#کالم

تعزیتی نہیں، تعریفی ریفرنس ؟

Untitled 14

جمع تفریق ۔۔۔ناصر نقوی
جو لوگ دنیا میں آ نے کے بعد کچھ کر گزرنے کا جذبہ رکھتے ہیں وہی آ دم زدادوں میں کوئی مقام پاتے ھیں ورنہ جن آ نے والوں کی آ مد پر جشن منایا گیا محلے اور رشتہ داروں میں لڈو اور مٹھائیاں تقسیم کی گئیں انہیں ہم نے اس دنیا میں آ دمی سے جانور بنتے دیکھا بلکہ بھی دیکھ رہے ہیں اولاد نرینہ ہی نہیں حوا کی بیٹیاں بھی منشیات کے چنگل میں پھنسی خود خاک میں ملنے سے پہلے اپنے ماں باپ کا نام مٹی میں ملا رہے ہیں لیکن جن آ دم زادوں نے اپنے آ پ کو پہچانا، زندگی کو قدرت کا حسین تحفہ سمجھا، انھوں نے نہ صرف ایسے کارہائے نمایاں انجام دیے کہ وہ ٫٫بندہ خدا ،،سے ایسا ادارہ بن گئے کہ انہوں نے اپنی اولاد کو نہیں,
، ہر کسی کی اولاد کو ایسا مثبت راستہ دکھایا کہ وہ ملک و ملت کا ایک ایسا فرد بن جائے جو قومی دھارے میں ملک، قوم اور سلطنت کا وارث نظر آ ئے کیونکہ گرتے ھووں کو سہارا دے اور سایہ دار درختوں کی طرح کی ایسی آ بیاری اور پرورش کرے کہ دنیا اس پر فخر کرے، ایسے ہی ایک روحانی باپ پروفیسر محمد رضا زیدی جب 11 ۔نومبر 2025 کو اپنی دنیاوی زندگی کی ایک کامیاب اور یادگاری اننگ کھیل کر رخصت ہوا تو ہر آ نکھ اشک بار تھی مالک کائنات نے انہیں اولاد نرینہ عطا نہیں کی تھی لیکن ان کی پانچ بیٹیاں عزم و استقامت کے ساتھ اپنی والدہ محترمہ کے ساتھ ایسے کھڑیں تھیں جیسے کسی شخص کے بیٹے اسے ٫٫سفر آ خر،، پر رخصت کر رہے ہوں، جنازے میں ان کے ساتھی، سنگی، ہم عمر تو تھے ھی، نوجوانوں کی بڑی تعداد بھی اس قدر زیادہ تھی کہ قابل رشک کہا جا سکتا ہے یہ نوجوان کون تھے اور اس بڑی تعداد میں کیوں آ ئے؟ اس لیے کہ وہ اپنے روحانی باپ (استاد) کو دائمی منزل تک پہنچانا اپنا فرض سمجھتے تھے یقینا پروفیسر رضا زیدی ایک ہمہ جہت، علمی و ادبی شخصیت ہی نہیں، ایک کہنہ مشق استاد تھے انہوں نے درس و تدریس کی ابتدا اردو ادب کے استاد کی حیثیت سے گورنمنٹ کالج نارووال سے کی لیکن انہیں مرے کالج سیالکوٹ، ایف سی کالج لاہور، اسلامیہ کالج سول لائیز کے علاوہ مختلف نجی اداروں میں خدمات انجام دینے کا اعزاز بھی حاصل رہا، اس طرح ان کے شاگردوں کی تعداد کا اندازہ آ پ خود بخوبی لگا سکتے ہیں، زندگی کا سفر 14 فروری 1944 سہارنپور یو پی۔۔ انڈیا سے شروع ھوا پھر ہجرت کر کے والدین کے ہمراہ بھکر میں آ بسے، آ پ غالب شناس ھی نہیں، فیض احمد فیض، جوش ملح آ بادی، شکیب جلالی، مصطفی زیدی کی صحبت میں بھی وقت گزارا اور ان کی شاعری،نثر، حمد و نعت، سوز و سلام اور قصیدے اس قدر مربوط اور جامع سوچ و خیالات پر مبنی ہیں کہ یہ کہنا بے جا ہر گز نہیں ہوگا کہ وہ کسی سے کم نہ تھے ،بہت کچھ لکھا، بہت کچھ لکھ رہے تھے لیکن موت برحق ہے اس کا پیغام آ گیا اور وہ اپنے سوھنے رب کی طرف محمد و آل محمد کی ثنا خوانی کرتے ہوئے دنیا چھوڑ کر چلے گئے، یہ بھی حقیقت ہے کہ جانے والے چلے جاتے ہیں لیکن اپنے پسماندگان، عزیز و اقارب اور پرستاروں کے لیے بہت سی کہی ، ان کہی داستانیں چھوڑ جاتے ہیں یقینا ان کہانیوں اور خاکوں میں رنگ ان کی صاحبزادیاں بھریں گی کیونکہ وہی ان کی حقیقی وارث ہیں، باپ کی کمی محسوس کرتے ہوئے آ نسو بھی بہائیں گی اور عزم استقامت کی علامت بن کر ماں کو حوصلہ بھی دیں گیں کہ ان کا رخصت ہونے باپ کوئی عام آ دمی نہیں تھا
جو لوگ خاص ہوتے ہیں ان کے جانے کے بعد بھی ایسی محافل جاری رہتی ہیں جو ان کی یادوں سے مہکتی ھیں یقینا ایسی تقریب افسردہ خاندان کی ڈھارس باندھتی ہے لیکن میرے ایک دوست کا کہنا ہے کہ تعزیتی ریفرنس ایسے باکمال لوگوں کی زندگی میں ہونے چاہییں تاکہ اسے بھی تو پتہ چلے کہ اس کے بارے میں ٫٫اپنے پرائے،، کیا جذبات اور خیالات رکھتے ہیں وہ یہ جان جائے کہ زندگی کے امتحان میں کامیاب ہوا کہ ناکام ؟ لیکن ہم ٹھہرے مردہ پرست۔۔ ہمیں خوبیاں زندگی کے خاتمے پر دکھائی دیتی ہیں زندگی میں کوئی کسی کو ماننے کو تیار نہیں جبکہ میرا خیال ہے کہ جانے والے بہت سے یادیں چھوڑ جاتے ہیں جن پر آ نسو بہانے کے موقع ساری زندگی آ تے رہتے ہیں لہذا تعزیتی نہیں تعریفی ریفرنس کا رواج قائم ہونا چاہیے تا کہ پسما ندگان اور جانے والے کے عزیز و اقارب، دوست احباب اس کے نام پر فخر سے جی سکیں، تعزیتی ریفرنس میں جانے والے کے اوصاف اور کارنامے گنوائے جاتے ہیں اس لیے ایسی تقاریب میں خوشی اور فخر کا اعنصر شامل ہونا چاہیے، آ نسو بہانے کے لیے تو زندگی پڑی ھے خواہ تھوڑی ہے یا زیادہ، پروفیسر محمد رضا زیدی ہفت پہلو شخصیت کے مالک تھے تعلیم و تدریس کے علاوہ تحریر و تحقیق کے حوالے سے بھی نمایاں مقام رکھتے تھے ان کی شاعری اور خاص طور پر حمد و نعت، سوز و سلام میں غلامان محمد و آل محمد کے حوالے سے خصوصی خوشبو موجود ہے ،اکثر تقریبات کی میزبانی بھی کرتے نظر آ تے تھے، اس میں بھی ان کی گفتگو سلیقہ و طریقہ ہی نہیں، خوبصورت الفاظ کے توازن سے مرصع ہوا کرتی تھی، بس اسی حوالے سے یہ تعزیتی ریفرنس انتہائی اہم تھا صدارت پروفیسر حسن عسکری کاظمی نے کی جبکہ مقررین میں سعید عالم زیدی، رضوان ترابی، مولانا مناظر زیدی، رضا زیدی ،حسنین آ زاد، پروفیسر جیون سلطان اور ان کی صاحبزادیاں سائرہ بتول و ماہین رضا شامل تھیں جبکہ نظامت کے فرائض مظہر عباس چودھری نے انجام دیے، تقریبا دو سے تین گھنٹے کی ا س آ گاہی تقریب میں مرحوم کی زندگی کے مختلف پہلووں پر روشنی ڈالی گئی مقررین کا مطالبہ تھا کہ ان کا غیر مطبوعہ کلام اور نثری اثاثے کو محفوظ بنا

تعزیتی نہیں، تعریفی ریفرنس ؟

25/12/2025 Daily Sarzameen Lahore

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے