کن فیکون: عشقِ رسول کے 2270 صفحات ، محمد یعقوب فردوسی کا ایک تاریخی ادبی کارنامہ
شاہد نسیم چوہدری
پاکستان کی ادبی تاریخ پر نظر دوڑائی جائے تو یہ سرزمین ہمیشہ سے شعر و ادب کے ایسے نابغ روزگار اہلِ قلم پیدا کرتی رہی ہے جنہوں نے اپنی تخلیقی صلاحیتوں سے نہ صرف اردو ادب کے دامن کو وسعت دی بلکہ اپنے عہد کی تہذیبی، روحانی اور فکری ترجمانی بھی کی۔ بالخصوص نعتیہ ادب ہماری شعری روایت کا وہ مقدس باب ہے جس میں لفظ محض لفظ نہیں رہتا بلکہ عقیدت کا اظہار، محبت کا وسیلہ اور دل کی کیفیت کا آئینہ بن جاتا ہے۔ جب کوئی شاعر اپنی تمام تر فکری اور تخلیقی توانائی عشقِ رسولِ اکرم کی نذر کر دیتا ہے تو اس کی کاوش محض ادبی تخلیق نہیں رہتی، بلکہ ایک روحانی سرمایہ بن جاتی ہے۔اسی روشن روایت میں محمد یعقوب فردوسی کا نام ایک منفرد حوالہ بن کر سامنے آتا ہے۔ ان کی نعتیہ ماہیوں پر مشتمل ضخیم کتاب ”کن فیکون“ بلاشبہ ایک غیر معمولی ادبی کارنامہ ہے۔ 2270 صفحات پر مشتمل یہ کتاب نہ صرف اپنی ضخامت کے اعتبار سے حیران کن ہے بلکہ نعتیہ ماہیوں جیسی مختصر شعری صنف کو اس وسعت، تسلسل اور تسلسلِ عقیدت کے ساتھ پیش کرنا بھی اپنی نوعیت کی ایک منفرد کاوش ہے۔ دستیاب ادبی رپورٹ کے مطابق ”کن فیکون“ کو پاکستان کی سب سے زیادہ صفحات پر مشتمل ماہیوں کی کتاب قرار دیا گیا ہے۔ یہ اعزاز یقیناً محمد یعقوب فردوسی کے لیے بھی باعثِ فخر ہے اور پاکستان کے نعتیہ ادب کے لیے بھی ایک قابلِ ذکر اضافہ۔”کن فیکون“ نام ہی اپنے اندر ایک وسیع معنوی دنیا سمیٹے ہوئے ہے۔ یہ عنوان تخلیق، قدرت، امرِ الٰہی اور وجود کے اسرار کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ جب یہی عنوان عشقِ رسول کے اظہار کے لیے منتخب کیا جائے تو اس میں ایک خاص روحانی کیفیت پیدا ہو جاتی ہے۔ کتاب کے 2270 صفحات کو محض کاغذ کے صفحات سمجھنا اس تخلیقی سفر کی قدر و قیمت کو کم کر دینا ہوگا۔ دراصل ہر صفحہ شاعر کے ذوق، مطالعے، مشاہدے، عقیدت، فکری وابستگی اور مسلسل ریاضت کی ایک منزل ہے۔ماہیے کی صنف اپنی ساخت کے اعتبار سے مختصر ہے۔ چند مصرعوں میں ایک کیفیت، ایک منظر، ایک جذبہ یا ایک خیال سمو دینا شاعر کے لیے آسان کام نہیں۔ مختصر شعری قالب میں بات کو مکمل کرنا، جذبے کو مو¿ثر بنانا اور تاثیر کو برقرار رکھنا فنِ شاعری کی باریکیوں سے واقفیت کا تقاضا کرتا ہے۔ اگر یہی صنف نعتیہ اظہار کا ذریعہ بن جائے تو شاعر کی ذمہ داری مزید بڑھ جاتی ہے، کیونکہ نعت صرف شعری حسن کا نام نہیں؛ اس میں عقیدت، احترام، ادب اور محبت کے تقاضے بھی شامل ہوتے ہیں۔محمد یعقوب فردوسی نے ماہیے کے اسی مختصر قالب کو عشقِ مصطفیٰ ? کے وسیع موضوع سے جوڑ کر ایک ایسا تخلیقی سفر اختیار کیا جس کی طوالت 2270 صفحات تک پہنچتی ہے۔ یہ بات اپنی جگہ حیرت انگیز ہے کہ ایک شاعر نے ایک ہی صنف اور ایک ہی مقدس موضوع سے وابستہ رہتے ہوئے اتنی وسیع تخلیقی دنیا آباد کی۔ مگر اس سے بھی زیادہ اہم بات یہ ہے کہ یہ ضخامت محض تعداد کا مظاہرہ نہ بنے بلکہ عقیدت کے تسلسل کی علامت بنے۔نعتیہ شاعری میں اصل حسن الفاظ کی کثرت نہیں بلکہ دل کی کیفیت ہے۔ ایک سچا نعت گو جب حضور اکرم کی بارگاہِ اقدس میں اپنے جذبات پیش کرتا ہے تو وہ دراصل اپنے دل کی دنیا کو الفاظ کا لباس پہناتا ہے۔ اسی لیے نعت پڑھنے والا صرف شعر نہیں پڑھتا، وہ شاعر کے دل کی دھڑکن بھی محسوس کرتا ہے۔ ”کن فیکون“ کے حوالے سے یہی پہلو اسے ایک خاص اہمیت عطا کرتا ہے کہ یہ کتاب عشقِ رسول کو ایک مسلسل تخلیقی تجربے کے طور پر سامنے لاتی ہے۔ہمیں یہ بھی سمجھنا چاہیے کہ کسی کتاب کے 2270 صفحات تک پہنچنے کے لیے صرف ادبی صلاحیت کافی نہیں ہوتی۔ اس کے پیچھے برسوں کی محنت، مطالعہ، لکھنے کا معمول، شعری ریاضت، زبان پر گرفت اور سب سے بڑھ کر ایک مستقل جذبہ درکار ہوتا ہے۔ آج کے تیز رفتار دور میں، جب قاری طویل تحریر پڑھنے سے بھی گریزاں نظر آتا ہے، ایسے وقت میں اتنا ضخیم نعتیہ شعری سرمایہ تخلیق کرنا محمد یعقوب فردوسی کی غیر معمولی استقامت کا ثبوت ہے۔یہاں یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ ایک شاعر کو اتنی طویل تخلیقی مسافت طے کرنے کی قوت کہاں سے ملتی ہے؟ اس کا جواب شاید عشق میں پوشیدہ ہے۔ جس موضوع سے انسان کو قلبی وابستگی ہو، اس کے اظہار کے لیے الفاظ کبھی کم نہیں پڑتے۔ محبت کا عالم یہ ہوتا ہے کہ انسان ایک ہی محبوب کا ذکر بار بار کرتا ہے، مگر ہر بار اس کے دل پر ایک نئی کیفیت اترتی ہے۔ یہی کیفیت جب شعر کا روپ اختیار کرتی ہے تو ایک شعر دوسرے شعر سے مختلف ہونے کے باوجود اسی مرکزِ محبت سے جڑا رہتا ہے۔محمد یعقوب فردوسی کی ”کن فیکون“ کو اسی تناظر میں دیکھا جانا چاہیے۔ یہ محض ایک ضخیم کتاب نہیں بلکہ محبتِ رسول کی ایک طویل ادبی دستاویز ہے۔ اس میں شاعر نے ماہیے کے ذریعے اپنی عقیدت کا اظہار کیا اور ایک ایسی صنفی روایت کو بھی وسعت دی جس پر مزید تحقیقی اور تنقیدی کام کی ضرورت محسوس ہوتی ہے۔نعتیہ ادب کی تاریخ بہت قدیم اور وسیع ہے۔ اردو، فارسی، عربی اور برصغیر کی دیگر زبانوں میں بے شمار شعرائ نے بارگاہِ رسالت مآب میں عقیدت کے پھول پیش کیے۔ کسی نے غزل کے پیرائے میں نعت کہی، کسی نے قصیدہ اختیار کیا، کسی نے نظم کو ذریعہ بنایا اور کسی نے اپنی مخصوص صنف کے ذریعے عشقِ رسول ? کا اظہار کیا۔ محمد یعقوب فردوسی کا ماہیے کو وسیلہ بنانا اور پھر اسی صنف میں ہزاروں صفحات پر مشتمل نعتیہ سرمایہ تخلیق کرنا اسی روایت میں ایک منفرد اضافہ ہے۔ادب میں بعض کتابیں اپنی فنی خوبیوں کے باعث یاد رکھی جاتی ہیں، بعض اپنی فکری گہرائی کے سبب، بعض اپنے موضوع کی ندرت کی وجہ سے اور بعض اپنی غیر معمولی ضخامت یا وسعت کے باعث۔ ”کن فیکون“ ان تمام پہلوو¿ں میں گفتگو کا ایک دروازہ کھولتی ہے۔ اس کتاب کی سب سے نمایاں خصوصیت اس کا حجم ہے، مگر اس کا اصل حسن اس جذبے میں تلاش کیا جانا چاہیے جس نے شاعر کو اتنی طویل تخلیقی مسافت پر گامزن رکھا۔یہ بھی قابلِ ذکر ہے کہ محمد یعقوب فردوسی صرف ایک کتاب کے شاعر نہیں بلکہ ادبی سرگرمیوں سے وابستہ ایک صاحبِ قلم کے طور پر بھی اپنی شناخت رکھتے ہیں۔ تصویر میں شائع شدہ ادبی تحریر کے مطابق وہ تنقیدی ادب کے حوالے سے انٹرنیشنل کمالِ فن ایوارڈ 2024ء اور 2025ئ بھی حاصل کر چکے ہیں۔ یہ امر اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ ان کی ادبی شناخت صرف نعتیہ شاعری تک محدود نہیں بلکہ تنقیدی اور دیگر ادبی جہات بھی ان کی تخلیقی شخصیت کا حصہ ہیں۔تاہم ”کن فیکون“ ان کے ادبی سفر میں ایک ایسا سنگِ میل دکھائی دیتی ہے جسے نظرانداز کرنا ممکن نہیں۔ کسی شاعر کی ادبی زندگی میں ایسے مواقع کم آتے ہیں جب اس کی ایک تخلیق پورے ادبی منظرنامے میں ایک الگ سوال اٹھا دے۔ 2270 صفحات پر مشتمل نعتیہ ماہیوں کی کتاب بھی ایسا ہی ایک سوال ہے: کیا مختصر شعری صنف اتنی وسعت پیدا کر سکتی ہے؟ محمد یعقوب فردوسی کا جواب ان کی کتاب کی صورت میں ہمارے سامنے موجود ہے۔یہ کتاب نئی نسل کے لیے بھی کئی حوالوں سے قابلِ مطالعہ ہے۔ آج کا نوجوان مختصر اظہار، فوری تاثر اور ڈیجیٹل مواد کے عہد میں زندگی بسر کر رہا ہے۔ ایسے ماحول میں 2270 صفحات پر مشتمل شعری کتاب کا وجود اسے یہ پیغام دیتا ہے کہ ادب صرف چند سطروں یا چند لمحوں کی سرگرمی نہیں، بلکہ ایک عمر کی ریاضت بھی ہو سکتا ہے۔ کتاب ہمیں یہ بھی بتاتی ہے کہ تخلیق کے لیے صبر، تسلسل اور اپنے موضوع سے وفاداری بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔”کن فیکون“ کو صرف ایک ریکارڈ یا اعزاز کی کتاب بنا کر دیکھنا بھی مناسب نہیں ہوگا۔ ادبی دنیا میں ریکارڈ اپنی جگہ اہمیت رکھتے ہیں، مگر ریکارڈ وقت کے ساتھ نئے ریکارڈ سے بدل سکتے ہیں۔ اصل چیز وہ تخلیقی سرمایہ ہے جو کتاب اپنے اندر محفوظ کرتی ہے۔ اگر کوئی ضخیم کتاب قاری کو محبت، عقیدت، فکر اور زبان کے نئے ذائقوں سے آشنا کر دے تو اس کی اہمیت محض ضخامت سے کہیں آگے نکل جاتی ہے۔محمد یعقوب فردوسی کے اس کارنامے کی ایک اور خوبصورتی یہ ہے کہ انہوں نے ایک ایسی صنف کو نعتیہ اظہار کے لیے استعمال کیا جسے عام طور پر عوامی اور لوک شعری روایت سے جوڑا جاتا ہے۔ ماہیے کی سادگی، روانی اور اختصار اسے عام قاری کے قریب لے آتا ہے۔ جب یہی سادگی نعتیہ جذبات کے ساتھ ملتی ہے تو ادب اور عوامی ذوق کے درمیان ایک خوبصورت پل قائم ہوتا ہے۔ہمارے معاشرے میں نعتیہ ادب کی اہمیت محض ادبی نہیں بلکہ تہذیبی اور روحانی بھی ہے۔ نعت پڑھنے اور سننے والے کے لیے یہ محبت اور عقیدت کا وسیلہ بنتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ نعت گو شاعر کا قلم ایک خاص ذمہ داری کا حامل ہوتا ہے۔ اسے لفظوں کے انتخاب، اسلوب، احترام اور عقیدت کے تقاضوں کو ہمیشہ پیشِ نظر رکھنا پڑتا ہے۔ اس حوالے سے ایک ضخیم نعتیہ کتاب تخلیق کرنا یقیناً ایک بڑی ذمہ داری بھی ہے اور ایک بڑی سعادت بھی۔محمد یعقوب فردوسی نے ”کن فیکون“ کے ذریعے اس ذمہ داری کو ایک وسیع ادبی منصوبے کی صورت دی ہے۔ 2270 صفحات ایک عدد ضرور ہے، مگر اس عدد کے پیچھے ایک شاعر کی طویل محنت، مسلسل وابستگی اور عشقِ رسول ? کی وہ کیفیت موجود ہے جس نے اسے قلم اٹھانے پر آمادہ رکھا۔ یہی وجہ ہے کہ ”کن فیکون“ کا ذکر محض ایک کتاب کے حوالے سے نہیں بلکہ ایک تخلیقی عزم کے حوالے سے بھی ہونا چاہیے۔ایسے اہلِ قلم کسی بھی معاشرے کا قیمتی سرمایہ ہوتے ہیں۔ ہمیں چاہیے کہ ہم ان کی کتابوں کو صرف تعریفی کلمات تک محدود نہ رکھیں بلکہ ان پر علمی، تحقیقی اور تنقیدی گفتگو بھی کریں۔ جامعات کے اردو اور اسلامیات کے شعبوں میں ایسی کتابوں پر تحقیق ہونی چاہیے۔ ماہیے کی صنف کے حوالے سے ”کن فیکون“ ایک اہم تحقیقی موضوع بن سکتی ہے۔ اس میں موجود نعتیہ مواد، اسلوب، زبان، تشبیہات، استعارات، بحور، موضوعاتی تنوع اور فنی خصوصیات پر باقاعدہ تحقیقی مقالے لکھے جا سکتے ہیں۔ یوں یہ کتاب صرف شاعر کی ذاتی کامیابی نہیں رہے گی بلکہ نعتیہ ادب اور ماہیے کی صنف کے تحقیقی ذخیرے میں بھی اپنا مقام پیدا کرے گی۔ہمیں یہ اعتراف بھی کرنا چاہیے کہ ادب میں کسی غیر معمولی کاوش کی پذیرائی صرف مصنف کی حوصلہ افزائی نہیں ہوتی بلکہ پورے ادبی معاشرے کی ذمہ داری ہوتی ہے۔ جب کوئی شاعر اپنی زندگی کا بڑا حصہ تخلیق کے لیے وقف کرتا ہے تو معاشرے کو بھی اس کے ادبی سفر کو محفوظ اور نمایاں کرنے میں کردار ادا کرنا چاہیے۔ اخبارات، رسائل، ادبی فورمز، جامعات اور ثقافتی اداروں کو چاہیے کہ ”کن فیکون“ جیسی کتابوں پر مذاکرے، نشستیں اور تحقیقی پروگرام منعقد کریں تاکہ اس کتاب کے فنی اور ادبی پہلو سامنے آ سکیں۔محمد یعقوب فردوسی کو اس غیر معمولی کاوش پر خراجِ تحسین پیش کرنا دراصل ایک ایسے جذبے کو سلام پیش کرنا ہے جس نے لفظ کو عبادتِ محبت کا وسیلہ بنا دیا۔ یہ خراجِ تحسین صرف اس لیے نہیں کہ انہوں نے 2270 صفحات لکھے، بلکہ اس لیے بھی کہ انہوں نے نعتیہ ماہیے کو ایک ایسی وسعت دی جس پر آنے والے اہلِ قلم غور کریں گے، محققین کام کریں گے اور قارئین اس میں اپنے ذوق کے مطابق محبت کے رنگ تلاش کریں گے۔”کن فیکون“ یقیناً محمد یعقوب فردوسی کے نام سے جڑا ہوا ایک اہم ادبی حوالہ ہے۔ یہ کتاب ہمیں یہ سبق بھی دیتی ہے کہ اگر جذبہ سچا ہو، مقصد بلند ہو اور قلم مسلسل چلتا رہے تو مختصر سے مختصر صنف بھی ایک وسیع ادبی کائنات میں تبدیل ہو سکتی ہے۔آخر میں محمد یعقوب فردوسی صاحب کو دل کی گہرائیوں سے مبارک باد پیش کرتا ہوں کہ انہوں نے نعتیہ ادب میں ایک ایسی کاوش پیش کی جو اپنے حجم، موضوع اور صنفی انفرادیت کے باعث طویل عرصے تک گفتگو کا موضوع بن سکتی ہے۔ 2270 صفحات کی ”کن فیکون“ دراصل 2270 صفحات سے کہیں بڑھ کر ہے؛ یہ محبتِ رسول کے اظہار کا ایک طویل سفر، ایک شاعر کی مسلسل ریاضت اور نعتیہ ادب کے لیے ایک قابلِ قدر تحفہ ہے۔دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ محمد یعقوب فردوسی صاحب کے قلم کو مزید قوت، وسعت اور تاثیر عطا فرمائے، ان کی اس کاوش کو شرفِ قبول بخشے اور ”کن فیکون“ کو نعتیہ ادب کی دنیا میں ہمیشہ ایک معتبر اور منفرد حوالہ بنائے۔یہ کتاب صرف پڑھی نہیں جائے گی، اس پر گفتگو بھی ہوگی؛یہ صرف ایک ادبی کارنامہ نہیں، عشقِ مصطفیٰ کے اظہار کی ایک طویل داستان ہے۔






