بچے فیل ہوئے یا نظامِ تعلیم،نویں جماعت کے نتائج ….ایک خطرے کی گھنٹی
ڈاکٹر عمرانہ مشتاق
پنجاب کے تعلیمی بورڈز نے نویں جماعت کے سالانہ امتحانات 2026 کے نتائج جاری کر دیے ہیں اور اعداد و شمار ایسے ہیں جنہیں محض ایک ”خراب رزلٹ“ کہہ کر نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ یہ نتیجہ دراصل ہمارے پورے تعلیمی نظام کے لیے خطرے کی گھنٹی ہے۔ لاہور بورڈ میں 2 لاکھ 80 ہزار 676 طلبہ امتحان میں شریک ہوئے، مگر صرف 1 لاکھ 30 ہزار 543 کامیاب ہوئے۔ یوں کامیابی کی شرح محض 46.51 فیصد رہی اور تقریباً 53.5 فیصد طلبہ مطلوبہ معیار حاصل نہ کر سکے۔صورتِ حال صرف لاہور تک محدود نہیں۔ دستیاب بورڈ وار اعداد و شمار کے مطابق پنجاب کے نو تعلیمی بورڈز میں مجموعی طور پر تقریباً 13 لاکھ 95 ہزار طلبہ نے امتحان دیا، جن میں قریب 6 لاکھ 42 ہزار کامیاب ہوئے۔ مجموعی کامیابی تقریباً 46 فیصد اور ناکامی تقریباً 54 فیصد بنتی ہے۔ ملتان میں کامیابی کی شرح 52.11، فیصل آباد میں 51.21، ڈی جی خان میں 48.18، گوجرانوالہ میں 46.53، لاہور میں 46.51، ساہیوال میں 43.41، سرگودھا میں 42.61، بہاولپور میں 38.46 جبکہ راولپنڈی میں صرف 37.56 فیصد رپورٹ ہوئی۔یہ اعداد پڑھ کر پہلا سوال یہی ذہن میں آتا ہے کہ آخر ایک ہی سال میں اتنے بچے کمزور کیسے ہو گئے. کیا واقعی ہمارے آدھے سے زیادہ بچے پڑھنے کے قابل نہیں کیا سب نے محنت چھوڑ دی یا اصل مسئلہ کہیں اور ہے.لاہور بورڈ کے نتائج کو مزید گہرائی سے دیکھا جائے تو ایک اور تشویش ناک تصویر سامنے آتی ہے۔ سرکاری اداروں کے ریگولر امیدواروں کی کامیابی کی شرح تقریباً 39.98 فیصد رہی، جبکہ نجی تعلیمی اداروں کے ریگولر امیدواروں میں یہ شرح 70.92 فیصد تھی۔ یہ فرق معمولی نہیں بلکہ تیس فیصد سے بھی زیادہ ہے۔ اگر امتحان ایک ہے، نصاب ایک ہے اور بورڈ بھی ایک ہے تو پھر سرکاری اور نجی تعلیمی اداروں کے نتائج میں اتنا بڑا فرق کیوں ہے یہ سوال محکمہ تعلیم کو ضرور اپنے آپ سے پوچھنا چاہیے۔اسی طرح لڑکیوں اور لڑکوں کے نتائج میں بھی حیرت انگیز فرق ہے۔ لاہور بورڈ میں طالبات کی کامیابی کی شرح 54.62 فیصد جبکہ طلبہ کی صرف 37.08 فیصد رہی۔ یہ فرق ہمیں لڑکوں کی تعلیم، حاضری، تعلیمی دلچسپی، موبائل اور سوشل میڈیا کے استعمال اور سکول سے باہر کی سرگرمیوں کے بارے میں بھی سنجیدگی سے سوچنے پر مجبور کرتا ہے۔مضامین کے نتائج بھی بہت کچھ بتاتے ہیں۔ لاہور بورڈ کے اعداد کے مطابق اردو میں کامیابی تقریباً 93.93 فیصد، اسلامیات میں 91.35 فیصد اور انگریزی میں 80.52 فیصد رہی، لیکن ریاضی میں یہ شرح 62.34 فیصد اور جنرل سائنس میں 57.44 فیصد تک گر گئی۔ کیمسٹری میں 70.89، بائیولوجی میں 73.84 اور کمپیوٹر سائنس اینڈ انٹرپرینیورشپ میں 69.23 فیصد طلبہ کامیاب ہوئے۔ صاف ظاہر ہے کہ مسئلہ صرف بچوں کی عمومی قابلیت کا نہیں بلکہ بعض مضامین کی تدریس، بنیادی تصورات کی کمزوری اور امتحانی تیاری سے بھی متعلق ہے۔ہمیں یہ بھی تسلیم کرنا ہوگا کہ نویں جماعت بچے کی تعلیمی زندگی میں اچانک آنے والا ایک بڑا موڑ ہے۔ آٹھویں تک بہت سے بچے ایسے نظام سے گزرتے ہیں جہاں انہیں اگلی جماعت میں پہنچا دینا نسبتاً آسان ہوتا ہے۔ نویں میں پہنچتے ہی ان کا سامنا بورڈ کے نصاب، زیادہ مواد، باقاعدہ امتحانی طریقہ کار اور نسبتاً سخت جانچ سے ہوتا ہے۔ جس بچے کی چھٹی، ساتویں اور آٹھویں جماعت کی بنیاد کمزور ہو، اس سے نویں میں اچانک اعلیٰ کارکردگی کی توقع کیسے کی جا سکتی ہے؟دوسرا بڑا مسئلہ رٹّا کلچر ہے۔ ہم نے بچے کو سوال سمجھنا کم اور جواب یاد کرنا زیادہ سکھایا ہے۔ گیس پیپر، اہم سوالات، پانچ سالہ پرچے اور تیار شدہ نوٹس ہماری تعلیمی حکمتِ عملی بن چکے ہیں۔ سوال ذرا مختلف انداز میں آ جائے تو طالب علم پریشان ہو جاتا ہے۔ ریاضی اور سائنس میں تو یہ طریقہ بالخصوص تباہ کن ہے کیونکہ یہاں اگلا تصور پچھلے تصور کی مضبوطی پر قائم ہوتا ہے۔اساتذہ کو بھی مکمل طور پر بری الذمہ قرار نہیں دیا جا سکتا، لیکن ساری ذمہ داری ان پر ڈال دینا بھی ناانصافی ہوگی۔ استاد سے تدریس کے ساتھ مختلف انتظامی، ڈیٹا اور غیر تدریسی ذمہ داریاں لی جائیں، کلاسوں میں بچوں کی تعداد زیادہ ہو، کہیں متعلقہ مضمون کا استاد ہی دستیاب نہ ہو اور پھر سال کے آخر میں خراب نتیجے کا پورا بوجھ ایک استاد یا ہیڈ ٹیچر پر ڈال دیا جائے تو مسئلہ حل نہیں ہوگا۔البتہ جہاں غفلت ہے وہاں احتساب بھی ضروری ہے۔ پنجاب میں ایسے سکول بھی سامنے آئے ہیں جن کا نویں جماعت کا نتیجہ صفر فیصد رہا۔ محکمہ سکول ایجوکیشن نے ایسے سرکاری سکولوں کے سربراہان کے خلاف کارروائی کے لیے تفصیلات طلب کی ہیں۔ راولپنڈی بورڈ کے دائرہ کار میں ہی 184 سکولوں کا صفر فیصد نتیجہ رپورٹ ہوا، جن میں 81 سرکاری سکول شامل ہیں۔ صفر فیصد نتیجہ کسی ایک بچے کی ناکامی نہیں، یہ ادارے کی کارکردگی کا سنجیدہ سوال ہے۔والدین بھی اس بحث سے باہر نہیں رہ سکتے۔ بچے کے ہاتھ میں مہنگا موبائل دے دینا، اسے گھنٹوں سوشل میڈیا، شارٹ ویڈیوز اور گیمنگ میں مصروف رہنے دینا اور نتیجہ آنے پر سارا الزام سکول پر ڈال دینا درست رویہ نہیں۔ نویں اور دسویں جماعت میں بچے کو نگرانی کے ساتھ اعتماد، مناسب مطالعے کا ماحول اور وقت کی تنظیم بھی درکار ہوتی ہے۔ والدین کو صرف رزلٹ والے دن نہیں بلکہ پورا سال بچے کی تعلیم سے وابستہ رہنا ہوگا۔ایک اور مسئلہ ٹیوشن اور اکیڈمی کلچر ہے۔ جب سکول کی تعلیم کے باوجود بچے کو ہر مضمون کے لیے الگ ٹیوشن درکار ہو تو ہمیں رک کر سوچنا چاہیے کہ سکول میں آٹھ گھنٹے گزارنے کا حاصل کیا ہے؟ دوسری طرف غریب والدین ہر مضمون کی اکیڈمی اور ٹیوشن کا خرچ برداشت نہیں کر سکتے۔ یوں تعلیم بھی رفتہ رفتہ طبقاتی تقسیم کا شکار ہو رہی ہے۔اس مسئلے کا حل صرف شوکاز نوٹس جاری کرنا نہیں۔ سب سے پہلے ہر بورڈ کے نتائج کا سکول وار اور مضمون وار تعلیمی آڈٹ ہونا چاہیے۔ یہ دیکھا جائے کہ کس سکول میں ریاضی، انگریزی یا سائنس میں زیادہ بچے کمزور ہیں اور وہاں متعلقہ مضمون کے کتنے تربیت یافتہ اساتذہ موجود ہیں۔ جن سکولوں کا نتیجہ مسلسل خراب ہے وہاں صرف سزا نہیں بلکہ استاد، وسائل اور تدریسی معاونت بھی فراہم کی جائے۔دوسرا آٹھویں جماعت کے اختتام پر بچوں کا ایک تشخیصی امتحان ہونا چاہیے جس کا مقصد بچے کو فیل کرنا نہ ہو بلکہ یہ معلوم کرنا ہو کہ نویں میں داخل ہونے سے پہلے ریاضی، انگریزی، سائنس اور اردو میں اس کی بنیادی کمزوریاں کیا ہیں۔ گرمیوں کی تعطیلات یا تعلیمی سال کے ابتدائی ہفتوں میں کمزور طلبہ کے لیے خصوصی اصلاحی کلاسیں رکھی جا سکتی ہیں۔تیسرا، ہر سرکاری سکول کے لیے چند واضح تعلیمی اشاریے مقرر کیے جائیں: اساتذہ اور طلبہ کی حاضری، ماہانہ ٹیسٹ، مضمون وار پیش رفت، کمزور بچوں کی فہرست اور والدین سے رابطہ۔ یہ ڈیٹا صرف فائلیں بھرنے کے لیے نہیں بلکہ بروقت اصلاح کے لیے استعمال ہونا چاہیے۔چوتھا، ریاضی اور سائنس کی تدریس کو خصوصی توجہ دی جائے۔ تجربہ گاہیں فعال ہوں، تصورات عملی انداز میں سمجھائے جائیں اور بچوں کو سوال کرنے کی آزادی دی جائے۔ استاد کی تربیت بھی محض چند روزہ ورکشاپ تک محدود نہ ہو بلکہ کلاس روم میں اس کے عملی اثرات کا جائزہ لیا جائے۔پانچواں، امتحانی نظام اور نصاب میں ہونے والی تبدیلیاں بچوں اور اساتذہ پر اچانک نہ مسلط کی جائیں۔ نئی گریڈنگ، پاسنگ معیار، پیپر پیٹرن یا تصوری جانچ متعارف کرانے سے پہلے اساتذہ، طلبہ اور والدین کو پوری طرح آگاہ اور تیار کرنا ضروری ہے۔ امتحان کا مقصد بچوں کو پکڑ کر ناکام کرنا نہیں بلکہ یہ جانچنا ہے کہ انہیں کیا آتا ہے اور کہاں مدد کی ضرورت ہے۔اور سب سے اہم بات یہ کہ ان نتائج کے بعد بچوں کو ذلیل یا ذہنی طور پر توڑنے سے گریز کیا جائے۔ ایک مضمون میں کم نمبر یا ناکامی کسی بچے کی ذہانت اور پوری زندگی کا فیصلہ نہیں۔ والدین نتیجہ دیکھ کر بچے کو دوسروں سے نہ ملائیں۔ پہلے اس کی کمزوری تلاش کریں، پھر اسے بہتر ہونے کا راستہ دیں۔نویں جماعت کے 2026 کے نتائج ہمیں ایک موقع دے رہے ہیں کہ ہم اپنی تعلیمی پالیسی پر سنجیدگی سے نظرثانی کریں۔ اگر تقریباً نصف بچے مطلوبہ معیار تک نہیں پہنچ رہے تو مسئلہ صرف بچوں میں نہیں ہو سکتا۔ کہیں نصاب، کہیں تدریس، کہیں سکول انتظامیہ، کہیں امتحانی نظام، کہیں والدین اور کہیں خود ہماری اجتماعی ترجیحات میں خرابی موجود ہے۔قومیں خراب رزلٹ چھپا کر ترقی نہیں کرتیں، اس کی وجہ تلاش کرکے کرتی ہیں۔آج ہمیں یہ فیصلہ کرنا ہے کہ ہم لاکھوں بچوں کے سامنے ”ناکام“ لکھ کر مطمئن ہو جائیں گے یا اپنے تعلیمی نظام سے بھی سوال کریں گے؟بچے کا رزلٹ کارڈ تو ہمارے ہاتھ میں ہے، لیکن ہمارے نظامِ تعلیم کا رزلٹ کارڈ کون بنائے گا؟یہ عنوان ”بچے فیل ہوئے یا نظامِ تعلیم“ کالم کے مرکزی سوال کو زیادہ مو¿ثر انداز میں سامنے لاتا ہے اور اخباری کالم کے لیے بھی موزوں ہے۔






