پٹرول مہنگا‘ زندگی بے کیف !
ناصف اعوان
حکومتیں اپنے عوام کے لئے آسانیاں پیدا کرتی ہیں اور ٹیکسوں کا نظام ان کی استعداد کے مطابق وضع کرتی ہیں کیونکہ انہیں عوام نے منتخب ہی اسی لئے کیا ہوتا ہے مگر
ہمارے ہاں معاملہ اس کے بر عکس ہے یہاں کی حکومتیں آسائشیں و آسانیاں فراہم کرنا لازمی نہیں سمجھتیں ۔انہیں جن پروگراموں اور منصوبوں میں ”اپنا“ مفاد نظر آتا ہو انہیں ہی متعارف کرواتی ہیں تاکہ زیادہ سے زیادہ ما ل پانی بنایا جا سکے ایک دوسرا نقطہ نظر بھی ہوتا ہے کہ لوگوں کو تھوڑا سا ریلیف بھی دیا جائے تاکہ وہ سڑکوں پر نہ آجائیں مگر ان کی یہ حکمت عملی ناکام رہتی ہے کیونکہ عوام کو تعلیم اور صحت کی سہولت بھی مفت چاہیے۔ مہنگائی اور ملاوٹ کا خاتمہ ان کی شدید خواہش رہی ہے مگر اب تک انہیں مضر صحت ہی اشیائے خورونوش دستیاب ہوئیں ۔ اگرچہ اس حوالے سے محکمہ موجود رہا ہے مگر اس نے ہمیشہ گونگلوؤں سے مٹی ہی جھاڑی ہے اور اپنی جیبیں ہی بھری ہیں نتیجتاً مجموعی قومی صحت خراب ہے ۔ اب حالت یہ ہے کہ موجودہ حکومت بجائے اس کے کہ وہ عوام کو سہولتیں فراہم کرنے کی کوشش کرتی اس نے مزید لوگوں کی رگوں سے خون کشید کرنا شروع کر دیا ہے ۔ آئے روز ٹیکس لگائے جا رہے ہیں ۔تعلیم اور صحت کو مہنگا ترین کر دیا گیا ہے سرکاری درسگاہوں کو نجی تحویل میں دیا جا رہا ہے اسپتال بھی اسی طرح چند ہاتھوں میں تھمائے جا رہے ہیں ۔ لوگوں کی توجہ دوسری طرف مبذول کرنے کے لیے پکڑ دھکڑ کے حوالے سے نئے محکمے بنائے جارہے ہیں جو یونہی پاؤں پٹختے رہتے ہیں ۔
بہرحال اب یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہو چکی ہے کہ ہمارے حکمران عوام سے مخلص نہیں انہیں صرف اقتدار سے غرض ہوتی ہے جس کے حصول کے لئے وہ عالمی مالیاتی اداروں اور امریکا کو خوش کرتے ہیں ان کی ناراضی ان کے وارے میں نہیں ہوتی لہذا ان کے عوام خوش ہوں یا ناخوش اس سے انہیں کوئی فرق نہیں پڑتا کیونکہ قیام پاکستان کے چند برسوں کے بعد امریکا نے اپنا اثر و رسوخ بڑھانا شروع کر دیا تھا اس روز سے آج تک اس کے چُنگل سے آزاد نہیں ہو سکے وہ جو کہتا ہے اس پر عمل درآمد کرواتا ہے اگر کوئی اس کی آشیر باد کو نظر کرتا ہے تو اسے اقتدار سے محروم ہونا پڑتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ حکومتیں عوام کی فلاح وبہبود کا خیال رکھنا ضروری نہیں سمجھتیں اور عالمی مالیاتی اداروں اور امریکا کی خواہشات کا احترام کرتی ہیں وگرنہ یہ جو پچپن روپے تیل کی قیمت میں رات کی تاریکی میں اصافہ کیا گیا ہے نہ کیاجاتا ۔ پوری دنیا میں جنگ کی آڑ میں تیل کی قیمتیں برائے نام بڑھائی گئی ہیں کسی نے پانچ اور کسی نے دو روپے کا اضافہ کیا کیونکہ انہیں اپنے عوام کا فائدہ دیکھنا تھا مگر ہماری حکومت نے کڑاکے نکال دئیے اکٹھے پچپن روپے بڑھا کر کھربوں کا ٹیکہ لگا دیا گیا ہے اس طرح ”بڑوں“ کی بات بھی مان لی گئی اور اپنے عزیز و اقارب کو بھی تا حیات اہل زر کی صف میں لا کھڑا کیا ۔ اس پر عوام تڑپ اٹھے ہیں ٹھنڈی آہیں بھر رہے ہیں۔انہیں (حکمرانوں )کو کسی سے کوئی ہمدردی نہیں لہذا وہ غیر ضروری اقدامات کیے جا رہے ہیں ۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ حکومت تیل بر آمد کرنے والے ملکوں سے رابطہ کرتی اور ایسے تیسے ملک میں تیل لانے کے انتظامات کرتی مگر اسے ایسی کوئی اجازت نہیں ہو گی لہذا اس نے بہتر یہی سمجھا کہ قیمتیں بڑھا دو تاکہ لوگ کم سے کم تیل کا استعمال کریں مگر لوگوں کی مجبوری ہے وہ آنا جانا کیسے بند کر سکتے ہیں ملازمین کو ہر صورت اپنے دفاتر میں جانا ہے مزدوروں محنت کشوں کو بھی ملوں فیکٹریوں اور کارخانوں میں جاکر دیہاڑی لگانا ہے لہذا ان کی مجبوری سے فائدہ اٹھانے کا فیصلہ کر لیا گیا۔ لوگ رولا ڈال رہے ہیں مگر ان کی کون سنتا ہے کیونکہ حکمران عوام کو انسان ہی نہیں سمجھتے لہذا انہیں سہولتیں نہیں دیتے اور پُر آسائش زندگی سے محروم رکھتے ہیں ۔ اپنے ملک سے تیل کی پیداوار کو بڑھاتے نہیں اور تیل پیدا کرنے والے قریبی ملکوں سے سستا تیل لیتے نہیں لہذا ہر طرف ایک گہری اداسی چھائی ہوئی ہے سوال یہ بھی ہے کہ لوگ اپنے حقوق کے حصول کے لئے آواز بلند نہیں کرتے کوئی پُرامن احتجاج نہیں کرتے مگر چاہتے ہیں کہ خود بخود سب ٹھیک ہو جائے ایسا نہیں ہوتا ۔جن لوگوں نے سہولتیں حاصل کیں انہوںنے طویل جد وجہد کی لہذا اب آکر وہ سُکھ کا سانس لینے میں کامیاب ہوئے مگر ہمارے لوگ تو سہل پسند واقع ہوئے ہیں اس کا مطلب یہ نہیں کہ اہل اقتدار ان پر ستم ڈھائیں انہیں تو چاہیے کہ اس شعوری دور میں ان کو بغیر کسی مطالبہ کے بہتر زندگی سے لطف اٹھانے کا موقع دیں مگر ایسا کبھی کوئی موقع نہیں آیا ۔ البتہ جب بھی کوئی اقتدار میں آیا اس نے خاموشی سے غیر عوامی ایجنڈا کو عملی جامہ پہنایا ۔اپنی تجوریاں بھریں اور عوام پر ایسے ایسے قوانین مسلط کیے کہ جس سے وہ پریشان ہو جائیں انہیں اپنے پیٹ کی فکر لاحق ہو جائے اور وہ حکمرانوں سے التجائیں کرنے لگیں ۔ اب جب تیل کی قیمتیں بڑھائی ہیں تو اس سے لوگوں میں سراسیمگی کی لہر دوڑ گئی ہے ان کی زندگیاں بے کیف ہو گئی ہے ۔ یک مشت پچپن روپے بڑھانا شاید ملکی تاریخ میں پہلی بار ہوا ہے ۔اب حکومت کے عہدیداران بتائیں کہ کہ کس فارمولے کے تحت اصافہ کیا گیا ہے خان کے دور میں یہ لوگ ان پر انگلیاں اٹھا رہے تھے یعنی وہ کہتے کہ رات کے اندھیرے میں دس روپے بڑھا دئیے شرم نہیں آئی تمھیں “
بہر کیف تیل کی قیمت خوفناک حد تک بڑھی ہے جس سے ایک بھونچال سا آگیا ہے اور ابھی تو مزید بڑھنی ہے مگر حکومت کو کوئی پوچھنے والا نہیں ۔اس سے






