اندھیروں کی سیاست اور روشنی کا حق
محمد سلیمان خان
کہتے ہیں کسی بھی ریاست کی ترقی کا اندازہ اس کے بلند و بالا پلوں، میٹرو بسوں یا چمکتی ہوئی شاہراہوں سے نہیں بلکہ اس بات سے لگایا جاتا ہے کہ عام آدمی کو بنیادی سہولتیں کس حد تک میسر ہیں۔ اگر ایک شہری اپنے گھر میں بیٹھ کر سکون سے بجلی استعمال نہیں کر سکتا تو ترقی کے تمام دعوے محض اعداد و شمار بن کر رہ جاتے ہیں۔پاکستان میں بجلی کا مسئلہ کوئی نیا نہیں۔ کبھی پیداوار کا بحران، کبھی ایندھن کی قلت، کبھی سرکلر ڈیٹ اور کبھی لوڈشیڈنگ۔ عوام نے ہر دور میں قربانیاں دیں، مہنگے ترین بجلی کے بل ادا کیے، اضافی سرچارج بھی برداشت کیے، مگر اس کے باوجود آج بھی بجلی کی ترسیل کا نظام متعدد مقامات پر زبوں حالی کا شکار ہے۔چند روز قبل لاہور کے تاریخی علاقے شاہدرہ میں ایک ٹرانسفارمر خراب ہوا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ پورا علاقہ تقریباً چوبیس گھنٹے بجلی سے محروم رہا۔ گرمی کی شدت میں بچوں، بزرگوں، مریضوں اور دکانداروں کی مشکلات ناقابلِ بیان تھیں۔ لیکن اصل دکھ بجلی بند ہونے کا نہیں تھا بلکہ اس حقیقت کا تھا کہ متعلقہ سب ڈویڑن کے پاس ٹرانسفارمر تبدیل کرنے کے لیے اپنی بکٹ کرین ہی موجود نہیں تھی۔بالآخر اہلِ علاقہ نے اپنی جیب سے رقم جمع کی، نجی کرین کا انتظام کیا اور پھر بجلی بحال ہوئی۔ یہ منظر کسی غریب اور دور افتادہ گاو¿ں کا نہیں بلکہ لاہور کے داخلی دروازے شاہدرہ کا تھا۔یہ سوال ہر شہری کے ذہن میں پیدا ہوتا ہے کہ اگر عوام ہی چندہ جمع کرکے سرکاری اداروں کے فرائض انجام دیں گے تو پھر ان اداروں کے وجود کا مقصد کیا رہ جاتا ہے؟ کیا حکومت صرف بل وصول کرنے کے لیے ہے اور سہولت فراہم کرنا عوام کی ذمہ داری بن چکی ہے؟افسوس کی بات یہ ہے کہ شاہدرہ جیسے اہم حلقے کی نمائندگی بھی عام نہیں۔ یہاں کے ایم این اے وفاقی وزیر ہیں جبکہ ایم پی اے بھی حکومتی اثر و رسوخ رکھتے ہیں۔ ایسے میں عوام کو یہ توقع بجا طور پر ہوتی ہے کہ ان کے علاقے میں بنیادی سہولتوں کی کمی نہیں ہوگی، مگر حقیقت اس کے برعکس نظر آتی ہے۔اصل مسئلہ صرف ایک کرین کا نہیں بلکہ سوچ کا ہے۔ ہمارے ہاں اکثر منصوبہ بندی کا آغاز بحران پیدا ہونے کے بعد ہوتا ہے۔ جدید دنیا میں ہنگامی حالات سے نمٹنے کے لیے وسائل پہلے سے تیار رکھے جاتے ہیں، جبکہ ہمارے ہاں وسائل کی تلاش اس وقت شروع ہوتی ہے جب عوام اذیت میں مبتلا ہو چکے ہوتے ہیں۔یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ اکثر سرکاری دفاتر میں عوامی خدمت کے جذبے کے بجائے رسمی کارروائیاں زیادہ دکھائی دیتی ہیں۔ فائلیں چلتی رہتی ہیں، اجلاس ہوتے رہتے ہیں، مگر عام آدمی کی مشکلات کم نہیں ہوتیں۔ یہی وجہ ہے کہ ریاستی اداروں پر عوام کا اعتماد کمزور پڑتا جا رہا ہے۔بجلی کی بندش صرف پنکھے رکنے یا بلب بجھنے کا نام نہیں۔ یہ معیشت، تعلیم، صحت اور روزگار کا مسئلہ بھی ہے۔ ایک دکاندار کی فروخت متاثر ہوتی ہے، ایک طالب علم کی پڑھائی رک جاتی ہے، ایک مریض کی تکلیف بڑھ جاتی ہے اور ایک مزدور کی روزی خطرے میں پڑ جاتی ہے۔ضرورت اس امر کی ہے کہ بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کو جدید خطوط پر استوار کیا جائے۔ ہر سب ڈویڑن میں بکٹ کرین، لفٹر، اضافی ٹرانسفارمر، حفاظتی سامان اور تربیت یافتہ عملہ ہر وقت موجود ہونا چاہیے۔ صرف یہی نہیں بلکہ ہر خرابی کے ازالے کے لیے ایک مقررہ وقت بھی طے ہونا چاہیے تاکہ عوام کو غیر ضروری انتظار نہ کرنا پڑے۔منتخب نمائندوں کی ذمہ داری بھی صرف ترقیاتی منصوبوں کے افتتاح تک محدود نہیں ہونی چاہیے۔ انہیں اپنے حلقوں کے ہر سرکاری ادارے کی کارکردگی پر نظر رکھنی چاہیے، کیونکہ عوام نے انہیں اپنے مسائل کے حل کے لیے منتخب کیا ہے، نہ کہ صرف تقاریر سننے کے لیے۔آج ضرورت الزام تراشی کی نہیں بلکہ اصلاح کی ہے۔ اگر متعلقہ ادارے اپنی ذمہ داریاں دیانت داری سے ادا کریں، وسائل کی منصفانہ تقسیم ہو اور احتساب کا مو¿ثر نظام قائم کیا جائے تو ایسے مسائل بڑی حد تک ختم کیے جا سکتے ہیں۔شاہدرہ کا یہ واقعہ محض ایک علاقے کی کہانی نہیں بلکہ پورے نظام کے لیے ایک سوال ہے۔ یہ سوال صرف واپڈا یا بجلی تقسیم کار کمپنیوں سے نہیں بلکہ ان تمام ذمہ دار حلقوں سے ہے جن کے فیصلوں کا اثر براہِ راست عوام کی زندگی پر پڑتا ہے۔آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ روشنی ہر شہری کا بنیادی حق ہے، احسان نہیں۔ جس دن ہمارے ادارے اس حقیقت کو دل سے تسلیم کر لیں گے، اس دن شاید کسی شہری کو اپنے ہی گھر میں روشنی لانے کے لیے چندہ جمع نہیں کرنا پڑے گا۔






