وزیراعظم کا جنرل اسمبلی سے تاریخی خطاب، علاقائی و عالمی امن کیلئے ایک جامع منشور
روحاخان
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کا سالانہ اجلاس ہمیشہ سے بین الاقوامی سفارت کاری کا سب سے معتبر فورم رہا ہے جہاں دنیا بھر کے قائدین اپنے اپنے ملک کے مفادات، عالمی تنازعات اور انسانیت کو درپیش چیلنجز پر اپنا نکتہ نظر پیش کرتے ہیں۔ اس سال جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے موقع پر جب دنیا کشیدگی، جنگوں اور گہرے معاشی بحرانوں سے دوچار ہے، وزیراعظم پاکستان محمد شہباز شریف کا خطاب نہ صرف پاکستانی عوام کے جذبات کی بھرپور ترجمانی تھا بلکہ اس نے ایک ذمہ دار اور اصولی ایٹمی ریاست کے طور پر پاکستان کا بیانیہ دنیا کے سامنے واضح انداز میں پیش کیا۔ چوبیس کروڑ غیور اور امن پسند عوام کے نمائندے کے طور پر ان کا یہ چوتھا خطاب محض رسمی سفارتی گفتگو نہ تھا بلکہ یہ تاریخ، قرآنی تعلیمات اور زمینی حقائق کا ایک جامع اور متوازن احاطہ تھا جس نے بین الاقوامی برادری کو ان مسائل کے قابل عمل حل پیش کئے۔وزیراعظم نے اپنے خطاب کا آغاز نہایت بلند پایہ اخلاقی اور فکری اصولوں پر کیا اور واضح کیا کہ پاکستان نے محاذ آرائی کے مقابلے میں مکالمے، اور جنگ کی جگہ امن کو اپنی قومی ترجیح بنایا ہے۔ قرآن کریم کی سورہ الانفال کی آیت نمبر 61 کا پ±راثر حوالہ پیش کرتے ہوئے، جس میں صلح کی طرف مائل ہونے والے فریق کے جواب میں خود بھی صلح کی طرف بڑھنے کا الٰہی حکم دیا گیا ہے، انہوں نے ثابت کیا کہ اسلام بنیادی طور پر سلامتی اور امن کا دین ہے اور یہی پیغامِ امن پاکستان کی
خارجہ پالیسی اور طرزِ عمل کا اصل رہنما ہے۔ بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کے فرمودات کا اعادہ کرتے ہوئے وزیراعظم نے واضح کیا کہ اقوام متحدہ کے چارٹر کا احترام اور عالمی سطح پر انصاف اور خوشحالی کے لیے کردار ادا کرنا پاکستان کے قومی وجود کی بنیادوں میں شامل ہے۔ انہوں نے حاضرین کو متوجہ کیا کہ موجودہ عہد میں جنگ شروع کرنا بہادری نہیں بلکہ جنگ کی ہولناکیوں کو روک کر انسانیت کو بچانا ہی حقیقی جرات مندی ہے۔اپنے قومی دفاع اور ملکی سلامتی کے تناظر میں وزیراعظم نے ایک سال قبل بھارتی جارحیت کا کھل کر ذکر کیا۔ انہوں نے باور کرایا کہ جب پاکستان پر بلاجواز حملہ مسلط کیا گیا تو ریاستِ پاکستان نے اقوام متحدہ کے منشور کے آرٹیکل 51 کے تحت اپنے دفاع کا جائز حق پوری قوت سے استعمال کیا۔ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی دانشمندانہ، باوقار اور پیشہ ورانہ عسکری قیادت میں پاک افواج نے دشمن کے جارحانہ عزائم کو خاک میں ملاتے ہوئے ایسا جواب دیا جس سے دشمن مستقبل میں ایساقدم اٹھاتے ہوئے کئی بار سوچے گا۔ تاہم وزیراعظم نے اس امر کو بھی تسلیم کیا کہ جب دو جوہری قوتیں وسیع پیمانے کی تباہ کن جنگ کے دہانے پر کھڑی تھیں، اس وقت امریکی قیادت خصوصاً صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی بروقت اور مو¿ثر سفارتی کوششوں نے صورتِ حال کو سنبھالنے میں مدد دی۔ وزیراعظم نے عالمی طاقتوں کو جھنجھوڑا کہ اگر خطے کو بار بار اس قسم کے ایٹمی تصادم سے محفوظ رکھنا ہے تو جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کے قیام کے لیے تنازعہ جموں و کشمیر کو فوری اور منصفانہ طور پر حل کرنا ناگزیر ہے۔جموں و کشمیر کے حوالے سے وزیراعظم کی آواز کشمیری عوام کے دکھوں اور لازوال جدوجہد کی طاقتور ترجمان ثابت ہوئی۔ انہوں نے دنیا کو یاد دلایا کہ کشمیری عوام گزشتہ آٹھ دہائیوں سے اقوام
متحدہ کی زیر نگرانی ایک آزادانہ اور غیر جانبدارانہ استصوابِ رائے کے اس بنیادی وعدے کے منتظر ہیں جو سلامتی کونسل نے ان کے ساتھ کیا تھا۔ بھارتی قابض افواج کے ہاتھوں کشمیریوں پر ڈھائے جانے والے مظالم، غیر قانونی گرفتاریاں، ماورائے عدالت قتل، جبری گمشدگیاں، جنسی تشدد اور پوری آبادی کو دی جانے والی اجتماعی سزائیں جدید انسانی تاریخ کے ماتھے پر بدترین داغ ہیں۔ وزیراعظم نے اس سازش کو بھی بے نقاب کیا جس کے تحت وادی میں آبادیاتی تناسب بدل کر کشمیریوں کو ان کی اپنی ہی سرزمین پر اقلیت بنانے کی مذموم کوششیں کی جا رہی ہیں۔ انہوں نے ان کشمیری ماو¿ں اور بزرگ باپوں کا ذکر کیا جن کی عمریں اپنے گمشدہ بچوں کے انتظار یا وادی کی بے نام قبروں میں اپنوں کو تلاش کرتے ہوئے بیت گئیں۔ انہوں نے اقوام عالم کو آگاہ کیا کہ کشمیر نہ صرف پاکستان کی شہ رگ تھا، ہے اور رہے گا، بلکہ پاکستان کشمیریوں کے حقِ خودارادیت کے حصول تک ان کی سیاسی، سفارتی اور اخلاقی حمایت ہر سطح پر جاری رکھے گا۔آبی جارحیت کے معاملے پر بھی وزیراعظم نے بھارت کے معاندانہ رویے کو کٹہرے میں کھڑا کیا۔ سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل رکھنے کے بھارتی اقدام کو قانونی اعتبار سے مکمل باطل قرار دیتے ہوئے انہوں نے اقوام متحدہ کے ماہرین اور ثالثی عدالت کے ان فیصلوں کا حوالہ دیا جنہوں نے واضح کیا ہے کہ یہ معاہدہ بدستور نافذ العمل ہے اور دونوں فریق اس کی پابندی کے پابند ہیں۔ وزیراعظم نے واشگاف الفاظ میں دنیا پر واضح کر دیا کہ پانی زندگی کی علامت ہے، اسے بطور ہتھیار استعمال کرنے کی کسی کو اجازت نہیں دی جا سکتی۔ پاکستان کے حصے کے پانی کا رخ موڑنا، اس کی روانی میں رخنہ ڈالنا یا اسے روکنا براہِ راست اعلانِ جنگ اور ایک کھلا جنگی اقدام تصور کیا جائے گا جس پر کسی صورت سمجھوتہ نہیں ہو سکتا۔خطے میں تنازعات کے حل کے لیے پاکستان کے عملی اور فعال کردار کو اجاگر کرتے ہوئے وزیراعظم نے رواں سال فروری کے دوران خلیج اور مشرقِ وسطیٰ میں پیدا ہونے والے بحران کا احاطہ کیا۔ جب آبنائے ہرمز جیسے حساس بحری راستے کشیدگی کا شکار تھے اور تیل و تجارت کی ترسیل رکنے سے عالمی معیشت شدید خطرے میں گھری ہوئی تھی، اس نازک ترین لمحے میں پاکستان کی سویلین اور عسکری قیادت نے کمالِ بصیرت کا مظاہرہ کیا۔ وزیراعظم، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی انتھک سفارتی تگ و دو سے واشنگٹن اور تہران کو اسلام آباد میں ایک میز پر بٹھایا گیا۔ "اسلام آباد مذاکرات” اور اس کے نتیجے میں طے پانے والی یادداشت نے یہ بات ثابت کی کہ پاکستان ایک امن پسند ثالث کے طور پر بڑی طاقتوں کے درمیان مکالمے کی راہ ہموار کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں پاکستان کی صدارت کے دوران قرارداد 2788 کی متفقہ منظوری امن و سفارت کاری پر پاکستان کے پختہ یقین کی واضح دلیل ہے۔ وزیراعظم نے باب المندب اور آبنائے ہرمز کو عالمی معیشت کی شہ رگ قرار دیتے ہوئے ان تجارتی گزرگاہوں کے تحفظ پر زور دیا۔برادر اسلامی ممالک کے تحفظ اور دفاع کے حوالے سے وزیراعظم نے حرمین شریفین کے تقدس کو پاکستان کے لیے ایک غیر متزلزل "ریڈ لائن” قرار دیا۔ سعودی عرب پر حوثیوں کے حملوں اور مکہ مکرمہ کی جانب ڈرون حملے کی مذموم کوشش کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے انہوں نے دوٹوک پیغام دیا کہ پاکستان سعودی عوام کے شانہ بشانہ کھڑا ہے اور مقدس مقامات پر کوئی آنچ برداشت نہیں کی جائے گی۔ اس تناظر میں پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے مابین طے پانے والے تاریخی "مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے” کو انہوں (جاری)
نے خطے میں امن، اور اجتماعی سلامتی کی ضمانت قرار دیا جو کسی ملک کے خلاف جارحیت کے لیے نہیں بلکہ خطے کو جنگ و عدم استحکام سے بچانے کی خاطر عمل میں لایا گیا ہے۔فلسطین کے مظلوم عوام کی حالتِ زار پر گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم کے لہجے کا درد ہال میں موجود ہر شخص نے محسوس کیا۔ غزہ کی معصوم بچیوں، ہند رجب اور آٹھ سالہ وفا عقیلہ، کے سانحات کا ذکر کرتے ہوئے، جس دن وفا کو نئی کتابیں لے کر اسکول جانا تھا وہی دن اس کی معصوم سانسوں کا آخری دن بن گیا، وزیراعظم نے عالمی ضمیر کو کٹہرے میں لا کھڑا کیا۔ انہوں نے تیکھے لہجے میں استفسار کیا کہ کیا غزہ کا بچہ دنیا کے دیگر بچوں کی طرح زندہ رہنے، کھیلنے اور روشن مستقبل کے خواب دیکھنے کا حق نہیں رکھتا؟ انہوں نے ثابت کیا کہ یہ لٹے پٹے معصوم بچے عالمی بے حسی، منافقت اور بے عملی کے خلاف ایک کھلا چالان ہیں۔ انہوں نے مغربی کنارے میں صیہونی آبادکاری اور فلسطینیوں کی جبری بے دخلی پر گہری تشویش کا اظہار کیا اور پاکستان کا واضح مو¿قف دہرایا کہ پائیدار امن کا واحد راستہ 1967ئ سے قبل کی سرحدوں پر مشتمل ایک آزاد، خودمختار اور جغرافیائی طور پر متصل ایسی فلسطینی ریاست کا قیام ہے جس کا دارالحکومت القدس الشریف ہو۔ اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے لبنان اور شام پر اسرائیلی بربریت اور فضائی حملوں کی بھی شدید مذمت کی اور ان کے فوری خاتمے کا مطالبہ کیا۔دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی تاریخ ساز خدمات کا تذکرہ کرتے ہوئے انہوں نے دنیا کو یاد دلایا کہ اس ناسور کے خاتمے کے لیے پاکستان نے تقریباً ایک لاکھ قیمتی جانوں کا نذرانہ پیش کیا اور ایک سو پچاس ارب ڈالر سے زائد کا معاشی نقصان اٹھایا۔ اپنے اس عظیم قومی ایثار کے باوجود پاکستان کو آج بھی پڑوس سے درپیش خطرات کا سامنا ہے۔ انہوں نے افغان عبوری حکومت پر کڑا زور دیا کہ وہ اپنی سرزمین سے کالعدم ٹی ٹی پی اور بی ایل اے جیسے دہشت گرد گروہوں کے ٹھکانوں کا صفایا کرے اور اس امر کو قابلِ تصدیق شواہد کے ساتھ یقینی بنائے کہ افغان سرزمین پاکستان یا کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہ ہو۔ وزیراعظم نے افغان عوام، بالخصوص خواتین اور معصوم بچیوں کے تعلیم اور بنیادی انسانی حقوق کے تحفظ کی ضرورت پر بھی زور دیا۔انھوں نے اقوام متحدہ کے امن مشنز میں دہائیوں سے خدمات سرانجام دینے والے پاکستانی جوانوں کی شجاعت کو زبردست خراجِ تحسین پیش کیا۔اسلاموفوبیا کے بڑھتے ہوئے واقعات، مسلمانوں پر بڑھتے ہوئے حملوں، نفرت انگیز تقاریر اور قرآن پاک کے نسخوں کی بے حرمتی کے گھناو¿نے واقعات پر وزیراعظم نے گہرے دکھ اور تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے خاص طور پر بھارت میں آر ایس ایس اور ہندوتوا نظریے کے تحت مسلمانوں کی مذہبی شناخت پر ہونے والے حملوں کو بے نقاب کیا، جس کی ایک تازہ اور دلخراش مثال سہارنپور میں ڈیڑھ سو سال قدیم تاریخی مسجد کا ظالمانہ انہدام ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ مہذب دنیا میں مذہبی منافرت اور اقلیتوں کے خلاف ریاستی سرپرستی میں ہونے والے تعصب کی کوئی گنجائش نہیں ہو سکتی۔داخلی سطح پر پاکستان کی حکومت کی معاشی کامیابیوں اور استحکام کا خاکہ پیش کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ سخت اور مشکل معاشی فیصلوں، وسیع تر اصلاحات اور مالیاتی نظم و ضبط کے ذریعے ملکی معیشت کو تباہی سے نکال کر استحکام کی راہ پر گامزن کیا جا چکا ہے۔ زراعت، جدید صنعت کاری، نایاب معدنی وسائل کے منصوبوں، ڈیجیٹل اکانومی اور آئی ٹی اور مصنوعی ذہانت کے میدان میں نوجوانوں کو جدید ہنر دینے کے انقلابی اقدامات تیزی سے جاری ہیں۔ انہوں نے چین کے صدر شی جن پنگ کے ترقی اور مشترکہ سکیورٹی کے عالمی اقدامات کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے سی پیک کی اہمیت کو دوچند قرار دیا اور خلیجی و وسطی ایشیائی ممالک کے ساتھ روابط میں توسیع کی اہمیت کو اجاگر کیا۔ اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے عالمی مالیاتی اداروں کے فرسودہ ڈھانچے کو بدلنے، غریب ممالک کو قرضوں کے بوجھ سے نجات دلانے اور طویل مدتی سستے قرضے فراہم کرنے پر زور دیا تاکہ معاشی ترقی اور انسانی سلامتی کو یکساں ترجیح مل سکے۔موسمیاتی انصاف کا تقاضا کرتے ہوئے وزیراعظم نے اعداد و شمار کی روشنی میں واضح کیا کہ پاکستان دنیا بھر میں زہریلی گیسوں کے اخراج میں ایک فیصد سے بھی کم حصے دار ہے، لیکن موسمیاتی تباہی، سیلابوں اور قحط کا سب سے بڑا نشانہ بنتا ہے۔ انہوں نے ترقی یافتہ ممالک کو جھنجھوڑا کہ وہ پیرس معاہدے اور COP کے تحت کیے گئے مالیاتی وعدے نبھائیں اور لاس اینڈ ڈیمج فنڈ کے ذریعے متاثرہ ممالک کی مالی مدد کو یقینی بنائیں تاکہ قدرتی آفات سے نمٹنے کی قومی صلاحیت بہتر ہو سکے۔اپنے خطاب کے اختتام پر وزیراعظم نے عالمی برادری کو باور کرایا کہ اقوام عالم میں اعتماد محض تقریروں اور لفاظی سے بحال نہیں ہوتا بلکہ یہ صرف اور صرف عملی انصاف اور برابری پر مبنی فیصلوں سے پیدا ہوتا ہے۔ اعتماد تب بحال ہوگا جب سرحدوں پر بہتے دریا ہتھیار بننے کے بجائے باہمی اشتراک اور خوشحالی کا وسیلہ بنیں گے، جب موسمیاتی بحران کے ذمہ دار ممالک اپنے گناہوں کا مداوا کرتے ہوئے متاثرہ قوموں کی مدد کریں گے اور جب بارود کی جگہ بات چیت اور دلیل کو اولیت دی جائے گی۔ انہوں نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں اصلاحات کو ناگزیر قرار دیتے ہوئے کہا کہ اصلاحات کسی ایک مخصوص طاقت کے استحقاق یا ویٹو کے تحفظ کے لیے نہیں بلکہ تمام اقوام کے مفاد اور برابری کی بنیاد پر ہونی چاہئیں، کیونکہ پاکستان کا دیرینہ اصولی مو¿قف یہی ہے کہ اصلاحات سب کے لیے ہوں اور مراعات کسی کے پاس نہ ہوں۔ جنرل اسمبلی کے صدر خلیل الرحمٰن اور سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس کی خدمات کو سراہتے ہوئے وزیراعظم کا یہ پورا خطاب پاکستان کے قومی مفاد، اسلامی اخوت اور عالمی امن کا ایک ایسا منشور بن کر ابھرا ہے جس نے اقوام عالم میں پاکستان کا سر فخر سے بلند کر دیا ہے۔






