#کالم

سیاسی استحکام!

mehndi

محمد مہدی

حسین شہید سہروردی پاکستان کے وزیراعظم بنے تو کسی نے ان سے پوچھا کہ ملک کا سب سے بڑا مسئلہ کیا ہے؟ قحط یا خارجہ پالیسی؟ سہروردی نے سوال کرنے والے کو شاید اس کی سادگی پر حیران کرتے ہوئے جواب دیا: ”احمق! سیاسی استحکام۔ یہی سب سے بڑا مسئلہ ہے۔“یہ جواب آج بھی ہمارے سامنے ایک آئینے کی طرح ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ آئینہ وہی ہے، چہرے بدل گئے ہیں۔ مسئلے وہی ہیں، نعرے بدل گئے ہیں۔ حکومتیں بدلتی رہی ہیں، نظام کے نام بدلتے رہے ہیں، مگر سیاسی عدم استحکام نے پاکستان کا پیچھا نہیں چھوڑا۔ وزیراعظم کی حیثیت سے حسین شہید سہروردی نے پلٹن میدان میں کھڑے ہو کر ایک اور بات کہی تھی، جسے شاید ہم نے تاریخ کے اوراق میں کہیں دبا دیا ہے۔ انہوں نے کہا تھا: ”مشرقی پاکستان اور مغربی پاکستان میں کوئی فرق نہیں ہے، ہم اوّل بھی پاکستانی ہیں اور آخر بھی۔“یہ جملہ محض تقریر کا حصہ نہیں تھا، ایک قومی عہد تھا۔ لیکن پھر عقل کل مسند اقتدار پر زبر دستی قابض ہو گئے ، 1956ءکے آئین کو دیس نکالا مل گیا۔ سہروردی کے بعد انکی اپنی سیاسی جماعت کی قیادت نے بھی ایسے فیصلے کیے جنہوں نے حالات کو مزید پیچیدہ کر دیا پھر معاملہ کسی کے قابو میں نہ رہا۔ جو کچھ ہوا، وہ ہماری تاریخ کا سب سے بڑا المیہ بن گیا۔ملک ٹوٹ گیا، مگر سبق مکمل طور پر نہیں سیکھا گیا۔آج بھی اصل مسئلہ یہ نہیں کہ سسٹم چل نہیں رہا۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ سسٹم کو چلنے نہیں دیا جا رہا۔ جس نظام میں حکومت کا وزیر داخلہ ہی عوامی سطح پرخود کو حکومت سے علیحدہ ثابت کرنےکیلئے بیانات دے، وہاں حکومت کیلئے معاملات کو سنبھالنا جوئے شیر لانے کے مترادف ہو جاتا ہے۔ پھر ہر روز ایک نیا تماشا برپا ہوتا ہے: حکومت اب گئی کہ اب گئی!حکومت کو معلوم نہیں کہ وہ کل قائم رہے گی یا نہیں، سرمایہ کار کو معلوم نہیں کہ اسکے فیصلے کل بھی قابلِ عمل رہیں گے یا نہیں، بیوروکریسی کو معلوم نہیں کہ آج کا حکم کل بھی معتبر ہوگا یا نہیں اور عام آ دمی کو معلوم نہیں کہ اگلی صبح کون سا سیاسی بحران اسکے دروازے پر کھڑا ہوگا۔ ایسے ماحول میں کوئی نظام کیسے مستحکم ہو سکتا ہے؟ سیاسی استحکام کے بغیر آپ جتنے مرضی صوبے بنا لیں، انتظامی نقشے تبدیل کر لیں، نئے اضلاع قائم کر دیں، مسائل ہمالیہ کی طرح سامنے کھڑے رہیں گے۔ ریاستیں صرف نقشے تبدیل کرنے سے نہیں سنورتیں۔ ریاستیں آئین، سیاسی تسلسل، اداروں کے احترام اور قومی اتفاقِ رائے سے مضبوط ہوتی ہیں۔ آج بھارت کی مثال دی جاتی ہے کہ وہاں صوبے بنائے گئے، انتظامی تقسیم کی گئی، لہٰذا پاکستان میں بھی ایسا ہونا چاہیے۔ سوال یہ ہے کہ وہاں صوبے بنانے کے بعد کیا ہوا؟ پنجاب کو توڑا گیا، خالصتان تحریک سامنے آئی اور آج تک اس کے اثرات سے مکمل نجات نہیں مل سکی۔ اتر پردیش کو تقسیم کیا گیا تو ایسی سیاسی قوتیں ابھریں جو مذہبی نفرتوں کی آبیاری کا سہارا لئے ہوئے ہیں۔اس لیےعرض ہے کہ صوبوں کی توڑ پھوڑ کوئی ایسا نسخہ نہیں جسے ہر مرض کا علاج سمجھ لیا جائے۔ پاکستان کی اپنی سماجی، مذہبی، لسانی اور سیاسی پیچیدگیاں ہیں۔ اگر انتظامی تقسیم سیاسی استحکام کے بجائے نئی شناختوں، نئی کشمکش اور نئی نفرتوں کو جنم دے تو مسئلہ حل ہونے کے بجائے کئی گنا بڑھ سکتا ہے۔یہ بھی ضروری ہے کہ مذہبی سیاست کے کردار کو سادہ انداز میں نہ دیکھا جائے۔ زبر دست نفرت معاشرے کا مقدر نہ بن جائے ،معاشرے میں پہلے ہی بہت سی لکیرں کھینچی جا چکی ہیں۔ ہمیں ایسی کوئی نئی لکیر کھینچنے سے پہلے سو مرتبہ سوچنا چاہیے جسے بعد میں مٹانا ممکن نہ رہے۔حسین شہید سہروردی کی زندگی کا ایک اور واقعہ بھی ہمارے لیے سبق رکھتا ہے۔ ایوب خان کے دور میں جب وہ حراست میں لیے گئے اور ان پر الزامات عائد ہوئے تو انہوں نے صدر ایوب خان کو خط لکھ کر ان الزامات کو چیلنج کیا۔ خط میں انہوں نے لکھا:”جناب صدر، مجھے آپ کو وہ بات بتانی ہے جو آپ نہیں جانتے، پاکستان میری زندگی ہے۔ میرا یقین ہے کہ میں نے اس کے قیام میں ایک اہم کردار ادا کیااور بنگال کو مسلم لیگ قبول کرنے اور پاکستان کیلئے جدوجہد میں شامل کرنے کیلئے مجھے دن رات محنت کرنا پڑی، اپنی زندگی، صحت اور حفاظت کی پروا کیے بغیر۔“انہوں نے ایک اور بات لکھی جو آج بھی دل پر دستک دیتی ہے۔ انہیں یہ جان کر صدمہ ہوا کہ مبینہ طور پر ایوب خان نے ڈھاکا میں یہ بھی کہا تھا، اگرچہ یہ بات ان کی گرفتاری کی رسمی وجوہات میں شامل نہیں تھی، کہ ”اس سے، یعنی سہروردی سے، کچھ بعید نہیں کہ اس نے پاکستان کے دشمنوں سے مالی امداد بھی حاصل کی ہو۔“سوچیے! جس شخص نے پاکستان کے قیام کیلئے بنگال کو مسلم لیگ اور پاکستان کی جدوجہد سے جوڑنے میں اپنی زندگی، صحت اور حفاظت کی پروا نہ کی، اسے بھی اپنی حب الوطنی کا ثبوت دینا پڑا۔یہی ہمارا المیہ ہے۔ہم اپنے سیاسی مخالف کو اختلافِ رائے کا حق دینے کے بجائے اس کی نیت پر شک کرتے ہیں۔ پھر اس کی حب الوطنی پر سوال اٹھاتے ہیں۔ پھر اسے دشمنوں کا آدمی قرار دیتے ہیں۔ اور بالٓاخر ایسا ماحول بنا دیتے ہیں جس میں سیاسی اختلاف، قومی دشمنی دکھائی دینے لگتا ہے۔یہ تماشا حسین شہید سہروردی کے زمانے سے جاری ہے۔حکومتیں بدلیں، حکمران بدلے، جماعتیں بدلیں، آئین بدلے، اداروں کے اختیارات بدلے، مشرقی پاکستان ہم سے جدا ہو گیا، مگر تماشا ختم ہونے کا نام نہیں لے رہا۔شاید اس لیے کہ ہم نے سہروردی کے جواب کو کبھی سنجیدگی سے لیا ہی نہیں۔قحط بھی مسئلہ ہے، خارجہ پالیسی بھی مسئلہ ہے، مہنگائی بھی مسئلہ ہے، صوبوں کی تعداد بھی زیرِ بحث آ سکتی ہے، مگر ان سب سے پہلے ایک سوال ہے: کیا پاکستان کو سیاسی استحکام نصیب ہوگا؟اگر جواب نفی میں ہے تو پھر باقی سارے سوال ثانوی ہیں۔اور اگر ہم نے اب بھی یہ بات نہ سمجھی تویہ نہ ہو کہ تاریخ کو ایک بار پھر ہمیں سمجھانے کی ضرورت پڑ جائے اور اگلا سبق پہلے سے زیادہ سخت ہو۔

سیاسی استحکام!

06/08/2026 Daily Sarzameen Lahore

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے