#کالم

اپنا کسان بینک، زرعی خوشحالی کی سمت انقلابی قدم

rafeh s

رفیع صحرائی

وزیرِ اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے صوبے میں کاشت کاروں کے لہے پہلا "اپنا کسان بینک قائم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ کسانوں کی طرف سے اس اعلان کو بہت زبردست پذیرائی مل رہی ہے۔یہ حقیقت ہے کہ پاکستان کی معیشت کا پہیہ زراعت کے بغیر نہیں چل سکتا اور زراعت کا پہیہ کسان کے بغیر حرکت نہیں کر سکتا۔ کسان خوشحال ہو تو منڈی آباد ہوتی ہے، زراعت کی ترقی سے صنعت کا پہیہ تیز ہوتا ہے، اس سے دیہی معیشت میں گردشِ زر بڑھتی ہے اور ملک کی غذائی ضروریات پوری کرنے کی صلاحیت مضبوط ہوتی ہے۔ اس اعتبار سے پنجاب میں کاشتکاروں کے لیے پہلے ”اپنا کسان بینک“ کے قیام کا اعلان ایک ایسا قدم ہے جسے محض ایک مالیاتی منصوبہ نہیں بلکہ زرعی معیشت کی مضبوط بنیاد قرار دیا جا سکتا ہے۔وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی طرف سے کاشتکاروں کی فلاح و بہبود کے لیے متعدد اعلانات، خصوصاً اپنا کسان بینک، کسان کارڈ، زرعی قرضوں میں سہولت، ڈی اے پی سپورٹ، گندم کی امدادی قیمت پر عملدرآمد، زیتون کی کاشت کے فروغ اور آبپاشی کے نظام میں بہتری کے اقدامات اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ حکومت پنجاب زراعت کو محض ایک شعبہ نہیں بلکہ صوبے اور ملک کی معاشی ترقی کا بنیادی ستون سمجھ رہی ہے۔اپنا کسان بینک کا قیام اس لیے بھی اہم ہے کہ ہمارے کسان کو فصل کاشت کرنے سے پہلے ہی کئی مالی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ بیج، کھاد، زرعی ادویات، ڈیزل، بجلی، پانی، مشینری اور مزدوری کے اخراجات مسلسل بڑھ رہے ہیں۔ ایسی صورت حال میں چھوٹا کسان خاص طور پر سرمایہ کی کمی کے باعث اکثر ایسے ذرائع سے قرض لینے پر مجبور ہو جاتا ہے جہاں اسے بھاری منافع یا سود ادا کرنا پڑتا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ کسان کی فصل کی آمدنی کا بڑا حصہ قرض اتارنے میں چلا جاتا ہے۔ اگر اپنا کسان بینک واقعی کسان دوست بینکاری کا مو¿ثر ذریعہ بن جاتا ہے تو یہ صورت حال تبدیل ہو سکتی ہے۔ اعلان کے مطابق ایک کروڑ روپے تک قرض پر زیرو مارک اپ، تین کروڑ روپے تک دو فیصد اور پانچ کروڑ روپے تک پانچ فیصد شرحِ سود کی سہولت کسانوں کو زرعی سرگرمیوں کے لیے سستا سرمایہ فراہم کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔ تاہم اصل کامیابی اسی وقت ممکن ہوگی جب یہ قرضے کاغذی کارروائی، سفارش، سیاسی وابستگی اور غیر ضروری ضمانتوں کی پیچیدگی سے آزاد ہو کر آسان اور سادہ پراسیس کے ذریعے حقیقی کاشتکار تک پہنچیں۔اپنا کسان بینک کے اغراض و مقاصد صرف قرض فراہم کرنے تک محدود نہیں ہونے چاہئیں۔ اسے کسان کے لیے ایک مکمل ”ون ونڈو زرعی مالیاتی مرکز“ بننا چاہیے، جہاں کسان کو قرض کے ساتھ ساتھ فصل، مارکیٹ، جدید زرعی ٹیکنالوجی، فصلوں کی انشورنس، موسمی حالات، پانی کے استعمال اور بہتر بیج کے بارے میں رہنمائی بھی میسر ہو۔ اگر بینک کسان کو صرف پیسہ دے گا تو وہ ایک عام مالیاتی ادارہ ہوگا، لیکن اگر وہ کسان کو درست فیصلہ کرنے اور اس پر عمل درآمد میں بھی مدد دے گا تو حقیقی معنوں میں ”اپنا کسان بینک“ بن سکے گا۔پنجاب گورنمنٹ کا کسان کارڈ بھی اس سلسلے میں ایک اہم پیش رفت ہے۔ حکومت کے مطابق پنجاب میں دس لاکھ سے زائد چھوٹے کاشتکار اس سے مستفید ہو رہے ہیں۔ ڈی اے پی کی خریداری کے لیے فی ایکڑ قرض میں اضافہ اور کسان کو 30 ہزار سے بڑھا کر 33 ہزار 500 روپے فی ایکڑ تک سہولت دینا بھی زرعی لاگت کم کرنے کی کوشش ہے۔ پنجاب بھر میں 17 ارب روپے کے قرض سے 50 لاکھ ایکڑ رقبے کے مالکان کو فائدہ پہنچانے کا ہدف بھی قابلِ قابلِ قدر اقدام ہے۔تاہم ہمیں یہ حقیقت نہیں بھولنی چاہیے کہ کسان کو صرف قرض نہیں، مناسب قیمت اور یقینی منڈی بھی درکار ہے۔ اگر کسان مہنگی کھاد، مہنگا ڈیزل اور مہنگا بیج خرید کر فصل تیار کرے اور فصل تیار ہونے کے بعد اسے اپنی پیداوار کی مناسب قیمت نہ ملے تو سستا قرض بھی اس کا مسئلہ مستقل طور پر حل نہیں کر سکتا۔ کسان کی تمام نقدآور فصلوں کی سرکاری خرید کا انتظام ملک کو زرعی خود کفالت کی طرف لے جانے میں اہم پیش رفت ثابت ہو سکتا ہے۔حکومت کو اپنا کسان بینک کے ذریعے فصلوں کی انشورنس کا نظام بھی متعارف کرانا چاہیے۔ سیلاب، بارش، ڑالہ باری، خشک سالی، کیڑوں اور بیماریوں سے فصل تباہ ہونے کی صورت میں کسان کا پورا سرمایہ ڈوب جاتا ہے۔ ایک ایسا زرعی انشورنس نظام جس میں حکومت بھی اپنا حصہ ڈالے، کسان کو قدرتی آفات کے خلاف مضبوط تحفظ فراہم کر سکتا ہے۔ اسی طرح کسان کی جدید زرعی مشینری تک آسان رسائی بھی ضروری ہے۔ ہر چھوٹا کسان ٹریکٹر، ہارویسٹر، ڈرون، جدید آبپاشی نظام یا دیگر مہنگی مشینری خریدنے کی استطاعت نہیں رکھتا۔ اپنا کسان بینک مشترکہ مشینری مراکز یا آسان اقساط پر زرعی آلات کی فراہمی کا نظام شروع کرے تو پیداواری لاگت کم اور فی ایکڑ پیداوار میں اضافہ ہو سکتا ہے۔سب سے بڑی ضرورت یہ ہے کہ اپنا کسان بینک میں شفافیت اور میرٹ کو بنیادی اصول بنانا ہوگا۔ قرض اسی کسان کو ملنا چاہیے جو زمین کاشت کرتا ہے، نہ کہ اس شخص کو جو سیاسی یا انتظامی اثر و رسوخ رکھتا ہو۔ درخواست، منظوری، رقم کی منتقلی اور واپسی کا پورا نظام ڈیجیٹل، آسان اور قابلِ نگرانی ہونا چاہیے تاکہ کسی مڈل مین، ایجنٹ یا سفارش کی ضرورت باقی نہ رہے۔ یہ بھی ضروری ہے کہ بینک کا دائرہ صرف بڑے زمینداروں تک محدود نہ ہو۔ پاکستان کا اصل کسان وہ چھوٹا اور درمیانہ کاشتکار ہے جو چند ایکڑ زمین پر اپنے خاندان کا مستقبل وابستہ کیے بیٹھا ہے۔ اگر اپنا کسان بینک ایسے کسان کو مضبوط بنا دیتا ہے تو یہ محض ایک بینک نہیں بلکہ دیہی خوشحالی کا ادارہ بن سکتا ہے۔وزیراعلیٰ پنجاب کا یہ کہنا بجا ہے کہ پنجاب پاکستان کی فوڈ باسکٹ ہے اور ملک کی معاشی ترقی کا پہیہ پنجاب کے کسان کے بغیر نہیں چل سکتا۔ ہمیں توقع کرنی چاہیے کہ اپنا کسان بینک آنے والے برسوں میں کسان کے لیے اسی اعتماد کی علامت بنے گا جس کی اسے عرصہ دراز سے ضرورت ہے۔ ایسا بینک جہاں کسان قرض لینے والا مجبور شخص نہیں بلکہ ملک کی غذائی سلامتی اور معاشی ترقی کا اہم شراکت دار سمجھا جائے۔کسان کو خیرات نہیں، سرمایہ، مناسب قیمت، جدید ٹیکنالوجی، پانی، منڈی اور عزت چاہیے۔ اگر حکومت یہ سب فراہم کرنے میں کامیاب ہوگئی تو پنجاب کا کسان صرف اپنی فصلیں نہیں اگائے گا بلکہ ملکی معیشت کے لیے خوشحالی کی نئی فصل بھی کاشت کرے گا۔

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے