#کالم

ربیع الاول، محبت رسول، سیرت اور ہماری ذمہ داریاں

Untitled 3

ڈاکٹر عمرانہ مشتاق

ربیع الاول کا چاند طلوع ہوتا ہے تو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے وقت کی پیشانی پر نور کی ایک لکیر ابھر آئی ہو۔ فضا وہی ہوتی ہے، زمین وہی، آسمان وہی اور زندگی کے ہنگامے بھی وہی رہتے ہیں، مگر اہلِ ایمان کے دلوں میں ایک خاص کیفیت پیدا ہو جاتی ہے۔ لبوں پر درود و سلام کے پھول کھلنے لگتے ہیں، محفلیں ذکرِ مصطفیٰ سے معطر ہونے لگتی ہیں اور ذہن تاریخ کے اس روشن ترین باب کی طرف پلٹ جاتا ہے جب عرب کی سرزمین پر وہ عظیم ہستی تشریف لائی جسے اللہ تعالیٰ نے تمام جہانوں کے لیے رحمت بنا کر بھیجا۔ربیع الاول محض اسلامی تقویم کا ایک مہینہ نہیں بلکہ انسانیت کو اس عظیم انقلاب کی یاد دلاتا ہے جس نے دنیا کے فکری، اخلاقی، سماجی اور روحانی نقشے کو بدل دیا۔ حضور اکرم حضرت محمد مصطفیٰ کی بعثت سے پہلے عرب معاشرہ بے شمار معاشرتی اور اخلاقی برائیوں میں گھرا ہوا تھا۔ قبائلی عصبیت شدید تھی، طاقت کو حق سمجھا جاتا تھا، کمزور کی آواز دبا دی جاتی تھی اور عورتوں، غلاموں، یتیموں اور معاشرے کے کمزور طبقات کو بنیادی حقوق سے محروم رکھا جاتا تھا۔ ایسے ماحول میں رسولِ رحمت نے انسان کو انسان کی عزت کرنا سکھایا اور بتایا کہ فضیلت کا اصل معیار دولت، خاندان، رنگ یا نسل نہیں بلکہ تقویٰ اور اچھا کردار ہے۔آپ کی تشریف آوری صرف عرب کے لیے نہیں تھی۔ قرآن مجید نے آپ کو رحمہ ً للعالمین قرار دیا۔ اس مختصر مگر عظیم تعبیر میں رسالتِ محمدی کا عالمی پیغام سمٹ آیا ہے۔ رحمت کسی ایک قوم، علاقے یا زمانے کے لیے نہیں بلکہ تمام جہانوں کے لیے ہے۔ انسانوں سے شفقت، کمزوروں سے محبت، مظلوم کی مدد، دشمن کے ساتھ بھی عدل، جانوروں پر رحم اور مخلوقِ خدا کے حقوق کا خیال، یہ سب اسی رحمت کے مختلف رنگ ہیں۔ہم ربیع الاول میں اپنے گھروں، گلیوں، مسجدوں اور بازاروں کو سجاتے ہیں۔ چراغاں کرتے ہیں، سبز پرچم لہراتے ہیں، نعتیں پڑھتے ہیں، محافلِ میلاد منعقد کرتے ہیں اور درود و سلام کی صدائیں بلند کرتے ہیں۔ یہ تمام اظہار اپنی جگہ محبت اور عقیدت کی خوبصورت علامتیں ہیں، لیکن اس مقدس مہینے کا اصل تقاضا یہ بھی ہے کہ ہم اپنے باطن کو روشن کریں۔گلیوں میں چراغ جل جائیں مگر دلوں میں نفرت باقی رہے، زبان پر درود ہو مگر معاملات میں دھوکا ہو، محفلِ میلاد میں آنکھیں نم ہوں مگر گھر میں کسی کمزور کا دل دکھایا جا رہا ہو، تو ہمیں اپنی محبت کے مفہوم پر غور کرنا چاہیے۔ عشقِ رسول محض ایک جذبے یا نعرے کا نام نہیں، یہ ایک مکمل طرزِ زندگی ہے۔محبت کا سب سے بڑا تقاضا اتباع ہے۔ جس ہستی سے محبت ہو انسان اس کے طریقے، پسند، تعلیم اور کردار کو اپنانے کی کوشش کرتا ہے۔ حضور اکرم کی سیرت ہمارے سامنے ایک مکمل نمونے کی صورت موجود ہے۔ گھر کے اندر آپ کا حسنِ سلوک، بازار میں معاملات کی دیانت، امن میں طرزِ عمل، مشکل حالات میں صبر، دشمنوں کے ساتھ انصاف، یتیموں سے محبت، مسکینوں کی دلجوئی، خواتین کے حقوق، بچوں سے شفقت اور پڑوسیوں کا خیال، زندگی کے ہر شعبے کے لیے رہنمائی فراہم کرتا ہے۔آج ہم ایسے دور میں زندگی گزار رہے ہیں جہاں معلومات بہت ہیں مگر برداشت کم ہوتی جا رہی ہے۔ رابطے کے ذرائع بڑھ گئے ہیں مگر دلوں کے فاصلے بھی بڑھتے جا رہے ہیں۔ سوشل میڈیا نے ہر شخص کو اپنی بات ہزاروں لوگوں تک پہنچانے کا موقع دیا ہے مگر زبان اور قلم کی ذمہ داری کا احساس کمزور ہوتا دکھائی دیتا ہے۔ معمولی اختلاف دشمنی میں بدل جاتا ہے۔ ایک جملہ کسی کی عزت اچھال دیتا ہے اور ایک بے بنیاد خبر چند لمحوں میں ہزاروں لوگوں تک پہنچ جاتی ہے۔ایسے زمانے میں سیرتِ مصطفیٰ ہمیں زبان اور کردار دونوں کی حفاظت کا درس دیتی ہے۔ مسلمان کی شخصیت کا حسن یہی ہے کہ دوسرے اس کی زبان اور ہاتھ سے محفوظ رہیں۔ اگر ہم ربیع الاول میں صرف اتنا عہد کر لیں کہ ہماری زبان کسی کی تذلیل نہیں کرے گی، ہم غیبت، بہتان اور جھوٹ سے بچیں گے، کسی کی کردار کشی نہیں کریں گے اور اختلاف میں تہذیب کا دامن نہیں چھوڑیں گے تو یہ محبتِ رسول کا ایک خوبصورت عملی اظہار ہوگا۔ہماری اجتماعی زندگی میں بھی سیرتِ رسول کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ ہے۔ کوئی معاشرہ انصاف کے بغیر دیر تک قائم نہیں رہ سکتا۔ حضور اکرم نے عدل کا وہ معیار قائم کیا جس میں اپنے اور پرائے کی تفریق نہیں تھی۔ قانون کی نظر میں طاقتور اور کمزور کے لیے الگ الگ پیمانے نہیں ہونے چاہییں۔ یہی اصول آج ہماری ریاستی، عدالتی، سیاسی اور انتظامی زندگی کے لیے بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔اگر ایک غریب شخص معمولی جرم پر فوراً گرفت میں آ جائے مگر صاحبِ اختیار قانون سے بالاتر سمجھا جائے، اگر سفارش حق پر غالب آ جائے، رشوت قابلیت کو پیچھے دھکیل دے اور طاقت مظلوم کی آواز دبا دے تو ایسے معاشرے کو سیرتِ نبوی کی روشنی میں اپنا محاسبہ کرنا چاہیے۔ ربیع الاول ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ رسول اللہ سے محبت کرنے والا معاشرہ ظلم، ناانصافی اور حق تلفی کو قبول نہیں کر سکتا۔آپ نے کمزوروں کو سہارا دیا، یتیم کو عزت دی، غلام کو انسان ہونے کا وقار عطا کیا، عورت کو حقوق دیے، پڑوسی کے حقوق واضح کیے، مزدور کے ساتھ حسنِ سلوک کی تعلیم دی اور تجارت میں دیانت کو بنیادی اہمیت دی۔ ناپ تول میں کمی، ذخیرہ اندوزی، دھوکا دہی اور ناجائز طریقے سے مال حاصل کرنے کی حوصلہ شکنی کی گئی۔ گویا انسانی زندگی کا کوئی اہم گوشہ ایسا نہیں جس کے لیے سیرتِ طیبہ سے رہنمائی نہ ملتی ہو۔ہمارے معاشرے میں اگر کوئی شخص رات کو بھوکا سو رہا ہے تو ربیع الاول کی محفل ہمیں اس کی خبر لینے کی دعوت دیتی ہے۔ اگر کسی یتیم بچے کے پاس کتاب خریدنے کے پیسے نہیں تو اس کی تعلیم کا بندوبست محبتِ رسول کا عملی اظہار ہے۔ اگر کسی بیوہ کا چولہا نہیں جل رہا تو اس کے گھر راشن پہنچانا سیرت کی پیروی ہے۔ اگر کوئی مریض علاج کی استطاعت نہیں رکھتا تو اس کی مدد کرنا رحمتِ عالم کی تعلیم کو اپنی زندگی میں جگہ دینا ہے۔ربیع الاول کو ہم خدمتِ انسانیت کا مہینہ بھی بنا سکتے ہیں۔ ہر محلے میں صاحبِ استطاعت لوگ چند ضرورت مند خاندانوں کی ذمہ داری قبول کریں۔ نوجوان خون کے عطیات دینے کی مہم چلائیں۔ تعلیمی ادارے سیرت النبی کی تقریبات کے ساتھ خدمتِ خلق کے منصوبے شروع کریں۔ طالب علم کسی ضرورت مند بچے کی کتابوں کا خرچ اٹھائیں۔ ڈاکٹر غریب مریضوں کے لیے مفت طبی کیمپ لگائیں۔ وکلا مظلوم اور بے وسیلہ افراد کو قانونی مدد فراہم کریں۔ کاروباری حضرات دیانت دار تجارت کو شعار بنائیں اور سرکاری ملازم عوام کے کام کو امانت سمجھ کر انجام دیں۔ ایسا ہو تو ربیع الاول کی روشنی صرف عمارتوں پر نہیں بلکہ پورے معاشرے پر نظر آئے گی۔رسول اللہ کی زندگی کا ایک انتہائی دلنشیں پہلو عفو و درگزر ہے۔ مکہ مکرمہ میں آپ اور آپ کے ساتھیوں پر بے شمار مظالم کیے گئے۔ تکلیفیں پہنچائی گئیں، راستے میں رکاوٹیں کھڑی کی گئیں اور آپ کو وطن چھوڑنے پر مجبور کیا گیا۔ لیکن جب فتح مکہ کے موقع پر حالات بدل گئے اور اختیار آپ کے ہاتھ میں آیا تو انتقام کے بجائے معافی، رحمت اور درگزر کا راستہ اختیار کیا گیا۔ یہ انسانی تاریخ میں اخلاقی عظمت کی بے مثال تصویر ہے۔آج ہمارے گھروںمیں معمولی باتوں پر رشتے ختم ہو جاتے ہیں۔ بہن بھائی برسوں ایک دوسرے سے بات نہیں کرتے۔ خاندان جائیداد کے تنازعات پر تقسیم ہو جاتے ہیں۔ دوست ایک غلط فہمی کی وجہ سے دشمن بن جاتے ہیں۔ سوشل میڈیا کی ایک پوسٹ تعلقات توڑ دیتی ہے۔ ربیع الاول ہمیں اپنے دلوں سے کینہ اور نفرت نکالنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔کیا ہی خوب ہو کہ اس ماہ ہم کسی ناراض رشتہ دار کو فون کریں، کسی پرانے دوست سے صلح کریں، کسی کی غلطی معاف کریں اور اپنی غلطی پر معافی مانگنے میں جھجھک محسوس نہ کریں۔ اپنی انا کو شکست دے کر رشتہ بچا لینا بھی محبتِ رسول کا خوبصورت اظہار ہے۔رسول اکرم بچوں سے بے پناہ شفقت فرماتے تھے۔ ان کے ساتھ محبت سے پیش آتے اور ان کی تربیت میں نرمی اور شفقت کو اہمیت دیتے۔ ہمارے لیے اس پہلو میں بھی بہت بڑا سبق موجود ہے۔ آج بچوں پر تعلیمی کامیابی کا غیر معمولی دباو¿ ڈال دیا جاتا ہے۔ نمبر کم آئیں تو انہیں طعنے دیے جاتے ہیں، دوسروں سے موازنہ کیا جاتا ہے اور بعض اوقات ان کی شخصیت مجروح کر دی جاتی ہے۔ہمیں اپنے بچوں کو سیرتِ رسول سے محبت کروانی چاہیے، لیکن صرف کتابی انداز میں نہیں۔ انہیں بتایا جائے کہ نبی کریم بچوں سے کس طرح محبت کرتے تھے، کمزوروں سے کیسے پیش آتے تھے، وعدے کی کتنی پابندی کرتے تھے اور سچائی کو کس قدر اہمیت دیتے تھے۔ جب بچے سیرت کو محبت اور کردار کی صورت میں سمجھیں گے تو اسے زندگی میں اپنانے کی کوشش بھی کریں گے۔ربیع الاول کا پیغام خواتین کے لیے بھی عزت و احترام کا پیغام ہے۔ رسول اللہ نے عورت کو ماں، بیٹی، بہن اور بیوی ہر حیثیت میں عزت دی اور اس کے حقوق کی ادائیگی کی تاکید فرمائی۔ آج اگر کسی معاشرے میں بیٹی کو بوجھ سمجھا جاتا ہے، عورت کو وراثت سے محروم کیا جاتا ہے، گھریلو تشدد کو معمولی بات تصور کیا جاتا ہے یا اس کی تعلیم کی راہ روکی جاتی ہے تو ہمیں سوچنا چاہیے کہ ہم سیرتِ رسول کی تعلیمات سے کتنے قریب ہیں۔ محبتِ رسول کا تقاضا ہے کہ ہم اپنی بیٹیوں کو عزت، تعلیم، تحفظ اور ان کے جائز حقوق دیں۔حضور کی سیرت نوجوان نسل کے لیے بھی امید کا سرچشمہ ہے۔ آج کا نوجوان بے روزگاری، معاشی مشکلات، مستقبل کے خدشات اور سماجی دباو¿ کا سامنا کر رہا ہے۔ سوشل میڈیا پر دکھائی جانے والی مصنوعی چکاچوند بعض اوقات اسے احساسِ محرومی میں مبتلا کر دیتی ہے۔ ایسے نوجوان کو تنقید سے زیادہ سمت، حوصلے اور اعتماد کی ضرورت ہے۔سیرتِ رسول اسے صبر، محنت، امید اور مقصد عطا کرتی ہے۔ مکہ کے مشکل ترین حالات میں بھی رسول اللہ نے امید کا دامن نہیں چھوڑا۔ طائف کی اذیت کے باوجود مایوسی کو قبول نہیں کیا۔ ہجرت کے مشکل سفر کے بعد مدینہ میں ایسا معاشرہ قائم کیا جو نظم، اخوت، عدل اور ذمہ داری کی مثال بن گیا۔ یہ نوجوانوں کے لیے پیغام ہے کہ مشکل حالات ہمیشہ نہیں رہتے۔ ایمان، محنت، کردار اور درست سمت موجود ہو تو انسان مشکل راستوں سے گزر کر منزل تک پہنچ سکتا ہے۔ہم پاکستان میں ربیع الاول بڑی عقیدت اور محبت سے مناتے ہیں۔ یہ محبت ہمارا قیمتی روحانی سرمایہ ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ اسے مثبت معاشرتی قوت میں تبدیل کیا جائے۔ ہمارے بازاروں میں دیانت، دفاتر میں انصاف، عدالتوں میں مظلوم کی داد رسی، سیاست میں اخلاق، میڈیا میں سچائی، تعلیمی اداروں میں کردار سازی اور گھروں میں محبت و احترام ہو تو یہی وہ معاشرہ ہوگا جس میں سیرتِ رسول کی خوشبو محسوس ہوگی۔نبی کریم نے مدینہ منورہ میں مختلف طبقات کے درمیان باہمی ذمہ داری، نظم اور امن پر مبنی معاشرے کی بنیاد رکھی۔ ہمیں بھی اختلاف کے باوجود ایک دوسرے کے حقوق اور انسانی وقار کو تسلیم کرنا سیکھنا ہوگا۔ مذہبی، سیاسی یا فکری اختلاف کو ذاتی دشمنی میں تبدیل کرنا درست نہیں۔ ہم ایک دوسرے سے اختلاف کر سکتے ہیں مگر ایک دوسرے کی عزت پامال کرنے کا حق نہیں رکھتے۔ربیع الاول کا ایک اہم سبق اتحاد بھی ہے۔ ہم سب کے نبی ایک ہیں، ہمارا قرآن ایک اور قبلہ ایک ہے۔ محبتِ رسول وہ مضبوط رشتہ ہے جو مسلمانوں کے دلوں کو قریب لا سکتا ہے۔ مسلکی اور گروہی اختلافات کو نفرت اور تشدد تک پہنچانے کے بجائے علمی، مہذب اور پ±رامن دائرے میں رکھنا چاہیے۔درود و سلام کی محفل میں بیٹھتے ہوئے ہمیں اپنے اندر بھی جھانکنا چاہیے۔ ہم اپنے گھر والوں کے ساتھ کیسے ہیں، ہمارے ملازمین ہمارے رویے سے خوش ہیں یا خوف زدہ، ہم کاروبار میں سچے ہیں یا نہیں، ہم کسی کا حق تو نہیں دبا رہے، ہماری زبان سے کسی کو تکلیف تو نہیں پہنچ رہی اور ہمارے ہاتھ سے کوئی کمزور نقصان تو نہیں اٹھا رہا۔ ہم وعدے پورے کرتے ہیں یا نہیں اور والدین، بچوں، پڑوسیوں اور رشتہ داروں کے حقوق کس حد تک ادا کرتے ہیں۔ یہ محاسبہ ربیع الاول کو رسمی تقریبات سے آگے لے جا کر کردار سازی کا مہینہ بنا دیتا ہے۔ہمیں جشن بھی منانا چاہیے، درود بھی پڑھنا چاہیے، نعتیں بھی سننی چاہییں اور محافل بھی سجانی چاہییں، مگر ساتھ کسی بھوکے کے لیے کھانا، یتیم کے لیے کتاب، مریض کے لیے دوا اور دکھی انسان کے لیے تسلی بھی ہونی چاہیے۔ چراغاں ضرور ہو مگر ایک چراغ کسی غریب کے گھر بھی روشن ہو۔ دسترخوان ضرور سجیں مگر ان میں محتاج کا حصہ بھی رکھا جائے۔ خوشیاں ضرور منائی جائیں مگر ان خوشیوں میں محروم لوگوں کو بھی شریک کیا جائے۔ربیع الاول آتا ہے اور گزر جاتا ہے، مگر رسول اللہ کی سیرت کسی ایک مہینے تک محدود نہیں۔ وہ قیامت تک انسانیت کے لیے روشنی ہے۔ ہمیں کوشش کرنی چاہیے کہ ربیع الاول میں پیدا ہونے والی روحانی کیفیت پورا سال ہمارے کردار کا حصہ رہے۔ درود صرف چند دنوں تک نہ رہے بلکہ ہمیشہ زبان کی زینت بنے۔ صدقہ ایک ماہ کی سرگرمی نہ ہو بلکہ عادت بن جائے۔ سچائی وقتی عہد نہ ہو بلکہ شخصیت کا حصہ بن جائے۔ رحم، برداشت اور معافی تقریبات کے الفاظ نہیں بلکہ ہمارے روزمرہ رویے میں دکھائی دیں۔دنیا آج جنگوں، نفرتوں، معاشی ناہمواری، نسلی تعصبات، سیاسی کشیدگی اور انسانی بے حسی کے مختلف بحرانوں سے گزر رہی ہے۔ ایسے ماحول میں رحمتِ عالم کا پیغام پہلے سے زیادہ اہم ہے۔ دنیا کو طاقت کے ساتھ اخلاق، ترقی کے ساتھ انسانیت، اختیار کے ساتھ ذمہ داری اور قانون کے ساتھ انصاف درکار ہے۔ یہی سیرتِ مصطفیٰ کا جوہر ہے۔ربیع الاول ہمیں یاد دلاتا ہے کہ اندھیرے خواہ کتنے ہی گہرے کیوں نہ ہوں، روشنی ان کا مقدر بدل سکتی ہے۔ چودہ صدیاں گزرنے کے باوجود مدینہ منورہ سے اٹھنے والی رحمت کی روشنی آج بھی کروڑوں دلوں کو راستہ دکھا رہی ہے۔آئیے اس ربیع الاول میں اپنے گھروں کو سجانے کے ساتھ اپنے کردار کو بھی سنواریں۔ زبان کو سچائی سے، دل کو محبت سے، ہاتھ کو خدمت سے اور معاملات کو دیانت سے آراستہ کریں۔ کسی کا حق نہ ماریں، کسی کمزور پر ظلم نہ کریں، کسی بھوکے کو نظر انداز نہ کریں، کسی یتیم کے آنسو سے بے خبر نہ رہیں اور کسی انسان کو غربت یا کمزوری کی وجہ سے حقیر نہ سمجھیں۔ربیع الاول کا حقیقی چراغ وہ ہے جو انسان کے اندر روشن ہو جائے۔ ایسا چراغ جو نفرت کو محبت، انتقام کو معافی، خود غرضی کو خدمت، جھوٹ کو سچائی اور ظلم کو انصاف میں بدل دے۔ یہی محبتِ رسول کا وہ عملی اظہار ہے جس کی ہمارے گھروں، ہمارے معاشرے، ہمارے وطن اور پوری انسانیت کو ضرورت ہے۔اللہ تعالیٰ ہمیں رسول اکرم کی حقیقی محبت نصیب فرمائے، آپ کی سیرت کو سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ ہمارے گھروں کو محبت، معاشرے کو برداشت، وطنِ عزیز پاکستان کو امن و خوش حالی اور پوری انسانیت کو رحمت و سلامتی نصیب فرمائے۔لبوں پر درود ہو، دل میں محبت ہو اور کردار میں سیرتِ مصطفیٰ کی روشنی ہو۔

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے