علامہ عبد الستار عاصم ،کتابوں سے بے لوث محبت کا نام
شاکر حسین شاکر صاحب
کتابوں کی دنیا میں بعض لوگ ایسے ہوتے ہیں جن کے لیے کتاب صرف ایک شے، ایک کاروبار یا کاغذ کے چند صفحات کا مجموعہ نہیں ہوتی بلکہ ان کی زندگی کا مقصد بن جاتی ہے۔ علامہ عبد الستار عاصم بھی انہی لوگوں میں سے ہیں۔ کتاب ان کا اوڑھنا بچھونا ہے۔ وہ کتاب لکھتے، پڑھتے اور شائع کرتے ہیں۔ پھر دوستوں میں بانٹ دیتے ہیں۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ کتاب ان کے لیے کاروبار نہیں، ایک مشن ہے۔
بلکہ ایک ایسی ذمہ داری ہے جسے وہ پوری دیانت اور محبت کے ساتھ نبھا رہے ہیں۔یہ کام کرتے کرتے آج ان کا شمار پاکستان کے ان نمایاں پبلشرز میں ہوتا ہے جن کے بارے میں بلاشبہ کہا جا سکتا ہے کہ وہ آئے اور چھا گئے۔عبد الستار عاصم نے اپنے سفر کا آغاز بنیادی طور پر کتاب دوستی کی وجہ سے کیا۔ انہیں بہت پہلے اندازہ ہو گیا تھا کہ پاکستان میں کتاب کے لیے حالات اچھے نہیں رہے۔ مطالعے کا رجحان کم ہو رہا ہے، کتاب پر زندگی تنگ ہوتی جا رہی ہے، کاغذ مہنگا ہے، پرنٹنگ کے اخراجات بڑھتے جا رہے ہیں، بائنڈنگ مہنگی ہے اور دوسری طرف لکھنے والا بھی اپنے مسائل میں گھرا ہوا ہے۔ ایسے مشکل حالات میں کتاب شائع کرنا ایک ایسا کام ہے جس میں منافع سے زیادہ حوصلے کی ضرورت ہوتی ہے۔مگر عبد الستار عاصم نے اسی مشکل شعبے کا انتخاب کیا اور قلم فاو¿نڈیشن کے نام سے ایک پبلشنگ ادارہ قائم کر دیا۔اس کے بعد انہوں نے جس رفتار سے کتابیں شائع کیں، وہ اپنی جگہ ایک مثال ہے۔ یہ بات اپنی جگہ درست ہے کہ جب کوئی شخص بہت تیزی سے کام کرتا ہے تو بعض اوقات وہ باریکیاں، معیار اور وہ ٹھہراو¿ پیدا نہیں ہو پاتا جو سکون اور فرصت کے ساتھ کام کرنے سے آتا ہے، لیکن اس کے باوجود عبد الستار عاصم نے اپنے ہم عصر پبلشرز کے مقابلے میں جس تیزی سے کتابوں کی دنیا میں اپنی جگہ بنائی، وہ قابلِ ذکر ہے۔انہوں نے اب تک مختلف موضوعات پر ہزاروں کتابیں شائع کی ہیں اور ان میں بہت سی ایسی کتابیں بھی شامل ہیں جو نادر و نایاب تھیں، جنہیں دوبارہ شائع ہونا چاہیے تھا اور جن کے بغیر ہماری ادبی و علمی تاریخ کا ایک حصہ نئی نسل تک نہیں پہنچ سکتا تھا۔ایک زمانے میں پاکستان میں کتابوں کی اشاعت اور فروخت کے کئی بڑے ادارے ہوا کرتے تھے۔ جیسے سنگ میل پبلی کینشز لاہور، بک کارنر جہلم،مکتبہ دانیال کراچی،جہانگیر بک ڈپو، مشتاق بک کارنر، فیروز سنز، کلاسیک، مقبول اکیڈمی، وینگارڈ، مرزا بک ایجنسی، علم و عرفان، آج کراچی۔اکادمی بازیافت کراچی لاہور اکیڈمی،خزینہ علم و ادب، کتاب سرائے، فضلی سنز، ویلکم بک ہاو¿س اور ایسے ہی کتنے شاندار ادارے تھے جو کتاب کے فروغ میں اپنا کردار ادا کر رہے تھے۔ ان میں سے بیشتر ادارے آہستہ آہستہ کتاب سے لوگوں کی عدم دلچسپی، بڑھتے ہوئے اخراجات اور بدلتے ہوئے معاشرتی رویوں کی وجہ سے ختم ہوتے گئے۔آج صورتِ حال یہ ہے کہ کتابیں شائع کرنے والے فعال اداروں کے نام انگلیوں پر گنے جا سکتے ہیں۔ایسے میں قلم فاو¿نڈیشن نے کتاب کی شمع روشن رکھنے کے لیے جو کام شروع کیا، وہ نہ صرف جاری و ساری ہے بلکہ اس کے پیچھے ایک واضح خواہش بھی ہے کہ کتاب ہر گھر تک پہنچنی چاہیے۔عبد الستار عاصم جس تیزی سے کتاب چھاپتے ہیں، اسی تیزی سے اسے لوگوں تک پہنچانے کی کوشش بھی کرتے ہیں۔ ان کی شخصیت کو اگر ایک جملے میں بیان کرنا ہو تو شاید اس سے بہتر کوئی جملہ نہیں ہوگا کہ:وہ کتاب سے بے لوث محبت کرتے ہیں۔شاید انہی جیسے لوگوں کے لیے یہ مصرعے کہے گئے ہیں:
"قبروں میں نہیں، ہم کو کتابوں میں اتارو
ہم لوگ محبت کی کہانی میں مرے ہیں۔”
عبد الستار عاصم کو دیکھ کر واقعی محسوس ہوتا ہے کہ وہ کتاب کے بغیر جینا نہیں چاہتے۔
یہی وجہ ہے کہ وہ حکومت سے بھی مسلسل مطالبہ کرتے رہتے ہیں کہ کتاب کے مسائل حل کیے جائیں۔ لائبریری گرانٹس میں اضافہ ہو، کاغذ سستا کیا جائے، پرنٹنگ میٹریل کی قیمت کم کی جائے، گتے کے نرخ کم ہوں اور کتاب شائع کرنے والے اداروں کو سبسڈی دی جائے، تاکہ پاکستان میں کتاب کا چراغ بجھنے نہ پائے۔اسی سلسلے میں ایک روز ہمیں ڈاک سے علامہ عبد الستار عاصم کی نئی کتاب "ٹرپل نائن ٹریلین ڈالر۔ دولت سے آگے کا سفر” موصول ہوئی۔بڑے سائز کی یہ کتاب بہت خوب صورت انداز میں شائع کی گئی ہے۔ عام طور پر جب کتاب خوب صورت کاغذ، عمدہ طباعت اور بہتر پیش کش کے ساتھ شائع ہوتی ہے تو اس کی قیمت بھی خاصی زیادہ ہوتی ہے، لیکن یہاں حیرت انگیز بات یہ ہے کہ عبد الستار عاصم نے اس کتاب کی قیمت بھی صرف 999 روپے رکھی ہے۔کتاب وزیرِ اعلیٰ پنجاب محترمہ مریم نواز کے نام منسوب کی گئی ہے اور اس کے ذریعے ایک طرف انہوں نے انسانی تاریخ کے ان کرداروں کو سامنے لانے کی کوشش کی ہے جنہوں نے دنیا کو بدلنے میں اپنا کردار ادا کیا، اور دوسری طرف حکومت اور اربابِ اختیار کی توجہ بھی اس طرف دلائی ہے کہ خدا کے لیے کتاب کے سروائیول کے لیے حکومت کو آگے آنا چاہیے۔
"ٹرپل نائن ٹریلین ڈالر۔ دولت سے آگے کا سفر”
میں عبد الستار عاصم نے انسانی تاریخ کے ایک طویل اور پ±رپیچ سفر پر نظر ڈالی ہے۔ اس سفر میں انہیں یہ حقیقت نمایاں نظر آئی کہ اصل زندگی محض سونے چاندی کے ذخائر، دولت اور مادی وسائل میں نہیں ہوتی۔ اصل زندگی تو ان عظیم انسانوں کی مرہونِ منت ہے جنہوں نے اپنے علم، فکر، کردار اور جدوجہد سے تاریخ کا دھارا موڑ دیا۔یہی احساس شاید عبد الستار عاصم کو اس کتاب کی طرف لے گیا۔کتاب میں ایسی بے شمار شخصیات کا ذکر ہے جن کے بارے میں ہم پڑھنا چاہتے ہیں، جن کی زندگیوں اور کارناموں کے بعض ایسے پہلو ہیں جو عام کتابوں میں ہمیں یکجا نہیں ملتے۔ انہوں نے ان شخصیات کو ایک ایسے زاویے سے دیکھنے کی کوشش کی ہے جو قاری کو صرف معلومات نہیں دیتا بلکہ سوچنے پر بھی مجبور کرتا ہے۔خود مصنف کے مطابق اس کتاب میں شامل شخصیات کے علاوہ بھی بے شمار ایسے لوگ موجود ہیں جنہوں نے بڑے کارنامے سرانجام دیے، لیکن ایک مختصر کتاب میں سب کا احاطہ کرنا ممکن نہیں تھا۔ اس لیے انہوں نے نمائندہ اور پ±رت?ثیر شخصیات کا انتخاب کیا تاکہ قاری کو ایک جامع اور بامعنی فکری سفر فراہم کیا جا سکے۔اس کتاب کی ایک بڑی خوبی اس کا اسلوب بھی ہے۔ زبان سادہ، رواں اور عام قاری کے لیے قابلِ فہم ہے۔ مشکل موضوعات کو اس انداز میں بیان کیا گیا ہے کہ قاری بوجھ محسوس نہیں کرتا۔ مختلف شخصیات کے حالاتِ زندگی، ان کے کارناموں اور تاریخ پر ان کے اثرات کو اس انداز سے سامنے لایا گیا ہے کہ کتاب محض سوانحی معلومات کا مجموعہ نہیں رہتی بلکہ ایک فکری سفر بن جاتی ہے۔مجھے تو محسوس ہوتا ہے کہ یہ کتاب ہر گھر میں ہونی چاہیے۔خاص طور پر اپنے بچوں کو یہ کتاب تحفے میں دینی چاہیے، کیونکہ دولت کے بارے میں تو ہم انہیں بہت کچھ بتاتے ہیں، لیکن یہ بتانا بھی ضروری ہے کہ دنیا صرف دولت مند لوگوں نے نہیں بنائی؛ دنیا ان لوگوں نے بھی بنائی ہے جو علم، فکر، کردار، تخلیق اور جدوجہد کے ذریعے اپنے زمانے سے آگے نکل گئے۔وہ لوگ جو ستاروں پر کمند ڈالتے رہے، جنہوں نے ناممکن کو ممکن بنایا اور جنہوں نے دنیا کو اپنے عزم سے بدلنے کی کوشش کی۔اور سب سے اچھی بات یہ ہے کہ یہ سب کچھ ایک ایسی کتاب میں جمع کر دیا گیا ہے جو خوب صورت بھی ہے، مفید بھی اور قیمت کے اعتبار سے حیرت انگیز طور پر قابلِ رسائی بھی۔یہ 999 روپے کی کتاب ہے، لیکن اس میں موجود فکری سرمایہ شاید ان 999 روپے سے کہیں زیادہ قیمتی ہے۔عبد الستار عاصم کی اصل خواہش بھی یہی معلوم ہوتی ہے کہ یہ کتاب الماری میں بند رہنے کے لیے نہیں، گھر گھر پہنچنے کے لیے ہے۔اس لیے اس تحریر کو پڑھنے کے بعد اگر آپ کتاب سے محبت کرتے ہیں تو علامہ عبد الستار عاصم سے رابطہ کیجیے۔ وہ ایسے ہی لوگوں کی تلاش میں رہتے ہیں جو کتاب کو اپنے گھر کا حصہ بنانا چاہتے ہیں۔ شاید وہ اس وقت بھی اپنی کسی نئی کتاب کے مسودے، پروف یا طباعت میں مصروف ہوں اور ساتھ ہی یہ سوچ رہے ہوں کہ کتاب کو زیادہ سے زیادہ گھروں تک کیسے پہنچایا جائے۔یہی عبد الستار عاصم ہیں۔ایک ایسے زمانے میں جب لوگ کتاب سے دور ہو رہے ہیں، وہ کتاب کے قریب آ رہے ہیں۔جب لوگ کتابیں بند کر رہے ہیں، وہ نئی کتابیں کھول رہے ہیں۔جب کتاب کے لیے جگہ کم ہو رہی ہے، وہ اس کے لیے نئے راستے تلاش کر رہے ہیں۔اور شاید یہی وجہ ہے کہ کتابوں کی اس دنیا میں علامہ عبد الستار عاصم کا نام اب صرف ایک پبلشر کے طور پر نہیں بلکہ کتاب سے بے لوث محبت کرنے والے ایک ایسے شخص کے طور پر لکھا جائے گا جس نے مشکل وقت میں کتاب کی شمع کو بجھنے نہیں دیا۔”ٹرپل نائن ٹریلین ڈالر۔ دولت سے آگے کا سفر” ان کی اسی مسلسل کتاب دوستی کا ایک اور خوب صورت ثبوت ہے۔کتاب شائع ہو چکی ہے۔اب ضرورت صرف اس بات کی ہے کہ ہم اسے پڑھیں، اپنے بچوں کو پڑھائیں اور تحفے میں دیں۔






