صوبہ بہاولپور ہی آخر کیوں ؟
جاویدایازخان
پاکستان میں نئے صوبوں کی بحث کوئی نئی بات نہیں۔ جب بھی انتظامی مشکلات، وسائل کی غیر مساوی تقسیم، احساسِ محرومی یا علاقائی شناخت کا سوال شدت اختیار کرتا ہے تو نئے صوبوں کی آواز بلند ہونے لگتی ہے۔ پنجاب کے جنوبی حصے میں بھی یہ بحث کئی دہائیوں سے جاری ہے، جو انتخابات کے دوران میں خصوصی اہمیت حاصل کرلیتی ہے مگر انتخابات کے بعد اکثر پس منظر میں چلی جاتی ہے۔میں ذاتی طور پرون یونٹ ٹوٹنے کےبعد سترکی دھائی سے ہی بحالی صوبہ بہاولپورکا حامی چلا آیا ہوں اور اپنی تحریروں میں اس کا ذکر بھی کر چکا ہوں۔نواب صلاح الدین عباسی امیرآف بہاولپور کے ہمراہ اور ان قیادت میں بہاولپور صوبہ کے لیےمثبت کوشش اور سوچ رکھنے کو فخر سمجھتا ہوں۔میرے والد صاحب لفٹیننٹ (ریٹائرڈ ) محمد ایاز خان مرحوم کا شمار صوبہ تحریک کے بانیوں میں ہوتا ہے جو امیر آف بہاولپور کے سوشل سیکریٹری اور سیاسی مشیر بھی ہوا کرتے تھے اور انہیں یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ آج بھی نواب صلاح الدین عباسی صاحب ان کا ذکر ہمیشہ اپنے استاد کی طور پر بڑی عزت سے کرتے ہیں۔ متحدہ محاذ کی لیڈر محترمہ طاہرہ مسعود مرحومہ کو بنت بہاولپور کا خطاب بھی انہوں نے دیا تھا۔نواب صادق محمد خان عباسی مرحوم کی برسی مقامی چھٹی منظور کرانے کا عزاز اور ملکی سطح پر محسن پاکستان کی خدمات کو اجاگر کرنے کے لیے صادق دست اکیڈمی کے زیر اہتمام تقاریب کا اہتمام ہمیشہ ان کی کوششوں میں شامل رہا۔جب بھی صوبے کی بات ہوتی ہے تو ایک سوال اکثر سامنے آتا ہے کہ ہم سابقہ صوبہ بہاولپور کی بحالی کی بات کررہے ہیں ؟ یا پھر ایک نئے صوبے جنوبی پنجاب یا سرائیکی صوبہ کا مطالبہ کر رہے ہیں ؟ ہر ذہن اسی سوچ میں مبتلا ہے کہ حقیقت میں مطالبہ کیا ہے ؟ بظاہر یہ تینوں مطالبے ایک ہی خطے سے متعلق دکھائی دیتے ہیں، لیکن حقیقت میں ان کی بنیادیں بہت مختلف ہیں۔ بنیادی طور پر یہ ایک انتظامی تصور ہے۔ اس سوچ کے مطابق پنجاب کا جنوبی حصہ ایک وسیع خطہ ہے جسے لاہور سے دوری، انتظامی مشکلات اور ترقیاتی عدم توازن کے باعث الگ صوبائی انتظام کی ضرورت ہے۔جنوبی پنجاب کا تصور ملتان ،ڈیرہ غازی خان اور بہاولپور سمیت جنوبی پنجاب کے مختلف علاقوں پر مشتمل انتظامی یونٹ سے ہے۔جس کا تجربہ پی ٹی آئی کے دور میں جنوبی پنجاب سیکٹریٹ بنا کر نے کی کوشش کی گئی مگر مقصد حل نہ ہو سکا ۔جنوبی پنجاب کے ملتان اور بہاولپور میں سیکٹریٹ ہونے کے باوجود لوگوں کو لاہور جانا پڑتا رہا ہے۔گویا آسمان سے گرا اور کھجور میں اٹکا والی مثال بن گیا۔یوں یہ مطالبہ اپنی افادیت کھو چکا ہے۔کیونکہ نئے صوبوں کا مقصد چھوٹے چھوٹے انتظامی یونٹس بنانا ہے تاکہ عوام اور حکومت ایک دوسرے کے قریب ہوں اور ان کے مسائل کو جلد حل کیا جاسکے۔ اس سے قدرے مختلف سرائیکی صوبے کا تصور ہے۔ اس کی بنیاد زبان، ثقافت اور علاقائی شناخت پر ہے۔ سرائیکی زبان اور ثقافت کا دائرہ موجودہ انتظامی حدود سے بڑا ہے، اس لیے سرائیکی صوبے کی حدود متعین کرنا ایک الگ نوعیت کا سوال بن جاتا ہے۔اس نئے سرائیکی صوبے کو بھی ضرور بننا چاہیےمگر کسی نئے صوبے کے لیےایسے جغرافیائی اور آئینی تقاضے پورے کرنا ابھی باقی ہے۔عوامی راے کے مطابق سرائیکی بیلٹ کا تعین بھی ایک مشکل ترین مرحلہ ہے۔ایک بڑے صوبے کو تقسیم کرکے ایک اور بڑا صوبہ بنانا اور ایک اشرافیہ کے تسلط سے نکل کر دوسری اشرافیہ کو مسلط ہونے کا موقع دینا کچھ سمجھ میں نہیں آتا۔عوام اور حکومت کے درمیان انتظامی فاصلے اس بڑے صوبے میں بھی وہی رہیں گے جو موجودہ پنجاب میں دکھائی دیتے ہیں۔بہاولپور کا معاملہ اپنی نوعیت میں منفرد ہے اور ان دونوں سے مختلف بھی ہے بہاولپور محض پنجاب کا ایک جنوبی ضلع یا انتظامی ڈویڑن نہیں تھا۔ برصغیر کی تقسیم سے قبل یہاں ایک باقاعدہ ریاست موجود تھی، جس کی اپنی سیاسی، انتظامی اور معاشرتی تاریخ تھی۔ ریاست بہاولپور نے پاکستان کے ساتھ الحاق کیا اور قیامِ پاکستان کے ابتدائی برسوں میں اسے ایک الگ صوبائی اور انتظامی حیثیت بھی حاصل رہی۔ بعد ازاں ون یونٹ کے قیام کے ساتھ اس حیثیت کا خاتمہ ہوا۔ مگر ون یونٹ کے اختتام پر اسے پنجاب کا ایک ڈویڑن بنا دیا گیا۔یہی تاریخی پس منظر بہاولپور کے مطالبے کو ایک منفرد رنگ دیتا ہے۔ایک تاریخی شناخت اور سابق انتظامی حیثیت کی بحالی ہی بہاولپور صوبے کے حامیوں کا بنیادی موقف ہے کہ وہ کسی نئی شناخت کی تخلیق نہیں بلکہ اپنی سابقہ تاریخی شناخت اور سابقہ انتظامی حیثیت کی بحالی چاہتے ہیں۔ یہاں سوال صرف زبان کا نہیں، صرف جغرافیہ کا نہیں اور صرف ترقیاتی محرومی کا بھی نہیں؛ یہاں سوال تاریخ کا بھی ہے۔ بہاولپور کی اپنی تہذیب ہے، اپنی روایات ہیں، اپنا تاریخی ورثہ ہے اور ایک مخصوص علاقائی شعور ہے۔ بہاولپور کبھی پنجاب کا حصہ نہیں رہا وہ ایک الگ ریاست سے الگ صوبہ بن کر پاکستان کا خصہ بنا تھا۔دربار محل، نور محل، عباسی مسجد اور صادق گڑھ محل جیسے آثار محض عمارتیں نہیں بلکہ اس خطے کی ایک مکمل تاریخی داستان کے گواہ ہیں۔پاکستان بننے سے قبل بھی اس خطے کی معیشت مضبوط تھی اور ا?ج بھی یہ علاقہ اپنی مضبوط اور مستحکم معیشت رکھتا ہے۔یہاں کیونکہ پہلے بھی صوبائی دفاتر تھے اس لیے نئی تعمیرات کی ضرورت بہت کم پڑے گی۔علاقے کے لوگوں کے مسائل کم کرنے اور حکومت اور عوامی فاصلے کم کرنے میں یہ سابقہ بہاولپور صوبہ بحال ہوکر اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔بہاولپور سے حاصل کردہ ریونیو اور اخراجات کا موزانہ ہر شخص خود کر سکتا ہے جبکہ سب یہ بھی جانتے ہیں کہ بہاولپور میں ریوینیو بڑھانے کے مواقع ابھی بھی بہت زیادہ موجود ہیں جو اس صوبے کی معیشت کو مزید بہتر بنا سکتے ہیں۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ بہاولپور، ملتان اور ڈیرہ غازی خان سب جنوبی پنجاب کا حصہ ضرور ہیں۔ اسی طرح سرائیکی ثقافت اور زبان کا دائرہ کار بھی صرف بہاولپور تک محدود نہیں۔ اس لیے تینوں تصورات کو ایک ہی نام دے دینا شاید اس پیچیدہ مسئلے کو آسان بنانے کے بجائے مزید الجھا دیتا ہے۔ اصل ضرورت یہ ہے کہ بحث جذبات کے بجائے حقائق ،تاریخ ،انتظامی ضرورت اور عوامی راے کی بنیاد پر ہو۔اگر جنوبی پنجاب صوبہ بنتا ہے تو اس کی حدود کیا ہوں گی ؟ اور اگر سرائیکی صوبہ بنتا ہے تو اس کی حدود کیسے متعین ہوں گی ؟ اور اگر بہاولپور بحال ہوتا ہے تو اس کی تاریخی حدود اور انتظامی حیثیت کیا ہوگی؟ یہ سوال محض نقشے پر لکیریں کھینچنے سے حل نہیں ہوں گے۔ ان کے ساتھ آبادی، انتظامی ڈھانچے، وسائل، اسمبلی کی نشستیں، مالیاتی تقسیم، روزگار، تعلیم، صحت اور بنیادی سہولتوں کے سوال بھی جڑے ہوئے ہیں۔کوئی بھی نیا صوبہ صرف نام کی تبدیلی کرنے کا عمل نہیں ہونا چاہیے بلکہ اسے عوام کی زندگی میں انتظامی آسانی اور بہتر حکمرانی کا ذریعہ بننا چاہیے جسے عوامی حمایت بھی حاصل ہو۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ ایک صوبہ بڑا ہو یا چھوٹا، اس کی کامیابی کا اصل پیمانہ یہ ہے کہ عام آدمی کو سرکاری دفتر تک پہنچنے میں کتنی آسانی ہے، اس کے بچے کو معیاری تعلیم کہاں ملتی ہے، مریض کو علاج کے لیے کتنی دور جانا پڑتا ہے، کسان کو اپنی پیداوار کا مناسب معاوضہ ملتا ہے یا نہیں، اور ریاستی وسائل اس کی دہلیز تک پہنچتے ہیں یا نہیں؟۔ بہاولپور کی بحث میں تاریخ کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا، جنوبی پنجاب کی بحث میں انتظامی ضرورت کو اور سرائیکی صوبے کی بحث میں زبان و ثقافت کوسامنے رکھتے ہیں۔شاید مسئلےکا بہتر راستہ یہ طے کیا جاے کہ ہم صوبہ کیوں بنانا چاہتے ہیں ؟ پھر یہ فیصلہ کیا جاے کہ کون سا صوبائی ماڈل اس مقصد کو فوری اور بہتر طور پر پورا کرتا ہے۔کیونکہ صوبے نقشے پر بنتے ہیں اور صوبے عوام کی ضرورت ،تاریخ ،شناخت اور انتظامی حقیقت کو سامنے رکھ کر بنتے ہیں۔ اور بہاولپور کا سوال اس لیے بھی اہم ہے کہ یہ صرف ایک نئے صوبے کا سوال نہیں؛ یہ ایک ایسی تاریخی آواز ہے جو پوچھ رہی ہے کہ جو شناخت کبھی موجود تھی کیا اسے دوبارہ جگہ مل سکتی ہے ؟ فیصلہ بہرحال عوامی رائے، آئینی طریقہ کار اور پارلیمانی عمل کے ذریعے ہونا چاہیے۔ مگر فیصلہ کرنے سے پہلے تاریخ کو پڑھنا، جغرافیہ کو سمجھنا اور انتظامی حقائق کو جاننا ضروری ہے۔کیونکہ کبھی کبھی نقشے کی ایک لکیر صرف زمین تقسیم نہیں کرتی وہ تاریخ شناخت اور لوگوں کے احساس تعلق کو بھی چھوتی ہے۔در حقیقت صوبہ بہاولپور شناخت اور انتطامی یونٹ کے طور اس لیے زیادہ منفرد ہے کہ یہ تاریخ میں پہلے سے موجود صوبہ ہوتا تھا۔اسی لیے بہاولپور کی اکثریت اس کی بحالی پر زور دیتی ہے۔






