#کالم

عوامی معاشی ریلیف اور رابطوں کی نئی شروعات

mirza rizwan

مرزا رضوان

پاکستان کی سیاسی تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی ملک سنگین معاشی چیلنجز اور عوامی اضطراب کے دباو¿ میں آتا ہے، تو اقتدار کے ایوانوں اور سیاسی جماعتوں کے مابین رابطوں کی اہمیت دوچند ہو جاتی ہے۔ حالیہ دنوں میں وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف کا امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمن سے ٹیلی فونک رابطہ اور معاشی حالات پر گفتگو اسی سلسلے کی ایک اہم کڑی ہے۔ اس رابطہ کاری میں جہاں وزیرِ اعظم نے حکومت کی جانب سے معاشی طور پر کمزور اور متوسط طبقے کو پیٹرولیم مصنوعات پر ریلیف کی فراہم کی کوششوں کا ذکر کیا، وہیں دونوں رہنماو¿ں نے وزیرِ اعظم کے آئندہ دورے کے بعد تفصیلی ملاقات اور مشاورت کا سلسلہ جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔ یہ رابطہ بظاہر ایک سادہ سا سیاسی و سفارتی تعارف معلوم ہوتا ہے، لیکن موجودہ سیاسی اور معاشی منظر نامے میں اس کے اثرات اور معانی انتہائی گہرے ہیں۔اس وقت ملک جس سب سے بڑے مسئلے سے نبرد آزما ہے، وہ عام آدمی کی معاشی زبوں حالی اور کمر توڑ مہنگائی ہے۔ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں براہِ راست عام شہری کے کچن بجٹ، ٹرانسپورٹ کے کرایوں اور اشیائے خوردونوش کے نرخوں پر اثر انداز ہوتی ہیں۔ وزیرِ اعظم شہباز شریف کا ٹیلی فون پر حافظ نعیم الرحمن کو یہ باور کرانا کہ حکومت کمزور اور متوسط طبقے کو ریلیف دینے کے لیے کوشاں ہے، دراصل اس عوامی نبض کو محسوس کرنے کا اعتراف ہے جو اس وقت مہنگائی کے شدید دباو¿ میں ہے۔تاہم، عوامی سطح پر سوال یہ اٹھایا جاتا ہے کہ کیا بین الاقوامی مالیاتی اداروں کے ساتھ سخت معاشی معاہدوں اور بین الاقوامی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں کے اتر چڑھاو¿ کے درمیان حکومت کے پاس اتنا مالیاتی مارجن موجود ہے کہ وہ کوئی دیرپا ریلیف فراہم کر سکے؟ اکثر اوقات پیٹرول کی قیمتوں میں چند روپے کی کمی عارضی ثابت ہوتی ہے، جبکہ مہنگائی کا جو طوفان پہلے سے برپا ہو چکا ہوتا ہے، اس کے اثرات برقرار رہتے ہیں۔ اسی لیے اپوزیشن کی جماعتیں، بالخصوص جماعت اسلامی، اس عارضی ریلیف کو ناکافی قرار دیتی رہی ہیں۔حافظ نعیم الرحمن کی قیادت میں جماعت اسلامی نے حالیہ مہینوں میں عوامی مسائل، خصوصاً بجلی کے بھاری بلوں، آئی پی پیز (IPPs) کی ادائیگیوں اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں پر ایک مو¿ثر اور شدید احتجاجی مہم چلائی ہے۔ دھرنوں اور مارچ کے مطالبات نے حکومت کو سیاسی و انتظاماً دباو¿ میں ڈالا۔ امیر جماعت اسلامی کا بیانیہ محض روایتی سیاسی مخالفت تک محدود نہیں رہا بلکہ انہوں نے براہِ راست عام آدمی کے کچن، پیٹرول کے نرخوں اور بجلی کے بلوں کو اپنا بنیادی موضوع بنایا ہے۔اسی پس منظر میں وزیرِ اعظم کی جانب سے امیر جماعت اسلامی سے رابطہ کرنا اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ حکومت اپوزیشن کی جانب سے بڑھتے ہوئے عوامی دباو¿ کو گہرائی سے محسوس کر رہی ہے۔ حکومت چاہتی ہے کہ سیاسی محاذ آرائی کے بجائے معاشی موضوعات پر اپوزیشن کے ساتھ بات چیت کا راستہ کھلا رکھا جائے تاکہ عوامی ہیجان کو کم کیا جا سکے۔ٹیلیفونک گفتگو میں دونوں رہنماو¿ں کا اس بات پر اتفاق کہ وزیرِ اعظم کے دورے کی واپسی کے بعد باقاعدہ بالمشافہ ملاقات کی جائے گی، جمہوریت اور معاشی حکمت عملی کے لحاظ سے ایک مثبت پیش رفت ہے۔ پاکستان میں سیاسی مخالفین کے مابین بات چیت کا فقدان ہمیشہ جمہوریت اور اقتصادی استحکام کے لیے نقصان دہ ثابت ہوا ہے۔ اگر اقتدار میں بیٹھی جماعت اور اپوزیشن کی اہم مذہبی و سیاسی قوتیں ایک میز پر بیٹھ کر معاشی مسائل کا حل تلاش کرنے کی کوشش کریں، تو اس سے نہ صرف سیاسی درجہ حرارت میں کمی آئے گی بلکہ حکومت کو بھی عوامی ردِعمل اور زمینی حقائق کا بہتر اندازہ ہو سکے گا۔تاہم، اس مجوزہ ملاقات کی کامیابی کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ کیا یہ نشست محض ایک رسمی ‘فوٹو سیشن’ ثابت ہوتی ہے یا اس میں سے کوئی قابلِ عمل معاشی روڈ میپ نکلتا ہے۔ جماعت اسلامی کا موقف ہمیشہ یہ رہا ہے کہ حکومت کو غیر پیداواری اخراجات میں کمی، شاہانہ اخراجات کے خاتمے اور اشرافیہ پر ٹیکس عائد کرنے جیسے سخت فیصلوں کی طرف جانا ہوگا، تاکہ عام شہری کو حقیقی سانس لینے کا موقع مل سکے۔معاشی ماہرین کے مطابق پیٹرولیم مصنوعات پر عارضی سبسیڈی یا چند روپے کی کمی کوئی دائمی حل نہیں ہے۔ پاکستان کی معیشت کو اس وقت جن بنیادی چیلنجز کا سامنا ہے، ان میں برآمدات کی کمی، زر مبادلہ کے ذخائر پر دباو¿ اور ٹیکس نیٹ کو بڑھانے میں ناکامی شامل ہیں۔ جب تک حکومت بنیادی ساختار میں اصلاحات نہیں لاتی، تب تک درمیانے اور غریب طبقے کو ریلیف دینے کے دعوے ادھورے ہی رہیں گے۔پیٹرول پر ریلیف اگر چند روپے کا ہو لیکن اس کے ساتھ دیگر اشیائ کی قیمتیں مسلسل بڑھتی رہیں تو عام شہری کے لیے اس ریلیف کا فائدہ نا ہونے کے برابر رہ جاتا ہے۔ عوام اب محض بیانات کے بجائے عملی اور پائیدار معاشی نتائج دیکھنا چاہتے ہیں۔وزیرِ اعظم شہباز شریف اور امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمن کے مابین ٹیلی فونک رابطہ سیاسی محاذ آرائی کے اس دور میں ایک خوش آئند پیش رفت ہے۔ اس رابطے سے یہ امید پیدا ہوتی ہے کہ سیاسی قیادت ملک کے سنگین معاشی مسائل اور عوامی مشکلات کو حل کرنے کے لیے مذاکرات کی اہمیت کو تسلیم کر رہی ہے۔ لیکن اصل امتحان آنے والی ملاقات اور اس کے بعد سامنے آنے والے عملی اقدامات میں ہوگا۔ کیا حکومت واقعی ایسی معاشی پالیسیاں وضع کر پائے گی جو غریب اور درمیانے طبقے کو حقیقی اور مستحکم ریلیف دے سکیں؟ یا یہ رابطہ صرف ایک سیاسی حکمتِ عملی ثابت ہوگا؟ اس کا جواب آنے والا وقت اور دونوں رہنماو¿ں کی پیش رفت ہی دے گی۔

عوامی معاشی ریلیف اور رابطوں کی نئی شروعات

پردے کے پیچھے چھپی بساط

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے