نئے صوبوں کی بازگشت
اورنگزیب اعوان
گزشتہ دنوں پاکستان کی اہم شخصیت نے سسٹم کو مکمل طور پر ناکام قرار دیتے ہوئے. تجویز دی کہ پاکستان بالخصوص صوبہ پنجاب میں مزید صوبے بنائے جائے. ان کے نزدیک کیونکہ صوبہ پنجاب کی آبادی بہت زیادہ ہے. اور اس کے انتظامی مسائل بھی بہت زیادہ ہیں. ان موصوف سے سوال پوچھنا بنتا ہے. کہ نئے صوبے بنانے یا پنجاب کو مزید تقسیم کرنے سے مسائل کس طرح سے حل ہوگے. وسائل کا بے دریغ استعمال ہوگا. ہر صوبہ کا اپنا گورنر، آئی جی پولیس، چیف سیکرٹری و دیگر سرکاری عملہ ہوگا. اور اس بات کی کیا گارنٹی ہے. کہ یہ سب کچھ کرکے سسٹم ٹھیک ہو جائے گا. کہی آپ نے یہ بات کسی کی منشائ کی تکمیل کرنے کے لیے تو نہیں کہی. کیونکہ وہ صاحب تو خود اپنی سیاسی جماعت کو اپنے ہاتھوں سے پنجاب میں دفن کر چکے ہیں. اب آپ کو سامنے کر کے مردہ کو پھر سے زندہ کرنے کی کوشش میں ہیں. ماضی میں بھی بہت سے تجربات کیے جا چکے ہیں. کبھی ون یونٹ مشرقی اور مغربی پاکستان کو اکٹھا کرنے کا،تو کبھی الگ کرنے کا. کبھی وفاقی نظام حکومت تو کبھی یک رکنی ایوان، کبھی آمرانہ نظام حکومت، تو کبھی جمہوری نظام حکومت نتیجہ کیا نکلا. سب نظام ایک ایک کرکے ناکام ثابت ہوئے. کیونکہ ان نظاموں کا مقصد ملک کی بہتری نہیں تھا. بلکہ اپنے اقتدار کو طول دینا تھا. آج بھی نئے صوبے بنانے کی بات اس لیے کی جا رہی ہے. کہ کس طرح سے اپنے اقتدار کو مضبوط کیا جائے. اگر واقع میں ان کے پاس کوئی منصوبہ ہے. تو وہ اس وقت بھی اس پر عمل درآمد کروا کر پاکستان کو کامیابی کی جانب گامزن کر سکتے ہیں. مگر نہیں ہر دس سال بعد پاکستان کی عوام کی قسمت میں کوئی نیا تجربہ دیکھنا لکھا ہوا ہے. موصوف خود بھی عرصہ دراز سے اس سسٹم کا حصہ ہیں. اور بڑے اہم حکومتی عہدوں پر براجمان رہے ہیں. اور ہیں . ان کو سسٹم کی ناکامی کا ادراک اچانک سے آزاد کشمیر کے الیکشن کے نتائج دیکھ کر کیوں ہوا. کیا انہیں آزاد کشمیر کی عوام کا فیصلہ پسند نہیں آیا. اگر وہ کسی دوسری سیاسی جماعت کو کامیاب دیکھنا چاہتے ہیں. تو کھل کر سامنے آئے. یا اس سیاسی جماعت میں شمولیت اختیار کر لیں. یوں پیچھے چھپ کر کیوں کھیل رہے ہیں. پاکستان کے چار صوبوں کی آپس میں نہیں بنتی. پنجابی قوم تو پہلے ہی ظلم کا شکار ہے.صوبہ بلوچستان میں پنجابیوں کو بسوں سے اتار کر شناختی کارڈ دیکھ کر قتل کر دیا جاتا ہے. صوبہ سندھ میں بھی پنجابی قوم کو پسند نہیں کیا جاتا. ماضی میں پنجابیوں کو قتل کر کے بوری بند لاشیں پنجاب کو بھیجی جاتی تھیں. خیبر پختون خواہ میں بھی یہی صورتحال ہے. پنجابی وہاں سیرو تفریح کے لیے جاتے ہیں. جہنیں اغوائ کر لیا جاتا ہے. اور تاوان لیکر چھوڑا جاتا ہے. وہاں کی پولیس جرگہ سسٹم کی وجہ سے بے بس ہے. اگر کوئی صوبہ مہمان نوازی اور پاکستان کو زرمبادلہ فراہم کر رہا ہے. تو وہ صوبہ پنجاب ہے. باقی صوبے گیس، بجلی کا بل نہیں دیتے. صوبہ پنجاب کی عوام ان سب کا بوجھ اٹھا رہی ہے. پھر بھی پنجاب ان کو ایک آنکھ برداشت نہیں ہو رہا. نظام آپ نے ٹھیک کرنا ہے. عوام نے نہیں. کیونکہ صاحب اقتدار آپ ہیں. عوام کے ٹیکس کے پیسوں سے آپ اور آپ کے بچے عیاشی کر رہے ہیں. بیچاری عوام تو مہنگائی، بے روزگاری کی چکی میں پس رہی ہے. عوام کی جیبوں پر ڈاکہ ڈال کر اربوں روپے کی جائیدادیں بنا کر آپ کہتے ہیں. کہ سسٹم برباد ہو چکا ہے. سسٹم ہرباد ہو چکا ہے. کہ آپ کا پیٹ بھر گیا ہے. جو آپ اس سسٹم سے بیزار ہو گئے ہیں. اب آپ کوئی نیا سیٹ اپ لاکر اس میں لوٹ مار کا بازار گرم کرنا چاہتے ہیں. اگر نیت اچھی ہو تو اسی سسٹم میں رہ کر بھی بہتری کی کوشش کی جا سکتی ہے. قصور آپ کا نہیں. قومی قیادت کا ہے. جو مصالحت کے تحت خاموش بیٹھی ہوئی ہے. آپ نے تو وہی بولنا ہے. جو آپ کو بولنے کے لیے کہا گیا ہے. میاں محمد نواز شریف ، عمران خان ،مولانا فضل الرحمن، جیسے سیاسی لوگوں کو آپ نے سیاست سے باہر کیا ہوا ہے. جو پاکستان کی سیاست کی نبض پر ہاتھ رکھ کر بتا دیتے ہیں. کہ اسے کیا مرض لاحق ہے. میاں محمد نواز شریف کو اب اپنی خود ساختہ خاموشی ترک کرنی ہوگی. وہ ایک قومی لیڈر ہیں. اور پنجاب کی عوام ان کو اپنا محسن اور ہیرو سمجھتی ہے. خدارا پنجاب کو تقسیم ہونے سے روکنے کے لیے میاں محمد نواز شریف کو اپنا کلیدی کردار ادا کرنا ہوگا. آپ کی مجرمانہ خاموشی پنجاب کی عوام کبھی نہیں بھولے گی. اب نہیں تو کبھی نہیں. اگر صوبہ پنجاب کو 12 یا 15 صوبوں میں تقسیم کیا جاتا ہے. تو پھر صوبہ پنجاب کا اللہ ہی حافظ ہے. کیونکہ پھر لسانیت، برادری ازم، قومیت کی بنیاد پر جھگڑے ہوگے. کوئی کسی کو برداشت نہیں کرے گا. اس صورتحال میں ملک کا وجود خطرے میں پڑ جائے گا. پاکستان کو ہمیشہ تجربہ گاہ سمجھ کر تجربات کیے جاتے رہے ہیں. جن کا فائدہ کم نقصان زیادہ ہوا ہے. قومی قیادت کو کھل کر اس سازش کو ناکام بنانا ہوگا. اگر سسٹم خراب ہے یا تباہ ہو چکا ہے. تو اس کو بہتر کرنے کی کوشش کی جائے. ناکہ ملک کو توڑنے کی کوشش کی جائے. ملکی سیاست میں نومود سیاست دانوں نے ہمیشہ ملکی مفاد کو نقصان ہی پہنچایا ہے. ان سے خیر کی کوئی امید نہیں ہوتی. کیونکہ انہوں نے کون سا اس ملک میں رہنا ہے. یا یہاں سیاست کرنی ہے. جیسے ہی ملک کے حالات خراب ہوگے. انہوں نے اپنے بیوی بچوں کے ہمراہ بیرون ملک فرار ہو جانا ہے. یہاں تو بیچاری عوام نے رہنا ہے. اور اچھا برا وقت برداشت کرنا ہے. موصوف کو اگر سسٹم کی تباہی کا اتنا ہی دکھ ہے. تو سب سے پہلے اس سسٹم سے خود باہر نکلے. استعفیٰ دیکر عوام کو اس کی بربادی کا بتائیں. اندر رہ کر باتیں نہ کرے. نئے صوبے کسی صورت نظام کی بہتری کی علامت نہیں. اگر اس طرح کرنے سے بھی نظام بہتر نہ ہوا. تو اس کا ذمہ دار کون ہوگا. نظام کی بہتری کے لیے تمام ملکی سیاسی قیادت کو سر جوڑ کر بیٹھنا ہو گا. اور ایسی منصوبہ بندی کرنی ہوگی. جس کے ثمرات عام آدمی تک پہنچے. اور ملک پاکستان ترقی کی منازل طے کر سکے. سیاسی قیادت کو جذبہ حب الوطنی کا مظاہرہ کرتے ہوئے. آپسی سیاسی اختلافات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے. یکجہتی کا مظاہرہ کرتے ہوئے. ملکی مفاد میں سوچنا ہوگا. تبھی سسٹم میں بہتری ممکن ہے. اس کے بغیر تمام تر کاوشیں بے سود ہیں.






