#کالم

آغا نور محمد پٹھان کی ادب دوستی

ashgar

پروفیسر سید محمد اصغر کاظمی

ادبی دنیا میں بعض لوگ اپنی کتابوں کے ذریعے پہچانے جاتے ہیں اور بعض اپنی محفلوں کے ذریعے۔ کچھ نام اپنے لکھے ہوئے لفظوں سے زندہ رہتے ہیں، جبکہ کچھ ایسے بھی ہوتے ہیں جن کی اصل پہچان ان لوگوں کی یاد میں محفوظ رہتی ہے جنہیں انہوں نے پڑھا، سنا، آگے بڑھایا اور اپنے ادبی سفر میں ساتھ رکھا۔ آغا نور محمد پٹھان کا شمار اسی دوسری نوعیت کی شخصیات میں کیا جا سکتا ہے۔ ان کی ادبی شناخت کو صرف کسی عہدے، ادارے یا منصب کے حوالے سے دیکھنا ان کے مزاج کے ایک اہم حصے کو نظر انداز کرنا ہوگا۔ ان کے یہاں ادب سے تعلق ایک عملی اور زندہ تعلق تھا؛ وہ اہلِ قلم کے درمیان رہ کر ادب کی نبض کو محسوس کرتے اور مختلف زبانوں، علاقوں اور ادبی رویوں کے درمیان رابطے کی صورتیں تلاش کرتے رہے۔آغا نور محمد پٹھان کی شخصیت کا مطالعہ کیا جائے تو محسوس ہوتا ہے کہ ان کے لیے ادبی ادارہ محض ایک دفتر نہیں تھا اور ادبی اجتماع صرف ایک رسمی تقریب نہیں۔ ان کی دلچسپی اس بات میں تھی کہ لکھنے والا اپنے عہد اور اپنے ہم عصروں سے مکالمہ کرے، مختلف زبانوں کا ادب ایک دوسرے سے آشنا ہو اور کتاب کسی بند الماری کی چیز بننے کے بجائے ذہنوں کے درمیان سفر کرتی رہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں ان کی ادب دوستی محض ایک صفت نہیں رہتی بلکہ ایک مسلسل رویے کی شکل اختیار کر لیتی ہے۔شکارپور کی تہذیبی فضا سے نکل کر قومی سطح کے ادبی منظرنامے تک پہنچنے والے آغا نور محمد پٹھان نے اپنی عملی زندگی میں سندھ کے ادبی مزاج، علاقائی زبانوں کی تخلیقی قوت اور اردو کے وسیع تر ادبی دائرے کے درمیان ایک ایسا رشتہ قائم رکھنے کی کوشش کی جسے ان کی شخصیت کی بنیادی خصوصیت کہا جا سکتا ہے۔15 اپریل 1955ءکو شکارپور میں پیدا ہونے والے آغا نور محمد پٹھان نے ایک ایسے شہر میں آنکھ کھولی جس کی تاریخ تجارت، تعلیم، تہذیب اور علم و ادب کی کئی پرتوں سے عبارت ہے۔ ان کی شخصیت میں اپنے علاقے کی تہذیبی یادداشت اور وسیع تر ادبی شعور ساتھ ساتھ دکھائی دیتے ہیں۔ بعد ازاں کراچی میں ان کی عملی زندگی کا ایک اہم حصہ گزرا، جہاں وہ ادبی سرگرمیوں کے مختلف مراکز سے وابستہ رہے۔اکادمی ادبیات پاکستان سے ان کی وابستگی ان کی زندگی کا ایک اہم باب ہے۔ سندھ میں اکادمی ادبیات کے ادبی و انتظامی امور سے طویل عرصے تک وابستہ رہتے ہوئے انہوں نے اس ادارے کو اہلِ قلم کے ساتھ رابطے کا ایک مو¿ثر وسیلہ بنانے میں کردار ادا کیا۔ ان کی دلچسپی صرف معروف ناموں تک محدود نہیں تھی بلکہ وہ مختلف زبانوں اور مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والے ادیبوں کو ادبی سرگرمیوں میں شریک دیکھنا چاہتے تھے۔ یہی رویہ ان کی ادبی شخصیت کو ایک وسیع تناظر عطا کرتا ہے۔ان کی ادب دوستی کا ایک نمایاں پہلو لسانی وسعتِ نظر تھا۔ سندھ میں اردو، سندھی، بلوچی اور دوسری علاقائی زبانوں کے ادیب اپنی اپنی روایتوں کے ساتھ موجود ہیں۔ آغا نور محمد پٹھان نے ان مختلف ادبی روایتوں کے درمیان فاصلے کم کرنے کی کوشش کی۔ ان کے زیرِ اہتمام اور ان کی سرپرستی میں ہونے والی ادبی نشستوں میں مختلف زبانوں کے اہلِ قلم کو اظہار کا موقع ملتا رہا۔ اس طرح ان کا ادبی مزاج کسی ایک زبان کی حد بندی میں مقید نہیں رہا بلکہ وہ زبانوں کے باہمی احترام اور ادبی اشتراک کے قائل دکھائی دیتے ہیں۔یہی وسعتِ نظر ان کی ادبی سرگرمیوں میں بھی نمایاں ہوئی۔ انہوں نے مختلف زبانوں کے تخلیق کاروں کو ایک دوسرے سے متعارف کرانے اور انہیں مشترکہ ادبی ماحول فراہم کرنے کی کوشش کی۔ بلوچ ادیبوں اور شاعروں کے حوالے سے منعقد ہونے والی سرگرمیوں میں بھی ان کی دلچسپی سامنے آتی ہے۔ ”شام گل دستہ“ جیسی نشستوں کا تصور اسی ادبی وسعت کا مظہر تھا، جہاں مختلف زبانوں کے اہلِ قلم اپنی تخلیقات پیش کر سکتے تھے۔آغا صاحب کے لیے ادبی نشست کسی رسمی کارروائی کا نام نہیں تھی۔ وہ اس بات کی اہمیت کو سمجھتے تھے کہ ادیب ایک دوسرے کو سنیں، اختلافِ رائے کے باوجود مکالمہ قائم رکھیں اور مختلف ادبی تجربات سے واقف ہوں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے ادبی روابط کا دائرہ وسیع تھا۔ وہ کتاب کی تقریب، مشاعرے، سیمینار، مذاکرے اور تعزیتی نشست—ہر موقع کو ادبی رابطے کی ایک صورت سمجھتے تھے۔ان کی شخصیت میں کتاب دوستی بھی نمایاں تھی۔ اکادمی ادبیات کے سندھ دفتر میں مختلف اہلِ قلم سے متعلق کتابیں محفوظ رکھنے اور ان کے ادبی سرمائے کو ایک جگہ جمع کرنے کی کوشش اس بات کی علامت تھی کہ وہ ادبی ورثے کی حفاظت کو اہم سمجھتے تھے۔ کتاب ان کے لیے محض مطالعے کی چیز نہیں بلکہ ایک عہد، ایک شخصیت اور ایک تہذیبی تجربے کی دستاویز بھی تھی۔اسی حوالے سے اکادمی ادبیات کے پلیٹ فارم کو متحرک رکھنے کی ان کی کوششیں قابلِ ذکر ہیں۔ ادبی پروگراموں کا انعقاد، کتابوں کی رونمائی، اہلِ قلم سے ملاقاتیں اور مختلف فکری موضوعات پر گفتگو ان کی روزمرہ ادبی مصروفیات کا حصہ تھیں۔ ان سرگرمیوں نے سندھ کے ادبی ماحول میں ایک ایسا رابطہ پیدا کیا جس میں مقامی اور قومی ادبی منظرنامہ ایک دوسرے سے جڑا ہوا محسوس ہوتا تھا۔آغا نور محمد پٹھان کی ادب دوستی کا ایک اہم پہلو اہلِ قلم کی قدر شناسی بھی تھا۔ وہ صرف زندہ ادیبوں اور شاعروں کی پذیرائی تک محدود نہیں رہے بلکہ ان شخصیات کو بھی یاد کرتے رہے جو دنیا سے رخصت ہو چکی تھیں۔ کسی ادیب یا دانش ور کی وفات پر تعزیتی نشست کا انعقاد دراصل اس ادبی حافظے کو محفوظ رکھنے کی ایک کوشش ہوتی ہے جو وقت گزرنے کے ساتھ کمزور پڑ سکتا ہے۔ اس اعتبار سے ان کی سرگرمیوں میں ادبی تاریخ کے احترام کا پہلو بھی نمایاں تھا۔ان کا تعلق صحافت اور ادبی صحافت سے بھی رہا۔ سندھی ماہنامہ ”وینجھار“ کے چیف ایڈیٹر کی حیثیت سے ان کی ذمہ داری محض اداریاتی امور تک محدود نہیں تھی؛ یہ بھی ایک ایسا میدان تھا جہاں ادبی اور فکری موضوعات کو قارئین تک پہنچانے کا موقع ملتا تھا۔ صحافت اور ادب کے اس امتزاج نے ان کے ادبی مزاج کو مزید وسعت دی۔آغا نور محمد پٹھان کی شخصیت کا ایک خوب صورت پہلو یہ تھا کہ وہ سندھ کی مقامی تہذیب اور ادبی روایت سے گہرا رشتہ رکھتے ہوئے بھی محدود علاقائیت کا شکار نہیں ہوئے۔ ان کے لیے اپنی زبان، اپنی سرزمین اور اپنی تہذیب سے محبت دوسری زبانوں اور ثقافتوں سے بے اعتنائی کا سبب نہیں بنی۔ اس کے برعکس انہوں نے مختلف ادبی روایتوں کو ایک دوسرے کے قریب لانے کو اہمیت دی۔ یہی وصف انہیں ایک وسیع النظر ادبی شخصیت کے طور پر نمایاں کرتا ہے۔ان کے ادبی سفر کو دیکھتے ہوئے یہ بات بھی سامنے آتی ہے کہ وہ ادب کو سماج سے الگ کرکے نہیں دیکھتے تھے۔ ان کے نزدیک ادیب اپنے زمانے کے سوالات سے بے نیاز نہیں رہ سکتا۔ ادب انسانی زندگی، سماجی شعور اور تہذیبی اقدار کے ساتھ مکالمہ کرتا ہے۔ اسی لیے وہ ادبی موضوعات میں امن، انسان دوستی، صوفیانہ فکر، تہذیبی روایات اور معاشرتی مسائل کو اہمیت دیتے تھے۔آغا نور محمد پٹھان کی خدمات کا دائرہ صرف ان کے اپنے لکھے ہوئے مواد تک محدود نہیں تھا۔ ان کی اصل شناخت ان ادبی روابط میں بھی پوشیدہ ہے جو انہوں نے قائم کیے، ان نشستوں میں بھی جو انہوں نے منعقد کیں، ان اہلِ قلم میں بھی جن کی حوصلہ افزائی کی اور ان ادبی روایتوں میں بھی جنہیں ایک دوسرے کے قریب لانے کی کوشش کی۔ کسی ادبی شخصیت کی یہ خدمت بسا اوقات کتاب کی صورت میں سامنے نہیں آتی، مگر ادبی تاریخ میں اس کے اثرات دیر تک محسوس کیے جاتے ہیں۔19 اگست 2026ءکو آغا نور محمد پٹھان کے انتقال کی خبر نے ادبی حلقوں کو سوگوار کر دیا۔ وہ اسلام آباد میں انتقال کر گئے اور ان کے انتقال پر علمی و ادبی حلقوں کی جانب سے افسوس اور تعزیت کا اظہار کیا گیا۔ ان کی وفات کے موقع پر اکادمی ادبیات پاکستان کراچی کی ایک ادبی تقریب میں بھی ان کے لیے دعائے مغفرت کی گئی۔ یہ تعلق محض ایک ادارے اور ایک سابق عہدے دار کا تعلق نہیں تھا بلکہ اس طویل ادبی رفاقت کی علامت تھا جس نے ان کی زندگی کے ایک بڑے حصے کو گھیرے رکھا۔آغا نور محمد پٹھان کے انتقال کے بعد ان کی ادبی خدمات کو یاد کرنے کا بہترین طریقہ شاید یہی ہے کہ انہیں محض ایک فرد کے طور پر نہیں بلکہ ایک ادبی رابطہ کار کے طور پر بھی دیکھا جائے۔ انہوں نے مختلف زبانوں کے درمیان، نئے اور پرانے اہلِ قلم کے درمیان اور ادبی ادارے اور ادیب کے درمیان جو رشتے استوار کیے، وہ ان کی شخصیت کا ایک اہم ورثہ ہیں۔ان کی ادب دوستی میں نمود کم اور وابستگی زیادہ تھی۔ وہ ادبی منظرنامے میں اپنے لیے جگہ بنانے کے بجائے دوسروں کے لیے جگہ پیدا کرنے کی کوشش کرتے رہے۔ یہی وصف کسی بھی ادبی شخصیت کو دیرپا بناتا ہے۔ آغا نور محمد پٹھان کی یاد ان کی تحریروں کے ساتھ ساتھ ان لوگوں کے حافظے میں بھی زندہ رہے گی جنہوں نے ان کی صحبت، سرپرستی، گفتگو یا ادبی رفاقت سے کچھ حاصل کیا۔ان کا انتقال ایک شخص کا رخصت ہونا ضرور ہے، مگر ان کے قائم کیے ہوئے ادبی روابط اور ان کی ادب پروری کا سلسلہ اس وقت تک جاری رہ سکتا ہے جب تک اہلِ قلم کتاب، زبان، مکالمے اور ادبی روایت کو اہمیت دیتے رہیں گے۔ آغا نور محمد پٹھان کی زندگی اسی یقین کی ایک قابلِ احترام مثال تھی کہ ادب صرف لکھا نہیں جاتا، اسے جیا، بانٹا اور آنے والی نسلوں تک منتقل بھی کیا جاتا ہے۔اللہ تعالیٰ مرحوم کی مغفرت فرمائے، ان کے درجات بلند فرمائے اور ان کی علمی و ادبی خدمات کو صدقہ جاریہ بنائے۔

آغا نور محمد پٹھان کی ادب دوستی

21/08/2026 Daily Sarzameen Lahore

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے