوے اور ہوم ڈیلیوری کو البتہ استثنا دیا گیا ہے۔لیکن اس فیصلے کا زیادہ اہم پہلو شاید وہ ہے جو سرکاری دفاتر کے دروازوں کے اندر سے شروع ہوتا ہے۔ سرکاری گاڑیوں کے لیے تین ماہ تک ایندھن کی فراہمی میں پچاس فیصد کمی کی گئی ہے۔ غیر ترقیاتی اخراجات میں پانچ فیصد کمی، نئی گاڑیوں کی خریداری پر پابندی، غیر ضروری اشیا کی خریداری روکنے، سرکاری بیرونِ ملک دوروں کو تین ماہ کے لیے محدود کرنے، ویڈیو کانفرنسنگ کو ترجیح دینے اور غیر ضروری سرکاری عشائیوں و تقریبات سے گریز جیسے اقدامات بھی حکومت کی طرف سے کیے گئے ہیں۔ یہ اچھی بات ہے کہ کفایت شعاری کا آغاز صرف عام شہری سے نہیں بلکہ ریاستی مشینری سے بھی کیا گیا ہے۔بحران کے دنوں میں حکمران اگر قوم سے قربانی مانگیں اور خود مراعات و اخراجات میں کمی نہ کریں تو الفاظ اپنا اثر کھو دیتے ہیں۔ اس کے برعکس جب حکومت سرکاری گاڑیوں کے ایندھن سے لے کر سرکاری دوروں تک اپنے اخراجات محدود کرنے کی کوشش کرتی ہے تو کفایت شعاری کا پیغام زیادہ مو¿ثر انداز میں عوام تک پہنچتا ہے۔دنیا کے بڑے ملک بھی اس بحران سے محفوظ نہیں۔ امریکہ خود ایک بڑی توانائی طاقت اور پٹرولیم مصنوعات کا بڑا برآمد کنندہ ہے، مگر عالمی توانائی منڈی کی حقیقت یہ ہے کہ کوئی ملک مکمل طور پر اس سے الگ نہیں رہ سکتا۔ آبنائے ہرمز میں خلل کے باعث امریکی ریفائنریوں، پٹرولیم مصنوعات کی برآمدات اور عالمی سپلائی کے راستوں پر بھی اثرات مرتب ہوئے۔ امریکی انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن کے مطابق 2026 کی دوسری سہ ماہی میں امریکی ڈسٹلیٹ اور جیٹ فیول کی برآمدات میں نمایاں اضافہ ہوا، کیونکہ عالمی منڈی میں ریفائنڈ مصنوعات کی طلب اور سپلائی کے دباو¿ میں اضافہ ہوا تھا۔ یعنی بحران کی نوعیت ایسی ہے کہ تیل پیدا کرنے والے، تیل برآمد کرنے والے اور تیل درآمد کرنے والے، سب کسی نہ کسی درجے میں متاثر ہو رہے ہیں۔بین الاقوامی مالیاتی فنڈ نے بھی موجودہ صورتحال کو عالمی تیل منڈی کے بڑے جھٹکوں میں شمار کرتے ہوئے نشاندہی کی ہے کہ جنگی حالات نے آبنائے ہرمز کو عملاً متاثر کیا، جہاں سے عالمی تیل اور پٹرولیم مصنوعات کا تقریباً پانچواں حصہ گزرتا ہے۔ اس تناظر میں پاکستان کی کفایت شعاری مہم کو محض بازار جلد بند کرنے کا فیصلہ سمجھنا مناسب نہیں ہوگا۔ یہ دراصل ایک بڑے بحران کے مقابلے میں طلب کم کرنے، ایندھن بچانے اور سرکاری اخراجات قابو میں رکھنے کی کوشش ہے۔ہمارا اصل امتحان بھی یہاں سے شروع ہوتا ہے اور چند سوالات بھی جنم لیتے ہیں۔ ہمیں یہ طے کرنا ہوگا کہ موجودہ بحران ختم ہونے کے بعد بھی کیا ہم توانائی کی بچت کے معاملے میں اسی سنجیدگی کو برقرار رکھ سکیں گے؟ کیا ہم شمسی توانائی، پن بجلی، ہوا سے بجلی پیدا کرنے، توانائی مو¿ثر ٹیکنالوجی، پبلک ٹرانسپورٹ اور مقامی وسائل پر مستقل سرمایہ کاری کریں گے؟ کیا ہمارے شہروں میں توانائی کے ضیاع کو معمول کی بات سمجھنا ختم ہو جائے گا؟بحران ہمیں صرف مشکل حالات ہی نہیں دیتا، سبق بھی دیتا ہے۔حکومت کے حالیہ اقدامات اس اعتبار سے اہم ہیں کہ ان اقدامات نے ایک بار پھر کفایت شعاری کو قومی بحث کا موضوع بنا دیا ہے۔ ضروری خدمات کو اوقات کار کی پابندی سے مستثنیٰ رکھنا بھی اچھا فیصلہ ہے۔ ہسپتال، فارمیسی، کلینکس، میڈیکل لیبارٹریاں، پٹرول پمپس، بیکریاں، تندور، دودھ کی دکانیں، الیکٹرک وہیکل چارجنگ اسٹیشنز اور دیگر ضروری شعبے اس پابندی سے باہر رکھے گئے ہیں۔ یہ توازن ضروری ہے کہ بچت بھی ہو اور زندگی بھی چلتی رہے۔آج کے حالات نے اس سوچ کو بھی جنم دیا ہے کہ پاکستان کو صرف سستی توانائی نہیں، محفوظ توانائی کی ضرورت ہے۔ ایسی توانائی جو کسی دور دراز جنگ، کسی سمندری راستے کی بندش یا عالمی منڈی کے ایک جھٹکے سے ہماری معیشت کو ہلا نہ دے۔دنیا اس وقت تیل کی آگ میں گھری ہوئی ہے۔ پاکستان نے اس آگ کے سامنے پانی کا ایک چھوٹا سا پیالہ رکھا ہے۔ یہ کفایت شعاری کا پیالہ ہے۔ یہ اکیلے تو شاید بحران کو ختم نہ کرسکے، لیکن اگر ریاست اور عوام مل کر ایک ایک بوند بچانے کا عزم کرلیں تو یہی بوندیں آنے والے دنوں میں ایک بڑے قومی ذخیرے کی شکل اختیار کرسکتی ہیں۔بحران ہمیشہ کے لیے نہیں رہتے، مگر بحرانوں سے سیکھے گئے سبق قوموں کے مستقبل بدل دیتے ہیں۔ اب فیصلہ ہمارے ہاتھ میں ہے کہ ہم صرف آج کا ایندھن بچاتے ہیں یا آنے والی نسلوں کی توانائی بھی محفوظ کرتے ہیں۔






