عوام کو کب تک گروی رکھا جائے گا؟
رفیع صحرائی
سسٹم کے ہاتھوں پاکستان کا عام آدمی اس وقت جس معاشی اذیت سے گزر رہا ہے، شاید اس کی مثال ماضی قریب میں کم ہی ملتی ہو۔ ایک طرف مہنگائی نے زندگی کا ہر شعبہ اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے، دوسری طرف بجلی کے بھاری بھرکم بل سفید پوش طبقے کے لیے بھی ناقابلِ برداشت بن چکے ہیں۔ ستم بالائے ستم یہ کہ گھنٹوں لوڈشیڈنگ برداشت کرنے والے صارفین سے ایسی بجلی کی قیمت بھی وصول کی جا رہی ہے جو کبھی پیدا ہی نہیں ہوئی۔ ایسے میں اگر سسٹم کی خرابی کی بات کی جائے تو بعض حلقے سیخ پا ہو جاتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ آخر یہ ظلم کب تک جاری رہے گا اور عوام کو کس جرم کی سزا دی جا رہی ہے؟حالیہ سرکاری اعداد و شمار نے بجلی کے شعبے کی وہ تلخ حقیقت آشکار کر دی ہے جس کا خدشہ برسوں سے ظاہر کیا جا رہا تھا۔ گزشتہ پانچ برسوں میں آئی پی پیز کو تیرہ ہزار تین سو ستانوے ارب روپے کی ادائیگی کی گئی۔ ان میں سے ہزاروں ارب روپے ایسے پاور پلانٹس کو بھی دیے گئے جو بجلی پیدا نہ کرنے کے باوجود "کیپیسٹی پیمنٹ” کے نام پر قومی خزانے سے رقوم وصول کرتے رہے۔ اس سے بڑھ کر قومی المیہ اور کیا ہو سکتا ہے کہ عوام سے بجلی کے بل وصول کیے جائیں، مگر ان کی رقم ایسے منصوبوں پر خرچ ہو جو عملاً قوم کو کوئی فائدہ ہی نہ دے رہے ہوں۔ پھر بھی کہتے ہیں سسٹم کولیپس کرنے کی بات کیوں کی جاتی ہے۔پاکستان کا ہر شہری یہ جاننا چاہتا ہے کہ آخر یہ معاہدے کس نے کیے؟ کن شرائط پر کیے؟ کس نے یہ فیصلہ کیا کہ بجلی پیدا ہو یا نہ ہو، ادائیگی ہر صورت کی جائے گی؟ کیا اس وقت کسی نے یہ سوچا تھا کہ ایک دن یہی معاہدے ملکی معیشت کے گلے کا طوق بن جائیں گے؟ اگر نہیں سوچا گیا تو یہ نااہلی تھی، اور اگر جان بوجھ کر کیا گیا تو پھر یہ محض غلطی نہیں بلکہ قومی مفاد کے خلاف سنگین جرم ہے۔ آئی ایم ایف اگر قوم کا آقا نمبر ایک ہے تو آئی پی پیز آقا نمبر دو بنا دیئے گئے ہیں۔مزید تشویش کی بات یہ ہے کہ سینیٹ کی قائمہ کمیٹی میں انکشاف ہوا کہ بعض آئی پی پیز کو ٹیکس میں خصوصی رعایتیں حاصل رہیں، جبکہ نگرانی کرنے والے اداروں نے کئی پلانٹس کا معائنہ تک نہیں کیا۔ اگر یہ حقیقت ہے تو پھر سوال صرف آئی پی پیز کا نہیں بلکہ پورے احتسابی اور انتظامی نظام کا ہے۔ جب نگران ادارے اپنی ذمہ داریاں ادا نہ کریں، ریگولیٹرز خاموش رہیں اور عوام مسلسل قربانیاں دیتے رہیں تو اعتماد کیسے بحال ہوگا؟ دوسری طرف نیپرا کے اعلیٰ حکام کی تنخواہوں اور مراعات میں غیر معمولی اضافے کی اطلاعات بھی عوامی بے چینی میں اضافہ کرتی ہیں۔ یہ کیسا نظام ہے جس میں عام آدمی بجلی کا بل ادا نہ کر سکے تو اس کا کنکشن کاٹ دیا جاتا ہے، مگر طاقت ور ادارے اور بااثر حلقے کسی جواب دہی کے بغیر مراعات سے لطف اندوز ہوتے رہتے ہیں؟ ریاست اور عوام کے درمیان اعتماد اسی وقت قائم ہو سکتا ہے جب احتساب کا ایک ہی معیار سب پر لاگو ہو۔حیرت کی بات یہ بھی ہے کہ حکومت مزید چھبیس ہزار میگاواٹ کے نئے معاہدوں پر غور کر رہی ہے، حالانکہ موجودہ معاہدوں کا بوجھ ہی معیشت کے لیے ناقابلِ برداشت بنتا جا رہا ہے۔ نئی ذمہ داریاں لینے سے پہلے یہ ضروری ہے کہ موجودہ معاہدوں کا مکمل فرانزک آڈٹ کرایا جائے، ان کی قانونی، مالی اور تکنیکی حیثیت کا غیر جانبدارانہ جائزہ لیا جائے اور جہاں قومی مفاد متاثر ہو رہا ہو وہاں قانون کے مطابق ازسرِنو مذاکرات کیے جائیں۔ ایک اور قابلِ ذکر پہلو یہ ہے کہ دعویٰ کیا جاتا ہے کہ ملک میں بجلی کی کمی نہیں بلکہ ترسیلی نظام بوسیدہ اور ناکارہ ہے جو لسڈ برداشت نہیں کر پاتا جس کی وجہ سے لوڈشیڈنگ کی جاتی ہے۔ اگر صورتِ حال یہی ہے تو مجوزہ 26 ہزار میگاواٹ کا معاہدہ کس لیے کیا جا رہا ہے؟ پہلے ترسیلی نظام کو درست اور طاقت ور بنانے کی ضرورت ہے۔ پرانی اور بوسیدہ تاروں، ناکارہ اور کم کیپیسٹی کے حامل ٹرانسفارمرز کی تبدیلی، گرڈ اسٹیشنز کی اپ گریڈیشن کی زیادہ ضرورت ہے۔ جب بجلی سنبھالنے کے قابل ہو جائیں تب نئے معاہدوں کی ضرورت اگر ہو تو کیے جائیں۔یہ معاملہ صرف بجلی کے نرخوں کا نہیں بلکہ قومی خودمختاری، معاشی انصاف اور عوام کے بنیادی حقوق کا بھی ہے۔ اگر ایک مزدور، ایک کسان، ایک پنشنر اور ایک سفید پوش خاندان اپنی آمدنی کا بڑا حصہ صرف بجلی کے بلوں پر خرچ کرنے پر مجبور ہو جائے تو پھر ترقی کے تمام دعوے اپنی حیثیت کھو دیتے ہیں۔ صنعتیں مہنگی بجلی کے باعث بند ہوں گی تو بے روزگاری بڑھے گی، برآمدات متاثر ہوں گی اور معیشت مزید کمزور ہوگی۔آج ضرورت اس امر کی ہے کہ پارلیمنٹ، عدلیہ، آڈیٹر جنرل، نیب اور دیگر متعلقہ ادارے آئینی اور قانونی دائرے میں رہتے ہوئے اس پورے معاملے کی شفاف تحقیقات کو یقینی بنائیں۔ قوم کو یہ جاننے کا حق ہے کہ ان معاہدوں سے کس نے فائدہ اٹھایا، قومی خزانے کو کتنا نقصان پہنچا، اور اگر کسی نے اختیارات کا ناجائز استعمال کیا تو اسے قانون کے مطابق جواب دہ بنایا جائے۔ احتساب اگر حقیقی معنوں میں سب کے لیے برابر نہ ہو تو عوام کے زخم کبھی مندمل نہیں ہو سکتے۔پاکستان کو توانائی کی ضرورت ضرور ہے، لیکن اس سے کہیں زیادہ ضرورت ایسے نظام کی ہے جو عوام کو سہولت دے، ان پر بوجھ نہ بنے۔ وقت آ گیا ہے کہ حکومت قومی مفاد کو ہر دوسرے مفاد پر ترجیح دے، بجلی کے شعبے میں بنیادی اصلاحات کرے، غیر منصفانہ معاہدوں پر نظرثانی کرے اور ایسا شفاف نظام قائم کرے جس میں عوام کو بجلی ملے بھی، سستی ملے بھی اور اس کی قیمت بھی انصاف کے تقاضوں کے مطابق ہو۔ یہی وہ راستہ ہے جو معیشت کو بھی سنبھال سکتا ہے اور عوام کا ریاست پر اعتماد بھی بحال کر سکتا ہے۔






