حرام رزق : روحانی فیض کے حصول میں بڑی رکاوٹ
مرزا رضوان
انسان صرف مٹی کے پتلے اور گوشت پوست کے ڈھانچے کا نام نہیں، بلکہ اس کی اصل حقیقت وہ روح ہے جو عالمِ امر سے تعلق رکھتی ہے۔ جسم دنیاوی مٹی سے بنا ہے لہٰذا اس کی بقا مادی اشیائ اور غذا میں ہے، جب کہ روح کا تعلق ملکوت اور عرشِ بریں سے ہے، اس لیے اس کی بالیدگی، حیات اور سکونِ قلب کا دارومدار "روحانی فیض” اور نورِ الٰہی پر ہے۔ لیکن دورِ حاضر کا ایک بہت بڑا المیہ یہ ہے کہ انسان تمام تر مادی آسائشوں، ظاہری عبادات، اذکار اور مذہبی چہرے کے باوجود اندر سے کھوکھلا اور باطنی سکون سے محروم نظر آتا ہے۔ لوگ اکثر یہ شکایت کرتے ہیں کہ عبادات میں دل جمعی پیدا نہیں ہوتی، دعاو¿ں کی وہ تاثر ختم ہو چکی ہے جو اسلاف کے ہاں نظر آتی تھی، اور سالہا سال کی ریاضت کے باوجود باطن میں وہ صفائی اور انوار پیدا نہیں ہوتے جس کی تڑپ ہر سلیم الفطرت انسان کے دل میں ہوتی ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر اس باطنی جمود، بے حسی اور روحانی فیض سے محرومی کی بنیادی وجہ کیا ہے؟ اگر گہرائی سے جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوگا کہ اس تمام تر خرابی اور روحانی زوال کی سب سے ہولناک اور بنیادی رکاوٹ "رزقِ حرام” ہے۔انسانی وجود میں غذا کا کردار محض بھوک مٹانے تک محدود نہیں ہے۔ انسان جو لقمہ اپنے پیٹ میں ڈالتا ہے، وہ نظامِ ہضم سے گزر کر خون میں تبدیل ہوتا ہے اور وہی خون دل، دماغ اور جسم کے تمام اعضاء کو توانائی فراہم کرتا ہے۔ اسلام کی نظر میں غذا صرف جسمانی صحت کو متاثر نہیں کرتی، بلکہ اس کے اثرات انسان کے اخلاق، باطنی کیفیات اور روح پر بھی انتہائی گہرے ہوتے ہیں۔ اگر غذا حلال، پاکیزہ اور طیب ہو تو اس سے جو خون بنتا ہے، وہ دل میں نور، باطن میں لطافت، بصیرت اور عبادات میں رقت و حلاوت پیدا کرتا ہے۔ اس کے برعکس، جب ایک لقمہ حرام انسان کے حلق سے نیچے اترتا ہے، تو وہ باطنی دنیا میں تاریکی، قساوت (سنگ دلی) اور بے حسی کا سبب بنتا ہے۔ حضرت امام غزالی اور دیگر صوفیائے کرام فرماتے ہیں کہ رزقِ حرام دل کے آئینے پر ایک ایسا زنگ اور کثافت چڑھا دیتا ہے جو حق کی باتوں، رحمانی الہامات اور روحانی انوار کو قبول کرنے کی صلاحیت سلب کر لیتا ہے۔ قرآنِ کریم اور احادیثِ نبویہ میں رزقِ حلال کی اہمیت کو بیسیوں جگہ پر اجاگر کیا گیا ہے۔ اللہ تعالی نے قرآنِ مجید میں جہاں انبیائ ِ کرام علیہم السلام کو نیک اعمال کا حکم دیا، وہاں اس سے پہلے پاکیزہ روزی کھانے کا ذکر فرمایا: "اے رسولوں! پاکیزہ چیزیں کھاو¿ اور نیک عمل کرو۔” اس قرآنی ترتیب میں ایک عظیم حکمت پوشیدہ ہے کہ عملِ صالح کی توفیق اور عبادات کی قبولیت کا پہلا زینہ رزقِ حلال ہے۔ اسی طرح صحیح مسلم کی ایک طویل حدیث میں نبی اکرم ﷺ نے ایک ایسے شخص کا نقشہ کھینچا جو طویل سفر طے کرتا ہے، اس کے بال بکھرے ہوئے اور وہ گرد آلود ہے، وہ انتہائی عاجزی سے اپنے ہاتھ آسمان کی طرف اٹھا کر "یا رب! یا رب!” کی صدائیں لگاتا ہے—جو کہ بظاہر قبولیتِ دعا کے تمام اسباب کا مجموعہ ہے—لیکن آپﷺ نے فرمایا کہ اس کا کھانا حرام، اس کا پینا حرام، اس کا لباس حرام اور اس کی غذا حرام سے ہے، تو اس کی دعا کیسے قبول ہو سکتی ہے؟ یہ حدیثِ پاک اس بات پر نصِ صریح ہے کہ اگر کمائی حرام کی ہو تو گریہ و زاری اور آہوں کا اثر بھی زائل ہو جاتا ہے۔سلوک اور روحانیت کی راہ میں رزقِ حرام ایک ایسے حجابِ کثیف کی مانند ہے جو بندے اور رب کے درمیان حائل ہو جاتا ہے۔ روحانی فیض اور منازلِ باطن کی مثال ایک ایسی کشتی کی سی ہے جو سمندر میں تیر رہی ہو، اور رزقِ حرام اس کشتی کے پیندے میں سوراخ کی مانند ہے۔ آپ چاہے جتنی بھی شب بیداری کر لیں، چلوں میں بیٹھ جائیں، دلسوز نالے اور اوراد و وظائف کی کثرت کر لیں، لیکن اگر بنیاد میں حرام کا لقمہ شامل ہے تو تمام تر روحانی محنت رزقِ حرام کی تاریکی میں غرق ہو جائے گی۔ بزرگانِ دین کا قول ہے کہ حرام کھانے والے کا دل اس مردہ درخت کی طرح ہے جس پر باطنی فیض کی بہار کبھی اثر انداز نہیں ہو سکتی۔ حرام سے پرورش پانے والے اعضاء سے نیکی کا صدور مشکل اور گناہ کا ارتکاب آسان ہو جاتا ہے۔افسوس ناک بات یہ ہے کہ آج کے مادیت پرست دور میں ہم نے رزقِ حرام کے تصور کو صرف چوری یا ڈکیتی تک محدود کر دیا ہے، حالانکہ رشوت، سود، ملاوٹ، ناپ تول میں کمی، دھوکہ دہی، ناجائز منافع خوری، ملازمت میں کام چوری، اور حقوق العباد کی تلفی یہ سب رزقِ حرام کی مختلف شکلیں ہیں۔ لوگ اپنی حرام کمائی سے حج و عمرہ بھی کرتے ہیں، صدقہ و خیرات کی محفلیں بھی سجاتے ہیں اور زہد و تقویٰ کا مظاہرہ بھی کرتے ہیں، مگر وہ یہ بھول جاتے ہیں کہ پاک ذات صرف پاکیزہ چیز کو ہی قبول کرتی ہے۔ ناپاک مال سے کی گئی سخاوت یا عبادت کبھی باطنی نور کا ذریعہ نہیں بن سکتی۔اگر ہم واقعی اپنے باطن کو روشن کرنا چاہتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ ہماری دعاو¿ں میں تاثر اور عبادات میں حلاوت پیدا ہو، تو ہمیں اپنے ذرائعِ آمدن کا بے لاگ اور کڑا محاسبہ کرنا ہو گا۔ نفل عبادات اور اوراد و وظائف کی کثرت سے پہلے اپنے دامن کو حرام، مشتبہ اور ناجائز کمائی سے پاک کرنا ہوگا۔ توبہ و استغفار کے ساتھ ساتھ جن لوگوں کا حق مارا گیا ہے، ان کا حق لوٹانا ہوگا۔ جب انسان قناعت اختیار کرتا ہے اور چند روپوں کی خاطر اپنے ایمان اور باطن کا سودا نہیں کرتا، تو اس کے جسم میں دوڑنے والا حلال کا خون دل کو خدا کی یاد کے لیے بیدار کر دیتا ہے۔ رزقِ حلال کی برکت سے دل کا آئینہ شفاف ہوتا ہے اور اسی شفاف آئینے پر تجلیاتِ الٰہی کا عکس انوار بن کر چمکتا ہے، جس سے روحانی فیض کے وہ تمام بند دروازے خود بخود کھل جاتے ہیں جو عرصے سے حرام کی تاریکی کے باعث مسدود تھے۔






