#کالم

ایک سو اسی ہزار کیئروکرز کا مستقبل داﺅ پر

bhakt yousaf

بخت سید یوسفزئی

برطانیہ میں مستقل رہائش یعنی انڈیفینٹ لیو ٹو ریمین، ILR، کے قواعد میں ممکنہ بڑی تبدیلی نے حکمران جماعت کے اندر ایک نئی بحث کو جنم دے دیا ہے۔ خاص طور پر ان غیر ملکی کارکنوں کا مستقبل زیر بحث آ گیا ہے جو موجودہ قوانین کے تحت پانچ سال بعد مستقل رہائش کے اہل ہونے کی امید رکھتے تھے۔مجوزہ اصلاحات کے تحت زیادہ تر تارکین وطن کے لیے مستقل رہائش کی موجودہ پانچ سالہ مدت بڑھا کر دس سال کرنے کی تجویز سامنے آئی ہے، جبکہ صحت اور سماجی نگہداشت کے شعبے سے وابستہ بعض ویزا ہولڈرز کے لیے یہ مدت پندرہ سال تک کیے جانے کی بات کی جا رہی ہے۔اس معاملے نے لیبر حکومت کے اندر بھی اختلافات کو نمایاں کر دیا ہے۔ ہاو¿سنگ سیکریٹری انجیلا رینر نے ان تبدیلیوں پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ جو لوگ پرانے قوانین کے تحت برطانیہ آئے تھے، ان کے لیے بعد میں شرائط تبدیل کرنا مناسب نہیں ہوگا۔رینر کا کہنا ہے کہ بہت سے غیر ملکی کارکنوں نے برطانیہ آنے کا فیصلہ اس توقع کے ساتھ کیا تھا کہ وہ موجودہ پانچ سالہ راستے کے تحت مستقل رہائش حاصل کر سکیں گے۔ ان کے مطابق اچانک مدت بڑھانے سے ایسے لوگوں کی زندگیوں پر براہ راست اثر پڑ سکتا ہے۔خاص طور پر غیر ملکی کیئر ورکرز کا معاملہ زیادہ حساس بن گیا ہے۔ اندازوں کے مطابق 2022 سے 2024 کے دوران تقریباً ایک لاکھ اسی ہزار غیر ملکی کیئر ورکرز برطانیہ آئے، جن میں بڑی تعداد سابقہ حکومتوں کے دور میں جاری کیے گئے ویزوں کے تحت یہاں پہنچی۔ان کارکنوں نے صرف ملازمت اختیار نہیں کی بلکہ بہت سے لوگوں نے اپنے خاندان، رہائش، مالی معاملات اور مستقبل کے منصوبے بھی برطانیہ سے وابستہ کر لیے۔ ان کے لیے ILR کے راستے کو اچانک پانچ سال سے دس یا پندرہ سال تک بڑھانا ایک بنیادی پالیسی تبدیلی تصور ہوگی۔انجیلا رینر نے خود کیئر سیکٹر میں کام کیا ہے، اسی لیے ان کا کہنا ہے کہ بیرون ملک سے آنے والے کارکنوں نے برطانوی معاشرے میں اہم خدمات انجام دی ہیں۔ ان کے مطابق ایسے لوگوں نے برطانوی شہریوں اور خاندانوں کی دیکھ بھال میں اپنا کردار ادا کیا ہے۔دوسری جانب ہوم سیکریٹری شبانہ محمود کا مو¿قف ہے کہ امیگریشن نظام میں اصلاحات کی ضرورت ہے اور حکومت کو مستقل رہائش کے قوانین کو وسیع تر امیگریشن پالیسی کے ساتھ دیکھنا ہوگا۔ حکومت کا کہنا ہے کہ مستقل رہائش کو زیادہ واضح اور ذمہ داریوں سے منسلک نظام بنایا جانا چاہیے۔اصل تنازع اس بات پر ہے کہ نئے قوانین صرف مستقبل میں برطانیہ آنے والے افراد پر لاگو ہوں گے یا ان لوگوں پر بھی جنہوں نے پہلے ہی پرانے قوانین کے تحت ملک میں قدم رکھا تھا۔اگر نئے قوانین ماضی میں آنے والے کارکنوں پر بھی لاگو کیے جاتے ہیں تو یہ قانونی اور اخلاقی دونوں اعتبار سے ایک اہم بحث کو جنم دے سکتا ہے۔ ان افراد کا مو¿قف ہو سکتا ہے کہ انہوں نے برطانیہ آنے سے قبل اس وقت کے قوانین اور شرائط کو سامنے رکھتے ہوئے اپنے فیصلے کیے تھے۔دوسری طرف حکومت کے لیے یہ سوال بھی اہم ہے کہ کیا ایک ایسا نظام برقرار رکھا جا سکتا ہے جس میں مختلف ادوار میں آنے والے افراد کے لیے مستقل رہائش کے الگ الگ راستے موجود ہوں۔ حکومت کا مو¿قف یہ ہو سکتا ہے کہ امیگریشن پالیسی بدلتے حالات کے مطابق تبدیل کرنا ضروری ہے۔لیبر پارٹی کے اندر بھی اس معاملے پر مکمل اتفاق نظر نہیں آتا۔ ایک سو سے زیادہ لیبر ارکان پارلیمنٹ کی جانب سے مجوزہ تبدیلیوں پر تحفظات کا اظہار کیے جانے کی اطلاعات ہیں، جبکہ بعض ٹریڈ یونینز بھی ان اصلاحات کے ممکنہ اثرات پر سوال اٹھا رہی ہیں۔پارٹی کے بعض ارکان کا خیال ہے کہ پہلے سے موجود کارکنوں کے لیے عبوری انتظامات کیے جانے چاہئیں تاکہ وہ ان قوانین سے اچانک متاثر نہ ہوں۔ اس صورت میں حکومت نئے آنے والوں کے لیے سخت قوانین نافذ کر سکتی ہے جبکہ پرانے ویزا ہولڈرز کے لیے مختلف راستہ برقرار رکھا جا سکتا ہے۔یہ مسئلہ صرف امیگریشن تک محدود نہیں بلکہ برطانیہ کے صحت اور سماجی نگہداشت کے نظام سے بھی براہ راست جڑا ہوا ہے۔ NHS اور کیئر سیکٹر میں بیرون ملک سے آنے والے کارکنوں کی ایک بڑی تعداد خدمات انجام دے رہی ہے، اس لیے ان کے مستقبل سے متعلق پالیسی کا اثر لیبر مارکیٹ پر بھی پڑ سکتا ہے۔اگر کیئر ورکرز کو مستقل رہائش کے لیے طویل انتظار کرنا پڑا تو کچھ کارکن برطانیہ چھوڑنے یا دوسرے ممالک کا رخ کرنے پر غور کر سکتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں پہلے سے دباو¿ کا شکار سماجی نگہداشت کے شعبے کو عملے کی کمی جیسے مسائل کا سامنا بھی ہو سکتا ہے۔تاہم حکومت کے سامنے دوسرا دباو¿ بھی موجود ہے۔ برطانیہ میں طویل عرصے سے امیگریشن کی مجموعی تعداد، ویزا نظام اور مستقل رہائش کے راستوں کو محدود کرنے کے مطالبات کیے جاتے رہے ہیں۔ حکومت کے لیے چیلنج یہ ہے کہ امیگریشن کو منظم کرنے کے ساتھ معیشت کو درکار ہنرمند کارکن بھی دستیاب رہیں۔اس بحث میں یہ بنیادی سوال بھی اٹھتا ہے کہ مستقل رہائش کیا صرف ایک قانونی حق ہے یا اسے مخصوص شرائط کی مسلسل تکمیل سے مشروط ہونا چاہیے۔ حکومت کے مطابق کسی شخص کا طویل عرصے تک برطانیہ میں رہنا لازماً مستقل رہائش یا شہریت کی ضمانت نہیں بنتا۔مگر دوسری جانب تارکین وطن کے لیے قانونی توقعات کا سوال بھی اہم ہے۔ اگر کسی شخص نے ویزا حاصل کرتے وقت ایک مخصوص مدت مکمل کرنے کے بعد ILR کے راستے کو سامنے رکھا ہو، تو بعد میں اس مدت میں نمایاں اضافہ اس کے لیے مالی، خاندانی اور ذاتی منصوبہ بندی کو تبدیل کر سکتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ موجودہ تنازع میں سب سے زیادہ توجہ لفظ "ریٹروسپیکٹو” یعنی ماضی میں موجود لوگوں پر نئے قوانین لاگو کرنے پر مرکوز ہے۔ اگر حکومت تبدیلیاں لاتی ہے تو عبوری انتظامات اور واضح ٹائم لائن اس بحث کا اہم حصہ بن سکتے ہیں۔حکومت کی جانب سے ابھی حتمی فیصلہ سامنے نہیں آیا اور ہوم آفس مجوزہ اصلاحات پر مشاورت کے نتائج کا جائزہ لے رہا ہے۔ ہوم سیکریٹری نے بھی تسلیم کیا ہے کہ بڑی تعداد میں لوگ اس بات کے منتظر ہیں کہ ان پر کون سے قوانین لاگو ہوں گے۔اس صورتحال میں ان ہزاروں کارکنوں کے لیے غیر یقینی صورتحال برقرار ہے جو اپنی ILR درخواست کے لیے مقررہ مدت پوری ہونے کا انتظار کر رہے ہیں۔ خاص طور پر ان افراد کے لیے یہ معاملہ اہم ہے جنہوں نے برطانیہ میں گھر بنائے، خاندانوں کو منتقل کیا اور کئی سال تک ٹیکس اور قومی معیشت میں اپنا حصہ ڈالا۔آنے والے ہفتوں میں حکومت کو نہ صرف امیگریشن کم کرنے کے سیاسی وعدوں بلکہ برطانیہ کی معیشت، NHS، کیئر سیکٹر اور ہنرمند افرادی قوت کی ضروریات کو بھی سامنے رکھنا ہوگا۔ ILR کے قوانین میں تبدیلی محض کاغذی اصلاح نہیں بلکہ ہزاروں خاندانوں کے مستقبل سے متعلق فیصلہ ہوگا۔اب اصل سوال یہ ہے کہ کیا حکومت ان لوگوں کے لیے وہی نئے قوانین نافذ کرے گی جو پہلے ہی پرانے نظام کے تحت برطانیہ آ چکے ہیں، یا ان کے لیے کوئی عبوری راستہ اختیار کیا جائے گا۔ اس فیصلے سے برطانیہ کے امیگریشن نظام میں مستقبل کی پالیسی کی سمت بھی واضح ہوگی۔اگر حکومت تبدیلیاں نافذ کرتی ہے تو شفافیت، واضح قواعد اور مناسب عبوری انتظامات اس عمل کی اہم ضرورت ہوں گے۔ دوسری جانب اگر پرانے کارکنوں کو موجودہ راستے کے تحت ILR حاصل کرنے کا موقع دیا جاتا ہے تو حکومت کو نئے آنے والوں کے لیے الگ اور واضح قوانین وضع کرنے ہوں گے۔فیصلہ جو بھی ہو، ILR کی یہ بحث برطانیہ میں امیگریشن پالیسی کے ایک بڑے سوال کو سامنے لے آئی ہے، کیا حکومت بدلتے ہوئے قومی حالات کے مطابق مستقبل کے لیے قوانین تبدیل کر سکتی ہے، اور ساتھ ہی ان لوگوں کی جائز توقعات کا تحفظ بھی کر سکتی ہے جنہوں نے پہلے سے موجود قواعد پر اعتماد کرتے ہوئے برطانیہ میں اپنی زندگیاں قائم کیں۔ آنے والے دنوں میں لیبر حکومت کا فیصلہ نہ صرف غیر ملکی کارکنوں بلکہ برطانیہ کے امیگریشن نظام کی آئندہ سمت کے لیے بھی انتہائی اہم ثابت ہوگا۔

ایک سو اسی ہزار کیئروکرز کا مستقبل داﺅ پر

28/09/2026 DAILY SARZAMEEN LAHORE

ایک سو اسی ہزار کیئروکرز کا مستقبل داﺅ پر

صحرا میں آبِ حیات

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے