#کالم

پہاڑوں کی بہادری اور ہماری بے حسی

Untitled 3

ڈاکٹر سیدہ عمرانہ مشتاق

کسی بھی قوم کی پہچان صرف اس کی بلند عمارتوں، شاہراہوں یا معاشی ترقی سے نہیں ہوتی بلکہ اس بات سے ہوتی ہے کہ وہ اپنے محسنوں، اپنے ہیروز اور اپنی بیٹیوں کے ساتھ کیسا سلوک کرتی ہے۔ بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں اکثر ایسا ہوتا ہے کہ جو لوگ خاموشی سے قوم کا نام روشن کرتے ہیں، وہ گمنامی، بے توجہی اور مالی مشکلات کا شکار رہتے ہیں، جبکہ شہرت کے مصنوعی پیمانے رکھنے والے افراد ہر طرف نمایاں دکھائی دیتے ہیں۔حال ہی میں سوشل میڈیا پر ایک تصویر گردش کرتی رہی جس میں پاکستان کی ایک باہمت خاتون کوہ پیما کے بارے میں بتایا گیا کہ انہوں نے 2022ئ میں دنیا کی بلند ترین 8,611 میٹر بلند چوٹی کے ٹو (K2) سر کی، لیکن مالی وسائل نہ ہونے کی وجہ سے وہ اپنا اگلا خواب پورا نہیں کر سکیں۔ یہ محض ایک فرد کی کہانی نہیں بلکہ ہمارے اجتماعی رویوں کا آئینہ ہے۔پہاڑ سر کرنا صرف جسمانی طاقت کا امتحان نہیں ہوتا بلکہ یہ عزم، صبر، ہمت، منصوبہ بندی اور قربانی کا سفر ہوتا ہے۔ دنیا کی بلند ترین چوٹیاں انسان کے غرور کو توڑ دیتی ہیں اور صرف وہی لوگ وہاں تک پہنچتے ہیں جو اپنے خوف پر قابو پانا جانتے ہیں۔ ہر قدم پر موت کا خطرہ، برفانی طوفان، آکسیجن کی کمی، شدید سردی اور ناقابلِ یقین جسمانی مشقت ایک کوہ پیما کا مقدر بنتی ہے۔ہم میں سے اکثر لوگ ایک آرام دہ کمرے میں بیٹھ کر پہاڑوں کی تصویریں دیکھتے ہیں، مگر شاید ہی ہم اس حقیقت کا اندازہ کر سکیں کہ ان چوٹیوں تک پہنچنے کے لیے کتنی محنت، کتنی تربیت اور کتنی مالی قربانیاں درکار ہوتی ہیں۔ ایک بڑی مہم پر لاکھوں بلکہ بعض اوقات کروڑوں روپے خرچ ہوتے ہیں۔ آلات، سفر، تربیت، انشورنس، گائیڈز اور دیگر اخراجات ایک عام پاکستانی کے لیے ناقابلِ برداشت ہوتے ہیں۔یہ سوال اٹھتا ہے کہ اگر کوئی پاکستانی نوجوان یا خاتون اپنی صلاحیت سے دنیا کو حیران کر سکتی ہے تو پھر اسے وسائل کیوں میسر نہیں آتے؟ کیوں اسے ہر مہم سے پہلے چندہ، اسپانسر یا مدد کی اپیل کرنا پڑتی ہے؟ کیا ہمارے ملک میں کھیلوں اور مہم جوئی کے شعبوں کو صرف اسی وقت اہمیت دی جائے گی جب کوئی غیر ملکی ادارہ انہیں سراہ دے؟افسوس کی بات یہ ہے کہ ہمارے ہاں کھیلوں کی تعریف بھی چند مخصوص میدانوں تک محدود ہو چکی ہے۔ کرکٹ کے علاوہ دیگر کھیلوں، خصوصاً کوہ پیمائی، راک کلائمبنگ، ٹریکنگ اور ایڈونچر اسپورٹس پر بہت کم توجہ دی جاتی ہے۔ حالانکہ پاکستان دنیا کے بہترین پہاڑی سلسلوں کا مالک ہے۔ قراقرم، ہمالیہ اور ہندوکش کی بے شمار بلند چوٹیاں دنیا بھر کے کوہ پیماو¿ں کو اپنی طرف کھینچتی ہیں۔ دنیا کے مختلف ممالک کے لوگ یہاں آ کر اپنی صلاحیتوں کا امتحان دیتے ہیں، لیکن ہم اپنے ہی باصلاحیت نوجوانوں کو سہارا دینے میں ناکام رہتے ہیں۔خواتین کے لیے یہ سفر مزید مشکل ہو جاتا ہے۔ انہیں نہ صرف معاشی رکاوٹوں بلکہ سماجی رویوں کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اکثر سوال کیا جاتا ہے کہ ایک خاتون کو ایسے خطرناک مشغلے کی کیا ضرورت ہے؟ حالانکہ یہی خواتین جب پاکستان کا پرچم دنیا کی بلند ترین چوٹیوں پر لہراتی ہیں تو پوری قوم فخر محسوس کرتی ہے۔دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں باصلاحیت افراد کی سرپرستی کو سرمایہ کاری سمجھا جاتا ہے۔ حکومتیں، نجی ادارے اور کاروباری کمپنیاں ایسے افراد کو اسپانسر کرتی ہیں کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ ایک کامیاب کھلاڑی یا کوہ پیما ملک کا بہترین سفیر ہوتا ہے۔ اس کی کامیابی پوری دنیا میں ملک کا مثبت تشخص اجاگر کرتی ہے۔پاکستان میں بھی اب وقت آ گیا ہے کہ کارپوریٹ سیکٹر اپنی سماجی ذمہ داری کو صرف تقریبات اور اشتہارات تک محدود نہ رکھے بلکہ ایسے نوجوانوں کی سرپرستی کرے جو حقیقی معنوں میں ملک کا نام روشن کر رہے ہیں۔ اگر ایک کمپنی کسی کوہ پیما کی مہم کا خرچ برداشت کر لے تو یہ اس کے لیے بھی عزت اور پاکستان کے لیے بھی سرمایہ بن سکتا ہے۔تعلیمی اداروں کو بھی اس سلسلے میں اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ طلبہ میں مہم جوئی، فطرت سے محبت، جسمانی فٹنس اور مشکل حالات میں فیصلہ سازی کی صلاحیت پیدا کرنے کے لیے کوہ پیمائی اور ٹریکنگ کی سرگرمیوں کو فروغ دینا چاہیے۔ اس سے نہ صرف صحت مند معاشرہ تشکیل پائے گا بلکہ نوجوانوں میں خود اعتمادی بھی بڑھے گی۔میڈیا پر بھی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ صرف سنسنی خیز خبروں کو ہی اہمیت نہ دے بلکہ ان خاموش ہیروز کو بھی جگہ دے جو پاکستان کا روشن چہرہ دنیا کے سامنے پیش کر رہے ہیں۔ جب تک معاشرہ اپنے اصل ہیروز کو نہیں پہچانے گا، نئی نسل کے سامنے بھی درست رول ماڈلز نہیں آ سکیں گے۔اس کے ساتھ ساتھ حکومت کو ایک مستقل نیشنل ایڈونچر اسپورٹس فنڈ قائم کرنا چاہیے، جہاں سے مستحق اور باصلاحیت کوہ پیماو¿ں، سائیکلسٹوں، تیراکوں اور دیگر مہم جو کھلاڑیوں کو مالی معاونت فراہم کی جا سکے۔ شفاف میرٹ پر دی جانے والی یہ امداد بہت سے خوابوں کو حقیقت میں بدل سکتی ہے۔ہمیں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ ہر کامیابی کے پیچھے ایک طویل جدوجہد ہوتی ہے۔ جب کوئی پاکستانی دنیا کی کسی بلند چوٹی پر قومی پرچم لہراتا ہے تو وہ صرف اپنی نہیں بلکہ پورے پاکستان کی نمائندگی کر رہا ہوتا ہے۔ ایسے لوگوں کی حوصلہ افزائی محض انعام یا مالی مدد نہیں بلکہ قومی وقار میں سرمایہ کاری ہے۔اگر آج ہم نے اپنے باصلاحیت نوجوانوں اور بہادر بیٹیوں کی قدر نہ کی تو کل وہ یا تو اپنے خواب ادھورے چھوڑ دیں گے یا پھر اپنی صلاحیتوں کو کسی دوسرے ملک کے لیے استعمال کرنے پر مجبور ہوں گے۔ اس نقصان کا اندازہ شاید ہمیں اس وقت ہو جب بہت دیر ہو چکی ہوگی۔ہمیں اپنے رویوں کو بدلنے کی ضرورت ہے۔ ہمیں ایسے لوگوں کو تلاش کرنا ہوگا جو خاموشی سے ملک کا نام روشن کر رہے ہیں۔ ان کے لیے آواز اٹھانا، ان کی مدد کرنا اور انہیں وسائل فراہم کرنا ریاست، معاشرے اور نجی شعبے سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔قومیں اپنے ہیروز کو صرف تالیاں بجا کر نہیں بلکہ ان کے خوابوں کو حقیقت میں بدل کر عزت دیتی ہیں۔ اگر ہم واقعی چاہتے ہیں کہ پاکستان کا پرچم دنیا کی ہر بلند چوٹی پر لہراتا رہے تو ہمیں اپنے کوہ پیماو¿ں، اپنے کھلاڑیوں اور اپنی باہمت بیٹیوں کو تنہا نہیں چھوڑنا چاہیے۔ ان کے قدموں کے نیچے صرف برف نہیں بلکہ پورے پاکستان کی امیدیں ہوتی ہیں، اور ان امیدوں کو زندہ رکھنا ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔

پہاڑوں کی بہادری اور ہماری بے حسی

سیاسی استحکام!

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے