28ویں ترمیم ، پیپلز پارٹی اسی تنخواہ پر ۔۔۔
تحریر۔۔۔۔احسان ناز
پاکستان میں 1973 کے آئین میں بار بار تبدیلیاں کر کے یوں تو 27 ویں ترمیم تک کر دی گئی ہے لیکن اب 28 ویں ترمیم کے بارے میں جب سے بات ہو رہی ہے تو پاکستان کے کچھ لوگوں نے چائے کی پیالی میں شور مچا رکھا ھے یہ خیال ہے کہ 28 ویں ترمیم کے بارے میں پاکستان پیپلز پارٹی حکومت کا ساتھ نہیں دیے گی ،کیونکہ صوبوں کو جو فنڈز 18ویں ترمیم کےوجہ ہے مل رہے ہیں ان میں کمی واقع ہوگی اور پانی کی تقسیم بھی سندھ کی زمیںوں کو صحرا بنا دے گا ۔اسطرح سندھ کو خوشحالی آصف علی زرداری نے جو 18ویں ترمیم کے ذریعہ دی تھی وہ مسلم لیگ ن اور اسٹیبلشمنٹ مل کر واپس لینا چاہ رھی ھے اور یہ چورن خواب خرگوش کی طرح سوے ھوئی تحریک انصاف کے وہ رھنما جو کہ خود کمپرومائز ہیں اپنے نمبر بنانے کے لیےکسی کے اشارے پر یہ بغل بجا رہے ہیں کہ پیپلز پارٹی 28 ویں ترمیم میں حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کا ساتھ نہیں دے گی اور از خود اس ترمیم کی مخالفت کرے گی یہ بھی سیاسی طور پر بات سننے میں آ رہی ہے کہ پیپلز پارٹی کی اپنی خواہش ضرور ہے کہ بلاول بھٹو زرداری وزیراعظم بنیں لیکن ان کے پاس نہ تو اتنے ووٹ ہیں اور نہ ہی اسٹیبلشمنٹ کی انہیں اس طرح کی مکمل سپورٹ حاصل ہے کہ وہ میاں محمد شہباز شریف کو کرسی وزارت عظمی سے اٹھا کر اس کرسی پر بلاول بھٹو زرداری کو براجمان کر دیں اس موقع پر میں اپنے کالم پڑھنے والوں اور سیاسی شعور رکھنے والوں کو بتا دوں کہ 28 ویں ترمیم بھی اسی طرح پاس ھو گی جس طرح 26 اور27 ویں ترامیم پاس کی گیں حکومت اگر چاھے تو پیپلز پارٹی کے بغیر ھی 28 ترمیم پاس کرا لے جبکہ تحریک انصاف کے وہ کمپرومائز سینٹر اور ممبران قومی اسمبلی بھی 28 ترمیم پاس کرانے کے لیے ایوان میں بیٹھے اشارے کے انتظار میں ھونگے اور یہ خوف پیپلز پارٹی کو روٹھنے نہیں دے گا جبکہ ملکی حالات بھی سیاسی طور پر اتنے گمبھیر ہو چکے ہیں کہ موجودہ حکمرانوں کی طرف سے بڑھکیں مارنے کے باوجود نہ تو مہنگائی میں کمی لائی گئی ہے اور نہ ہی ملک کی بہتری سامنے رکھتے ہوئے حکمران اپنی شاہ خرچیوں میں کمی کر سکے ہیں ۔ان کے پروٹوکول ان کے ساتھ 30 ، 35 گاڑیاں اور ان کا پٹرول اور ان کے اخراجات عوام کو ایک آنکھ نہیں بھا رہے جبکہ بار بار حکمرانوں کا ایک ہی نعرہ ہے کہ عوام پیٹ پر پتھر رکھ کر ایران امریکہ اسرائیل کی جنگ کی وجہ سے جو مشکلات پیدا ہوئی ہیں ان کا مقابلہ کریں اور اسی طرح وزیراعظم میاں محمد شہباز شریف نے پٹرول کی قیمت 400 روپیہ فی لیٹر کر دی ہے جبکہ سابق وزیراعظم عمران خان کے دور میں 150 روپے فی لیٹر پٹرول کی قیمت تھی اس وقت بلاول بھٹو زرداری نے بھی ایک لانگ مارچ کیا تھا مہنگائی کے خلاف اور شریفوں نے تو اپنی تقریروں میں کہا کہ
جس وزیراعظم کے دور میں پٹرول مہنگا ہو جائے وہ وزیر اعظم چور ہے یہ بیانات وزیراعظم میاں شہباز شریف ،وزیر اعلی پنجاب محترمہ مریم نواز شریف ، وزیر دفاع خواجہ آصف اور احسن اقبال کے ٹی وی چینلز پر اور اخبارات میں بھرے پڑے ہیں اب عوام یہ حکمرانوں سے پوچھنا چاہتی ہے جنگ ایران اور اسرائیل اور امریکہ میں ہوئی وہاں تینوں ممالک میں نہ تو مہنگائی بڑھی ہے نہ پٹرول کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے اور نہ ہی اس طرح کے لاک ڈاؤن کیے جا رہے ہیں جو کہ پاکستان میں دیکھنے میں آ رہے ہیں خدارا اب عوام کو لوٹنا بند کریں اور مہنگائی جس کو آپ انٹرنیشنل کہہ رہے ہیں اس کے مطابق اگر تنخواھیں اور غیر سرکاری کام کرنے والے لوگوں کی دہاڑیوں میں اضافہ ہو تو پھر آپ انٹرنیشنل طور پر پٹرول اور دیگر قیمتوں میں اضافہ کریں لیکن بدقسمتی یہ ہے کہ پاکستان میں حکومت کی طرف سے بجلی نہیں ،گیس نہیں ، پٹرول نہیں ، پانی نہیں ، صفائی نہیں اور ہر شے میں ملاوٹ ۔لیکن پوچھنے والا کوئی نہیں اور کہا یہ جا رہا ہے کہ ہم انٹرنیشنل سطح پر جو قیمتیں بڑھتی ہیں اس کی بنیاد پر ہم قیمتیں بڑھاتے ہیں تو میں اپنے حکمرانوں اور ان تمام مراعات یافتہ طبقات سے یہ پوچھنا چاہتا ہوں کہ ایک مزدور جو 15 ہزار روپے تنخواہ لے رہا ہے اس کو پٹرول 400 روپے لیٹر دیا جاتا ہے جبکہ تمام حکومتی وزرا ، سیکرٹری اور حکومتی سطح پر یا ان کے کل پرزوں کے طور پر کام کرنےوالے تمام لوگوں کے تمام یوٹیلیٹی بل ،بجلی گیس ، پٹرول اور دیگر سہولیات فری دی جا رہی ہیں تو میں اپنے عقل کے اندھے حکمرانوں سے گزارش کرتا ہوں کہ خدارا ابھی وقت ہے کہ وہ اپنی اقرا پروری اور لوٹ مار سے باز آ جائیں ورنہ داستانوں میں ان کا نام نہیں ہوگا





