#بغیر زُمرہ

لاہور کی بڑھتی ھوئی ٹریفک میں جدید اصلاحات کی اھمیت

WhatsApp Image 2025 10 21 at 23.56.49

تحریر: محمد ندیم بھٹی

لاھور پاکستان کا دل اور معاشی و ثقافتی سرگرمیوں کا اہم ترین مرکز سمجھا جاتا ھـے، مگر افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ھـے کہ اس تاریخی شہر کی سڑکیں آج ٹریفک کے شدید دباؤ اور بدنظمی کا شکار نظر آتی ہیں۔ روزانہ لاکھوں گاڑیاں سڑکوں پر رواں دواں ھوتی ہیں، مگر ٹریفک نظم و ضبط کی کمی اور اشاروں کی خلاف ورزی نے شہری زندگی کو مشکلات سے دوچار کر دیا ھـے۔ اکثر چوراھوں پر سرخ اشارے کو نظر انداز کرنا معمول بنتا جا رہا ھـے جس کے باعث حادثات میں اضافہ ھو رہا ھـے اور شہری عدم تحفظ کا شکار ہیں۔ ایسے حالات میں یہ سوال شدت سے سامنے آ رہا ھـے کہ کیا صرف روایتی طریقوں سے ٹریفک مسائل پر قابو پایا جا سکتا ھـے یا اب وقت آ گیا ھـے کہ جدید ٹیکنالوجی اور مؤثر اصلاحات کے ذریعے اس مسئلے کا مستقل حل تلاش کیا جائے۔
لاہور میں ٹریفک کا مسئلہ کئی دہائیوں سے بڑھتا جا رہا ھـے۔ شہر کی گنجان آبادی، بڑھتی ہوئی گاڑیوں کی تعداد اور شہریوں کی جلد بازی نے سڑکوں کو ایک چیلنجنگ ماحول میں بدل دیا ھـے۔ روزانہ ہزاروں افراد سڑکوں پر دیر سے پہنچنے کے خوف سے تیز رفتاری اختیار کرتے ہیں، جس کے باعث حادثات اور انسانی نقصان میں اضافہ ھوتا ھـے۔ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی اب معمول کی بات بن چکی ھـے، اور شہری اکثر اشاروں کو نظر انداز کر دیتے ہیں، خواہ وہ سرخ بتی ہو یا پیدل راستہ۔
اس صورتحال میں پنجاب ٹریفک پولیس کی خدمات قابل ستائش ہیں۔ اہلکار شدید گرمی، سردی، دھواں اور آلودگی کے باوجود سڑکوں پر کھڑے ہو کر ٹریفک کو کنٹرول کرتے ہیں۔ وہ شہریوں کی رہنمائی کرتے ہیں، قوانین کی پابندی یقینی بناتے ہیں اور حادثات کو کم کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ مگر افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ھـے کہ بڑھتے ہوئے ٹریفک دباؤ اور محدود نفری کی وجہ سے ان کی کارکردگی بعض اوقات مکمل نہیں ھو پاتی۔
گزشتہ چند سالوں میں ٹیکنالوجی کو ٹریفک نظام کا حصہ بنایا گیا۔ شہر کے مختلف مقامات پر کیمرے نصب کئے گئے ہیں جو ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف ای چالان جاری کرتے ہیں۔ اس نے کسی حد تک نظم و ضبط قائم کرنے میں مدد دی، مگر اشارہ توڑنے، جلد بازی کرنے اور حادثات کی روک تھام میں یہ نظام مکمل طور پر مؤثر ثابت نہیں ھوا۔ اس سے ظاہر ھوتا ھـے کہ جدید ٹیکنالوجی کے بغیر انسانی نفری کے ذریعے ٹریفک کا مؤثر کنٹرول ممکن نہیں، اور انسانی وسائل کے ساتھ ٹیکنالوجی کا امتزاج لازمی ھـے۔
اس تناظر میں ایک مؤثر تجویز یہ سامنے آئی ھـے کہ شہر کے ہر ٹریفک اشارے کے سامنے خودکار لمبے بیریئر نصب کئے جائیں۔ یہ بیریئر ٹریفک سگنل کے ساتھ منسلک ہوں اور سرخ بتی پر خود بخود بند ھو جائیں جبکہ سبز بتی پر کھل جائیں۔ اس نظام سے کوئی گاڑی سرخ اشارہ عبور نہیں کر سکے گی، اور حادثات کے امکانات میں نمایاں کمی آئے گی۔ دنیا کے کئی بڑے شہروں میں اس قسم کے خودکار بیریئر سسٹم کامیابی سے استعمال ھو رھے ہیں۔ وہاں یہ نظام ٹریفک نظم و ضبط کو یقینی بنانے کے لئے انتہائی مؤثر ثابت ھوا ھـے۔
خودکار بیریئر سسٹم کے فوائد صرف حادثات کی روک تھام تک محدود نہیں ہیں۔ اس سے ٹریفک پولیس پر بھی دباؤ کم ھو جائے گا۔ اس وقت لاھور کے اہم چوراہوں پر بڑی تعداد میں اہلکار تعینات ہیں جو صرف اشاروں کی پابندی کروانے کے لئے موجود ھوتے ہیں۔ اگر بیریئر سسٹم نصب ھو جائے تو ان اہلکاروں کی تعداد کم کی جا سکتی ھـے، اور محدود نفری دیگر اہم ذمہ داریوں، جیسے حادثات کی روک تھام، ہنگامی صورتحال میں مدد اور شہری رہنمائی کے لیے استعمال کی جا سکتی ھـے۔
اس کے علاوہ، سرکاری وسائل کی بچت بھی ممکن ھو گی۔ جب نفری کم پڑے گی تو حکومت کو ہر سال اضافی اہلکار بھرتی کرنے کی ضرورت نہیں پڑے گی، جس سے مالی وسائل بچیں گے۔ یہ بچت بالآخر صوبائی حکومت کے بجٹ پر بھی مثبت اثر ڈالے گی اور حکومتِ پنجاب کے لیے ٹریفک کے انتظامات میں دباؤ کم کرے گی۔
بدقسمتی سے اس کے برعکس بعض ایسے فیصلے بھی سامنے آتے ہیں جو عوامی ترجیحات کے مطابق نہیں لگتے۔ حال ہی میں پنجاب ٹریفک پولیس کی نئی وردیوں کی تیاری پر کروڑوں روپے خرچ کرنے کی اطلاعات سامنے آئیں۔ سوال یہ پیدا ھوتا ھـے کہ جب شہر کو جدید ٹریفک نظام، بہتر سگنل سسٹم اور حادثات سے بچاؤ کے اقدامات کی ضرورت ھو تو اس وقت کروڑوں روپے صرف یونیفارم کی تبدیلی پر خرچ کرنا کہاں تک دانشمندی ھـے؟
یہ حقیقت بھی نظر انداز نہیں کی جا سکتی کہ ٹریفک اہلکاروں کی کارکردگی کا تعلق ان کی وردی کے رنگ یا ڈیزائن سے نہیں بلکہ ٹریفک نظام کی بہتری اور جدید سہولیات سے ھوتا ھـے۔ اگر یہی وسائل جدید ٹریفک مینجمنٹ سسٹم، خودکار بیریئرز، بہتر کیمرہ نگرانی اور سڑکوں کی بہتری پر خرچ کئے جاتے تو شاید شہریوں کو زیادہ فائدہ پہنچتا۔
پاکستان اس وقت معاشی دباؤ کا سامنا کر رہا ھـے اور حکومت کو مالی مشکلات کے باعث اکثر عالمی مالیاتی اداروں جیسے انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ پر انحصار کرنا پڑتا ھـے۔ ایسے حالات میں ضروری ھـے کہ ہر سرکاری خرچ کو عوامی مفاد اور ترجیحات کے مطابق دیکھا جائے۔ اگر وسائل کا درست استعمال نہ کیا جائے تو ترقیاتی منصوبے متاثر ھوتے ہیں اور عوامی مسائل حل ھونے کے بجائے مزید بڑھ جاتے ہیں۔
ٹریفک اصلاحات صرف ایک انتظامی مسئلہ نہیں بلکہ شہری زندگی کے معیار، عوامی تحفظ اور قومی ترقی سے بھی جڑا ھوا معاملہ ھـے۔ جب شہری دیکھیں گے کہ ہر اشارے کے سامنے مضبوط خودکار بیریئر موجود ہیں تو وہ قوانین کی پابندی کے عادی ھو جائیں گے۔ اس کے ساتھ ساتھ شہریوں میں ٹریفک قوانین کے بارے میں شعور بھی بیدار ھو گا جو ایک مہذب اور منظم معاشرے کے قیام میں مددگار ثابت ہوگا۔
ضرورت اس امر کی ھـے کہ حکومت، ماہرین ٹریفک، شہری منصوبہ ساز اور متعلقہ ادارے مل کر ایک جامع

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے