#کالم

ذمہ دار صحافت ناگزیر

Abcag

لوگو:زیر و زبر تحریرAbcag
Email:rgmustafa555@yahoo.com

جس معاشرے میں سچ لکھنے اور بولنے والوں پر قدغن ہو۔ وہاں فکر کی شمع مدھم پڑ جاتی ہے، سوال کرنے والوں کی زبان پر تالا لگ جاتا ہے اور حق گوئی جرمِ عظیم بن جاتی یے۔پاکستان جس کے آئین میں آزادیٔ اظہار کی ضمانت درج ہے۔ بدقسمتی سے عملاً اس آزادی کو کبھی پوری طرح سانس لینے کا موقع ہی نہیں ملا۔ ہر دورِ حکومت میں چاہے وہ سولین ہو یا فوجی آمریت اقتدار کی مسند پر براجمان ہونے والوں نے میڈیا کو اپنی مرضی کا غلام بنانے کی کوشش کی ہے۔ جب تک تخت پر جلوہ افروز رہے تنقید ان کے کانوں میں کانٹے کی مانند چبھتی یے۔کیوں کہ کوئی بھی حاکم وقت نہیں چاہتا کہ کوئی ان کے اقتداری معاملات میں دخل اندازی کرے۔لیکن یہ بھی حقیقت ہے جب اقتدار ان کے ہاتھ سے پھسلتا ہے۔یہی لوگ آزادیٔ صحافت کے سب سے بڑے علمبردار بن جاتے ہیں۔ یہ سیاسی دو رنگی نہیں، بلکہ ہمارے قومی سیاسی کردار کی ایک بڑی کمزوری ہے۔
تاریخ کے اوراق پلٹیں تو آزادیٔ صحافت کی داستان خونِ دل سے لکھی گئی ہے۔ خاص طور پر آمریت کے ادوار میں اہلِ قلم پر جو جور ڈھائے گئے۔وہ آج بھی دل دہلا دیتے ہیں۔ 1977ء اور 1978ء کی تحریکِ آزادیٔ صحافت اس جدوجہد کا ایک درخشاں باب تھی۔ اس وقت صحافیوں نے صرف خبر لکھنے کے جرم میں قید و بند کی صعوبتیں برداشت کیں۔ کوڑے کھائے، اخبارات بند کیے گئے، سنسرشپ کی تلوار لہرائی گئی اور سچ بولنے والوں کے لیے زمین تنگ کر دی گئی۔حکومت نے یہاں تک حکم جاری کیا کہ تحریک میں شامل صحافیوں کو کسی بھی ادارے میں نوکری نہ دی جائے۔اور یہ سلسلہ آج بھی کسی نہ کسی شکل میں جاری ہے۔ یقیننا وہ صحافت ایک مشن تھی، کاروبار نہیں تھی۔ صحافی دربارِ اقتدار کے چرب زبان نہیں تھے۔بلکہ عوام کے ضمیر کی آواز بنتے تھے۔ خبر ان کے نزدیک امانت تھی نہ کہ مالِ تجارت۔ اسی لیے ان کے لفظوں میں تاثیر بھی تھی، وقار تھا
افسوس! آج کی صحافت اس درخشاں روایت سے بہت دور نکل آئی ہے۔ موجودہ دور میں صحافتی اقدار تیزی سے زوال پذیر ہیں۔ سچ لکھنے والوں کے لئے فضا سازگار نہیں ہے۔ الیکٹرانک میڈیا نے خبر رسانی کو تو وسعت دی۔ مگر ساتھ ہی سطحیت، سنسنی خیزی اور ایجنڈا بازی نے بھی خوب جگہ بنا لی ہے۔ آج کے بہت سے مشہور اینکرز اور تجزیہ کار غیر جانب داری کی بجائے مخصوص سیاسی یا گروہی مفادات کے ترجمان نظر آتے ہیں۔ چند اہلِ ضمیر اب بھی آزادیٔ صحافت کی شمع جلائے ہوئے ہیں۔ اکثریت یا تو مصلحت کا شکار ہے، یا خوف کی زد میں ہے۔
اس زوال کی ایک بڑی وجہ میڈیا ہاؤسز میں غیر تربیت یافتہ لوگوں کی بھرمار ہے۔ صحافت محض مائیک تھام لینے یا ٹی وی اسکرین پر چمک اٹھنے کا نام نہیں۔ یہ زبان کی شائستگی، تہذیب، گہرے مطالعے، تحقیق اور سب سے بڑھ کر ذمہ داری کا نام ہے۔ آج بعض پروگراموں میں گفتگو کا معیار اتنا گر چکا ہے۔ ماضی کی صحافتی تہذیب شرما رہی ہے۔ اختلاف میں ادب، دلیل کی جگہ الزام تراشی اور زبان و بیان کا شائستہ انداز تیزی سے ناپید ہوتا جا رہا ہے۔
جارج برنارڈ شا نے کہا تھا:
"All great literature is Journalism”
یعنی اعلیٰ ادب دراصل صحافت ہی ہے۔ اس قول میں صحافت کی اصل روح چھپی ہے۔ صحافت صرف خبر نہیں دیتی بلکہ معاشرے کی فکری تربیت بھی کرتی ہے۔ آج صحافت ادب، تہذیب اور فکری گہرائی سے محروم ہوتی جا رہی ہے۔
اس زوال کی ایک اور بڑی وجہ میڈیا ہاؤسز کا تجارتی مفادات کی طرف جھکاؤ بھی ہے۔ آج اکثر اداروں کے نزدیک قومی مفاد، عوامی آگاہی اور حقیقت سے زیادہ اہم اشتہارات، ریٹنگ اور مالی منفعت بن گئے ہیں۔ خبر کی قدر اس کے اثرات سے نہیں، بلکہ اس کی ویورشپ کی کسوٹی پر جانچی جاتی ہے۔ اس دوڑ نے صحافت کو کاروبار بنا دیا ہے۔سوشل میڈیا نے اظہارِ رائے کو تو آزادی دی مگر غیر مصدقہ خبروں، جھوٹی افواہوں اور سنسنی خیزی کو بھی ہوا دی۔ سب سے پہلے خبر بریک کرنےکی دوڑ میں تحقیق اور تصدیق پس پشت چلی گئی۔ کردار کشی اور اشتعال انگیز مواد لمحوں میں لاکھوں تک پہنچ جاتا ہے۔ اس نے نہ صرف صحافت کے معیار کو گرایا بلکہ عوام کے میڈیا پر اعتماد کو بھی شدید نقصان پہنچایا ہے۔ایک اور دل دکھانے والا پہلو صحافی برادری کی سیاسی تقسیم ہے۔ آج صحافی مختلف سیاسی جماعتوں اور نظریاتی دھڑوں میں تقسیم ہو چکے ہیں۔ بعض تو کھلے عام اپنی سیاسی وابستگی کا اظہار کرتے ہیں۔ نتیجتاً خبر اور پروپیگنڈا کے درمیان کی لائن تقریباً مٹتی جا رہی ہے۔ جب صحافت غیر جانب داری کھو دیتی ہے تو پورا معاشرہ حقائق سے محروم رہ جاتا ہے۔ سچ لکھنے اور بولنے والے صحافی عدم تحفظ کا شکار ہیں۔ دھمکیاں، اغوا، جسمانی حملے، کم تنخواہیں اور ملازمت کا عدم استحکام انہیں آزادانہ رپورٹنگ سے روکتا ہے۔
دراصل یہ بحران صرف میڈیا کا نہیں، بلکہ ہمارے پورے معاشرتی و ثقافتی زوال کی آئینہ داری ہے۔ عدم برداشت بڑھ رہی ہے۔ اختلاف کو دشمنی سمجھا جانے لگا ہے اور دلیل کی جگہ بہتان تراشی عام ہوتی جا رہی ہے۔
اب وقت آ گیا ہے کہ صحافت کو دوبارہ اس کے اصل منصب پر فائز کیا جائے۔ میڈیا مالکان کو تجارتی لالچ سے بالاتر ہو کر قومی ذمہ داری کا احساس کرنا ہوگا۔تاکہ صحافتی اقدار جو زوال پذیر ہیں۔صحافت کی اصل روح کے ساتھ ان اقدار کو تقویت مل سکے۔صحافیوں کی مناسب تربیت، اخلاقیات کی بحالی، تحقیقاتی صحافت کا فروغ اور آزادیٔ اظہار کا حقیقی تحفظ ناگزیر ہے۔
یاد رکھیے، صحافت کسی بھی جمہوری معاشرے کا ضمیر ہوتی ہے۔ اگر یہ بک جائے ڈر جائے یا تقسیم ہو جائے تو قوم فکری اندھیروں میں بھٹکنے لگتی ہے۔
اہلِ قلم کو چاہیے کہ وہ اپنے ضمیر کی آواز بنیں۔ سچائی کو اپنا شعار بنائیں اور قلم کی حرمت کو ہر قیمت پر قائم رکھیں۔ کیونکہ جب تک صحافت آزاد، باوقار اور ذمہ دار نہ ہوگی۔ معاشرہ بھی حقیقی معنوں میں آزاد اور مہذب نہیں بن سکے گا۔

ذمہ دار صحافت ناگزیر

ذمہ دار صحافت ناگزیر

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے