دستِ سوال سے دستِ ہنر تک،لاہور ٹریفک پولیس کا انقلابی قدم
مرزا رضوان
ہمارے معاشرے میں گداگری ایک ایسا پیچیدہ اور دردناک ناسور بن چکی ہے جس نے شہروں کی خوبصورتی، تہذیب اور معاشی نظم و ضبط کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ لاہور جیسے تاریخی اور ثقافتی مرکز کے ہر چوراہے، ٹریفک سگنل، مارکیٹ اور شاہراہ پر ہاتھ پھیلائے کھڑے بچے، خواتین، معذور افراد اور خواجہ سرا نہ صرف ٹریفک کی روانی میں خلل ڈالتے ہیں بلکہ حادثات کا باعث بھی بنتے ہیں۔ گداگری اب صرف لاچاری اور غریبی کا نام نہیں رہی، بلکہ اس کے پیچھے ایک منظم مافیا، پیشہ ورانہ گینگ اور نسل در نسل چلی آنے والی اکالی معیشت کارفرما ہے۔ ماضی میں جب بھی اس مسئلے سے نمٹنے کی کوشش کی گئی، وہ صرف تھانوں کی سطح پر گرفتاریوں، چلانوں اور عارضی کارروائیوں تک محدود رہی۔ نتیجہ یہ نکلا کہ پولیس کی چیلنجنگ مہمات کے باوجود سگنل بند ہوتے ہی وہی کشکول پھر سے لہرانے لگتے۔ لیکن حال ہی میں لاہور ٹریفک پولیس اور چیف ٹریفک آفیسر (سی ٹی او) لاہور سید عبدالرحیم شیرازی کی جانب سے اس دیرینہ مسئلے کا جو علاج پیش کیا گیا ہے، وہ محض روایتی سزا و جزا پر مبنی نہیں بلکہ ایک ایسا جدید، فلاحی اور پائیدار ماڈل ہے جو جبر کے بجائے بحالی کی بات کرتا ہے۔لاہور ٹریفک پولیس کا گداگروں کی ری ہبلیٹیشن، بحالی اور باعزت روزگار کے لیے شروع کیا جانے والا "پائلٹ پروجیکٹ” ایک ایسا تاریخی اقدام ہے جو اگر اپنے تمام تر خدوخال کے ساتھ کامیاب ہو گیا تو یہ نہ صرف پنجاب بلکہ پورے پاکستان کے لیے ایک نمونہ عمل بن جائے گا۔اگر عددی اعداد و شمار پر نظر ڈالی جائے تو لاہور ٹریفک پولیس نے رواں سال کے دوران شاہراہوں سے 4,500 سے زائد گداگروں کے خلاف قانونی کارروائیاں کیں۔ تھانوں میں مقدمات درج ہوئے، چالان کاٹے گئے اور عارضی طور پر سگنلز کو پاک کرنے کی کوشش کی گئی۔ لیکن سی ٹی او لاہور سید عبدالرحیم شیرازی نے اس بات کو بھانپ لیا کہ محض گرفتاری یا ایف آئی آر درج کر دینا مسئلے کا حل نہیں ہے۔ جب تک ایک سڑک پر مانگنے والے شخص کے پاس زندہ رہنے کا کوئی دوسرا ذریعہ موجود نہیں ہوگا، وہ جیل سے چھوٹتے ہی یا چالان بھرتے ہی دوبارہ سگنل پر واپس آئے گا۔اس حقیقت کو تسلیم کرتے ہوئے ٹریفک پولیس نے اپنی ذمہ داری کو محض "ٹریفک مینجمنٹ” سے آگے بڑھا کر "سوشل انجینئرنگ” کے دائرے میں داخل کیا ہے۔ اس پائلٹ پروجیکٹ کا اصل فلسفہ یہ ہے کہ مظلوم، مجبور اور مستحق افراد کو گداگری کے گرداب سے نکال کر ہنر، روزگار اور خودمختاری کے راستے پر گامزن کیا جائے تاکہ کشکول پکڑنے والے ہاتھ، ہنر اور روزی کمانے والے ہاتھ بن سکیں۔اس منصوبے کی سنجیدگی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ یہ صرف دعویٰ نہیں بلکہ اس پر باقاعدہ عملی کام شروع ہو چکا ہے۔ پائلٹ پروجیکٹ کے پہلے مرحلے میں 10 بھکاری خاندانوں کی مکمل اور شفاف اسکروٹنی کا عمل مکمل کر لیا گیا ہے۔ ان خاندانوں کی پس منظر کی تحقیقات کی گئی ہیں تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ وہ واقعی مستحق اور بحالی کے خواہش مند ہیں۔اس منصوبے کا سب سے مضبوط پہلو "پنجاب سمال انڈسٹریز کارپوریشن” (PSIC) کی شراکت داری ہے۔ محض تربیت دے دینا کافی نہیں ہوتا جب تک کہ کاروبار شروع کرنے کا سرمایا موجود نہ ہو۔ پنجاب سمال انڈسٹریز کارپوریشن اس منصوبے کے تحت منتخب کردہ افراد اور ان کے خاندانوں کو پانچ پانچ لاکھ روپے کے آسان اور نرم شرائط پر قرضے فراہم کرے گی۔ یہ رقم ان کے لیے اپنے چھوٹے کاروبار قائم کرنے، ریڑھیاں لگانے، چھوٹی دکانیں کھولنے یا دیگر تجارتی سرگرمیاں شروع کرنے کا ذریعہ بنے گی۔ جب ایک خاندان کو پانچ لاکھ روپے کی مالی معاونت اور پیشہ ورانہ تربیت مل جائے گی تو اس کے پاس سڑک پر ہاتھ پھیلانے کا کوئی جواز باقی نہیں رہے گا۔گداگری کا سب سے دردناک پہلو وہ کمسن بچے ہیں جنہیں اسکولوں میں ہونے کے بجائے تپتی دھوپ اور کڑکتی سردی میں گاڑیوں کے شیشے صاف کرتے یا پنسلیں بیچنے کے بہانے بھیک مانگتے دیکھا جاتا ہے۔ یہ بچے عموماً پیشہ ور مافیا یا اپنے ہی والدین کے ہاتھوں استحصال کا شکار ہوتے ہیں۔اس منصوبے کے تحت لاہور شہر میں موجود کچی آبادیوں اور "جھونپڑیوں” کے اندر ہی "جھونپڑی سکولز” قائم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ یہ ایک انتہائی ذہین اور بصیرت افروز اقدام ہے۔ عام طور پر کچی آبادیوں کے بچے روایتی اسکولوں تک نہیں پہنچ پاتے کیونکہ وہاں کا ماحول، اخراجات اور فاصلہ ان کے لیے مانع ہوتا ہے۔ لیکن جب تعلیم ان کے اپنے ماحول اور جھونپڑیوں کی سطح پر پہنچ جائے گی، تو بچوں کو نہ صرف بنیادی تعلیم اور تربیت میسر آئے گی بلکہ انہیں گداگری کے دلدل سے نکال کر ایک محفوظ اور باوقار شہری بنانے کی بنیاد رکھی جا سکے گی۔معاشرے کے سب سے زیادہ حساس اور پسماندہ طبقات یعنی خواتین اور خواجہ سرا گداگروں کے لیے اس پروجیکٹ میں خصوصی حکمت عملی وضع کی گئی ہے۔ مختلف فلاحی اداروں اور این جی اوز کے تعاون سے خواجہ سراو¿ں اور خواتین کو بیوٹی کورسز، ڈریس ڈیزائننگ، سلائی کڑھائی اور دیگر دستکاریوں کے کورسز کروائے جائیں گے۔خواجہ سرا طبقہ اکثر روزگار کے مواقع نہ ہونے کے باعث سگنلز اور مارکیٹوں میں مانگنے پر مجبور ہوتا ہے۔ اگر انہیں باقاعدہ بیوٹی پارلر کا کام یا دیگر تکنیکی مہارتیں سکھا کر چھوٹے پیمانے پر کاروبار قائم کر کے دیے جائیں تو وہ معاشرے کا ایک باوقار اور کارآمد حصہ بن سکتے ہیں۔ اسی طرح خواتین کو ڈریس میکنگ اور خیاطی کے ہنر سے آراستہ کر کے اپنے گھروں میں عزت سے کمانے کے قابل بنایا جا رہا ہے۔کسی بھی بڑے سماجی منصوبے کی کامیابی کا انحصار ڈیٹا اور ریسرچ پر ہوتا ہے۔ اس پروجیکٹ کی سب سے بڑی طاقت الخدمت فاو¿نڈیشن جیسے معتبر فلاحی ادارے کے رضا کاروں (Volunteers) کی شمولیت ہے۔ الخدمت کے رضا کار اس وقت لاہور شہر کے مختلف زونز، چوراہوں اور جھونپڑیوں میں گداگروں کی علمی و سائنسی بنیادوں پر "میپنگ”، ریسرچ اور پروفائلنگ کر رہے ہیں۔اس ڈیٹا بیس کی مدد سے دو اہم کام سرانجام دیے جا رہے ہیں۔ واقعی مجبور، غریب اور حقدار افراد کی نشاندہی کی جا رہی ہے تاکہ انہیں امداد اور بحالی کے پروگرام میں شامل کیا جائے۔ پیشہ ورانہ گداگروں، مجرمانہ گینگوں اور بھکاری مافیا کے کارندوں کو بے نقاب کیا جا رہا ہے تاکہ ان کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جا سکے۔یہ ریسرچ اس بات کی ضمانت ہے کہ ریاست کے وسائل صرف انہی لوگوں پر خرچ ہوں گے جو واقعی سدھرنا اور باوقار زندگی گزارنا چاہتے ہیں۔روز بروز گداگروں کی بڑھتی ہوئی تعداد کو روکنا صرف ٹریفک پولیس یا کسی ایک ادارے کا کام نہیں ہے، لیکن جس طرح سی ٹی او لاہور سید عبدالرحیم شیرازی اور ان کی ٹیم نے پیش قدمی کی ہے، اس نے دیگر اداروں کے لیے بھی ایک راہ متعین کر دی ہے۔ پیشہ ورانہ گداگری کو ختم کرنے کے لیے جہاں ایک طرف اس طرح کے فلاحی و بحالی کے منصوبے لازمی ہیں، وہاں دوسری طرف شہریوں کو بھی اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ عوام کو چاہیے کہ وہ شاہراہوں پر مانگنے والے پیشہ ور عناصر کو پیسے دینے کے بجائے اپنے زکوٰ? و صدقات ان معتبر فلاحی اداروں اور منصوبوں کو دیں جو ان کی پائیدار بحالی کے لیے کام کر رہے ہیں۔ لاہور ٹریفک پولیس کا یہ پائلٹ پروجیکٹ صرف 10 خاندانوں کی کہانی نہیں ہے، بلکہ یہ لاہور کی شاہراہوں کو گداگری سے پاک کرنے اور ہزاروں مجبور انسانوں کو خودمختار بنانے کا پیش خیمہ ہے۔ اگر اس پروجیکٹ کو حکومتی سطح پر مزید فنڈز، تسلسل اور اداریہ تعاون حاصل رہا تو وہ دن دور نہیں جب لاہور ٹریفک پولیس کا یہ ماڈل پورے ملک کی انتظامیہ کے لیے ایک تابناک مثال بن کر ابھرے گا۔ دستِ سوال کو دستِ ہنر میں بدلنے کا یہ سفر بلا شبہ ایک واقعی شاندار اور قابلِ تقلید پیش رفت ہے۔






