ایران امریکہ کشیدگی: جنگ یا مذاکرات؟
تحریر: انجینئر بخت سید یوسفزئی
مشرقِ وسطیٰ میں ایران اور امریکہ کے درمیان جاری کشیدگی ایک بار پھر خطرناک موڑ پر پہنچ گئی ہے۔ پاکستان کی ثالثی سے طے پانے والے امریکہ اور ایران کے معاہدے کے تحت جنگ بندی اور مستقل امن کی راہ ہموار کرنے کے لیے 60 دن کی مہلت دی گئی تھی، مگر یہ مدت کسی حتمی سیاسی حل کے بغیر ختم ہوگئی۔ اب سوال صرف یہ نہیں کہ جنگ دوبارہ شدت اختیار کرے گی یا نہیں، بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ امریکہ اس تنازع سے نکلنے کے لیے کوئی واضح اور قابلِ عمل راستہ رکھتا بھی ہے یا نہیں۔اس بحران کا سب سے حساس پہلو آبنائے ہرمز بن چکا ہے۔ یہ وہ انتہائی اہم سمندری گزرگاہ ہے جس سے عالمی توانائی کی ایک بڑی مقدار گزرتی ہے اور جس میں معمولی رکاوٹ بھی عالمی تیل اور گیس کی قیمتوں، سپلائی چین اور معاشی استحکام پر گہرے اثرات مرتب کرسکتی ہے۔ 19 اگست کی صورتحال میں اس راستے سے تجارتی آمدورفت انتہائی کم ہوچکی ہے۔ایسے وقت میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے عمان کو دی جانے والی دھمکی نے صورتحال کو مزید پیچیدہ کردیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق ٹرمپ نے خبردار کیا کہ اگر عمان ایران کے ساتھ آبنائے ہرمز کے حوالے سے ہونے والی بات چیت میں امریکی کوششوں کے راستے میں رکاوٹ بنا تو واشنگٹن سخت فوجی کارروائی کرسکتا ہے۔عمان کی اہمیت اس لیے غیر معمولی ہے کہ وہ طویل عرصے سے ایران اور مغرب کے درمیان ایک قابلِ اعتماد رابطہ کار کے طور پر کام کرتا آیا ہے۔ مسقط نے ماضی میں بھی ایسے مواقع پر خاموش سفارت کاری کو ترجیح دی ہے جب واشنگٹن اور تہران براہِ راست ایک دوسرے سے بات کرنے کے لیے تیار نہیں تھے۔ یہی وجہ ہے کہ عمان پر دباو¿ ڈالنا محض ایک چھوٹے خلیجی ملک پر دباو¿ نہیں بلکہ پورے علاقائی سفارتی نظام کو متاثر کرسکتا ہے۔ایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز سے متعلق مذاکرات نے واشنگٹن کو اس لیے بھی تشویش میں مبتلا کیا ہے کہ امریکہ چاہتا ہے کہ اس اہم سمندری راستے کی بحالی اس کے اپنے شرائط و حفاظتی انتظامات کے تحت ہو۔ دوسری طرف ایران آبنائے ہرمز کے بارے میں اپنی سلامتی، خودمختاری اور پابندیوں کے خاتمے کو بنیادی مطالبات میں شامل کر رہا ہے۔ایران نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ آبنائے ہرمز کو معمول پر لانے کا معاملہ وسیع تر جنگ بندی اور امریکی اقدامات سے الگ نہیں دیکھا جاسکتا۔ یہی وہ نکتہ ہے جہاں مسئلہ محض سمندری آمدورفت سے نکل کر ایک بڑے جغرافیائی، اقتصادی اور عسکری تنازع میں تبدیل ہوجاتا ہے۔پاکستان کی ثالثی سے ہونے والی پیش رفت نے ایک وقت میں امید پیدا کی تھی کہ امریکہ اور ایران کئی دہائیوں پر محیط دشمنی کے باوجود کسی عبوری فارمولے تک پہنچ سکتے ہیں۔ اسلام آباد مفاہمت نامے میں دونوں جانب سے حتمی معاہدے کی طرف بڑھنے اور اہم تنازعات کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کا تصور موجود تھا۔اس عمل میں پاکستان کا کردار اس لیے بھی اہم تھا کہ اسلام آباد نے خود کو کسی ایک فریق کے بجائے مذاکرات کے سہولت کار کے طور پر پیش کیا۔ پاکستان کے لیے یہ ایک بڑا سفارتی موقع تھا کہ وہ نہ صرف ایران اور امریکہ کے درمیان رابطہ قائم کرے بلکہ پورے خطے میں امن کے لیے ایک قابلِ قبول کردار ادا کرے۔مگر 60 دن کی مدت کے اختتام تک سب سے مشکل مسائل حل نہ ہوسکے۔ ایران کے جوہری پروگرام، امریکی پابندیوں، منجمد ایرانی اثاثوں، آبنائے ہرمز کی بحالی اور مستقبل کی علاقائی سلامتی کے نظام پر دونوں ممالک کے درمیان بنیادی اختلافات برقرار رہے۔ مفاہمت نامے میں ان میں سے کئی معاملات کے لیے مذاکراتی راستہ موجود تھا، لیکن حتمی سیاسی سمجھوتا نہ ہوسکا۔یہاں سے امریکی حکمت عملی پر سب سے بڑا سوال اٹھتا ہے۔ اگر واشنگٹن کا مقصد صرف ایران پر عسکری دباو¿ بڑھانا ہے تو پھر جنگ کا اختتام کس طرح ہوگا؟ اگر مقصد ایران کو مذاکرات کی میز پر واپس لانا ہے تو عمان جیسے ممکنہ ثالث کو دھمکانا اس مقصد کو مضبوط کرے گا یا کمزور؟یہ سوال اس لیے بھی اہم ہے کہ جنگ جیتنا اور جنگ سے نکلنا دو مختلف چیزیں ہیں۔ ایک بڑی فوجی طاقت کسی ملک کے اہم اہداف کو نقصان پہنچا سکتی ہے، مگر مستقل سیاسی حل صرف بمباری سے حاصل نہیں کیا جاسکتا۔ ایران جیسے بڑے، جغرافیائی طور پر اہم اور علاقائی اثر و رسوخ رکھنے والے ملک کے ساتھ دیرپا امن کے لیے سیاسی معاہدہ بہرحال ضروری ہوگا۔ترکی اسی مقام پر ایک اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔ ترک صدر رجب طیب اردوان نے امریکی صدر ٹرمپ سے رابطے میں ایران کے ساتھ مذاکرات جاری رکھنے کی ضرورت پر زور دیا اور ترکی کی حمایت اور مدد کی پیشکش کی۔ترکی کے پاس وہ جغرافیائی اور سفارتی حیثیت موجود ہے جو اسے ایک مو¿ثر ثالث بنا سکتی ہے۔ وہ نیٹو کا رکن اور امریکہ کا اتحادی ہے، لیکن ساتھ ہی ایران کے ساتھ بھی براہِ راست سفارتی، اقتصادی اور علاقائی تعلقات رکھتا ہے۔ یہی دوہرا تعلق ترکی کو دوسرے کئی ممکنہ ثالثوں کے مقابلے میں ایک منفرد مقام دیتا ہے۔ترکی کا کردار صرف امریکہ اور ایران کو ایک کمرے میں بٹھانے تک محدود نہیں ہونا چاہیے۔ اگر انقرہ واقعی ثالثی کرنا چاہتا ہے تو اسے ایک ایسا مرحلہ وار فارمولا پیش کرنا ہوگا جس میں دونوں فریقوں کو قابلِ قبول مراعات اور قابلِ تصدیق ذمہ داریاں دی جائیں۔مثلاً پہلے مرحلے میں محدود اور قابلِ نگرانی جنگ بندی، دوسرے مرحلے میں آبنائے ہرمز سے تجارتی جہازوں کی محفوظ آمدورفت، تیسرے مرحلے میں امریکی پابندیوں میں مرحلہ وار نرمی اور چوتھے مرحلے میں ایران کے جوہری پروگرام پر بین الاقوامی نگرانی کے مضبوط انتظامات کیے جاسکتے ہیں۔ اس طرح مذاکرات کو ایک ہی بڑے معاہدے کے بجائے چھوٹے مگر قابلِ عمل مراحل میں تقسیم کیا جاسکتا ہے۔آبنائے ہرمز کے معاملے میں بھی ترکی ایک غیر جانب دار تکنیکی و سفارتی فریم ورک تجویز کرسکتا ہے۔ اس میں ایران، عمان اور دیگر خلیجی ممالک کے ساتھ بین الاقوامی بحری ماہرین شامل ہوں تاکہ تجارتی جہازوں کی سلامتی، راستوں کی نگرانی اور ہنگامی رابطے کا نظام سیاسی کشیدگی سے الگ رکھا جاسکے۔تاہم ترکی کے لیے یہ کردار آسان نہیں ہوگا۔ امریکہ کے ساتھ اس کے دفاعی اور نیٹو تعلقات ہیں، جبکہ ایران بھی کسی ایسے فارمولے کو قبول نہیں کرے گا جس میں اسے اپنی خودمختاری یا علاقائی حیثیت سے دستبردار ہونا پڑے۔ اس لیے انقرہ کو انتہائی محتاط توازن قائم کرنا ہوگا۔دوسری طرف پاکستان بھی اس عمل سے مکمل طور پر باہر نہیں ہوسکتا۔ اسلام آباد پہلے ہی امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات میں اہم کردار ادا کرچکا ہے اور اس کی سفارتی ساکھ اس وقت مزید مضبوط ہوسکتی ہے اگر پاکستان ترکی اور عمان کے ساتھ مل کر ایک وسیع علاقائی سفارتی فریم ورک تشکیل دے۔یہاں پاکستان، ترکی اور عمان کا ایک غیر رسمی سفارتی رابطہ گروپ انتہائی مو¿ثر ثابت ہوسکتا ہے۔ پاکستان ایران سے براہِ راست رابطے کی اپنی صلاحیت استعمال کرے، ترکی امریکہ اور نیٹو کے حلقوں تک رسائی فراہم کرے اور عمان ایران و خلیجی خطے کے درمیان اعتماد سازی کا کردار ادا کرے۔لیکن سب سے بنیادی سوال پھر بھی امریکہ کی حکمت عملی کا ہے۔ اس وقت واشنگٹن کے بیانات میں مذاکرات، دباو¿، فوجی کارروائی اور آبنائے ہرمز کے کنٹرول سے متعلق مختلف سمتیں نظر آتی ہیں۔ ایک طرف مذاکرات کے امکان کو رد کیا جاتا ہے، دوسری طرف امریکی حکام بعض اوقات پیش رفت کی بات کرتے ہیں۔یہ تضاد اس بات کی علامت ہوسکتا ہے کہ امریکہ ابھی تک جنگ کے اختتام کے لیے ایک جامع اور واضح سیاسی روڈ میپ پر متفق نہیں ہوا۔ اگر واشنگٹن واقعی جنگ ختم کرنا چاہتا ہے تو اسے یہ واضح کرنا ہوگا کہ اس کی آخری منزل کیا ہے: ایرانی جوہری پروگرام پر معاہدہ، آبنائے ہرمز کی بحالی، پابندیوں کا خاتمہ، ایرانی سلامتی کی ضمانت یا ان تمام نکات کا ایک مشترکہ پیکیج؟ایران کے لیے بھی یہی اصول لاگو ہوتا ہے۔ تہران اگر صرف مزاحمت اور آبنائے ہرمز کو دباو¿ کے آلے کے طور پر استعمال کرتا رہے گا تو عالمی سطح پر اس کی معاشی اور سفارتی مشکلات بڑھ سکتی ہیں۔ اسے بھی یہ ثابت کرنا ہوگا کہ وہ ایک ایسے قابلِ تصدیق معاہدے کے لیے تیار ہے جس میں خطے کے دوسرے ممالک کی سلامتی اور عالمی تجارت کے مفادات کا بھی خیال رکھا جائے۔حقیقت یہ ہے کہ اس جنگ کا فوجی حل جتنا طویل ہوگا، اس کے معاشی اور انسانی نتائج اتنے ہی خطرناک ہوتے جائیں گے۔ آبنائے ہرمز میں معمولی سی کشیدگی بھی عالمی توانائی منڈیوں کو متاثر کرسکتی ہے، جبکہ موجودہ حالات میں جہازوں کی آمدورفت پہلے ہی شدید متاثر ہے۔اس لیے ترکی کا ممکنہ کردار کسی ایک فریق کی فتح کے بجائے ایک ایسے سمجھوتے کی تلاش ہونا چاہیے جس میں امریکہ کو ایران کے جوہری پروگرام پر قابلِ اعتماد ضمانتیں ملیں، ایران کو اپنی خودمختاری اور معاشی مستقبل کے لیے قابلِ عمل راستہ ملے اور خلیجی ممالک کو محفوظ سمندری تجارت کی ضمانت حاصل ہو۔ایران اور امریکہ کے درمیان اس تنازع کا حل صرف واشنگٹن یا تہران کے پاس نہیں بلکہ پورے خطے کے ممالک کے اجتماعی سفارتی کردار سے نکل سکتا ہے۔ عمان کو دھمکی دینے کے بجائے اس کی ثالثی کی صلاحیت استعمال کرنا، ترکی کی پیشکش کو سنجیدگی سے لینا اور پاکستان کی سابقہ سفارتی کوششوں کو دوبارہ فعال کرنا شاید جنگ سے نکلنے کا زیادہ حقیقت پسندانہ راستہ ہو۔اگر امریکہ کے پاس واقعی جنگ ختم کرنے کا واضح روڈ میپ ہے تو اسے اب اسے عملی شکل دینا ہوگی۔ محض فوجی دباو¿، دھمکیوں اور سمندری طاقت کے ذریعے ایران کو مستقل طور پر جھکانا شاید ممکن نہ ہو۔ لیکن اگر واشنگٹن مذاکرات، مرحلہ وار پابندیوں میں نرمی، جوہری نگرانی، آبنائے ہرمز کی محفوظ بحری آمدورفت اور علاقائی سلامتی کو ایک ہی پیکیج میں جوڑ دے تو ایک قابلِ عمل راستہ ضرور نکل سکتا ہے۔مشرقِ وسطیٰ کو اس وقت ایک اور جنگ نہیں بلکہ ایک ایسا سفارتی فارمولا درکار ہے جو امریکہ، ایران، عمان، ترکی، پاکستان اور خلیجی ممالک کو ایک مشترکہ میز پر لاسکے۔ آنے والے دنوں میں اصل امتحان یہی ہوگا کہ طاقت کے استعمال کو ترجیح دی جاتی ہے یا سفارت کاری کو۔ اگر ترکی اور پاکستان اپنی ثالثی کی صلاحیتیں اور عمان اپنی غیر جانب دار حیثیت مو¿ثر انداز میں استعمال کریں تو شاید ایک ایسی کھڑکی دوبارہ کھل سکتی ہے جہاں سے امریکہ اور ایران جنگ کے بجائے مذاکرات کی طرف واپس جاسکیں۔






