یونیورسٹیاں: عالمی ساکھ یا مقامی اثرات؟
نعیم مسعود
یہ درست ہے کہ عالمی معیار کے بغیر ہم گلوبل ویلج میں نہ نمایاں مقام حاصل کر سکتے ہیں اور نہ انڈسٹریل ترقی اور برآمدات میں نمایاں پیش رفت ہو سکتی ہے۔ لیکن ہم ایسا کرنے کی بنیادی اور قطعی کوشش کرنے کے بجائے محض ایک تاثر دے رہے ہیں۔ اور اس تاثر میں پچاس فیصد سچ ہے اور پچاس فیصد جھوٹ۔ جو جھوٹ یونیورسٹیوں کے سربراہان بالخصوص بول رہے ہیں اور پروفیسران بالعموم۔ یہی پچاس فیصد کے سچ اور پچاس فیصد جھوٹ کا کھٹا میٹھا بزنس پاکستان ہائیر ایجوکیشن کمیشن بھی کر رہا ہے!اساتذہ ، وائس چانسلرز اور ایچ ای سی جھوٹ بولنے پر آخر اتنا مجبور کیوں ہیں؟ پہلے سال میں کسی ایک آدھ عالمی رینکنگ کا شور و غل ہوتا تھا۔ اب چار پانچ رینکنگ کے عالمی ادارے ہیں اور وہ سال میں ایک کے بجائے دو دو تین تین سالانہ رینکنگز/ درجہ بندیاں دے رہے ہیں جن میں انیس بیس کا فرق رکھ کر معیارات بدلتے رہتے ہیں۔ پاکستانی یونیورسٹیوں میں یہ استاد ، وی سیز اور ایچ ای سی میں اضطراب کا ایک بڑا سبب بنتے ہیں۔ جن کو بظاہر اچھا مقام ملتا ہے وہ مارکیٹنگ کیلئے زیر زبر ہٹا کر کام چلا تے ہیں جن کو مقام نہیں ملتا ، اور جن کو پوری محنت کے باوجود مقام نہیں ملتا وہ اعصابی تھکن اور نفسیاتی دباو¿ کا شکار ہو جاتے ہیں یا سطحی سوچ والی تعلیمی قیادت جو ہر مضمون یا ہر فیلڈ سے آشنا نہیں ہوتی وہ لَٹھ لے کر اساتذہ کے پیچھے پڑ جاتی ہے جس سے ہر دماغ میں ایک فرسٹریشن کا ڈیپارٹمنٹ بھی کھل جاتا ہے۔ یہی ڈیپارٹمنٹ حکومت، بیوروکریسی یا کسی حد تک ایچ ای سی بھی یونیورسٹی کے افسر مجاز تک کے ذہن میں کھول دیتی ہے۔۔ فرض کیجئے ذہن پہلے سے خالی ہو اور اس دماغ یہی ایک اکلوتا ڈیپارٹمنٹ کھلوا دیا جائے تو نتائج کیا ہوں گے؟ رائٹ پرسن فار رائٹ جاب نہ ہو، تو جیسے ماضی میں ایک وی سی نارووال یونیورسٹی جانا ہی نہیں چاہتا تھا لیکن اسے بیوروکریسی نے باقاعدہ تھریٹ کر کے وہاں بھیج دیا گویا ایک باکمال ریسرچر پراجیکٹ ڈائریکٹر کے طور سے پرفارم کرنے جا بیٹھا کیونکہ یونیورسٹی ابھی ڈویلپمنٹ کے ابتدائی مراحل میں تھی کسی فنگشنل لیب کی شکل میں نہیں۔ وقت نے یونیورسٹی کی ترقی ہی نہ روکی اس وی سی کو بھی سیاسی و سماجی و تعلیمی حلقوں سے ہاتھ باندھ کر رسوا کرایا۔۔۔ قصور کس کا تھا ؟ یہاں انڈسٹریل لنک، کنسورشیم ڈویلپمنٹ، انٹر پرنیورشپ، بزنس انکوبیشن کیسے ہوتی؟ کیسے انٹرنیشنلائزیشن اور آئی ٹی و اے آئی کے دریچے کھلتے؟ دیکھئے قائد اعظم یونیورسٹی کو بنایا ہی ریسرچ پلے گراونڈ کے طور سے تھا۔ ایم فل ہو ، پی ایچ ڈی ہو، سنٹر آف ایکسیلنس کھلیں لیکن وہاں پر آپ نے بی ایس کھول دئیے یا سیاسی و خفیہ اداروں کی ایجنسیاں تو کیسے چلتا گلشن کا کاروبار مگر پھر بھی وہ کسی نہ کسی طرح رینکنگ کو چھو لیتی ہے سنٹرز آف ایکسیلنس کے سبب یا کامران اور تعلیم دوست پروفیسران کے سبب کسی وی سی شی سی کی بدولت ہر گز نہیں! مطلب یہ کہ جو فہم اور ذمہ داری کبھی دی گئی مگر اس کا تسلسل نہیں پھر بھی آندھیوں میں یہ چراغ کسی نا کسی حد تک چلتا اور جلتا رہا۔۔۔کیا پالیسی ساز یہ نہیں جانتے کہ گورو نانک یونیورسٹی ننکانہ صاحب یا شیخ ایاز یونیورسٹی شکار پور فاسٹ یونیورسٹی یا آئی بی اے سکھر کا مقابلہ کسی بھی اعتبار نہیں کرسکتیں لہذا مراعات اور مطالبات کو مائیکروسکوپ اور ٹیلی سکوپ سے دیکھنا ہوگا ؟ اِن ڈائرکٹ دیئے گئے نفسیاتی ٹارچر اور ڈائریکٹ دی گئی مالی معاونت کے اپنے اپنے اثرات اور نتائج ہیں۔۔۔ ضرور اس امر کی ہے کہ ایک شارٹ ٹرم پالیسی مرتب دی جائے یونیورسٹیوں کو کم و بیش چار درجوں میں تقسیم کریں۔ انجنئیرنگ اور میڈیکل یونیورسٹیوں کو واضح الگ الگ دو اقسام جانیں۔ جنرل یونیورسٹیوں میں دو تین درجے بنائیں جو عمر ، شہر ، انفرا سٹرکچر ( بنیادی ریسرچ اور تدریسی ، اساتذہ و انتظامیہ) اور پہلے سے موجود معیار کے تناظر میں الگ الگ کیٹگری میں رکھیں۔ وومن یونیورسٹیوں میں زیادہ بناو¿ کی اشد ضرورت ہے جہاں آج تک وومن اسٹاف کی نہیں۔ پورا ہو سکا اور ہم آگے بنائے جارہے ہیں۔ ایک زاویہ اور مثال کے طور پر پنجاب یونیورسٹی کی سوشل سائنسز عالمی کے برابر بھی نہیں تو کم بھی نہیں۔ قائد اعظم یونیورسٹی کا ایک شعبہ اور یونیورسٹی آف کراچی پھر کسی حد تک جام شورو یونیورسٹی بھی سوشل سائنسز کی "سوشل انجنئیرنگ” میں ٹرانسفارمیشن کے قابل ہیں. یونیورسٹیز آف لیہ، بھکر، چکوال یا کمالیہ، میانوالی وغیرہ ہنوز شعور اور ظہور کی متلاشی ہیں انہیں شارٹ ٹرم پالیسی میں پہلے یونیورسٹیوں کی تعریف کر تو پورا اتار لیں، ان سے ابھی کمیونٹی سروسز میں ریجنل کام پر مشتمل بنیادی ریسرچ ، سروے اور ہینڈز آف درس و تدریس کی امید رکھیں ، اسی کے مطابق وی سی سرچ کمیٹی بھی سوچے۔ آئیڈیل ازم ایک خوبی یا امید بھی ہے اور بیماری یا عملی جامہ نہ پہنا پانے کا کرب بھی! ان کو تھرڈ کلاس سیاستدان ، ناک چڑھے بیوروکریٹس اور نرگسیت کے حامل سنڈیکیٹ ممبرز نہ دیں تعلیمی و سماجی اور پیشہ ور و دیانتدار ممبرز دیں۔راقم نے 2012 میں بیک وقت لاہور اور ملتان بعد ازاں مظفرآباد آزاد جموں و کشمیر میں الائیڈ ہیلتھ سائنسز کے الحاق شدہ ادارے بنائے۔ لاہور مقابلہ تھا کیونکہ پرائیویٹ اور سرکاری ادارے اچھے تھے۔ مظفر آباد کا معاملہ بلا مقابلہ تھا تاہم ملتان میں کافی حد تک جنوبی پنجاب میں پائنیر تاہم ایک پرائیویٹ میڈیکل کالج اور ایک اور ادارہ نے بھی ہمارے ساتھ خشت اول رکھ لی۔ ملتان سے خوب کمایا کیونکہ بہاولدین زکریا یونیورسٹی سوجا ہوا محل رہی اور الائیڈ ہیلتھ سائنسز کے آغاز پر توجہ نہ دی حالانکہ ان پاس دو تین عشروں سے بی فارمیسی/ فارم ڈی چل رہا تھا۔ یہ ایک پہلو پبلک سیکٹر یونیورسٹیوں کا قابل غور ہے۔ دوسرا قابل غور پہلو جو ادارہ جاتی ہے وہ یہ کہ دس بارہ سالوں میں پہلے آٹھ سال کم لاگت پر کروڑوں کمائے ، ایک اسٹیج پر چئرمین گروپ نے توجہ کم کی ، ادارے کے ڈیپارٹمنٹس اور لیبز پر لگانے کے بجائے گاڑی و دفتر اور ذاتی نمود و نمائش پر رقوم خرچ کردیں ، کہا ہونا تھا؟ دیکھتے ہی دیکھتے ملتان والا ادارہ آسمان سے دھڑم نیچے آگرا اور اپنی طبعی عمر 13 سال ہونے پر زمین بوس بھی ہو گیا کیونکہ تابوت میں آخری کیل پرائیویٹ یونیورسٹیوں کی دھڑا دھڑ آمد اور ان مذکورہ پروگراموں کا کھل جانا تھا۔۔۔ اس پیش منظر اور پس منظر میں کیا بہاولدین زکریا یونیورسٹی نہ گِری ہو گی جس اپنا ORIC بھی پچھلے دنوں متشکل کیا؟ یقیناً گری لیکن وہ ایک ٹائٹینک تھا جسے ڈوبنے کیلئے دہائیاں درکار تھیں جو شروع ہو چکیں۔ اس مثال میں تین چار اسباق ہیں۔ (1) جدوجہد بقا (struggle for survival)، بقائے اصلاح (survival of the fittest) اور طبیعی انتخاب (natural selection) کو جو فراموش کرگیا وہ مر گیا۔ (2) ادارہ چھوٹا ہو یا بڑا ، نیا یا پرانا مسلسل پراگریس دے نہ دے تاہم بقا کو کیو ای سی، اورک ، ایکٹ شناسی، میرٹ، رائٹ پرسن فار دی رائٹ جاب ، فنانشیل تجربہ، سوال اٹھانے اور ڈائیلاگ کی اجازت، لیڈرشپ کی غیر جانبداری اور اقربا پروری سے دوری درکار ہے ورنہ محض کوڑھ کی کاشت ہو گی (3) ایک ممتاز یونیورسٹی میں ایک وائس چانسلر آئے جہاں تنخواہ اور پینشن کا معاملہ چل رہا تھا۔ آتے ہی صاحب نے پینتیس چالیس لاکھ وی سی ہاو¿س کی نمود و نمائش پر رینوویشن پر لگائے اور بغیر پیشگی اجازت کے سب سے پہلے شاہی سواری خریدی ! چلئے بڑی یونیورسٹیاں ٹائٹینک سہی مگر یہ سب سوراخوں کا آغاز نہیں؟ کیا اپنے ہاتھوں کے بنائے نئے ڈینز کو قانونی نکات ترک کرکے گاڑیاں دیں؟ یونیورسٹیاں اکیڈمک نیچر رکھتی ہیں انتظامی و عشرتی نہیں۔ واضح رہے کہ ڈین تعلیمی عہدوں کے معراج کا نام ہے! ایویں تو پرائیویٹ یونیورسٹیوں کو تقویت نہیں مل رہی۔ پبلک سیکٹر کی کمزوری اور بھاری فیسوں کے سبب مل رہی ہے۔ جن کی تقویت ہو گی راج بھی ان کا ہوگا۔ شاہیسواریاں ہی نہیں نَسٹ، آئی بی اے، غلام اسحاق خان انسٹیوٹ، کامسیٹس، آغا خان، لمز، یونیورسٹی آف لاہور، سپیرئیر یونیورسٹی کا یو ایم ٹی وغیرہ کے سربراہان کو ساتھ تاج بھی پہنائے جائیں تو کم ہیں اور پبلک سیکٹر والے ان کی محنت اور کمٹمنٹ تو دیکھیں۔ ان ادروں کے آرگنائزیشنل ہیڈ سِول اعزا کے مستحق ہیں جن میں سے کئی نہ صرف معیاری اور مقابلتاً سستی تعلیم دے رہے ہیں ، وہ پڑھے لکھوں جو فرسٹریشن اور برین ڈرین سے بچانے کیلئے روزگار بھی فراہم کر رہے ہیں!جہاں تک ایچ ای سی کی بات ہے یہ محض تجربہ گا نہیں، چلے ہوئے کارتوسوں کو بار بار لایا جائے اور ٹاسک فورسز بنانے اور ان کی آنیوں جانیوں پر بھاری رقوم ضائع کی جائیں۔ ان پر کہ جو اپنے وقت میں اپنا کھیل چکے۔ حکومت نے اگر ماضی کی تلخیوں اور عاقبت نااندیشیوں کے سبب ایچ ای سی چئرمین کا درجہ وفاقی وزیر سے تنزلی کے بعد وزیر مملکت کے برابر کردیا یا دورانیہ چار سال سے دو سال کر دیا ہے، تو کوئی وجہ ہوگی یا کسی کے نزدیک حکومتی ” نادانی” کچھ تو ہے جس کی پردہ داری ہی اچھی۔ لیکن یہ دو سال اس لئے تو نہیں کئے ہوں گے پہلا سال دولہا گری میں بارات لےجا لےجا کر یار جھکا جھکا کر کار پنے جائیں اور ہاتھ پھیلا پھیلا کر ب±کے پکڑنے میں ضائع ہو جائیں اور آخری سال تو پھر ہنی مون ہی کیلئے ہوگا۔ ہم نے مَنتوں اور مِنتوں سے ایک وائس چانسلر اس لئے چئرمین تو نہیں لیا تھا کہ ہر روز ایک شام ہو انجمن ستائش باہمی کیلئے اور آئے روز ایک دن باہمی مدح سرائی میں گزر جائے۔ اگر ایسے ہی روَش ہارورڈ، آکسفورڈ، ایم آئی ٹی، کیمرج یا سنگاپور و چائنہ میں بھی ہوتی ہے تو ٹھیک ہے! قبول ہے! چھوڑیے ازراہ کرم پروفیسرز اور یونیورسٹیوں کا بےجا زور نہ لگوائیں۔ اے ایچ ای سی اور صوبائی ہائیر ایجوکیشن کمیشن والو!۔۔۔ یونیورسٹی، شہر، کمیونٹی، عمر، انفرا سٹرکچر اور فیکلٹی کو مدنظر رکھ کر ہر گروپ کا ایک خاص بیانیہ بنائیں سیاسی بیانیہ نہیں۔ جھوٹ سچ کے آمیزے اور تناو¿ کو ختم کر کے درجہ وائز اور پاکستان وائز رینکنگ کریں۔ پانچ سال تو ایسا کرکے دیکھ لیں۔ پیارے حکمران سابق امریکی صدر بل کلنٹن کا گولز 2000 ایکٹ ایک دفعہ دیکھ لیجئے ، نوازش ہوگی!المختصر، (1) تحریک ضرور پیدا ہوتی ہے لیکن یہ ورلڈ رینکنگ کسی طرح بھی پاکستان کے ایکوسسٹم اور اکنامکس کا میچ نہیں ہے۔ (2) درست ہے اس سے انٹرنیشنلا زین ہوتی ہے مگر فی الحال ہر یونیورسٹی کو بین الاقوامی مقبولیت کی ضرورت نہیں ہوتی تاہم لیکن علاقائی اہداف اور مقامی مسائل پر یونیورسٹی کو دیکھنے ہوں گے۔ (3) ریجنل ماڈرن فکر جیسے (ا) زراعت اور ماحولیات کے معاملات۔ (ب) جیسے سماجیاتی تناظر میں غربت اور طالبہ و طالبات کا خیال۔ (ج) صنعتوں اور روزگار پر دھیان۔ (4) ورلڈ جرنلز ضرور مدنظر رکھیں لیکن عالمی جریدوں ہی کی فیسیں بھرنے کے مقابلہ اپنے دو نمبر پر ے ختم کرکے معیاری جرنلز کی حوصلہ افزائی بھی ہو۔ (5) ایچ ای سی قومی ادارہ جاتی درجہ بندی نظام (National University Ranking System) کو دوام بخشنے!تحقیقی و تعلیمی برتری و فضیلت بیرونی سٹینڈرڈز کی نقل ہی میں نہیں بلکہ پاکستان اور سوسائٹی کی عملی و بنیادی ضروریات کی خدمت کے اصل میں ہے!






