#کالم

امریکی مڈٹرم الیکشن اور ٹرمپ

naeem masood

نعیم مسعود

کمال ہے، ان کے ایوانِ نمائندگان میں سبھی یعنی 435 لوگ بھی نئے ا?جائیں تو سینیٹ میں تجربے کا رنگ ہمہ وقت رہتا ہے۔ امریکی آئین گہرا اور جامع ہے، جس میں خودمختاری اور توازن ہے۔ گر ریاست کیلفورنیا کے پاس ایوان میں 58 ممبران ہیں تو وائیومنگ، ورمونٹ اور الاسکا جیسی ریاستوں کا صرف ایک ایک ممبر لیکن خودمختاری بھرپور۔ ہم ہیں کہ صوبوں کی خودمختاری سے اتنے خوفزدہ کہ پوری 18 ویں ترمیم ہی کو مشکوک سمجھنے کے درپے ہیں۔ بہرحال امریکی ریاستوں کے پاس بلا کی خود مختاری ہے جبکہ انتخابی دوڑ دلچسپ اور غور طلب۔امریکی ووٹرز کو احتساب کرنے اور سیاسی آئینہ دکھانے کا خوب موقع میسر ہے۔ صدر کے انتخاب کے 2سال بعد حکومتی بیانئے یا صدارتی مقبولیت جانچنے یا رائے دہی سے اس کی پالیسیوں کو پسند و ناپسند کرنے کا مڈٹرم انتخاب ایک اہم ذریعہ ہے۔ سیاسی جائزے اور حکومتی رجحان پر ہمیشہ سے ایسا چیک کہ 1934ءسے تاحال مڈٹرم الیکشن میں 22 صدور میں صرف 3 مڈٹرم کامیاب ٹھہرے، 19 کو صدر ہوتے ہوئے بھی شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ ان دنوں ری پبلکن امریکی صدر ٹرمپ اپنی تمام تر کوششوں میں ہیں کہ سرخرو ہوں مگر حالات کٹھن ہیں حالانکہ انکا بیانیہ ” سب سے پہلے امریکہ“ ہے۔ پاکستان میں جنرل پرویز مشرف کا بیانیہ بھی کچھ ایسا ہی تھا کہ”سب سے پہلے پاکستان“۔امریکہ میں صدر کا انتخاب ہوئے جب 2 سال بیت جائیں تو مڈٹرم کا بازار گرم ہو جاتا ہے، نومبر کے اس پہلے منگل کو جو پیر کے بعد آئے اس دن انتخابات ہوتے۔ ایک بات جس کا اہتمام بڑے سلیقے کے ساتھ موجود ہے وہ یہ کہ فرض کیجئے اگر ایوان زیریں یعنی ایوانِ نمائندگان میں تمام 435 لوگ بھی نئے منتخب ہو کر ا? جائیں تو بھی سینیٹ میں دوتہائی سینئر اراکین کی ہمیشہ موجود ہوتی ہے جو امور کو احسن انداز سے دیکھ سکیں۔ سینیٹ امریکہ کا معزز ادارہ ہے۔ریاستیں 50 ہیں تو ٹوٹل سینیٹر 100 ہیں۔ ہر ریاست سے 2 سینیٹر ، مگر وہ مختلف گروپوں میں ہوں گے تاکہ نئے الیکشن کی صورت میں ایک سینیٹر پہلے ہی ضرور موجود رہے۔ گروپ 1 میں 33، گروپ 2 میں 33 اور گروپ 3 میں 34 سینیٹر ہوں گے۔ ہر سینیٹر کی مدت 6 سال ہے۔ فرض کیجئے گروپ 1 الیکشن 2026 ہے تو گروپ 2 کا 2028 کو جبکہ گروپ 3 کا الیکشن 2030 کو ہوگا۔ ہر دو سال بعد سینیٹ کا الیکشن۔ یعنی فرض کیجئے گروپ 1 میں 2026 میں نومنتخب سینیٹر آتے ہیں تو دیگر دونوں گروپوں کے ( 2تہائی) پہلے ہی موجود ہوں گے۔ گروپ 1 کا اگلا انتخاب اب 2032 کو ہوگا۔ اسی خصوصی عمل سے سینیٹ میں دوتہائی (2/3) بالغ نظر سینیٹرز موجود رہتے ہیں، ایسے میں صرف ایک تہائی (33) سینیٹرز کا انتخاب ہر 2 سال بعد ہوتا ہے۔ ریاست کے ووٹرز براہ راست سینیٹر منتخب کرتے ہیں۔ یہ ہے جمہوری ح±سن کہ اس سے قبل پارٹی الیکشن کا اہتمام ہوتا ہے جسے ریاستی الیکشن لڑانا ہو۔ 17 ویں ترمیم 2013 سے قبل کم و بیش پاکستان کی طرح صوبائی اسمبلیاں سینیٹر منتخب کرتیں۔ اب براہ راست انتخاب ہے ، استعفیٰ، معطلی یا فوتیدگی صورت میں گورنر عارضی سینیٹر سلیکٹ کر کے واشنگٹن بھیج دیتا ہے تاکہ کمی نہ رہے اور اگلے الیکشن میں مستقل سینیٹر ا?جاتا ہے۔ جہاں تک ایوانِ نمائندگان کا تعلق ہے ان کی مدت سینیٹر کے 6 سال کے مقابلے میں 2 سال ہے۔ سینیٹ میں ایک الیکشن میں ایک تہائی نومنتخب ہوتے ہیں لیکن ایوان نمائندگان پورے کا پورا بدل جاتا ہے۔ ایوانِ نمائندگان کے انتخابات ہر جفت سال میں ہوا کرتے ہیں جیسے 2026، 2028 اور پھر 2030 میں۔ یہ نشستیں 435 ایسے ہیں کہ آئین کے تناظر میں ریاستی آبادی کے مطابق ایوان نمائندگان میں نشستیں مختص ہوتی ہیں، اس میں کم از کم ایک ریاستی نشست لازم ہے، اور ہر ریاست میں آبادی کے اعتبار سے کمی بیشی ہوتی ہے یوں ہر 10 سال بعد امریکہ میں مردم شماری ہوتی ہے۔ نشستوں کی یہ 435 تعداد 1929 کے وفاقی قانون تسلسل رکھے ہوئے ہے۔ کیلیفورنیا امریکہ میں سب سے زیادہ آبادی کا حامل ہے، اور عالمی سطح پر یہ آبادی کے لحاظ سے دسواں بڑا صوبہ/ریاست ہے اور ایوان میں اس کے پاس 52 نشستیں ہیں، اس کے بعد ٹیکساس کی 38, فلوریڈا کی 28 اور نیویارک کی 26 نشستیں ہیں۔ وائیومنگ، ورمونٹ اور الاسکا وہ امریکی ریاستیں ہیں جن کے پاس ایوانِ نمائندگان کی صرف ایک ایک نشست ہے۔ ایک حلقہ سے ایک نمائندہ کے حساب سے ووٹر کسی ایک کو ووٹ دیتا ہے۔ کوشش کی جاتی ہے ایک حلقہ تقریباً 75 لاکھ ووٹرز پر مشتمل ہو۔ ویسے امریکہ میں بھی سیاسی پارٹیاں خاص حلقوں میں اپنے ووٹرز تعداد کو اکٹھا کر کے حلقے متشکل کرتے رہتے ہیں۔ یوں ساتھ ساتھ ”جیری مینڈرنگ حدود بندی عمل“پر تنقید و تنازعات بھی چلتے رہتے ہیں۔ یہ بھی ہے ایک داستان کہ گورنر کا انتخاب بھی ریاست کی براہ راست ووٹنگ ہی سے ہوتا ہے، 48ریاستوں میں گورنر 4 سال کیلئے، ورمونٹ اور نیوہمپشائر میں 2سال کیلئے۔ 36 ریاستیں گورنر انتخابات کو پریذیڈنٹ الیکشن کے اثرات سے آزاد رکھنے کے لیے مڈٹرم سال میں کراتی ہیں۔ بہرحال 9 ریاستوں کے گورنر صدارتی سال میں، 5 طاق سالوں میں چنے جاتے ہیں۔ یہ بھی ہے ایک نقشہ خودمختاری!ٹرمپ کی کوشش ہے کہ مڈٹرم الیکشن اسے فرینکلن ر±وز ویلٹ، بِل کلنٹن اور جارج ڈبلیو بش کی صف میں کھڑا کردے جو کم ہی ممکن ہے۔ روزویلٹ نے r1934بوجہ ”نیو ڈیل“ اکانومی بڑھوتری کے سبب ایوان اور سینٹ میں 9 , 9 سیٹیوں کی جیت کا معرکہ سر کیا، کلنٹن نے 1998ئ میں بوجہ ’مواخذہ کارڈ‘ سے ایوان میں 5سیٹیں مزید جیتیں۔ جارج ڈبلیو بش نے 2002ئ میں نائن الیون کے سبب ایوان میں 8اور سینٹ میں 2سیٹیں مزید جیتیں۔ اس وقت سینٹ میں ڈیموکریٹس 51اور ریپلکنز 49ہیں جبکہ ایوان میں ریپلکنز 220اور ڈیموکریٹز 212۔ سینیٹ میں ڈیموکریٹز فاتح، ایوان میں ٹرمپ فاتح ہے۔ٹرمپ بیانیہ ”امریکہ بحالی، مستحکم بارڈرز اور مضبوط اکانومی ” اور ڈیموکریٹک بیانیہ ” ہیومن رائٹس، متوازن اکانومی اور حدود آئینی اختیارات“ ہے۔ دیکھتے ہیں اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے۔ لگتا نہیں کہ ٹرمپ داخلہ و خارجی معاملے میں ’امریکی خودغرضی کم بہتری‘ کیلئے س±پر سیریس ہے؟

امریکی مڈٹرم الیکشن اور ٹرمپ

زندگی پیکج

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے