#کالم

عمرہ کے دوران موت : وہ چہرے جو ڈھانپے نہیں گئے

news desing 754

تحریر: انجینئر بخت سید یوسفزئی – قلمِ حق (engr.bakht@gmail.com)
(بریڈفورڈ، انگلینڈ)

عمرہ اور حج کے سفر میں انسان ایسے ایسے مناظر دیکھتا ہے جو عمر بھر دل پر نقش رہ جاتے ہیں۔ یہ سفر صرف عبادت نہیں بلکہ روح کی وہ پرواز ہے جس میں انسان ہر لمحہ اپنے رب کے زیادہ قریب ہوتا جاتا ہے۔ میں نے بھی اسی سفر میں کچھ ایسے واقعات دیکھے جنہوں نے میرے دل کی دنیا بدل کر رکھ دی اور مجھے زندگی اور موت کی حقیقت نئے زاویے سے سمجھا دی۔

احرام باندھتے ہی انسان اپنے آپ کو دنیاوی لباس، شناخت اور شان و شوکت سے الگ کر لیتا ہے۔ دو سفید کپڑوں میں ملبوس، لبیک کی صدائیں بلند کرتے ہوئے انسان خود کو اُس غلام کے طور پر محسوس کرتا ہے جو اپنے رب کے دربار میں حاضر ہو۔ اس حالت میں ہر قدم، ہر دعا اور ہر سانس ایک خاص نور سے بھرا ہوا محسوس ہوتا ہے۔

اسی سفر کے دوران مجھے ایسے افراد کو قریب سے دیکھنے کا موقع ملا جو حالتِ احرام میں ہی اپنے رب کے حضور چلے گئے۔ یہ منظر آج تک میرے دل پر نقش ہے۔ میں نے اپنی آنکھوں سے اُن مبارک لوگوں کو دیکھا جن کے جسم بھی احرام میں تھے اور اُن کے چہرے بھی کھلے چھوڑ دیے گئے تھے۔ یہ ایک ایسا لمحہ تھا جس نے مجھے ہلا بھی دیا اور روحانی طور پر مضبوط بھی کیا۔

جب پہلی بار میں نے ایک فوت شدہ شخص کو دیکھا جو احرام کی حالت میں تھے، تو مجھے اس بات نے بہت متاثر کیا کہ ان کے سر اور چہرے کو بالکل نہیں ڈھانپا گیا تھا۔ میں خود حیران کھڑا تھا کہ سب لوگ کتنی خشوع اور احترام کے ساتھ انہیں انہی کے احرام میں لپیٹ رہے تھے۔ ان کے چہرے پر ایک عجیب قسم کا سکون تھا، جیسے وہ اب بھی لبیک پکارتے ہوئے اپنے رب کی طرف بڑھ رہے ہوں۔

دوسری بار میں نے ایسا منظر مسجدِ نبوی کے قریب دیکھا۔ وہاں بھی احرام کی حالت میں وفات پا گئے تھے۔ میں نے خود اپنے سامنے دیکھا کہ انہیں احرام کے کپڑوں ہی میں کفن دیا گیا اور ان کا چہرہ بھی اسی طرح کھلا رکھا گیا۔ اس وقت جو کیفیت میرے دل پر طاری ہوئی، اسے بیان کرنا مشکل ہے۔ ایسا لگ رہا تھا جیسے موت بھی ان کی عبادت مکمل نہ کرسکی، بلکہ انہیں اللہ کے مہمان کے طور پر واپس لے گئی۔

اس کے بعد مجھے اس مسئلے کی حقیقت سمجھ آئی کہ اسلام نے احرام کو کس قدر عظمت دی ہے۔ یہ کوئی سنی سنائی بات نہیں تھی، یہ میرا ذاتی مشاہدہ تھا جسے میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا۔ میں نے دیکھا کہ کس طرح لوگ انتہائی احترام کے ساتھ سنت کے مطابق ان مبارک بندوں کو رخصت کر رہے تھے۔

اسی دوران مجھے وہ حدیث یاد آئی جس کا ترجمہ کچھ یوں ہے: “اسے اس کے دو احرام کے کپڑوں میں کفن دو، اور اس کا سر اور چہرہ مت ڈھانپو، کیونکہ وہ قیامت کے دن تلبیہ پکارتا ہوا اٹھایا جائے گا۔” جب میں نے یہ حدیث سنی تھی تو وہ ایک علمی بات تھی، لیکن جب میں نے اسے حقیقت بنتے دیکھا تو وہ میرے دل کی گہرائی میں اُتر گئی۔

قرآن میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: “اور جسے اللہ عزت دے، اسے کوئی رسوا نہیں کر سکتا۔” (ترجمہ سورۃ الحج) یہ آیت اُس وقت میری آنکھوں کے سامنے گھومنے لگی جب میں نے ان لوگوں کے کھلے چہرے دیکھے جو موت کے باوجود کتنے باوقار اور نورانی لگ رہے تھے۔

احرام کی حالت میں وفات ہونا ایک عام موت نہیں ہوتی، یہ ایک خاص انتخاب ہے۔ یہ میں نے تب سمجھا جب میں نے ان لوگوں کے چہروں پر وہ نور دیکھا جو عام موت میں شاید نظر نہیں آتا۔ ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ رب نے ان کے لیے رحمت کے دروازے پہلے ہی کھول دیے ہوں۔

جب ان کا سر اور چہرہ کھلا رہتا ہے تو یہ نہ صرف ایک شرعی حکم ہے بلکہ ایک علامت بھی ہے کہ یہ بندہ اللہ کی راہ میں تھا۔ میں نے جب یہ مناظر دیکھے تو میرے دل میں سخت اثر ہوا کہ کتنے خوش نصیب ہیں وہ لوگ جو اللہ کے گھر کی طرف جاتے ہوئے ہی اللہ کے حضور پہنچ جائیں۔

یہ تمام تجربہ مجھے یہ احساس دلاتا رہا کہ انسان کا انجام کتنا اہم ہے۔ دنیا کی بڑائی، دولت یا منصب کچھ بھی کام نہیں آتا۔ اصل کامیابی اس انجام کی ہے جو اللہ کی اطاعت اور عبادت کی حالت میں حاصل ہو۔ میں نے ان چہروں پر وہ سکون دیکھا جو شاید زندہ لوگوں پر بھی نظر نہیں آتا۔

ان مناظر نے مجھے اپنی زندگی پر بھی غور کرنے پر مجبور کیا۔ کیا میرا انجام ایسا ہوگا؟ کیا میں اللہ کے حضور اس حالت میں پہنچوں گا کہ وہ مجھ سے راضی ہو؟ وہ کھلے چہرے مجھے یہ پیغام دیتے محسوس ہوتے کہ اصل عزت تو اللہ کے قرب میں ہے۔

احرام میں فوت ہونے والوں کا چہرہ جب کھلا رہتا ہے تو یہ گویا اعلان ہوتا ہے کہ یہ بندہ اللہ کا مہمان تھا، اور اللہ نے اُسے اپنے پاس ہی بلا لیا۔ میں نے کئی لوگوں کی آنکھوں میں آنسو دیکھے، لیکن ان آنسوؤں میں خوف کم اور حسرت زیادہ تھی۔ حسرت اس سعادت کی جو ہر کوئی چاہتا ہے مگر سب کو نہیں ملتی۔

جب ان کے لیے دعا کی جا رہی تھی تو ہر کوئی اس بات کا گواہ تھا کہ یہ اللہ کی خصوصی رحمت ہے۔ میں بھی ہاتھ اٹھائے یہ سوچ رہا تھا کہ دنیا میں کتنے لوگ مر جاتے ہیں مگر سب پر ایسا نور نہیں ہوتا۔

یہ مناظر دل کی دنیا بدل دیتے ہیں۔ میں جب بھی اُن چہروں کو یاد کرتا ہوں، تو دل نرم ہو جاتا ہے اور زبان پر خود بخود دعا آتی ہے کہ اے اللہ! ہمارا انجام بھی خوبصورت بنا دے۔

ان واقعات نے مجھے سکھایا کہ عبادت کا سفر کبھی ضائع نہیں جاتا۔ اللہ ہر نیت، ہر قدم

عمرہ کے دوران موت : وہ چہرے جو ڈھانپے نہیں گئے

26/11/2025 Daily Sarzameen Lahore

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے