#کالم

ایران اور امریکہ میں سیز فائر کس بنیاد پر؟

Untitdsdsled 1

احسان ناز

مشرقِ وسطیٰ کی سیاست ہمیشہ سے بارود کے ڈھیر پر کھڑی رہی ہے، لیکن حالیہ دہائیوں میں امریکہ اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی نے اس پورے خطے کو ایک ایسے موڑ پر لا کھڑا کیا ہے جہاں ذرا سی بھول چوک عالمی جنگ کا پیش خیمہ بن سکتی ہے۔ سفارتی راہداریوں میں آج کل ایک ہی سوال زیرِ بحث ہے: کیا دو ایسے ممالک جو دہائیوں سے ایک دوسرے کے شدید مخالف رہے ہیں، کسی باضابطہ یا غیر اعلانیہ سیز فائر (تارکِ جنگ) کی طرف بڑھ سکتے ہیں؟ اور اگر ایسا ممکن ہے، تو آخر اس کی بنیاد کیا ہو سکتی ہے؟ایران اور امریکہ کے تعلقات کی تاریخ 1979 کے انقلابِ ایران کے بعد سے شدید تناو¿ کا شکار ہے۔ گزشتہ چار دہائیوں سے دونوں ممالک کے درمیان براہِ راست اور بالواسطہ ٹکراو¿ جاری ہے۔ ایک طرف امریکہ کی معاشی پابندیاں اور سفارتی دباو¿ ہے، تو دوسری طرف ایران کا علاقائی اثر و رسوخ ہے۔ اس طویل چپقلش کے باوجود، بدلتی ہوئی عالمی معاشی اور جیو پولیٹیکل صورتحال دونوں فریقین کو کسی نہ کسی سطح پر لچک دکھانے پر مجبور کر رہی ہے۔اگر دونوں ممالک کے درمیان کسی ممکنہ سیز فائر کی بات کی جائے تو اس کی سب سے پہلی بنیاد ایران کا ایٹمی پروگرام اور عالمی سلامتی ہے۔ 2015 کا جوہری معاہدہ (JCPOA) ایک ایسا فریم ورک تھا جس نے ظاہر کیا کہ تہران اور واشنگٹن ایک میز پر بیٹھ کر معاہدہ کر سکتے ہیں۔ امریکہ چاہتا ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام پر مو¿ثر نگرانی قائم رہے، جبکہ ایران کا بنیادی مطالبہ ہے کہ اس کے ایٹمی حقوق کو تسلیم کیا جائے اور شفاف بنیادوں پر پابندیاں ختم کی جائیں۔دوسری اہم بنیاد سخت معاشی حقیقتیں ہیں۔ ایران کے لیے ان پابندیوں میں نرمی اور عالمی منڈی تک رسائی انتہائی ضروری ہے۔ دوسری جانب، امریکہ کے لیے بھی مشرقِ وسطیٰ میں مسلسل عسکری اور مالی سرمایہ کاری اب ایک بوجھ بنتی جا رہی ہے۔ واشنگٹن کی ترجیحات اب اندرونی معیشت اور چین و روس جیسے بڑے عالمی حریفوں سے مقابلے کی طرف منتقل ہو رہی ہیں، اس لیے تناو¿ کو کم کرنا خود امریکہ کی ضرورت ہے۔تیسری اور اہم بنیاد مشرقِ وسطیٰ میں پاکستان اور اسلام آباد کا ثالثی کردار ہے۔ تاریخی اور جغرافیائی طور پر پاکستان، ایران کا ہمسایہ اور امریکہ کا ایک اہم ستراتیڑک شریکِ کار ہے۔ موجودہ تناو¿ میں اسلام آباد کا موقف نہ صرف متوازن ہے بلکہ یہ پسِ پردہ سفارت کاری اور ثالثی (Facilitation) کا متحرک مرکز بنا ہوا ہے۔ پاکستان دونوں فریقین کے درمیان رابطے کا ایک غیر جانبدار پل قائم کر رہا ہے تاکہ خطے میں کسی بھی ممکنہ عسکری ٹکراو¿ کو روکا جا سکے۔ اسلام آباد معاہدے اور سفارتی کوششوں کا بنیادی مقصد یہی ہے کہ ایران اور امریکہ کے تحفظات کو باہمی مذاکرات کے ذریعے حل کیا جائے اور خلیج میں بحری راستوں اور توانائی کی منتقلی کو محفوظ بنایا جائے۔ پاکستان کا یہ کردار خطے کے امن کے لیے انتہائی وڑندار اور اہمیت کا حامل ثابت ہو رہا ہے۔چوتھی بنیاد بدلتی ہوئی عالمی جیو پولیٹیکل صورتحال ہے۔ چین اور روس کی مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی سفارتی موجودگی نے امریکہ پر دباو¿ بڑھایا ہے کہ وہ اپنے رویے میں لچک لائے۔ چین کی ثالثی میں ایران اور سعودی عرب کے سفارتی تعلقات کی بحالی اس بات کا ثبوت ہے کہ خطے کے ممالک اب تصادم کے بجائے مذاکرات کو ترجیح دے رہے ہیں۔خلاصہ یہ کہ ایران اور امریکہ کے درمیان کسی سیز فائر کی بنیاد محض اخلاقی اصولوں پر نہیں بلکہ سخت جیو پولیٹیکل اور معاشی مجبوریوں پر رکھی جا سکتی ہے۔ دونوں ممالک اس نقطے پر پہنچ چکے ہیں جہاں مکمل جنگ کا نقصان کسی بھی ممکنہ فتح سے کہیں زیادہ ہے۔ اگر امریکہ معاشی پابندیوں میں واضح نرمی کا راستہ اختیار کرے اور اسلام آباد جیسے پلیٹ فارمز کے ذریعے سفارتی مذاکرات کو آگے بڑھایا جائے، تو ایک پائیدار سیز فائر بالکل ممکن ہے۔سوال یہ ہے کہ کیا واشنگٹن اور تہران کے قائدین اتنی سیاسی بصیرت اور جرات کا مظاہرہ کر سکیں گے کہ اسلام آباد کی ان سفارتی کوششوں کا مثبت استعمال کرتے ہوئے خطے کو ایک نئی جنگ سے بچا سکیں؟ وقت اس کا جواب جلد دے گا۔

ایران اور امریکہ میں سیز فائر کس بنیاد پر؟

پانی کی اہمیت

ایران اور امریکہ میں سیز فائر کس بنیاد پر؟

01/08/2026 Daily Sarzameen Lahore

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے