سوشل ورکر یا سماجی کارکن !
جاویدایازخان
کہتے ہیں کہ انسان ہونا ہمارا انتحاب نہیں یہ تو قدرت کی عطا ہے مگر اپنے اندر انسانیت کو زندہ رکھنا یہ ہمارا اصل انتخاب اور کردار ہے۔قدرت ہمیں انسان بناتی ہے لیکن ہمارے کردار ،رویے اور عمل ہی یہ ثابت کرتے ہیں کہ ہم حقیقتا” انسان بھی ہیں ؟ ہمارے ہر عمل اور ہماری نیتوں کو خدا دیکھ رہا ہے اور جانتا بھی ہے۔انسانیت کو زندہ رکھنے سے یہی مراد ہے کہ ہم اپنی سوچ اور عمل سے لوگوں کی زندگیوں کو آ سان بنانے کی کوشش کریں۔گذشتہ روز مجھ سے ایک دوست نے سوشل ورکر یا سماجی کارکن کی تعریف پوچھی تو مجھے اباجی اور ہمارے مرحوم دوست محمد اکرم لنگا ہ کی گفتگو یاد آگئی۔اباجی کہنے لگے ببھلا بتاو ! آ پ کی زندگی سے کتنے لوگوں کو آسانی ملتی ہے ؟ جی ہاں ! مرحوم اکرم لنگاہ اباجی کے ان چند جانثار ورکرز میں شامل تھا جو چوبیس گھنٹے اپنی ذات کو سماجی خدمت کے لیے وقف کرچکے تھے۔اس کے ذمے تمام بھاگ دوڑ کے کام ہوا کرتے تھے۔ محمد اکرم لنگاہ مرحوم محلہ فتانی احمدپورشرقیہ کا ایک درد دل رکھنے والا انسان تھا اپنی کمزور بینائی اور کمزور مالی حالات کے باوجود اس کا خدمت انسانیت کا جذبہ بڑا بلند تھا۔میرے سے دوستی کی وجہ سے وہ ہمارے اباجی سے متعارف ہوا۔خدمت خلق کے جذبے سے سرشار اس نوجوان نے ایک دن اباجی سے پوچھا کہ خان صاحب ! میں ایک بہت غریب آدمی ہوں عیال دار اور بےروزگار ہوں۔آپ ہمیں خدمت خلق اور سوشل ورک کے لیے ہدایت کرتے ہیں تو مین سوچتا ہوںکہ ان تنگ مالی حالات میں لوگوں کی بھلائی کے لیے کیا اور کیسے کچھ کر سکتا ہوں ؟ اباجی نے اسے کہا کہ اکرم لنگاہ صاحب بھلا سوشل ورک کے لیے مالی طور پر بہتر ہونا کب ضروری ہے ؟آپ نے وہ مثال تو سنی ہوگی کہ "ڈوبتے کو تنکے کا سہارا ” تو اگر آپ کسی ڈوبتی ہوئی چیونٹی کو ڈوبنے سے بچانے کے لیے ایک تنکےکا سہارا دے دیں تو یہ بھی سوشل ورک اور خدمت خلق ہوگا۔کسی راستے سے پڑے ہوے کانٹے یا پتھر ہی ہٹا دیں تو اس بہتر خدمت خلق کیا ہو سکتی ہے ؟اس میں بھلا کب پیسے لگتے ہیں ؟ انہوں نے خدمت خلق اور سوشل ورک کےاصل فلسفے کو بڑی خوبصورتی سے بیان کیا کہ خدمت خلق صرف مال ودولت لٹانے کا نام نہیں بلکہ خدمت خلق کے لیے جیب سے زیادہ دل میں احساس ہونا ضروری ہے۔دولت کے بغیر بھی انسانیت کی خدمت کے بےشمار راستے ہیں جیسا کہ یہ کہ کسی گرتے ہوے کو ہاتھ دینا ،مایوس کو حوصلہ دینا ، بھولے کو استہ دکھانا ،پریشان حال کی بات سن لینا ،بزرگ بیمار یا کمزور شخص کا کوئی کام کردینا ،کسی غریب کے بچے کو پڑھا دینا یا رہنمائی کردینا ،ضرورت مند کو خون عطیہ کرنا ،کسی کو مسکرا کر دیکھنا ،کسی کی عزت نفس مجروح نہ کرنا ،دو ناراض لوگوں کی صلح کرا دینا ،کسی کی غیر موجودگی مین اس کا حق بیان کرنا ،اپنے علم ،تجربے اور صلاحیت سے دوسروں کو فائدہ پہنچانا ،کسی کےلیے مشکل وقت میں کام آنا اور اگر کام نہ آسکو تو دعا ضرور کردینا ،کسی انسان کو انسان سمجھ کر اس کے ساتھ عزت اور محبت سے پیش آنا ،اور ڈوبتے ہوے کو تنکے کا سہارا دے دینا بھی انسانیت کی بڑی خدمت ہے۔اصل سرمایہ پیسہ یا دولت نہیں ،احساس ہے۔جبکہ اصل دولت مال نہیں انسانیت کی سو چ ہوتی ہے۔جس دل میں دوسروں کا درد محسوس کرنے کی صلاحیت ہو وہ خالی ہاتھ بھی بہت کچھ بانٹ سکتا ہے۔کبھی ایک اچھا جملہ کسی کی زندگی بدل دیتا ہے ،کبھی بروقت مدد کسی کو ٹوٹنے سے بچالیتی ہے اور کبھی محض کسی کے ساتھ مشکل لمحات میں کھڑا ہوجانا ہی اس کے لیےدنیا کی سب سے بڑی مدد بن جاتا ہے۔خدمت خلق کے لیے جیب کا بھرا ہونا ضروری نہیں بلکہ دل کا بھرا ہونا ضروری ہوتا ہے۔سوشل ورکر یا سماجی کارکن وسائل کا محتاج نہیں ہوتا وہ اپنے کام کا آغاز اپنے مخلصانہ رویے ،اپنی ایک مسکراہٹ ،ایک لمحے کی توجہ ،ایک قدم کی مدد ،ورنہ کسی کو محبت سے سلام کرکے یا سلام کا جواب دینے سے ہی شروع کرسکتا ہے۔سوشل ورک یا خدمت انسانیت کسی دوسرے کی زندگی میں کوئی آسانی پیدا کرنے کی سوچ کا نام ہے۔پھر انہوں نے کہا کہ اکرم لنگا ہ کیا تمہیں سب سے آسان خدمت خلق کا کام نہ بتا دوں جو ہر وقت کر سکتے ہو ؟ تو بس ہر وقت اپنے ملک و قوم سے محبت لوگوں کے لیے اچھا ئی کی سوچ اور بھلائی کی نظر رکھو۔یاد رکھو جو شخص اپنے وطن سے محبت کرتا ہے وہ وہاں بسنے والے لوگوں کی محبت سے بھی سرشار ہوتا ہے۔اپنے ملک ،وطن ،اور یہاں بسنے والوں سے محبت کرو۔یہی ایک اچھے سوشل ورکر کی پہچان اور خوبی ہے۔مختصرا”یہ کہ ہر وہ کام جس کے کرنے سے دوسروں کا بھلا ہوتا ہو چاہے اس میں اپنا نقصان ہی ہوتا ہو کرنا سماجی خدمت اور نیکی بھی ہے۔اکرم لنگا ہ مرحوم کو یہ بات دل کو لگی اور پھر ہم سب نے دیکھا کہ سایکل پر سوار یا پیدل وہ دن رات ان ہدایت پر عمل کرنے لگا۔ہر اچھے کام میں پیش پیش اور ہر اچھائی کے لیے آگے آگے نظر آتا تھا۔اباجی ،ماسٹر رشید صاحب اور اسلم اللہ والے کے ساتھ ساتھ وہ ہمیشہ اباجی کے ہمراہ رہتا اور ہر امدادی کاروائی کا حصہ بن جاتا تھا۔وہ بوڑھا ہوگیا بچے جوان ہوگئے مگر جب تک اباجی زندہ رہے وہ تین میل کا سفر کرکے ان تک پہنچتا اور ان کی ہدایت کے مطابق راستے کے پتھر اور کانٹے ہٹاتا رہا اور پھر وہ جہاں کوئی کاغذ ایسا دیکھتاجس پر اللہ اوراسکے رسول کا ذکر تحریر ہوتا راستے بھر سے اٹھاتا جاتا تھا۔وہ خدمت خلق کا فلسفہ جان چکا تھا۔یوں اباجی کی تنظیم پاکستان سوشل ایسوسی ایشن اور ٹی بی ایسوسی ایشن کے لیے اس کی دیوانہ وار خدمات تاریخ کی حصہ بن گئیں۔ہر قومی تقریب میں پیش پیش نظر آنے لگا بلکہ انتظامیہ میں شامل ہوتا اور پھر وہ ہر ہسپتال ،حادثے کی جگہ ،اسکولز ،ہر سیلاب کے امدادی کیمپ ،ہر بیمار کی عیادت ،ہر یتیم کی سرپرستی ،دوستوں کی مدد ،قبرستانوں کی دیکھ بھال ،خون کے عطیے اور دوائیوں کی ترسیل میں دکھائی دینے لگا وہ پوری زندگی ہر وہ عمل کرنے کی کوشش کرتا رہا جس کی ہدایت اباجی نے اسے کی تھی۔پھر اپنے کئی دوستوں کو بھی اس عمل اور سوچ میں شام کر لیا اور ان دوستوں کی پوری ٹیم جو محمد اختر ناشاد انصاری اور دیگر دوستوں پر مشتمل تھی چپ چاپ ایسے کام کرتے جو بظاہر معمولی اور نظر نہ آنے والے ہوتے مگر انسانیت کی خاموش خدمت کا باعث بنتے۔بزرگ اور معذور افراد کی تنہائی دور کرنا ان کا وطیرہ ہوا کرتا تھا۔یہ خدائی خدمتگار اپنی روزی روٹی بھی کرتے اور جہاں ضرورت ہوتی اپنا خون تک دینے کو تیار ہوتے تھے۔نہ پبلسٹی کی تمنا نہ تعریف کی ضرورت اور نہ بدلے کی خواہش ! وہ اباجی کی وفات کے بعد رنجیدہ رہنے لگا تھا مگر کوششوں میں کمی نہ آئی اور پھر اسی جدوجہد میں ہارٹ اٹیک کی باعث وہ دنیا چھوڑ کر چپ چاپ مالک حقیقی سے جا ملا ! ا للہ مرحوم کے۔لیکن اس کی کمی آج بھی ہر وہ شخص محسوس کرتا ہے جس کے لیے اس نے اچھا سوچا اور کسی نہ کسی طور جسے کا دکھ کا مداوابنا۔واقعی کبھی ایک صاحب دل آدمی اپنے خالی ہاتھوں سے وہ خدمت کر جاتا ہے جو بڑے بجٹ والی تنظیمیں بھی نہیں کر پاتیں۔ آج سوال یہ ہے کہ سماجی خدمت کے نام پر وسائل تو جمع ہوتے دکھائی دیتے ہیں مگر ان وسائل کا فائدہ معاشرے کے عام آدمی اور ضرورت مند انسان تک کتنا پہنچ رہا ہے ؟ اگر سماجی تنظیموں کے عالیٰشان دفتر ،گاڑیاں ،اجلاس ،تشہیری سرگرمیاں اور انتظامیاخراجات تو نمائیاں ہوں مگر یتیم ،بیوہ ،بیمار ،غریب ،طالب علم یا مصیبت زدہ انسان کی زندگی میں کوئی تبدیلی نظر نہ آے تو جان لیں کہ خدمت خلق کا حسن نمائش میں نہیں نتائج میں ہوتا ہے۔ہمیں انفرادی اور اجتماعی طور پر کام کرنے والے محب وطن اور درد دل رکھنے والوں کی آج پہلے سے کہیں زیادہ ضرورت ہے۔اگر دنیا میں آپ کی پہچان اگر کسی کے لیے آسانی پیدا کرنے والے کی ہو تو یہ یہی دراصل سوشل ورک ہے۔بڑی اور خاموش خدمات انجام دینے والا ایک گمنام سماجی کارکن اکرم لنگا ہ کسی خراج تحسین کا متمنی ہرگز نہ تھا پھر بھی اس کی خدمات کو سلام اور خراج عقیدت ضرور پیش کرنا چاہیے شاید یہی ہمارےٓلیے سماجی خدمت بن جاے ۔





