وقت کی رفتار یا دل کی کیفیت
تحریر:۔ جاویدایازخان
ہمارے ہاں شادی کی بات پکی کرنے اور نسبت طے کرنے کے بعدآجکل شادیوں کی تاریخ چھ چھ ماہ قبل رکھنے کا رواج ایک رسم سی بنتا جارہا ہے۔جس کی ایک وجہ شادی ہال کی بکنگ اور دیگر تقریبات کے انتظامات بتائی جاتی ہے۔دولہا دلہن کے لیے تو یہ چھ ماہ گزارنا بےحد طویل اور لمبا ہوتاہی ہے اور وہ ایک ایک دن گن گن کر گزارتے ہیں کیونکہ یہ ان کا انتظار کا زمانہ ہوتا ہے جبکہ یہی وقت شادی کے انتظامات اور اخراجات برداشت کرنے والوں کے لیے خوشی اور مصروفیت کی باعث بہت قلیل اور چھوٹا عرصہ ہوتا ہے۔وہ باوجود کوشش اور بھاگ دوڑ کے آخری دن تک شادی کی تیاریاں نہیں کرپاتے۔ان دونوں فریقین کا موقف اور خواہش بالکل الگ الگ ہوتی ہے۔ایک کا وقت گزرنے میں نہیں آتا اور ان کا ہر دن مہینہ بن جاتا ہے جبکہ دوسرے کا وقت اتنی تیزی سے گزرتا ہے کہ مہینے دنوں کی طرح گزرتے ہیں۔فریقین کا اس وقفہ کے دوران اس لیے بھی محتاط رہنا ضروری ہوتا ہے کہ یہ رشتہ ابھی کچا اور کانچ کی طرح نازک ہوتا ایک چھوٹی سی چوٹ یا ٹھیس اس آبگینے کو توڑ سکتی ہے ایک ذرا سی غیر محتاط بات وجہ تنازعہ بن سکتی ہے۔دیکھنےمیں آیا ہے کہ بیشتر رشتے اور نسبتیں اس دوران ٹوٹ کر بکھر بھی جاتےہیں۔یہ وہ وقفہ ہوتا جہاں دونوں جانب سے احتیاط کا دامن تھامنا ازحد ضروری ہوتا ہے۔بزرگ کہتے ہیں کے ہمیشہ شادی کی نسبت اوررشتے کی بات کو چھپاو اور نکاح کا اعلان کرو۔ہمارے اباجی مرحوم کہا کرتے تھے کہ اچھائی اور بھلائی کے کام میں وقفہ یا وقت دینا کام کی راہ میں رکاوٹ بن سکتا ہے اس لیے طویل معیاد یا لمبی تاریخیں مشکلات میں اضافے کا باعث ہوتی ہیں۔شاید یہی وجہ تھی کہ وہ کبھی منگنی یا نسبت طے نہ کرتے تھے بلکہ فوری اور جلدی نکاح پر زور دیتے تھے۔جبکہ آج کے دور میں نسبت یا بات پکی کرنے کے وقفہ کوایک دوسرے کو پرکھنے ،سمجھنے اور جانچنے کا دورانیہ بھی قرار دیا جاتا ہے۔بہر حال یہ وقت مثبت اور منفی دونوں اثرات رکھتا ہے۔مجھے اس طرح کے تجربات سے گزرنے کا جب بھی موقع ملا وقت کو مثبت گزارنا بےحد مشکل ثابت ہوا ہے۔ایک ایک لمحہ پھونک پھونک کر چلنا مشکل ترین کام ہوتا ہے۔کیونکہ یہی وقت کا دوہرا معیار ہماری معاشرتی زندگی کو مشکل یا آسان بنا دیتا ہے۔بات وقت کی رفتار اور دل کی کیفیت تک پہنچی تو ایک دوست نے وقت کے اس دوہرے معیار کے بارے میں پوچھا کہ انتظار کے لمحے طویل کیوں ہوتے ہیں اور من پسند خوشی کا وقت تیزی سے کیوں گزر جاتا ہے ؟وقت تو ایک جتنا ہی ہوتا ہے مگر کسی کے لیے گزارنا مشکل اور کسی کے لیے اسے تھامنا مشکل کیوں ہو جاتا ہے ؟ دراصل دل کی کیفیت وقت کی رفتار کے ساتھ چلتی ہے۔زندگی وقت کی قیدی ہے اور وقت اپنی گرفت کبھی ڈھیلی نہیں چھوڑتا۔ کبھی ریلوے اسٹیشن پر کسی اپنے کو لینے کے لیے ٹرین کا انتظار کا منظر دیکھیں ٹرین آنے سے بہت پہلے ریلوے اسٹیشن پہنچ کر انسان باربار گھڑی دیکھتا ہے ،کبھی اس جانب دیکھتا ہے جدھر سے ٹرین نے آنا ہوتا ہے۔کبھی بےچینی سے چہل قدمی کرکے وقت گزارتا ہے۔اس کے باوجود کہ وہ گاڑی کے پہنچنے کے وقت کو خوب جانتا ہے یہی صورتحال ائیر پورٹ پر کسی فلائٹ سے قبل دکھائی دیتی ہے۔مگرچند منٹ کا انتظار انسان کو چین سے کھڑا نہیں ہونے دیتا۔عجیب بات ہے کہ گھڑی کی سوئیاں سب کے لیے ایک ہی رفتار سے چلتی ہیں، مگر انتظار کرنے والے کے لیے منٹ پہاڑ بن جاتے ہیں اور جب ٹرین یا جہاز پہنچ جاتا ہے تو خوشی میں ڈوبے انسان کے لیے گھنٹے لمحوں کی مانند بیت جاتے ہیں۔ گویا وقت کی رفتار نہیں بدلتی، دل کی کیفیت بدل جاتی ہے، اور یہی کیفیت وقت کو کبھی صدیوں جتنا طویل اور کبھی ایک سانس جتنا مختصر بنا دیتی ہے۔یہ انتظار کسی ٹرین یا ہوائی جہاز کا نہیں ہوتا بلکہ اس خوشی کا ہوتا ہے جو اس کے آنے سے حاصل ہوتی ہے۔دوسری جانب جب آپ کسی اپنے کو الوداع کہنے جاتے ہیں تو یہی وقت تیزی سے گزرتا ہے جبکہ آپ چاہتے ہیں کہ وقت طویل ہوجاے مگر یہ لمحات اور بھی تیزترہو جاتے ہیں۔ آخرکار وقت نہ کسی کے لیے رکتا ہے اور نہ تیز چلتا ہے۔ وہ اپنی ازلی رفتار سے رواں رہتا ہے، البتہ دل کی کیفیات اس کے چہرے پر نئے رنگ بھر دیتی ہیں۔ انتظار میں لمحے بوجھل ہو جاتے ہیں کیونکہ امید ہر گزرتی ساعت کا حساب مانگتی ہے، جبکہ خوشی میں وقت مختصر لگتا ہے کیونکہ مسرت انسان کو خود اپنے وجود سے بے خبر کر دیتی ہے۔شاید زندگی کا حسن بھی اسی راز میں پوشیدہ ہے کہ انتظار ہمیں صبر سکھاتا ہے اور خوشی شکر کا سبق دیتی ہے۔ اگر ہر انتظار فوراً ختم ہو جائے تو آرزو کی مٹھاس باقی نہ رہے، اور اگر ہر خوشی ہمیشہ قائم رہے تو اس کی قدر بھی کم ہو جائے۔ اس لیے وقت کی اصل خوبصورتی اس کے گزرنے میں نہیں، بلکہ وقت کے ان احساسات میں ہوتی ہے جو وہ ہمارے دلوں میں چھوڑ جاتا ہے۔ وقت ہمیشہ ایک ہی رفتار سے چلتا ہے، مگر دل کی دنیا میں اس کے قدموں کی چاپ بدل جاتی ہے۔ انتظار کے لمحے یوں محسوس ہوتے ہیں جیسے گھڑی کی سوئیاں تھک کر رک گئی ہوں، جیسے شام کا سورج افق پر ٹھہر گیا ہو اور منزل ابھی بہت دور ہو۔ ہر لمحہ اپنی موجودگی کا احساس دلاتا ہے، ہر سانس ایک الگ کہانی بن جاتی ہے۔ مگر جب زندگی کسی خوشگوار لمحے کی آغوش میں ہو، جب سب اپنے ساتھ ہوں، محفل آباد ہو یا کوئی دیرینہ خواہش پوری ہو رہی ہو، تو وقت پر لگ جاتے ہیں۔ وہ خاموشی سے ہمارے ہاتھوں کی لکیروں کے درمیان سے پھسل جاتا ہے۔ ہم اسے پکڑنا چاہتے ہیں مگر وہ مسکراتا ہوا آگے نکل جاتا ہے۔ شاید اسی لیے انتظار انسان کا صبر آزماتا ہے اور خوشی اس کی حسرت بڑھا دیتی ہے۔ ایک جگہ دل گھڑی کی ٹک ٹک گنتا ہے اور دوسرے جگہ گھڑی دل کی دھڑکنوں میں گم ہو جاتی ہے وقت نہ کبھی سست ہوتا ہےاور نہ تیز، اصل میں دل کی کیفیت ہی اس کی رفتار کا تعین کرتی ہے۔ محبت ہو تو چند ساعتیں صدیوں کی پیاس جگا دیتی ہیں، اور وصال ہو تو پوری شام ایک پل کی طرح بیت جاتی ہے۔بہار مختصر مگر خزاں طویل ہوتی ہے۔دکھ کی گھڑیاں طویل اور خوشی کے لمحات قلیل ہوتے ہیں۔خوشیوں اور بے فکری کا بچپن اور بےخوف ،طاقت ور جوانی کی رفتار اس قدر تیز ہوتی ہے کہ پلک جھپکتے گزر جاتی ہے مگر بڑھاپے کا ایک ایک پل گزارنا کسقدر مشکل ہو جاتا ہے کہ یہ وہی جانتا ہے جو یہ پل گن گن کر گزارتا ہے۔ایک مشہور قول ہے کہ وقت کی وقت پر قدر کریں وقت کے پاس بھی اتنا وقت نہیں کہ وہ دوبارہ آپ کو وقت دے سکے۔وقت کی قدر کرنے والے ہی زندگی کی قدر پاتے ہیں کیونکہ گزرا ہوا وقت کہے ہوے لفظ اور کھوے ہوے مواقع کبھی واپس نہیں آتے۔اس لیے عروج کے وقت اپنی اوقات میں رہیں کیونکہ زوال کا وقت کبھی پوچھ کر نہیں آتا۔وقت ہمیشہ ایک سا نہیں رہتا آج کی بلندی کل کی آزمائش بن سکتی ہے۔
پہلے اک لمحے کی زنجیر سے باندھا مجھ کو
پھر وقت کی رفتار بڑھا دی اس نے
۔






