#کالم

علم، وقار اور سچی وکالت، ایڈووکیٹ سید غلام عباس شاہ بخاری ؒ

ashraf asmi

صاحبزادہ میاں محمد اشرف عاصمی ایڈووکیٹ

انسانی جذبوں میں لائق ترین جذبہ خدمت خلق کا ہے اور پاکستان جیسے ترقی پزیر ملک میں جہاں انسانی آزادیوں کے حوالے سے بہتر ماحول پنپ نہیں پایا اِس کی وجہ ہمارے نظام کے اندر موجود قباحتیں بھی ہیں اور معاشرتی رویوں میں پائی جانے والی درجہ بندی کا امتیازی کردار بھی ہے۔ پاکستان جیسے ملک میں حق سچ کے ساتھ کھڑا ہونا اور دوسروں کے لیے بھی مثال بن جانا ایک ایسا انقلاب آفریں روشن کردار ہے جو ہمارے معاشرئے کے لیے صبحِ امید ہے۔ مجھے اپنی زندگی کے بہت سے سال سرگودہامیں گزارنے کے موقع ملا اور اِس مٹی کے خوشبو ہمیشہ میرے لیے آکسیجن کا کام کرتی ہے۔ سید عمیر عباس بخاری سے بھی تعلق 1982سے ہے۔ اسی طرح نابغہ روزگار شخصیت جناب سید غلام عباس مرحوم کی شخصیت کا عکس میرے دل ودماغ میں بچپن سے ہے۔ میں نوے کی دہائی میں اپنے آبائی شہر لاہور واپس آگیا لیکن سرگودہا کے لوگ سرگو دہا کی شخصیات میرے دل و دماغ سے کبھی محو نہ ہوسکیں۔ وکالت کے شعبہ سے منسلک ہونے کی بنائ پر محترم عزت ماب جناب سید غلام عباس بخاری رح کی شخصیت اور کردار کے حوالے سے جو میرے دل و دماغ پر گہری چھاپ رہی ا±س سے میں ہمیشہ انسپائریشن لیتا رہا۔ سرگودھا کی مٹی نے ہمیشہ ایسے لوگوں کو جنم دیا ہے جنہوں نے اپنے اپنے شعبوں میں اپنی شناخت بنائی اور اپنے کردار سے لوگوں کے دلوں میں جگہ پیدا کی۔ وکالت کے میدان میں بھی سرگودھا میں کئی نام ایسے گزرے ہیں جنہیں آج بھی احترام سے یاد کیا جاتا ہے۔ انہی قابلِ احترام شخصیات میں ایک نمایاں نام سید غلام عباس شاہ بخاری مرحوم رح کا تھا۔ وہ صرف ایک ماہر وکیل ہی نہیں تھے بلکہ علم، تجربے، شائستگی، خودداری اور اصول پسندی کا ایک خوبصورت امتزاج تھے۔سید غلام عباس شاہ بخاری مرحوم کی شخصیت کا ہمیشہ گرویدہ رہا ہوں۔ ان کی گفتگو، علم، متانت، خوش مزاجی اور وکالت کے انداز میں ایک ایسی کشش تھی جو انہیں دوسروں سے ممتاز کرتی تھی۔ ان کے چھوٹے صاحبزادے سید شہریار بخاری شہید کا ہنستا مسکراتا چہرہ میری آنکھوں کے گرد اب بھی گھوم رہا ہے۔ شاہ صاحب کی سب سے نمایاں خوبی ان کا علم تھا۔ سول، فوجداری اور ریونیو قوانین پر انہیں مضبوط دسترس حاصل تھی۔ وہ محض قانونی دفعات یاد رکھنے والے وکیل نہیں تھے بلکہ قانون کے پس منظر، اس کی روح اور اس کے عملی اطلاق کو سمجھتے تھے۔ عدالت میں مقدمہ پیش کرتے وقت ان کی گفتگو میں تیاری، تجربہ اور اعتماد نمایاں ہوتا تھا۔ وہ جانتے تھے کہ وکالت صرف دلائل دینے کا نام نہیں بلکہ اپنے مو¿کل کے مقدمے کو قانون، حقائق اور انصاف کے تناظر میں سمجھنے کا نام ہے۔ان کی شخصیت میں ایک خاص قسم کی سادگی تھی، لیکن اس سادگی کے ساتھ وقار بھی تھا۔ وہ بناوٹ سے دور اور اپنی ذات میں مطمئن انسان تھے۔ گفتگو میں شائستگی، رویے میں متانت اور دوستوں کے ساتھ خوش مزاجی ان کی شخصیت کا حصہ تھی۔ محفل میں بیٹھتے تو ماحول کو بوجھل نہیں ہونے دیتے تھے۔ ان کا مزاح بھی شائستہ ہوتا اور گفتگو میں تجربے کی گہرائی بھی محسوس ہوتی۔ ایسے لوگ کم ہوتے ہیں جو اپنے علم کے باوجود دوسروں کو کمتر محسوس نہ ہونے دیں۔ شاہ صاحب رح میں یہ خوبی نمایاں تھی۔میرے نزدیک ایک اچھے وکیل کی اصل پہچان صرف یہ نہیں کہ وہ کتنی بڑی فیس لیتا ہے یا کتنے مقدمات جیتتا ہے۔ اصل پہچان یہ ہے کہ وہ قانون کو کس حد تک سمجھتا ہے، اپنے مو¿کل کے ساتھ کس قدر دیانت دار ہے، عدالت کے سامنے حقائق کس ذمہ داری سے پیش کرتا ہے اور اپنے پیشے کے وقار کو کس حد تک قائم رکھتا ہے۔ سید غلام عباس شاہ بخاری مرحوم کی وکالت میں یہی اوصاف دکھائی دیتے تھے۔ وہ وکالت کو محض روزگار نہیں بلکہ ایک ذمہ داری سمجھتے تھے۔ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن سرگودھا کے صدر کی حیثیت سے بھی انہوں نے اپنی پیشہ ورانہ شناخت کو مزید مضبوط کیا۔ بار کی قیادت دراصل وکلاءکی اجتماعی نمائندگی کی ذمہ داری ہے۔ اس ذمہ داری کے لیے صرف انتظامی صلاحیت کافی نہیں ہوتی بلکہ وقار، معاملہ فہمی اور ساتھی وکلائ کا اعتماد بھی ضروری ہوتا ہے۔ شاہ صاحب نے اپنے دور میں وکلاءکی نمائندگی اور بار کے وقار کو اہمیت دی۔ ان کی شخصیت کا اثر صرف عدالت تک محدود نہیں تھا بلکہ وکلاء کی اجتماعی زندگی میں بھی محسوس ہوتا تھا۔ان کی زندگی کا ایک اور پہلو ان کے خاندان سے جڑا ہوا ہے، جو اپنے اندر قربانی اور خدمت کی ایک الگ داستان رکھتا ہے۔ ان کے بڑے صاحبزادے سید عمیر عباس بخاری نے فوج میں خدمات انجام دیں اور کرنل کی حیثیت سے اپنی ذمہ داریاں پوری کیں۔ ان کے چھوٹے صاحبزادے سید شہریار بخاری شہید نے عدلیہ میں بطور سول جج خدمات انجام دیں اور اپنے فرائض کی ادائیگی کے دوران جیل میں پیش آنے والے ایک المناک واقعے میں شہید ہوئے۔ سرگودھا میں سابقہ خیام سینما چوک کو ان کی یاد میں ”سید شہریار بخاری چوک“ کے نام سے منسوب کیا جانا بھی ان کی خدمات اور قربانی کی ایک یادگار ہے۔وقت گزر جاتا ہے، لوگ دنیا سے رخصت ہوجاتے ہیں، عدالتیں بدل جاتی ہیں، قانون کی کتابوں کے ایڈیشن تبدیل ہوجاتے ہیں، لیکن کچھ شخصیات اپنے پیچھے ایسی یاد چھوڑ جاتی ہیں جو وقت کے ساتھ مدھم نہیں ہوتی۔ سید غلام عباس شاہ بخاری مرحوم رح بھی انہی لوگوں میں سے تھے۔ آج جب وکالت کا میدان تیزی سے تبدیل ہو رہا ہے، نئی قانونی جہتیں سامنے آ رہی ہیں، سائبر کرائم، ڈیجیٹل شواہد، آئینی مقدمات، انسانی حقوق، ریونیو اور پراپرٹی کے پیچیدہ معاملات اور بین الاقوامی قوانین و تجارتی تنازعات ہماری قانونی زندگی کا حصہ بن رہے ہیں، ایسے میں نئی نسل کے وکلاء کے لیے ضروری ہے کہ وہ جدید قانون کے ساتھ ساتھ اپنے بزرگوں کے تجربے اور اصول پسندی سے بھی سیکھیں۔سید غلام عباس شاہ بخاری مرحوم کی اصل میراث ان کی جائیداد یا منصب نہیں بلکہ ان کا علم، ان کا کردار، ان کی وکالت، ان کا وقار اور قانون کے ساتھ ان کی وابستگی ہے۔ ایسے لوگ اپنے پیچھے کوئی ایک کتاب نہیں چھوڑتے بلکہ اپنے کردار سے آنے والی نسلوں کے لیے ایک عملی مثال چھوڑ جاتے ہیں۔ ان کی زندگی یہ پیغام دیتی ہے کہ وکالت میں کامیابی صرف بلند آواز دلائل سے نہیں بلکہ مطالعے، تیاری، دیانت، تحمل اور قانون کی پاسداری سے حاصل ہوتی ہے۔اللہ پاک سید غلام عباس شاہ بخاری مرحوم کی کامل مغفرت فرمائے، ان کے درجات بلند فرمائے، ان کی قبر کو نور سے منور فرمائے اور انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔ اللہ پاک سید شہریار بخاری شہید کے درجات بھی بلند فرمائے اور ان کے اہلِ خانہ کو صبرِ جمیل عطا فرمائے۔ اللہ رب العزت سید غلام عباس شاہ بخاری مرحوم رح کی علمی، اخلاقی اور پیشہ ورانہ خدمات کو ان کے لیے صدقہ جاریہ بنائے۔ آمین۔

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے