#کالم

کرسی کا کیڑا اور ملک کا زوال

mirza rizwan

مرزا رضوان

کہتے ہیں کہ اقتدار کا نشہ دیگر تمام نشوں سے زیادہ مہلک اور بے رحم ہوتا ہے۔ جب کوئی شخص یا طبقہ حکومت اور اختیار کی کرسی پر براجمان ہوتا ہے، تو وقت کے ساتھ ساتھ اس کے اندر ایک عجیب و غریب تبدیلی جنم لیتی ہے۔ کرسی محض لکڑی ?ا کپڑے کا ایک فریم نہیں ہوتی، بلکہ یہ طاقت، وسائل اور بے لگام اختیارات کی علامت بن جاتی ہے۔ لیکن المیہ یہ ہے کہ جب کرسی حاصل کرنے اور اسے بچانے کی ہوس انسان کی سوچ پر غالب آ جائے، تو وہی کرسی اس کی اخلاقیات، بصیرت اور احساسِ ذمہ داری کو دیمک کی طرح چاٹنے لگتی ہے۔ انسان یہ بھول جاتا ہے کہ یہ عہدہ عارضی اور ایک امانت تھا، اور یہی بھول اس کے اخلاقی و سیاسی زوال کا سبب بنتی ہے۔”کرسی کا کیڑا” دراصل اس خود غرضی، تکبر اور اقتدار کی اندھی ہوس کا نام ہے جو انسان کے اندر خاموشی سے پرورش پاتی ہے۔ یہ کیڑا سب سے پہلے خود کرسی کو کھا جاتا ہے، یعنی اس عہدے کی حرمت، اس کے وڑن اور اس کے حقیقی مقصد کو پامال کر دیتا ہے۔ ایک حکمران، سیاست دان یا صاحبِ اختیار کا اصل فرض عوام کی خدمت، انصاف کی فراہمی اور ریاست کی ترقی ہوتا ہے۔ لیکن جب وہ اس نفسیاتی بیماری یعنی "کرسی کے کیڑے” کا شکار ہو جاتا ہے، تو اس کا تمام تر فکری و عملی محور صرف اور صرف اپنی نشست کو برقرار رکھنا بن جاتا ہے۔ تمام فیصلے عوامی بھلائی کے لیے نہیں بلکہ اقتدار کی عمر دراز کرنے کے لیے کیے جاتے ہیں۔ اصول قربان کر دیے جاتے ہیں، حلف کی پاسداری بھلا دی جاتی ہے، اور قانون کو اپنی پسند کے مطابق ڈھال لیا جاتا ہے۔ یوں کرسی کا اصل مقصد ختم ہو جاتا ہے اور وہ محض اقتدار کی ایک بے روح علامت بن کر رہ جاتی ہے۔لیکن المیہ یہاں ختم نہیں ہوتا؛ بات جب صرف ایک فرد یا ایک عہدے سے آگے بڑھتی ہے، تو "کرسی کا نشہ” پورے ملک کو اپنی لپیٹ میں لے لیتا ہے۔ اقتدار کا نشہ انسان سے حواس، بصیرت اور بنیادی انسانی ہمدردی چھین لیتا ہے۔ جب کسی ریاست کی باگ ڈور ایسے ہاتھوں میں آ جائے جو اقتدار کی خماری میں دھت ہوں، تو ملک کی بنیادیں ہلنے لگتی ہیں۔ معیشت تباہی کے دہانے پر پہنچ جاتی ہے، ادارے زوال پذیر ہو جاتے ہیں، اور معاشرتی ناانصافی اپنے عروج پر پہنچ جاتی ہے۔ حاکمِ وقت کو عام آدمی کی چیخ و پکار اور بھوک افلاس دکھائی نہیں دیتی، کیونکہ اس کی آنکھوں پر اقتدار کی پٹی اور کانوں میں نعرہ بازی کا شور ہوتا ہے۔تاریخ کے صفحات پلٹ کر دیکھیں تو معلوم ہوتا ہے کہ جتنی بھی عظیم قومیں اور سلطنتیں زوال کا شکار ہوئیں، ان کی تباہی کا آغاز اندرونی طور پر اسی نشے سے ہوا۔ جب حکمران طبقے کی پہلی اور آخری ترجیح ملک کی سلامتی، عوام کی خوشحالی اور آئین کی حکمرانی کے بجائے اپنی مسند کی حفاظت بن جائے، تو ریاست اندر سے کھوکھلی ہونا شروع ہو جاتی ہے۔ اداروں میں میرٹ کی دھجیاں اڑا کر من پسند افراد کو مسلط کرنا، قومی خزانے کو ذاتی تشہیر کے لیے استعمال کرنا، اور سیاسی مخالفین کو دبانے کے لیے ریاستی طاقت کا بے دریغ استعمال، اسی نشے کے واضح مظاہر ہیں۔اس صورتحال کا سب سے خوفناک پہلو یہ ہے کہ یہ بیماری صرف ایوانوں تک محدود نہیں رہتی بلکہ پورے معاشرے کے تانے بانے کو بکھیر دیتی ہے۔ جب عام شہری یہ دیکھتا ہے کہ قانون صرف کمزور کے لیے ہے اور صاحبِ اقتدار ہر جرم سے مبرّا ہے، تو معاشرے سے آئین و قانون کی پاسداری کا احترام ختم ہو جاتا ہے۔ عدم برداشت، رشوت ستانی، اور خود غرضی کا ایک ایسا طوفان جنم لیتا ہے جو قومی یکجہتی کو نگل جاتا ہے۔ کرسی پر بیٹھا شخص تو چند برسوں بعد چلا جاتا ہے، لیکن جو اخلاقی اور معاشی تباہی وہ ریاست کے وجود میں بو جاتا ہے، اس کے زخم بھرنے میں دہائیاں لگ جاتی ہیں۔حقیقت یہ ہے کہ کرسی کوئی عیش و عشرت کا تخت نہیں بلکہ سنگین امانت اور بھاری ذمہ داری ہے۔ جب تک ہم بحیثیت مجموعی کرسی کو خدمت کا ذریعہ نہیں سمجھیں گے اور اقتدار پر براجمان افراد کو قانون و آئین کا تابع نہیں بنائیں گے، اس وقت تک ہم اس مہلک نشے کے اثرات سے آزاد نہیں ہو سکتے۔ قومیں کرسیوں پر بیٹھنے والوں کے شاندار دعوو¿ں سے نہیں بلکہ ان کے شفاف فیصلوں اور عوامی خدمات سے بنتی ہیں۔ اگر آج بھی ہم نے اس کرسی کے کیڑے کو نہ مارا اور اس کے نشے میں دھت رویوں کا راستہ نہ روکا، تو پھر نہ کرسی بچے گی اور نہ وہ ملک جس کی سلامتی پر یہ کھیل کھیلا جا رہا ہے۔

کرسی کا کیڑا اور ملک کا زوال

10/09/2026 Daily Sarzameen Lahore

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے