خطے میں جنگ اور پاک فوج کا کردار
رانا ذوالفقار
ہمارے خطے میں جنگ کے بادل جلد چھٹتے ہوئے نظر نہیں آرہے، ایران اور امریکہ کی جنگ کے ساتھ ساتھ ادھر سعودی عرب حوثیوں کے خلاف بڑے پیمانے پر حملے کی تیاری کر رہا ہے اور منصوبہ اگلے چند دنوں یا ہفتوں میں شروع ہو سکتا ہے۔سعودی عرب کے اس حملے کی وجہ یہ ہے کہ گزشتہ مہینے حوثیوں نے تیزی سے پیش قدمی کرکے بحیرہ احمر کے ساحل پر باب المندب آبنائے پر قبضہ کرلیا اور سعودیہ پر ڈرون حملے بھی شروع کردئیے جس سے اسلامی دنیا میں غم و غصہ بھی ہے ،حوثیوں کے قبضے میں یہ وہ تنگ بحری راستہ ہے جہاں سے دنیا کی بارہ فیصد تجارت گزرتی ہے۔ اس وقت آبنائے ہرمز ایران امریکہ جنگ کی وجہ سے بند پڑی ہے، تو باب المندب ہی تیل کا واحد راستہ بچا ہتھا۔تیل کی ترسیل کیلئے راستوں کی بندش سے پوری دنیا میں مہنگائی کا طوفان ہے، اس سے چھٹکارہ پانے کیلئے اور ڈرون حملوں کا بدلہ لینے کیلئے اب سعودی عرب کے پاس راستے کھلوانے کیلئے 2 آپشن ہیں کہ صرف باب المندب کے آس پاس محدود حملہ کرے یا پھر دوسرا یہ کہ یمن کے 4 صوبوں، البیضا، مآرب، تعز، الجوف میں ایک ساتھ بڑا حملہ کردے۔ سعودی عرب کے ممکنہ اس حملے کے لیے ایک لاکھ سے زیادہ یمنی فوجی بھی تیار کیے جا رہے ہیں، یعنی کہ زمینی کارروائی یمنی فوج کرے گی اور فضائی حملوں میں سعودی فضائیہ مدد دے گی۔اب اس سارے پلان میں امریکہ تو براہ راست جنگ میں شامل نہیں لیکن سینٹ کام اسے ایران کیخلاف جنگ پر فوکس ہٹانے والی بات سمجھتا ہے۔ سعودی وزیر دفاع نے براہ راست امریکی فضائی حملوں کی درخواست کی تھی جسے امریکہ نے مسترد کر دیا، لیکن امریکہ صرف انٹیلیجنس بیس پر 200 سے زیادہ اہداف کی معلومات دے رہا ہے۔ ان حملوں سے امریکہ کو فائدہ یہ ہوگا کہ تیل اور تجارت کیلئے باب المندب کھل گیا تو تیل کی قیمت بھی کم ہو گی، جو ٹرمپ انتظامیہ کے لیے مڈٹرم الیکشن سے پہلے بہت ضروری ہے۔ایک تجزیے کے مطابق یہ امریکہ کے لیے سلور لائننگ ہے۔اب تک سعودی عرب اور مصر ایران کے خلاف امریکہ کا ساتھ نہیں دے رہے تھے، لیکن باب المندب کی بندش سے ان کے اپنے مفادات خطرے میں پڑگئے ہیں تو اس طرح شائد وہ امریکہ کے قریب آئیں۔ حتی کہ اسرائیل، سعودی عرب ، مصر اور یورپ ایک ہی پیج پر آسکتے ہیں، جس سے پھر سعودی عرب کا اسرائیل کےبساتھ کسی حد تک نارملائزیشن کا راستہ کھلے گا۔جنگ کہیں بھی ہو ،کسی بھی خطے میں ہو اس کا فائدہ تو امریکہ بہادر کو کسی نا کسی صورت میں ضرور ہوتا ہے، کیونکہ اس کا اسلحہ فروخت ہوگا، اور یہ دکانداری چمکتی رہنے کیلئیے جنگیں لگنا ضروری ہے۔ خیر امریکہ نے تو پہلے ہی سعودیہ کو 24.3 ارب ڈالر کے 48 ایف-35* طیارے بیچنے کی منظوری دے دی ہے۔ اس وقت حالات کچھ مختلف بھی نظر آرہے ہیں ، ایران وینزویلا ثابت نہیں ہوا ، اور اس جنگ میں امریکہ کو بھاری مالی اور جانی نقصان بھی ہو رہا ہے، امریکہ 2015-2022 کی یمن جنگ میں ناکام ہو چکا ہے اور اس دلدل میں دوبارہ پھنسنے سے اس کا ایران کے خلاف اصل محاذ کمزور ہو جائے گا۔ ایران جنگ میں اب تک امریکہ کا 45.1 ارب ڈالرخرچ ہو چکا ہے۔دوسری طرف خطے میں جنگ کے بادل دیکھ کر پاکستان اور ترکی کی انٹری سے سعودی عرب نے تاریخی مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ کیا، ابھی اس میں اور ممالک بھی شامل ہو رہے ہیں۔ پاکستان نے 30 سے 40 ہزار فوجی اور 4 کارگو جہازوں میں فضائی دفاعی نظام عدن بھیجے ہیں۔ اس مکہ معاہدے سے پہلے ایران پر حملے کرتے ہوئے اسرائیل نے بھی کہا تھا کہ ایران کے بعد پاکستان کی باری ہے ، اور پھر پاکستان کیخلاف افغانستان سے حملے کروائے گئے لیکن پاک فوج نے منہ توڑ جواب دیکر فتنہ الخوارج کا خواب چکناچور کردیا اور اسی طری آزاد کشمیر سے بھارتی حمایت یافتہ جتھے کو بھی لگام ڈالی، اب پاکستان کے اندرونی چند دشمن کیڑے بھی بے نقاب ہوکر اپنی موت آپ مررہے ہیں۔ میں یہ سمجھتا ہوں کہ ہماری پاک فوج نے جس طرح سارے معاملے کو باریک بینی سے دیکھتے ہوئے مکہ معاہدہ کیا ہے وہ معاہدہ صرف پاکستان کی سالمیت اور بقا کیلئے نہیں بلکہ وقت ہی ثابت کرے گا کہ یہ معاہدہ خطے کے سب مسلم ممالک کی سلامتی کیلئے بھی ہے ۔






