#کالم

انصاف کے حصول کا ایک بہترین طریقہ

shafqat hussain

شفقت حسین

اس حقیقت کے اظہار کے حوالے سے ہر گز دو رائیں نہیں کہ پاکستان کے حالات اس قدر نا گفتہ بہ ہیں کہ اصلاح احوال کے ذمہ داران بھی مہر بہ لب ہیں کہ انہیں درست کیسے کیا جائے کیونکہ اکثریت ایسے ذمہ داران کی ہے جو حالات کو جوں کا توں (Status Quo) رکھنے کے نہ صرف عادی ہو چکے ہیں بلکہ اس پرخوش بھی ہیں۔ ان کے اندر صرف اپنے عیش و نشاط اپنی پہلے سے سرکار کی طرف سے حاصل شدہ مراعات اور سہولیات اور اپنے پرکششمشاہروں اور الاﺅنسزمیں ہر گزرنے والے دن کےساتھ اضافے کی خواہش کی مہلک اور متعدی بیماری کے ضرر رساں جراثیم اس قدر گہرے طور پر سرائیت کر چکے ہیں کہ ختم ہونے کا نام ہی نہیں لیتے۔ حالانکہ ان کو اس شے کا علم ہی نہیں کہ بقولعلمائے حق خدائے بزرگ وبرتر نے انسان کی تمام ناا?سودہ اور بے چین تمناﺅں کی تسکین کا بندوبست اپنے کارخانہ قدرت میں بڑی وافر مقدار میں پہلے ہی کر رکھا ہے جہاں تک عام?الناس کے ر±کےہوئے کاموں کا تعلق ہے وہ کسی کی جرات نہیں کہ اپنے جائز کام بھی کروا سکے۔ ہمیں یاد ہے کہ چیف سیکرٹری پنجاب زاہد اختر زمان نے اپنی تعیناتی کے تھوڑے عرصے بعد ہی ببانگ دہل ارشاد فرما دیا تھا کہ میرے دفتر میں دو دن سےزیادہ فائل نہیں رکتی جس کا جوہری طور پر ایک ہی مقصد اور مطلب تھا کہ اب ہر کام روٹین کے مطابق ہو رہا ہے اور عوام کو اپنے کاموں کے سلسلے میں سرکاری دفاتر کے بار بار چکر نہیں لگانے پڑتے۔ یہ بدیہی طور پر ایک اشارہ بھی تھا اپنی ماتحت انتظامی مشینری کے لئے بھی کہ اب پہلے سے بگڑے ہوئے لوگ بھی سیدھے ہو گئے ہیں جو ان کی تعیناتی سے قبل اپنے اپنے فرائض کی ادائیگی کے حوالے سے سست روی یا غفلت کاشکار تھے بلکہ جان بوجھ کر لوگوں کے کام نہیں کرتے تھے لیکن سچی بات یہی ہے کہ چیف سیکرٹری کا یہ دعویٰ محض دعویٰ ہی اب تک نظر آیا ہے کیونکہ سائلین کی فائلیں اور درخواستیں دو دن تو کیا دو دو سال تک بھی دوڑتی تو کیا رینگتی ہوئی بھی نظر نہیں آئیں۔ کیونکہ افسران اور ماتحت عملےکےدلوں میں کام کرنے کی خواہش ہی نہیں، جذبہ ہی نہیں داعیہ تو ایک طرف رہا۔ جب ہم دیکھتے ہیں کہ اعلیٰ سرکاری اور انتظامی افسران اپنے اپنے دفاتر کے اور ہیڈ کوارٹرز کے باہر شاہراﺅں پر رکھےگئے بڑے بڑے Cemented Blocks کے حصار میں یعنی قلعہ بند ہو کر گرمیوں میں ٹھنڈے اور سردیوں میں گرم کمروں میں ٹی، کافی اور سنیکس بسکٹس اور سافٹڈرنکس کے مزے لیتے ساتھی افسران اور دوست احباب سے گپ شپ کرتے ہیں جبکہ بےچارے عوام شہروں سے قریب تر یا شہروں سے دور دراز علاقوں سےا ئے اپنے کاموں کے سلسلے میں سردی اور گرمی سے بے نیاز سڑکوں پر ر±ل رہے ہوتے ہیں دھکے کھا رہے ہوتے ہیں حسرت و یاس اور بے بسی کی تصویریں بنے ہوئے نظر آتے ہیں۔قارائین کرام! یہ بھی ایک سچی مگر کڑوی اور تلخ حقیقت ہے جو صوبے کی حکومتی اور انتظامی مشینری کے علم میںپہلےہی موجود ہے کہ بعض نسبتاً چھوٹے یا بڑے گریڈ کے افسران کسی سے نرم گوشہ رکھنے کی پاداش میں دو دو تین تین سال سے اپنی اپنی سیٹوں سے ہٹا دئیے گئے ہیں اور انہیں سیٹ پر بیٹھنے کی اجازت نہیں۔ انہیں کام نہیں کرنے دیا جا رہا ان کی کہیں شنوائی نہیں ہو رہی۔ میری ایک بڑی بد قسمتی ہے (کیونکہ میں کسی کے لئے کچھ کر نہیں سکتا) کہ فیصل آباد جو میری جنم بھومی ہے وہاں میں اپنے ایک ایسے کرمفرما اور مہربان دوست کو جانتا ہون جو سائنس کے ایک بڑے مشکل مضمون مین پی ایچڈی ہیں مگر ایک گرداوار ہیں۔ اس شریف النفس اور نیک طینت اہلکار کی ترقی محض اس بنا پر نہیں ہو رہی کہ ریونیو ڈیپارٹمنٹ میں شاہد گجر ایک بڑا پڑھا لکھا گرداور ہے۔ محترم شاہد گجر صاحب گرداور کی ترقی اس لئے نہیں ہو رہی کہ اسے اپنے اعلیٰافسران کو منیج کرنے کا فن نہیں ا?تا۔ وہ ان سے بہت زیادہ پڑھا لکھا ہے قصئہ مختصر تن ہمہ داغ داغ شد، پنبہ کجاکجا نہم۔ جس طرف ہاتھ ڈالو تعفن اور غلاظت اس قدر بدرجہا±تم ہے کہ ہاتھ ل±تھڑے بغیر نہیں رہتے۔ دلدل اس قدر گہری اور شدید ہے کہ اس میں صرف دھنساہی جا سکتا ہے۔ بحفاظت نکلا نہیں جا سکتا۔ لیکن مقام اطمینان ہے کہ اس قدر تعفن غلاظت اور گہری دلدل کی موجودگی کے باوجود کچھ پاکباز لوگ ابھی وطن عزیز میں ایسے ضرور موجود ہیں جو نہ صر ف کام پر یقین رکھتے ہیں بلکہ انگلی سےپکڑ کر انسانوں کو صراطِ مستقیم کی جانب گامزن کرنے کی تڑپ ، جستجو، لگن، جذبہ اور داعیہ بھی اپنے اندر رکھتے ہیں۔ میں اپنے ا?فس کی جانب سے تفویض کردہ ایک اضافی ذمہ داری اور فرض کی ادائیگی کے لئے لاہور کے ایک سابق سیشن جج صاحب کی عدالت میں موجود تھا جو ریٹائرمنٹ کے بعد آجکل اس عدالت (ٹربیونل) کے سربراہ ہیں۔ وہ بڑی درد مندی اور دلسوزی کے ساتھ ایک مرحلے پر کسی کیس کی سماعت کے دوران انگلی سے پکڑ کر میرے لئے (نا معلوم ) عدالت میں آئے ہوئے شہری کو صراطِ مستقیم پر لانے کی کوشش فرما رہے تھے۔ وہ گفتگو بڑی شائستگی، تہذیب بڑے تحمل اور بڑی ہلکی اور خفیف آواز میں فرما رہے تھے میں بھی ان کی اس محبت بھری اور نصیحتا موز ، شائستہ گفتگو کو بڑے گہرے انہماک اور توجہ سے سن رہا تھا لیکن تمام تر توجہ کے باوجود آواز کا زیر و بم مجھے کرسی سے اٹھ کر جج صاحب کے روسٹرم تک جانے پر مجبورکر رہا تھا۔ آخر کار مجھ سے رہا نہ گیا لہٰذا میں اٹھ کر روسٹرم تک جا کر جناب معزز جج صاحب کی گفتگو مزید غور اور انہماک سے سننے لگا۔ میری توجہ اور دلچسپی کو بھاپنتےہوئےمعزز جج صاحب فرمانے لگے کہ جناب! آپ اخبار نویسہیں،آپ بھی اس موضوع پر کبھی لکھیں۔ میں ان کی عنائتخسروانہ کو ملاحظہ کر کے خوش بھی ہوا اور گہرے طور پر متاثر بھی۔ جج صاحب کی گفتگو کا ماحصل، خلاصہ اور سبق یہ تھا کہ عوام کے رویے اس قدر بر خود غلط ہیں کہ انہیں انصاف کے حصول کے لئے بھی نہ صرف سمجھانا پڑتا ہے بلکہ انگلی سےپکڑ پکڑ کر صراطِ مستقیم پر ڈالنے کی سعی کرنی پڑتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ لوگ قانون دانوں اور وکلا کو بڑی بھاری بھاری فیسیں تو خوشی خوشی ادا کر دیتے ہیں لیکن انصاف کے حصول کے لئے بذات خود عدالتوں کا رخ ہی نہیں کرتے۔یوں تو جج صاحب کی ساری گفتگو لائق سماعت اور قابل غور تھی لیکن گفتگو کے جس حصے نے مجھے متاثر کیا وہ یہ تھا کہ کسی مجرم یا کسی ملزم کے لئے تو ہتھکڑی صرف ایک ہوتی ہے جو لوہے کی بنی ہوتی ہے لیکن کرسئی انصاف پر متمکن کسی منصف کے لئے کئی ہتھکڑیاں ہوتی ہے ایک طرف ضمیر کی ہتھکڑیدوسر ی جانب اخلاقیات کی ہتھکڑی تیسری جانب کردار کی ہتھکڑی علی ہذالقیاس کئی قسم کی ہتھکڑیاں ہوتی ہیں لہٰذا اللہ تبارک تعالیٰ کے ہاں احساس جو ابدہی کے خوف سے کوئی جج بھی انصاف سے رو گردانی نہیں کر سکتا لیکن عوام ساتھ نہیں دیتے۔ میں سمجھتا ہوں کہ جج صاحب سختی کے ساتھ اس قرآنی حکم پر عمل پیرا ہیں کہ عدل کرو کہ یہ تقوے سے قریب ترہے۔قارئیں کرام! سچی بات یہ ہے کہ پاکستان کے دوسرے اداروں کی طرح عدلیہ پر بھی میرا اعتماد نہ ہونے کے برابر تھا لیکن جج صاحب کی گفتگو نے میرے عدلیہ کے بارے میں گرے ہوئے اعتماد کو بحال کردیا۔ اگرچہ ایک دو واقعات جو خود میرے ذاتی قسم کے ہیں لیکن وہ پھر کبھی۔۔۔۔۔۔۔ فی الحال عوام سے استدعا ہے کہ وہ مذکورہ جج صاحب کے دئیے ہوئے مشورے پر عمل کریں کہ وہ اپنے کاموں کے سلسلے میں عدلیہ کا از خود رخ کریں۔ میری نظر میں میرے خیال میں ایسا کرنے سے ایک طرف تو عدلیہ پر عوام کا دباﺅ بڑھے گا جبکہ دوسری جانب وہ بھی میرے اندازے کے مطابق عدلیہ میں پڑے ہوئے پانچ چھ لاکھ کیسز کو بتدریج اور آہستہ ٓہستہ کم کرنے میں بھی مدد ملے گی۔

انصاف کے حصول کا ایک بہترین طریقہ

25/08/2026 Daily Sarzameen Lahore

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے