اپنا گھر،خواب سے حقیقت تک
رفیع صحرائی
اپنا گھر انسان کی بنیادی ضرورت ہی نہیں، اس کی عزتِ نفس، ذہنی سکون اور مستقبل کے تحفظ کی علامت بھی ہے۔ اسی لیے تو گھر کو جنت کہتے ہیں۔ پاکستان میں ایک عام آدمی جب ملازمت یا کاروبار شروع کرتا ہے تو اس کی بڑی خواہشات میں ایک خواہش یہ ضرور ہوتی ہے کہ زندگی میں کسی نہ کسی طرح اپنی چھت بنا لے۔ مگر ہوش ربا مہنگائی، زمین کی بڑھتی ہوئی قیمتوں، تعمیراتی اخراجات اور محدود آمدن نے متوسط طبقے کے لیے یہ خواب تقریباً ناممکن بنا دیا ہے۔ یہ طبقہ ساری عمر کرائے کے مکان میں رہنے پر مجبور ہے۔ ایک سرکاری ملازم ہو، استاد ہو، کلرک ہو، نرس ہو، چھوٹا تاجر ہو یا نجی ادارے کا ملازم، بیشتر لوگ ساری عمر کرایہ دیتے دیتے ریٹائر ہوجاتے ہیں مگر اپنی چھت کا خواب پورا نہیں کرپاتے۔ایسے ماحول میں حکومت کی جانب سے کم آمدن اور متوسط طبقے کے لیے سستی رہائش کو ترجیح دینا بلاشبہ قابلِ تحسین اقدام ہے۔ وزیراعظم محمد شہباز شریف کی ”اپنا گھر“ اسکیم اسی سمت میں ایک اہم پیش رفت ہے۔ اپریل 2026 میں اس پروگرام کے آغاز کے وقت 20 سال تک کی مدت کے لیے 10 ملین روپے تک کے قرضوں کا اعلان کیا گیا تھا، جبکہ حکومت نے آئندہ چار برسوں میں پانچ لاکھ گھروں کی فنانسنگ کا ہدف بھی مقرر کیا۔اس پروگرام کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ ستمبر 2026 تک 147,504 درخواستیں موصول ہوچکی تھیں، جن میں سے 53,127 منظور کی گئیں، جبکہ 8,739 افراد کو 45.43 ارب روپے کے قرضے جاری کیے جاچکے ہیں۔ وزیراعظم نے اب صوبائی چیف سیکریٹریوں کو ایسی جائیدادوں کا جامع سروے کرنے کی ہدایت بھی کی ہے جنہیں گھر بنانے کے خواہش مند افراد کے لیے قرضوں کے حصول میں استعمال کیا جاسکے۔ یہ پیش رفت اور اعدادوشمار حوصلہ افزا ضرور ہیں، مگر اصل کامیابی اس وقت ہوگی جب ”اپنا گھر“ محض قرض لینے کی اسکیم نہ رہے بلکہ عام آدمی کے لیے واقعی اپنی چھت حاصل کرنے کا قومی پروگرام بن جائے۔اس سلسلے میں حکومت کو ایک قدم آگے بڑھ کر متوسط اور نچلے متوسط طبقے کے لیے خود بھی خصوصی رہائشی کالونیاں تعمیر کرنی چاہئیں۔ ان مکانات یا فلیٹس کی ادائیگی کم از کم بیس سال کی آسان اقساط میں رکھی جائے اور ماہانہ قسط اتنی ہو جو ایک عام خاندان کی آمدن کے تناسب سے قابلِ برداشت ہو۔ اگر کوئی شخص آج تیس یا چالیس ہزار روپے کرایہ ادا کررہا ہے تو اسے اسی کے قریب رقم میں اپنے گھر کی قسط ادا کرنے کا موقع مل جائے تو وہ کرایہ دار سے مالک بن سکتا ہے۔یہاں حکومت کے لیے ایک اور قابلِ عمل راستہ کثیر المنزلہ ہاو¿سنگ کالونیاں ہیں۔ بڑے شہروں میں زمین انتہائی مہنگی ہے۔ ہر خاندان کے لیے الگ پلاٹ فراہم کرنا نہ صرف مہنگا بلکہ شہری منصوبہ بندی کے اعتبار سے بھی مشکل ہے۔ اس کے مقابلے میں کئی منزلہ عمارات تعمیر کرکے کم رقبے میں زیادہ خاندانوں کو باعزت رہائش فراہم کی جاسکتی ہے۔ البتہ یہ عمارات محض کنکریٹ کے ڈبے نہ ہوں بلکہ جدید شہری سہولتوں سے آراستہ مکمل رہائشی بستیاں ہوں۔ہر ہاو¿سنگ کالونی میں اسکول، بنیادی مرکز صحت، مسجد، پارک، کھیل کا میدان، مارکیٹ، صاف پانی، سیوریج، بجلی، سولر سہولت اور پبلک ٹرانسپورٹ کا مناسب انتظام ہونا چاہیے۔ آخر گھر صرف چار دیواروں کا نام نہیں؛ اگر شہری کو بچوں کے اسکول، علاج اور روزگار کے لیے روزانہ کئی گھنٹے سفر کرنا پڑے تو سستی رہائش کا مقصد ادھورا رہ جائے گا۔اس پروگرام میں میرٹ اور شفافیت سب سے بنیادی شرط ہونی چاہیے۔ حکومت کو یہ یقینی بنانا ہوگا کہ ہاو¿سنگ اسکیمیں سیاسی وابستگی، سفارش یا اثرورسوخ رکھنے والوں کے لیے مراعات کا ذریعہ نہ بنیں۔ مکان کی فراہمی کے لیے درخواست گزار کی آمدن، خاندان کے افراد، پہلے سے موجود جائیداد اور رہائش کی حقیقی ضرورت کو بنیاد بنایا جائے۔ درخواست سے لے کر الاٹمنٹ تک تمام مراحل ڈیجیٹل اور قابلِ نگرانی ہوں، جبکہ قرعہ اندازی کی صورت میں بھی مکمل شفافیت اختیار کی جائے۔رہائشی مکانات کی الاٹمنٹ میں سرکاری ملازمین کو ترجیح دینا مناسب ہوسکتا ہے کیونکہ استاد، پولیس اہلکار، نرس، کلرک اور دیگر ملازمین اپنی پوری زندگی ریاستی اور عوامی خدمت میں گزار دیتے ہیں، انہیں رہائشی سہولت ضرور ملنی چاہیے۔ لیکن اس پروگرام کا دائرہ نجی شعبے کے ملازمین، چھوٹے کاروباری افراد اور حقیقی مستحق خاندانوں تک بھی پھیلایا جانا چاہیے۔ پاکستان میں ہاو¿سنگ کا مسئلہ اتنا بڑا ہے کہ اسے کسی ایک طبقے تک محدود نہیں کیا جاسکتا۔حکومت کے پاس موجود غیر استعمال شدہ سرکاری اراضی بھی اس مقصد کے لیے استعمال کی جاسکتی ہے۔ اگر مختلف شہروں میں سرکاری اداروں کی فاضل زمین کو شفاف طریقے سے کم لاگت کی ہاو¿سنگ کے لیے مختص کیا جائے تو مکان کی مجموعی قیمت میں نمایاں کمی لائی جاسکتی ہے۔ اسی طرح نجی شعبے کو بھی مراعات دے کر کم قیمت رہائشی منصوبوں میں شریک کیا جاسکتا ہے۔ حکومت پہلے ہی تعمیراتی شعبے میں نجی سرمایہ کاری اور پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کی حوصلہ افزائی کی سمت میں کام کر رہی ہے، جسے مزید مو¿ثر بنایا جاسکتا ہے۔ایک اور اہم ضرورت تعمیراتی لاگت کم کرنا ہے۔ اگر حکومت بڑے پیمانے پر تعمیراتی سامان خریدنے کے لیے اجتماعی خریداری کا نظام بنائے، مقامی صنعت کو مراعات دے اور معیاری مگر کم لاگت تعمیراتی ڈیزائن متعارف کرائے تو مکان کی قیمت مزید کم ہوسکتی ہے۔ اس کے ساتھ سولر پینلز، توانائی بچانے والی تعمیر اور بارش کے پانی کے بہتر استعمال کو بھی منصوبے کا حصہ بنایا جانا چاہیے تاکہ گھر ملنے کے بعد بجلی اور پانی کے اخراجات بھی کم رہیں۔یہ بھی خوش آئند ہے کہ حکومت نے کم لاگت ہاو¿سنگ فنانس کے لیے مالی معاونت کا سلسلہ آگے بڑھایا ہے۔ قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی کو دی گئی بریفنگ کے مطابق موجودہ ہاو¿سنگ فنانس پروگرام کا مقصد کم اور متوسط آمدن والے خاندانوں کو گھر کا مالک بنانا اور تعمیراتی سرگرمیوں کو فروغ دینا ہے۔ ضرورت صرف یہ ہے کہ اس پورے عمل میں رفتار، شفافیت اور تسلسل برقرار رہے۔ قرض منظور ہونے اور رقم ملنے کے درمیان غیر ضروری تاخیر، بینکوں کی پیچیدہ شرائط، کاغذی کارروائی اور جائیداد کے قانونی مسائل عام آدمی کی راہ میں بڑی رکاوٹ بن سکتے ہیں۔ حکومت کو ”ایک ونڈو“ نظام متعارف کرانا چاہیے جہاں شہری کو قرض، نقشہ، منظوری، رجسٹری اور دیگر معاملات کے لیے مختلف دفاتر کے چکر نہ لگانے پڑیں۔اگر ”اپنا گھر“ پروگرام اس انداز میں آگے بڑھتا ہے تو اس کے فوائد صرف ہاو¿سنگ تک محدود نہیں رہیں گے۔ لاکھوں گھروں کی تعمیر سے سیمنٹ، سریا، اینٹ، ٹائل، لکڑی، فرنیچر، بجلی، پلمبنگ اور تعمیراتی مزدوری سمیت درجنوں شعبوں میں روزگار پیدا ہوگا۔ یوں ایک گھر کی تعمیر دراصل معیشت کے کئی پہیوں کو حرکت دے گی۔وزیراعظم کا یہ اقدام اس لیے بھی قابلِ ستائش ہے کہ اپنی چھت کسی شہری کے لیے محض جائیداد نہیں، زندگی بھر کی محنت کا حاصل ہوتی ہے۔ جس دن ایک کرایہ دار کو اپنے گھر کی چابی ملتی ہے، اس دن اس کے خاندان کو صرف ایک مکان نہیں ملتا، اسے مستقبل کا اطمینان، بچوں کے لیے تحفظ اور زندگی میں ایک مستقل سہارا ملتا ہے۔ دیکھا جائے تو حکومت نے سمت درست اختیار کی ہے؛ اب اسے رفتار اور شفافیت کے ساتھ منزل تک پہنچانے کی ضرورت ہے۔ اگر پاکستان کے لاکھوں متوسط اور کم آمدن والے خاندانوں کو بیس سال کی قابلِ برداشت اقساط، میرٹ پر مبنی الاٹمنٹ اور بنیادی سہولتوں سے آراستہ گھروں کی فراہمی ممکن ہوگئی تو یہ محض ایک حکومتی اسکیم نہیں بلکہ ایک سماجی انقلاب ہوگا۔






