بسنت، رنگوں کی پھر واپسی
رفیع صحرائی
سالِ رواں میں پنجاب حکومت نے قریباً پچیس برس بعد بسنت کی واپسی کا فیصلہ کیا تو عوام کی طرف سے جہاں اس فیصلے کی بھرپور پذیرائی کی گئی وہیں پر بعض حلقوں کی جانب سے تحفظات کا اظہار بھی کیا گیا تھا۔ بہرحال زندہ دلانِ لاہور نے بھرپور اور ایس او پیز کی پابندی کے ساتھ پرجوش انداز میں بسنت منا کر ذمہ دار شہری ہونے کا عملی ثبوت فراہم کر کے اس فیسٹیول کو نئی زندگی دے دی۔لاہور صرف اینٹوں، سڑکوں، بازاروں اور عمارتوں کا نام نہیں۔ یہ زندہ دل لوگوں کا ایک زندہ شہر ہے، جس کی اپنی خوشبو، اپنی آواز، اپنی ثقافت اور اپنی روایات ہیں۔ بسنت بھی اسی زندہ ثقافت کا ایک خوب صورت استعارہ ہے۔ دو دہائی قبل وہ دور تھا جب فروری کی نرم دھوپ میں لاہور کے آسمان پر رنگ برنگی پتنگیں لہراتی تھیں، چھتوں پر بو کاٹا کی صدائیں بلند ہوتی تھیں، زرد لباس زیب تن کیے لوگ بہار کا استقبال کرتے تھے تو یوں محسوس ہوتا تھا جیسے پورا شہر ایک ہی خوشی میں شریک ہے۔ ایک ہی رنگ میں رنگا ہوا ہے۔اب ایک مرتبہ پھر پنجاب حکومت نے لاہور میں 12، 13 اور 14 مارچ 2027 کو تین روزہ بسنت منانے کا اعلان کر دیا ہے۔ 2026 میں 25 برس کے طویل وقفے کے بعد بسنت کی واپسی ہوئی تھی اور اب 2027 میں اس کے تسلسل کا فیصلہ اس بات کا امتحان بھی ہے کہ ہم اپنی ثقافتی روایت کو جدید تقاضوں، قانون اور انسانی جان کے احترام اور حکومت کے جاری کیے گئے ایس او پیز کے ساتھ کس طرح زندہ رکھ سکتے ہیں۔بسنت برصغیر کی قدیم موسمی اور ثقافتی روایات سے جڑی ہوئی ہے۔ پنجاب میں اسے بہار کی آمد، سردیوں کے اختتام اور خوش گوار موسم کے استقبال کے تہوار کے طور پر پذیرائی ملی۔ وقت کے ساتھ پتنگ بازی اس جشن کا سب سے نمایاں حصہ بن گئی۔ لاہور نے تو اسے ایک ایسی شہری روایت بنا دیا جس کا چرچا دنیا بھر میں ہونے لگا۔پتنگ اور ڈور کی کہانی بھی اپنے اندر ایک دلچسپ ارتقائی سفر رکھتی ہے۔ کبھی پتنگ اڑانے کے لیے سادہ روئی سے بنے دھاگے کی ڈور استعمال ہوتی تھی۔ پھر مقابلے کا شوق بڑھا تو ڈور کو مضبوط اور کاٹ دار بنانے کے لیے مانجھے کا استعمال شروع ہوا۔ روایتی مانجھا مخصوص طریقے سے تیار کیا جاتا تھا، مگر وقت گزرنے کے ساتھ بعض لوگوں نے شیشے، کیمیکل، نائیلون اور بالآخر دھاتی تار تک کا استعمال شروع کر دیا۔ یہاں سے بسنت کی خوب صورتی ایک خطرناک رخ اختیار کر گئی۔ جو ڈور کبھی آسمان میں رنگ بکھیرنے کا ذریعہ تھی، وہ بعض اوقات موٹر سائیکل سواروں کے گلے کا پھندا بن گئی۔ دھاتی ڈور بجلی کی تاروں سے ٹکرانے لگی تو لوگوں کو زخمی و ہلاک کرنے کے علاوہ چھتوں سے پتنگ لوٹنے والے بچوں کے لیے جان لیوا ثابت ہونے لگی۔ یوں بسنت کا تہوار خوشی کے ساتھ ساتھ خوف کی علامت بھی بنتا گیا۔پنجاب میں بسنت اور پتنگ بازی پر طویل پابندی کے پیچھے بنیادی وجہ یہی انسانی جانوں کا تحفظ تھا۔ دھاتی اور کیمیکل لگی ڈور سے ہونے والے حادثات، موٹر سائیکل سواروں کے زخمی اور جاں بحق ہونے کے واقعات، بجلی کی تاروں سے حادثات اور چھتوں سے گرنے کے واقعات نے حکومت کو سخت فیصلے پر مجبور کیا۔ بالآخر 2000 کی دہائی میں بسنت پر پابندی کا سلسلہ شروع ہوا اور یہ خوب صورت تہوار دو عشروں سے زیادہ عرصے تک لاہور کے آسمان سے غائب رہا۔ یہ بات بھی تسلیم کرنی چاہیے کہ پابندی صرف حکومت کی ضد نہیں تھی۔ اس کے پیچھے حقیقی انسانی المیے موجود تھے۔ مسئلہ بسنت نہیں تھا، مسئلہ خطرناک ڈور اور غیر ذمہ دارانہ طرزِ عمل تھا۔پھر 2026 آیا۔ پنجاب حکومت نے سخت حفاظتی شرائط کے ساتھ لاہور میں 6، 7 اور 8 فروری کو بسنت منانے کی اجازت دی۔ یہ محض ایک تہوار کی واپسی نہیں تھی بلکہ لاہور کی ثقافتی شناخت کے ایک حصے کی واپسی تھی۔ سرکاری طور پر اسے محفوظ، منظم اور باقاعدہ بنانے کے لیے رجسٹریشن، معیاری ڈور، پتنگوں کے سائز، موٹر سائیکلوں پر حفاظتی راڈز اور ممنوعہ ڈور کے خلاف کارروائی سمیت متعدد اقدامات کیے گئے۔لاہور کے بازاروں میں کئی دن پہلے ہی رونق شروع ہوگئی۔ موچی گیٹ اور دیگر علاقوں میں پتنگوں، ڈور، کاغذ، بانس اور متعلقہ سامان کی خریدوفروخت میں غیر معمولی اضافہ ہوا۔ ہزاروں لوگوں نے اس تہوار میں شرکت کی۔ ہوٹلوں، ریسٹورنٹس، کیٹرنگ، ٹرانسپورٹ اور دیگر کاروباروں کو بھی فائدہ پہنچا۔لیکن کامیابی کی اس تصویر کا دوسرا رخ بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ مختلف رپورٹس میں بسنت کے دوران جانی حادثات کا ذکر ہوا اور ہوم ڈیپارٹمنٹ کی ایک رپورٹ کے مطابق مجموعی طور پر 17 اموات کی اطلاع بھی سامنے آئی، اگرچہ ان اموات کی تمام تفصیلات اور اسباب ایک جیسے نہیں تھے۔ اس لیے 2026 کو ثقافتی طور پر شاندار مگر حفاظتی اعتبار سے مزید بہتری کا متقاضی تجربہ کہنا زیادہ مناسب ہوگا۔بسنت کے معاشی پہلو کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ 2026 میں صرف پتنگ اور ڈور کی فروخت ہی اربوں روپے تک پہنچنے کی مختلف اندازے سامنے آئے۔ ایک رپورٹ کے مطابق لاہور میں تین روزہ بسنت سے مجموعی معاشی سرگرمی 4 سے 6 ارب روپے تک رہی، جبکہ آل پاکستان کائٹ فلائنگ ایسوسی ایشن نے پنجاب میں 20 ارب روپے سے زائد کاروبار کا دعویٰ کیا۔ یہ اعداد و شمار مختلف ذرائع کے اندازے ہیں، سرکاری حتمی حساب نہیں، مگر اس سے تہوار کی معاشی اہمیت کا اندازہ ضرور ہوتا ہے۔اس کاروبار سے صرف پتنگ فروش ہی فائدہ نہیں اٹھاتے۔ پتنگ بنانے والے کاریگر، بانس فراہم کرنے والے، کاغذ اور رنگ کے کاروبار، ڈور تیار کرنے والے، پیکنگ کرنے والے، پرنٹرز، ٹرانسپورٹرز، دکاندار اور مزدور اس پوری معیشت کا حصہ ہیں۔ اس کے بعد ریستوران، ہوٹل، کیٹرنگ، بیکریاں، مشروبات، ٹیکسی اور رکشہ سروسز، چھتوں پر تقریبات منعقد کرنے والے افراد اور دیگر چھوٹے کاروبار بھی اس معاشی سرگرمی سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔ یعنی بسنت کو اگر منظم طریقے سے منایا جائے تو یہ ثقافت کے ساتھ روزگار کا ایک موسمی ذریعہ بھی بن سکتی ہے۔بسنت کو صرف پتنگ بازی تک محدود کرنا بھی اس تہوار کے ساتھ ناانصافی ہے۔ اگرحکومت بسنت کے موقع پر لاہور کے عجائب گھروں، تاریخی عمارتوں، باغات اور ثقافتی مراکز میں پنجابی موسیقی، لوک رقص، مشاعرے، دستکاری کی نمائشیں، روایتی کھانوں کے میلے، کتابوں کی نمائش اور مقامی فنکاروں کے پروگرام منعقد کرنے کا بندوبست کر دے تو اس تہوار کی رونقیں مزید بڑھ جائیں گی۔اس بات کی بھی ضرورت ہے کہ پتنگ سازی کے روایتی ہنر کو باقاعدہ کرافٹ انڈسٹری کا درجہ دیا جائے۔ پرانے کاریگروں کو تربیت، مالی معاونت اور مارکیٹنگ کی سہولت فراہم کرکے اس فن کو نئی نسل تک منتقل کرنے کا بندوبست کیا جائےسرکاری اعلان کے مطابق لاہور شہر میں 2027 میں بسنت 12، 13 اور 14 مارچ کو ہوگی۔ حکومت نے پہلے ہی نئے حفاظتی ضوابط جاری کر دیے ہیں۔ محفوظ اور مضبوط چھت، کم از کم ساڑھے تین فٹ چھت کی چار دیواری، بچوں کی نگرانی اور چھتوں پر خطرناک حرکات سے اجتناب لازم قرار دیا گیا ہے۔ دھاتی تار، نائیلون اور شیشے سے لیپ شدہ ڈور پر مکمل پابندی برقرار ہے۔ خلاف ورزی پر بھاری جرمانے اور قید کی سزائیں بھی موجود ہیں۔اب حکومت کی اصل ذمہ داری صرف قانون بنانا نہیں بلکہ اس پر بلاامتیاز عمل کرانا ہے۔ ممنوعہ ڈور بنانے والے، بیچنے والے اور استعمال کرنے والے سب کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے۔ اجازت صرف رجسٹرڈ اور قانون کی پابندی کرنے والوں کو ملنی چاہیے۔ ضلعی انتظامیہ، پولیس، ریسکیو 1122 اور دیگر متعلقہ اداروں کے درمیان مربوط نظام پہلے سے تیار ہونا چاہیے۔ دوسری طرف عوام کو بھی یہ سمجھنا ہوگا کہ قانون صرف دوسروں کے لیے نہیں ہوتا سبھی کو اس پر عمل کرنا ہوتا ہے۔ والدین اپنے بچوں کو چھتوں پر بے احتیاطی سے پتنگ اڑانے سے روکیں، موٹر سائیکل سوار حفاظتی اقدامات کریں اور شہری کسی بھی خطرناک ڈور یا غیر قانونی سرگرمی کی فوری اطلاع دیں۔سب سے اہم بات یہ کہ بسنت کو مقابلہ بازی سے ذمہ داری کی طرف لے جانا ہوگا۔ کسی کی پتنگ کاٹنا خوشی ہے، کسی کی زندگی کاٹ دینا جرم اور المیہ ہے۔ بسنت ہماری ثقافت ہے، مگر انسانی جان اس سے کہیں زیادہ قیمتی ہے۔ ہمیں ایسا لاہور چاہیے جس کے آسمان پر ہزاروں پتنگیں ہوں، مگر کسی گھر کا چراغ نہ بجھے۔ اگر حکومت محفوظ بسنت کے اصولوں پر سختی سے عمل کرائے اور عوام قانون کو اپنی ذمہ داری سمجھ کر قبول کریں تو 2027 کی بسنت محض ایک تہوار نہیں بلکہ یہ پیغام بن سکتی ہے کہ ہم اپنی روایات کو ختم نہیں کرتے، انہیں وقت کے تقاضوں کے مطابق محفوظ بناتے ہیں۔لاہور کی چھتیں پھر سجیں، آسمان پھر رنگین ہو، ”بو کاٹا“ کی آواز پھر گونجے، پنجابی ثقافت پھر اپنی پوری آب و تاب سے جلوہ گر ہو، مگر اس بار ہر پتنگ کے ساتھ ایک عہد بھی بلند ہو:خوشی بھی ہوگی، تہذیب بھی ہوگی، روزگار بھی ہوگا، مگر انسانی جان کی قیمت ان سب سے اہم ہو گی۔






