مگرکب تک؟
ناصر نقوی
حکیم لقمان کے حوالے سے یہ بات مشہور ہے کہ اگر کسی کو کوئی تکلیف ہوتو وہ اس کا گھر کی چھت پر کھڑا ہو کر اعلان کرے تاکہ اسے کوئی نہ کوئی علاج کہیں نہ کہیں سے مل جائے لیکن آ ج کے جدید دور میں اپنی تکلیف، بیماری اور مسائل چھپانے کا رواج مقبول ہے ان لوگوں کا کہنا ہے کہ اگر اپنی کوئی خامی، کمی، تکلیف، بیماری یا مسائل کا تذکرہ کیا تو حاسد اور بے صبرے اسے منفی انداز میں پھیلا کر بندے کا تماشہ بنا دیتے ہیں اس لیے کسی کو اپنے دکھ تکلیف بھی نہ بتائیں حالانکہ کبھی بھی پانچوں انگلیاں نہ برابر ہوئیں ہیں نہ ہو سکتیں ہیں پھر بھی آ دم زادے اس قدر دکھی ہیں کہ وہ ہر کسی کو شک کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اس وقت معاشرے کا شرارتی بچہ سوشل میڈیا ،،ہے جو بات کا بتنگڑ بنانے میں اپنا ثانی نہیں رکھتا بلکہ ایسا ایسا سفید جھوٹ ڈھٹائی سے بولتا ہے کہ سب سچ ہی محسوس ہوتا ہے اور عام پریشان حال شخص مزید بےحال ہو جاتا ہے کہ آ خر ہمارا بنے گا ؟ کیا پاکستان اور اس میں بسنے والوں کا مستقبل ہے بھی کوئی؟ کہ بس حال.. حال اور پھر بے حال؟؟؟ ماضی میں بھی خدشات اور وسوسے تھے اب وہ پلس،، ہو چکے ہیں جس کی کہانی سنو وہ وکھری ہی ہے حکومت اور حکومتی ذمہ داروں کی راگنی بانسری کی طرح سریلی دھن ہے لیکن اپوزیشن کے لہجے میں قصہ کہانی بالکل مختلف اور تلخ ہیں ذرائع ابلاغ میں معتبر ذریعہ اخبار ،،بوڑھا ہو گیا ہے اور میڈیا کی چمک دھمک ڈالرز کی جھنکار میں الجھ کر رہ گئی، ہر شخص کسی خاص گروہ کا کارندہ،، لگتا ہے حکومت اپوزیشن کے چاہنے والے من مرضی کے راگ سنا رہے ہیں ایسے میں بھی شرارتی بچہ اچانک نمودار ہوتا ہے اور سب کچھ تہس نہس کر دیتا ہے اور محب وطن، درد دل رکھنے والے ساری رات گھبرا کر رتجگے میں گزارتے ہیں لیکن صبح نو یہ خوشخبری سنا دیتی ہے کہ رات جو کچھ سن کر رتجگا کیا وہ سب جھوٹ تھا، خواب تھا، سراب تھا، حقیقت کچھ اور ہی ہے جب سے پیدا ہوئے ہیں اسی طرح طرح کی ایسی داستانیں سن رھے ھیں جیسے مملکت پاکستان بابائے قوم حضرت قائد اعظم محمد علی جناح اور ان کے رفقائ کی جدوجہد کا شاہکار نہیں، دو قومی نظریہ کوئی وقتی فارمولا تھا اور انگریزوں کی سازش میں ہندوستان کسی خاص منصوبے کے تحت تقسیم کیا گیا مخالفین شاعر مشرق ڈاکٹر علامہ اقبال کے خواب سے بھی منحرف ہیں، ایک نہیں بہت سے ایسے اب بھی موجود ہیں جو کہتے ہیں تقسیم ہند غلط ہوئی، ہمیں متحد ہو کر ہی رہنا چاہیے تھا ان عقل کے اندھوں کو مودی کے بھارت میں آ ج بھی مسلم اکابرین اور قرارداد لاہور کا دو قومی نظریہ زندہ دکھائی نہیں دیتا، جہاں ہندو انتہا پسند وں نے مسلمانوں کا نہیں تمام اقلیتوں کا جینا حرام کر رکھا ہے ماضی گواہ ہے اور مودی چھاتی پر ہاتھ مار کر کہتا ہے کہ ہم نے مکتی باہنی اور عالمی سازش میں اپنا کردار ادا کر کے مشرقی پاکستان کو ??بنگلہ دیش،، بنایا پھر بھی ھم صرف اپنوں کو برا بھلا کہتے ہیں یہ ٹھیک ہے کہ ہم اور ہمارے حکمرانوں نے ??سقوط ڈھاکہ،، سے وہ کچھ نہیں سیکھا جو سیکھنا چاہیے تھا یہ بات بھی درست ہے کہ ہم جمہوریت پسند ہوتے ہوئے بھی عوام کو جمہوریت کے حقیقی ثمرات نہیں دے سکے، بار بار کی آ مریت نے بھی ہمیں نقصان پہنچایا ،پھر بھی سیاسی قیادت نے کوئی اجتماعی قومی بریک تھرو،،حاصل نہیں کیا نتائج سب بھگت رہے ہیں حکمران قرضوں پر قرضے حاصل کر کے وقت کو دھکا دے رہے ہیں، عوام مہنگائی کی چکی میں پس رہے ہیں اپوزیشن کا دعوی ہے کہ تاریخ کا سب سے بڑا ظلم ان کے ساتھ ہو رہا ہے چادر اور چار دیواری پامال کی جا رہی ہے خواتین کی تذلیل ،بے حرمتی ہو رہی ہے 9. مئی کا واقعہ ہوا ہی نہیں، سب سیاسی انتقام ہے ایسا لگتا ہے کہ ماضی میں نواب زادہ نصر اللہ خان، طفیل محمد، معراج محمد خان، قاسم ملک، نورانی میاں ،مولانا
مودودی، مفتی محمود، بے نظیر بھٹو، کلثوم نواز، نواز شریف، مریم نواز ،شہباز شریف ، آ صف علی زرداری، نصرت بھٹو،ولی خان، بیگم نسیم ولی خان اور اکبر بگٹی کسی کے ساتھ کچھ نہیں ہوا اور نہ ہی آ ج کے قیدیوں نے اپنے دور اقتدار میں کچھ ایسا کیا جس پر شرمندہ ہوا جائے، آ ج کے دور میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ ناجائز اور غیر آ ئینی ھے اب یہ سوال کون کرے کہ کہاں تک سنو گے کہاں تک سنائیں؟ نہ ماضی سیاسی طور پر تابناک ،نہ ہی حال قابل رشک اور مستقبل بھی مخدوش، اس لیے کہ کوئی حالات اور دنیا سے کچھ سیکھنے کو تیار نہیں ، اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ موجودہ حکومت عوامی ریلیف اور معاشی استحکام کے لیے برسر اقتدار آ ئی تھی، خدشہ تھا کہ ملک ڈیفالٹ ہو جائے گا تو نئے مسائل جنم لیں گے، حکومت نے سخت اور غیر مقبول فیصلے کیے اور عوام نے انہیں نہ چاہتے ہوئے بھی برداشت کیا پھر بھی پاکستان میں نا سیاسی استحکام آ سکا نہ ہی معاشی طور پر مستحکم ہو سکا ،نتیجہ سب کے سامنے کہ غربت میں اضافہ ہوا، قوت خرید نہیں بڑھ سکی، مصنوعی طریقوں سے معیشت کی سانس بحال کی گئی اور آ ئندہ بھی یہی کوشش کی جا رہی ہے اسی لیے لوگ پوچھتے ہیں یہ جو کچھ ہو رہا ہے مگر کب تک ؟دنیا میں امریکہ بہادر نے مسلمان دشمن دوست اسرائیل سے مل کر ایران پر جنگ مسلط کر کے جیسا جنگی ماحول بنایا اس سے نہ صرف پاکستان پوری دنیا معاشی دلدل میں دھنستی دکھائی دے رہی ہے پاکستان اور اس کی سیاسی ، عسکری قیادت نے عالمی سطح پر اپنے غیر جانبدارانہ اور پرامن مشن سے نہ صرف اہم ترین کردار ادا کر کے قومی عزت میں اضافہ کیا بلکہ تیسری عالمی جنگ کی راہ میں بڑی رکاوٹ بنا اور دنیا نے اسے تسلیم بھی کیا لیکن یہ عزت اور پذیرائی عوامی مشکلات کا مداوا نہیں کر سکتی البتہ محب وطن، وطن پرست جذبہ قربانی سے سرشار یقینا ان حالات کو برداشت کر لیں گے مستقبل کی ترقی اور خوشحالی کی تعبیر میں سہانے خواب دیکھتے ہوئے ،مگر حقیقت یہی ہے کہ پزیرائی اور واہ واہ سے نہ پیٹ بھر سکتے ہیں اور نہ ہی مہنگائی کم ہو گی پھر تو سوال کیا جائے گا کہ صبر و استقامت کا مظاہرہ کریں مگر کب تک؟ قومی مسائل ہوں کہ عوامی بڑھتے ہی جا رہے ہیں کسان سراپا احتجاج، جماعت اسلامی سڑکوں پر، اپوزیشن دھمکیوں پر دھمکیاں دے رہی ہے اس نے بانی کے قید سے سزاو¿ں اور اپنی مرکزی قیادت جیل بھجوا کر بھی اپنے انداز سیاسی نہیں کیے، عاشق عمران وزیر اعلی سہیل آ فریدی کارکنوں کو چار اکتوبر کی تیاری کا پیغام دیتے ہوئے پھر بغاوت کا اشارہ دے رہے ہیں ،اس سے قبل جیند اکبر اسلام آ باد کو سومنات بنانے کی دھمکی دے چکے ھیں، حکومت اور اپوزیشن مذاکرات میں لانگ مارچ،، پر ڈیڈ لاگ موجود ہے خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کی افوائیں بھی خبریں بنتی جا رہی ہیں اور فیصل کریم کنڈی کی دھمکی ہے کہ لانگ مارچ کے دعویدار صوابی پار کر کے دکھائیں، صوبے میں حکومتی رٹ نہیں، انتشار اور بد امنی اسی طرح رہی تو جو کچھ بھی ہوا وہ مجبوری میں ہوگا کیونکہ اب غلطی کی گنجائش نہیں، دوسری جانب لانگ مارچ،، تحریک انصاف میں بھی متنازعہ بن چکا ہے جبکہ صوبائی سیکرٹری اطلاعات شوکت یوسفزئی نے چیئرمین گوہر خان کو خط لکھ کر لانگ مارچ ملتوی کرنے کی درخواست کر دی ہے ان کا دعوی ہے کہ دہشت گردی، بیرونی خطرات میں اضافہ، پارٹی پر پابندی اور ایمرجنسی نفاذ کے ساتھ کارکنوں کی جانوں کو خطرہ لاحق ہے اس لیے لانگ مارچ کا فیصلہ واپس لیا جائے، اس سارے منظر نامے میں ملکی مسائل کا حل سیاسی اور معاشی بحران کا خاتمہ ہوتا نظر نہیں آ تا ،ملک کے دو صوبوں کی دہشت گردی میں بھی مستقل اضافہ ہو رہا ہے تحریک تحفظ آ ئین پاکستان کے ایک وفد نے متحدہ اپوزیشن کی اے۔ پی۔سی میں شرکت کی دعوت دینے کے لیے نیر بخاری سے ملاقات کی انہوں نے چیئرمین بلاول بھٹو سے بات کر کے جواب دینے کی یقین دہانی کرائی ہے اسی طرح حکومتی حلقے کہہ رہے ہیں کہ وزیراعظم شہباز شریف کی وطن واپسی پر کچھ نیا ہونے والا ہے، سوال یہ ہے کہ کیا نئے فیصلوں سے معاشی سیاسی استحکام کا راستہ ہموار ہو سکے گا، عوامی سطح پر کوئی ریلیف ملے گا ؟یا پھریہ سب کچھ بھی وقتی ہی ہوگا وقت گزاری کے لیے… مگر کب تک؟؟؟






