#کالم

محمد عباس مرزا کے لوچے

tasneem kusar

تسنیم کوثر

محمد عباس مرزا پاکستان کے ممتازپنجابی اور اردو شاعر ہیں ۔ان کی بنیادی پہچان پنجابی ابیات ہیں ۔اپنے منفرد لہجے میں کہی گئی پنجابی ابیات کے حوالے سے محمد عباس مرزاکا نام ادبی دنیا میں کسی تعارف کا محتاج نہیں۔ ان سے میرا تعارف ربع صدی پہلے گلشن ادب کے مشاعرے میں ہوا تھا ۔تب ہم کرشن نگر میں رہائش پذیر تھے اور ہر ماہ باقاعدگی سے عاشق رحیل کے ہاں ہونے والے مشاعروں میں شرکت کیا کرتے تھے۔ ان سے میرا تعارف میرے بزرگ محترم محشر زیدی صاحب نے کروایا تھا۔ اس کے بعد ان سے انگنت ملاقاتیں رہیں ،بہت سے مشاعروں میں ملاقات ہوئیں، بہت سی تقریبات میں ہم اکٹھے ہوئے اور انہی میں سے کسی ایک تقریب میں انہوں نے مجھے اپنے ۲۷۲ نشتر سونپ دیے ۔پنجابی میری پسندیدہ زبان ہے لیکن اہل زبان ہونے کی وجہ سے جب بہت سے پنجابی لفظوں کے معنی مجھ پر کھلتے نہیں تھے تب بہت خفت اٹھانا پڑتی تھی۔ ہوا یوں کہ ایک روز ہماری گلی میں کھیلتے ہوئے دو بچے آپس میں جھگڑ پڑے تھے۔ شور سن کے میں باہر نکلی اوران بچوں میں بیچ بچا¶ کروا دیا۔ہماری ایک پڑوسن جو اس نظارے سے محروم رہیںاور کچھ تاخیر سے باہر آ کر مجھ سے صورتِ حال کے بارے میں پوچھنے لگیں۔ کی پھنڈی پائی ہوئی اے ؟مجھے گمان گزرا کہ پوچھ رہی ہیں کیا بھنڈی پکائی ہے؟ سو ترنت جواب دیا کہ نہیں آج بھنڈی نہیں، قیمہ بنایا ہے۔ اردو اور پنجابی کے اس سنگم پر خوب لطیفہ بنا اور پھر ایسی خفت اٹھانے سے بچنے کو مجھے سردار محمد خان کی مہنگی ترین ڈکشنری خریدنا پڑی جس سے میری مشکل آسان ہوئی اور مجھے لوچے کے معنی بھی پتہ چل گئے ۔عباس مرزا صاحب سے ایک تقریب میں ملاقات ہوئی تو انہوں نے مجھے اپنے نئے مجموعے سے نوازا حالانکہ مجھے محمد عباس مرزا سے گمان تو” ٹونباں“ کے ملنے کا تھا مگر ان کی طرف سے” لوچے“ کا تحفہ ملا جو ان کی پنجابی ابیات کا مجموعہ ہے۔بیت پنجابی شاعری میں ایک مقبول اور روایتی صنف ہے اور عباس مرزا کو یہ صنف بہت پسند ہے۔ اپنے منفرد ابیات نے انہیں ہر خاص و عام میں بہت مقبول کیا ہوا ہے۔ ان کا تعلق پنجاب کے شہر نارووال سے ہے ۔ پنجابی سے انہیں محبت ہے اور دیہی ماحول کی کھلی فضا انہیں پسند ہے سو انہوں نے اپنی کتابوں کے نام بھی اسی مناسبت سے بہت منفرد منتخب کئے ہیں جن میں ”تیلا تیلا“، ”مکھانے“، ”پتاسے“،” نگینے“،” گوہلاں“،”ٹونباں“،”لالڑیاں“،”چھناکے“،” قطرے “،”۲۷۲ نشتر “اور” ۲۷۳ نشتر“ نمایاں ہیں۔ ان کی شاعری میں معاشرتی اور ثقافتی رنگ جھلکتے ہیں۔ وہ اپنے بیتوں میں ہجر و وصال کی کہانیاں نہیں سناتے بلکہ معاشرتی رویوں کو موضوع بنا کر پیش کرتے ہیں۔ان کے ابیات میں دیہی زندگی کی عکاسی کی گئی ہے۔ ان کے اشعار میں اپنی ثقافت دکھائی دیتی ہے لیکن کہیں کہیں صوفیانہ رنگ بھی جھلکتا ہے ۔ان کے ایک ایک بیت میں ہمیں گا¶ں کی رہتل ،سر سبز و شاداب زمین، لہلہاتے کھیت کھلیان اور روایتی اقدار کی جھلک ملتی ہے۔ محمد عباس مرزا جیسے خود سادہ مزاج ہیں، اپنی ابیات میں بھی انہوں نے سادگی کو برقرار رکھا ہے۔ کہیں بھی تصنع اور بناوٹ سے کام نہیں لیا ۔ان کی ابیات میںہمیں اپنے دیس کی سوندھی مٹی کی مہک محسوس ہوتی ہے جو ہمیں شہروں کی ہنگامہ خیززندگی سے نکال کر پرسکون ماضی اور مشرقی ماحول سے جوڑ دیتی ہے۔” لوچے “سے ان کا ایک بیت دیکھیے:
نویں نسل نوں کسراں اپنا دکھ دسیئے
ساڈا ویلا لنگیا مڑ کے نہیں آ¶نا
ان کی ابیات میں زمانے کی گرم سرد بدلتی رتیں ہیں، معاشرتی مسائل ہیں، رشتوں میں پڑنے والی دراڑیں ہیں اور اخلاقی گراوٹ کے کچے پکے رنگ ہیں ۔ان کے یہ بیت دیکھئے :
میری اکھیں پٹی بنھ کے آہندا اے
کج نہ دسیا تے مڑ سانوں پچھ لویں
مینوں میرے گھر چوں کڈن لئی اوہنے
اپنی دھی نوں میری نونہہ بنا دتا
گھر بٹوارہ کردے مینوں آہندے نیں
تینوں تے بس چار کتاباں کافی نیں
ڈگیاں اٹاں کند نوں بوہا کر دتا
بوہے نوں ہن کنڈی کند بنا دیندی
اترن والیا! دل چوں اترن لگا ایں
دل وچ اترن دا ول تینوں نہیں آ¶ندا
محمدعباس مرزا کا اسلوب سادہ ہے،زبان رواں ہے۔انھوں نے عام فہم انداز میں ابیات کو اس طرح لوچے کا رنگ دیا ہے کہ ہر شعر انگوٹھی میں نگینے کی طرح جڑا ہوا محسوس ہوتاہے۔ ان کے یہ کچھ اور بیت دیکھئے :
جگ تے لکھاں کھرباں کہکشاواں وچ
ساڈی دھرتی بس اکلاپے ہاری اے
ڈگے رکھ توں بہت پرندے اڈن لئی
بچیاں نال اڈاری بھرنا چاہندے نیں
اوہنے غیرت غیرت کھپاں پا کے تے
بھکے منہ تک برکی اپڑن نہ دتی
کوئی وی اپنیاں نظراں وچوں نہ ڈگے
مڑ کے کسے کرین وی اونہوں نہیں چکنا
میں انپڑھ ساں مینوں کنیاں ای چہریاں نیں
اپنے آپ نوں واہوا حفظ کرا چھڈیا اے
ان کا ایک اور عمدہ بیت جو رب کی محبت میں پور پور بھیگا ہوا ہے :
میں تے ڈھیر خطاواں چکی پھرنا واں
اوہدا شکر اے کنیاں ای او لکا چھڈداے
مجموعی طور پر لوچے کی شاعری میں اس کے نام کی طرح تصوف،جستجو، تڑپ،شدت اور ماں بولی سے محبت کو محمد عباس مرزا نے بہت عمدہ انداز میں پیش کیاہے جسے ادبی حلقوں میں بہت پسند کیا جا رہا ہے۔ محمد عباس مرزا کا قلم رواں ہے، انہیں نعت گوئی میں بھی کمال حاصل ہے مگر بیت چونکہ ان کی پسندیدہ صنف ہے اوربیت کہنے میں اب تک ان کاکوئی ثانی بھی نہیں ہے۔میری دعاہے کہ ان کے قلم کی یہ روانی قائم رہے اور وہ ابیات کے موتی پروتے رہیں۔

محمد عباس مرزا کے لوچے

محمد عباس مرزا کے لوچے

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے