#کالم

منظر اک بلندی پر اور ہم بنا سکتے

Untitled 1 Recovered copy

دشتِ امکاں بشیر احمد حبیب

انسان نے جب سے شعور کی آنکھ کھولی ہے، وہ دو دنیاؤں کے درمیان کھڑا ہے۔ ایک وہ دنیا جو دکھائی دیتی ہے، جسے ہم مادّہ کہتے ہیں، جس کا وزن ہے، حجم ہے، کیمیائی فارمولا ہے، جسے لیبارٹری میں تولا جا سکتا ہے۔ اور دوسری وہ دنیا جو نظر نہیں آتی مگر موجود ہے ۔
خیال… محبت… خوف… دعا… کشش… وجدان… سچا خواب… سوال یہ ہے کہ کیا سائنس صرف اسی چیز کو حقیقت مانے گی جسے ترازو پر رکھا جا سکے؟ اگر ایسا ہے تو پھر انسان کی زیادہ زندگی ابھی تک سائنس کی گرفت سے باہر ہے۔

ہومیو پیتھی کا سب سے بڑا مقدمہ بھی یہی ہے۔ مثلاً جب ہاہنیمن کے طریقۂ پوٹینسائزیشن میں بار بار ڈائلیوشن اور سکشن ہوتی ہے تو ایک مرحلے کے بعد اوگاڈرو نمبر کی حد پار ہو جاتی ہے۔
یعنی اب محلول میں اصل مادّے کا ایک سالمہ بھی باقی نہیں رہتا۔ یہاں سائنس مسکراتی ہے اور کہتی ہے:
“جب کچھ باقی ہی نہیں رہا تو اثر کس چیز کا ہے؟” مگر مسئلہ وہاں پیدا ہوتا ہے جب مریض شفا پا جاتا ہے۔
اور یہاں یہ بات بھی دلچسپ ہے کہ جوں جوں پوٹینسی یعنی ڈالیوشن بڑھتی ہے، اثر گہرا ہوتا جاتا ہے۔ میں بہت سی مثالیں دے سکتا ہوں ان مریضوں کی جو میرے سامنے صحت یاب ہوئے ان بیماریوں سے جن کا علاج ایلو پیتھی میں ابھی موجود نہیں ، جیسے سوری ایسس ، دمہ ، ایکزیمہ ۔۔ وغیرہ

یہ وہ مقام ہے جہاں سائنس اور شعور کے درمیان ایک نئی گفتگو شروع ہوتی ہے۔
جدید فزکس خود مادّے کی قطعی حیثیت کو متزلزل کر چکی ہے۔ ایک زمانہ تھا جب ایٹم کو ٹھوس ذرّہ سمجھا جاتا تھا۔ پھر معلوم ہوا کہ ایٹم خود خالی خلا ہے۔
پھر پتہ چلا کہ ذرّات کبھی ذرّہ ہوتے ہیں اور کبھی موج۔
پھر کوانٹم فزکس نے آ کر بتایا کہ دو ذرّات جو ایک لائٹ ائیر فاصلے سے بھی دور ایک دوسرے سے جڑے رہ سکتے ہیں۔ اسے Quantum entanglement کہا گیا۔
یہ کیسا تعلق ہے جو فاصلے کو مانتا ہی نہیں؟ آئن اسٹائن نے اسے “spooky action at a distance” کہا تھا۔ اب سوال یہ ہے کہ اگر مادّہ خود آخرکار توانائی، ارتعاش اور انفارمیشن میں تبدیل ہو رہا ہے تو کیا یہ ناممکن ہے کہ ہومیو پیتھی کی پوٹینسی میں مادّے کے بجائے “اطلاعاتی نقش” باقی رہ جاتا ہو؟

کیا پانی محض H₂O ہے؟
یا اس میں یادداشت رکھنے کی کوئی صلاحیت بھی ہے؟
یہی وہ سوال تھا جس نے فرانس کے سائنس دان Jacques Benveniste کو ہلا کر رکھ دیا تھا جب انہوں نے “Water Memory” کا نظریہ پیش کیا۔ اگرچہ مین اسٹریم سائنس نے اسے متنازعہ قرار دیا،

یہ واقعہ 1988 میں پیش آیا جب فرانسی سائنسدان جاک بین وینسٹ (Jacques Benveniste) نے دعویٰ کیا کہ پانی میں ہومیوپیتھی کے اصول پر اتنا زیادہ پتلا کیا ہوا محلول بھی حیاتی اثر دکھا سکتا ہے۔ انہوں نے اپنے تجربے میں پایا کہ اینٹی آئی جی ای اینٹی باڈی کو لاکھوں گنا ڈایلیوٹ کرنے کے بعد بھی وہ الرجی کے خلیات کو متحرک کر رہا ہے۔

یہ تحقیق اس وقت بڑی بحث کا باعث بنی کیونکہ یہ روایتی سائنس کے اصولوں سے متصادم تھی۔ بہت سے سائنسدانوں نے کہا کہ یہ نتیجہ تجربے میں غلطی یا تعصب کی وجہ سے آیا ہے۔ اس بحث کا اثر یہ ہوا کہ اصل تحقیق کرنے والے سائنسدانوں کی حوصلہ شکنی ہوئی، اور ایسے موضوعات کو ایلوپیتھی اور روایتی میڈیکل سائنس کے لیے ایک خطرہ سمجھا جانے لگا۔

2004 میں اسی نوعیت کے نتائج پر دوبارہ بات ہوئی۔ اس دوران ایڈز کا وائرس دریافت کرنے والے نوبل انعام یافتہ سائنسدان لوک مونٹاگنیئر (Luc Montagnier) نے بھی کہا کہ پانی میں مالیکیول کی "یادداشت” باقی رہ سکتی ہے، جو بین وینسٹ کے کام سے مشابہت رکھتی ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ سائنس ابھی اپنے ابتدائی شعور میں ہے۔
ہم سمجھتے ہیں کہ ہم بہت آگے آ گئے ہیں، مگر کائنات کے مقابلے میں ہماری حیثیت بقول نیوٹن ساحل پر کھیلتے بچے سے زیادہ نہیں۔
انسان نے ابھی تک “زندگی” کی تعریف دریافت نہیں کی۔
شعور کیا ہے؟
خیال کہاں سے جنم لیتا ہے؟
خواب کیوں آتے ہیں؟
موت کے لمحے انسان کیا دیکھتا ہے؟
محبت صرف کیمیکل ہے یا اس سے آگے بھی کچھ؟
یہ سوالات اب بھی تشنہ ہیں۔
ہومیو پیتھی شاید اسی گمشدہ پُل کا ایک سرا ہے۔
Samuel Hahnemann نے دو سو سال پہلے کہا تھا کہ بیماری مادّے میں نہیں، “وائٹل فورس” میں پیدا ہوتی ہے۔
اس زمانے میں لوگ ہنسے تھے۔
مگر آج psychosomatic medicine، epigenetics اور mind-body connection وہی بات نئے الفاظ میں کہہ رہے ہیں۔
کیا خیال جسم پر اثر انداز ہوتا ہے؟
جی ہاں۔
کیا خوف سے بلڈ پریشر بڑھتا ہے؟
کیا غم سے قوتِ مدافعت کم ہوتی ہے؟
کیا امید سے شفا تیز ہوتی ہے؟
اگر ہاں، تو پھر ہمیں ماننا پڑے گا کہ غیر مادی عوامل مادی جسم پر اثر انداز ہوتے ہیں۔
یہیں سے دروازہ کھلتا ہے۔
مسمرزم، ٹیلی پیتھی، collective consciousness، placebo effect، distant healing — یہ سب شاید اسی وسیع سمندر کے کنارے کھڑے چند نام ہیں جس کی تہہ تک انسان ابھی نہیں پہنچا۔

یونان کے فلسفی کہتے تھے کہ کائنات اعداد اور ارتعاش سے بنی ہے۔
صوفیا کہتے تھے کہ کائنات “امر” سے بنی ہے۔
اور جدید فزکس کہتی ہے کہ مادّہ دراصل condensed energy ہے۔
تو پھر شاید اب وقت آ گیا ہے کہ انسان گنتی “ایک” سے نہیں بلکہ “صفر” سے بھی پیچھے شروع کرے۔
ایسا اسکیل…
جہاں مادّہ ختم ہو جائے مگر اثر باقی رہے۔
جہاں خیال، ارادہ، دعا، شعور اور ارتعاش کو بھی حقیقت مانا جائے۔
آج دنیا بھر میں ہزاروں سائنس دان consciousness studies پر کام کر رہے ہیں۔
شاید آنے والے برسوں میں کوئی بڑا ذہن یہ ثابت کر دے کہ کائنات صرف مادّی نہیں بلکہ “اطلاعاتی” بھی ہے۔
اور شاید وہی دن ہومیو پیتھی کی اصل سائنسی توجیہ کا آغاز ہو۔
یہ کوئی چھوٹی دریافت نہیں ہوگی۔
اگر کوئی سائنس دان یہ مسنگ لنک دریافت کر لے کہ ایک غیر مادی پوٹینسی کس طرح انسانی وائٹل فورس پر اثر انداز ہو کر chronic بیماریوں کو شفا دیتی ہے، تو یہ طبیعیات، طب، نفسیات اور فلسفے سب کو بدل دے گا۔
اور شاید اُسے طب کا

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے