چند یادیں
محمد سلیم طاہر
یہ کئی برس پرانی بات ہے،جب میرے والد شاعر درویش بشیر رحمانی حیات تھے،ایک دن میں نے ان کے پاس معروف شاعر محمد سلیم طاہر کا شعری مجموعہ ،کہرام دیکھا،جس پر شاعر کے دستخط بھی تھے۔مجھے شاعری کے مجموعے کا نام تو مناسب نہیں لگا لیکن شاعری نہ صرف خاصی اچھی تھی بلکہ جدید شعری آہنگ کے ساتھ روایت کا احترام بھی تھا۔معلوم ہوا کہ محمد سلیم طاہر والد محترم اور یار عزیز معروف شاعر جاوید قاسم کے دوست ہیں۔ایک ڈرامے چھوٹے میں تو انھوں نے والد صاحب کی گرج دار آواز دیکھتے ہوئے انھیں ،دادا کا رول بھی دیا تھا۔ایک اور ڈرامے میں چائے کے ہوٹل میں والد صاحب اور جاوید قاسم بیٹھے دکھائی دئیے۔ان دونوں ہستیوں سے سلیم طاہر کی بڑی محبت تھی۔پچھلے برس جب جاوید قاسم اس دنیائے فانی سے رخصت ہوئے تو ہم نے فون پر دیر تک جاوید قاسم کی شاعری اور شخصی خوبیوں کی بات کی۔اس سے پہلےمیں سلیم طاہر صاحب سے اس لئے بھی واقف تھا کہ وہ پی ٹی وی کے پروگرام،میں اور آپ اور کئی معروف ڈراموں کی ہدایت کاری کی وجہ سے بہت مشہور تھے،لیکن ان کے شعری وصف مجھ پر کہرام کے مطالعہ کے بعد کھلے۔اس سے پہلے ان کے پنجابی شعری مجموعے ،تانگھ تریل کی شہرت بھی سن رکھی تھی اور ایم اے پنجابی کے امتحان کے دوران نصابی کتب کا مطالعہ کرتے ہوئے میں نے انھیں پنجابی کے جدید اور اہم نظم نگاروں کے درمیان پایا۔یوں محمد سلیم طاہر ایک ہم جہت شخصیت تھے۔ان سے پہلی ملاقات تو یاد نہیں۔تاہم والد محترم نے مجھے بتایا کہ جب میں نے سلیم طاہر کو اپنی معروف نظم،پروڈیوسر سنائی تو وہ دیر تک مسکراتے رہے۔شاعر درویش کی اس نظم میں کچھی ٹی وی پروڈیوسرز کی اپنے عہدے پر رہ کر فرعون بن جانے کا ذکر تھا۔خیر میرا سلیم طاہر صاحب سے قریبی تعلق والد محترم کی وفات کے بعد ہوا۔میں جو سال میں والد مرحوم کے لئےایک دو تقریبات کرواتا تھا،اس پر وہ مجھ سے بہت خوش تھے۔ان سے کئی سال تک فون پر ہی رابطہ رہا۔اس دوران ایک دن وہ الحمرائ کی سیڑھیوں پر ملے تو کیمرے نے یہ تصویر محفوظ کر لی۔وہ اپنے شعری مجموعے،ماتم یک شہر آرزو کی اشاعت کے لئے پچھلے کم وبیش دو سال سے کوشاں تھے۔آخر کار یہ شعری مجموعہ اشاعت کے مراحل سے گزر کر منظر عام پر آ گیا۔انھوں نے مجھے کتاب پی ڈی ایف کی اور میں نے کتاب کا مطالعہ شروع کیا تو یہ محسوس ہوا کہ یہ کتاب ان کی عمر بھر کی ریاضت کا حاصل ہے اور کہرام سے آگے کی منزل ہے۔جس طرح محترم محمد سلیم طاہر صاحب نے اپنے پروگراموں اور ڈراموں میں اعلیٰ معیار برقرار رکھا بالکل اسی طرح ان کی شاعری بھی جدید غزل کے تقاضوں سے ہم آہنگ رہی۔محمد سلیم طاہر کا یہ شعری مجموعہ اس سال کے چند بہترین مجموعوں میں سے ایک ہے۔میں نے اس مجموعے پر کالم لکھا،جو ابھی اخبار میں نہیں بھیجا تھا۔اسی دوران سلیم طاہر صاحب سے ٹیلی فون پر رابطہ رہا۔انھوں نے کہا بھائی کسی دن گھر آجاو¿ ،کتاب بہت خوب صورت شائع ہوئی ہے،سو ان کے حکم کی تعمیل میں گلشن راوی ان کے گھر پہنچا تو انھیں ہشام بشاش دیکھ کر اچھا لگا،وہ 75 سالہ نوجوان کی طرح مستعد تھے،تاہم کہیں سے یہ نہیں لگا کہ یہ میری ان کی زندگی میں آخری ملاقات ہے۔انھوں نے 27 جولائی کے بعد 05 اگست کو مجھے پھر بلا لیا،تاہم یہ ملاقات ان کے آخری دیدار تک محدود رہی اور کلمہئ طیبہ کا ورد پڑھتے ہوئے خالق حقیقی سے جا ملے،انا للہ وانا الیہہ راجعون۔اللہ تعالیٰ ان کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائیں،آمین۔محمد سلیم طاہر ایک جرآت مند انسان تھے،جنھوں نے میں اور آپ کے ذریعے وطن عزیز میں ہونے والی خرابیوں اوربرائیوں پر نظر رکھی۔ان کے معروف ڈراموں میں میجر عزیز بھٹی،رنجش ،دکھ سکھ،چھوٹے اور خالد احمد مرحوم کا لکھا ہوا ڈرامہ کاجل گھر شامل ہیں۔محمد سلیم طاہر کو کچھ احباب ایک سخت مزاج انسان لگتے تھے لیکن دوستوں کے لئے ان کی محبت اور خلوص کمال کی حد تک تھے۔وہ احباب کی اچھے کام کی تحسین بھی کرتے اور انھیں مشوروں سے بھی نوازتے تھے۔ 05 اگست کو جب علی الصبح سوشل میڈیا پر ان کی وفات کی خبر نشر ہوئی تو دل بیٹھ سا گیا۔ان کے جنازے میں شریک ہونے والا ہر شخص اداس تھا۔وفات سے دو دن پہلے جب میں نے ان کی نئی کتاب پر لکھا ہوا کالم انھیں بھیجا تو ان کی طرف سے شکریہ موصول ہوا۔میں نے انھیں کتاب کی تقریب کا مشورہ دیا تو بولے ،یار یہ بارشیں نکل جائیں تو ستمبر میں تقریب رکھ لیں گے۔لیکن کیا خبر تھی کہ وہ اس سے پہلے ہی اس جہان فانی سے چلے جائیں گے۔سلیم طاہر نے اس جہان فانی میں 76 برس گذارے۔انھوں نے ایک بھرپور اور قابل رشک زندگی گزاری۔اللہ پاک ان کی اگلی منزلیں آسان فرمائیں،آمین






