مذاکرات کا دوسرا دور ‘ مثبت اشارے
اج کا اداریہ
وفاقی دارلحکومت اسلام أباد میں جہاں ایک طرف ایران اور امریکہ کے درمیان بات چیت کے دوسرے دور کیلیے انتظامات ہورہے ہیں تو وہاں دوسری جانب ایرانی حکام کے بیانات کے بعد شکوک کے بادل منڈلانے لگے ہیں لیکن اس تناظر میں جاری تیاریوں میں کوئی کمی نہیں دیکھی گئی ہے۔
ایک طرف جہاں امریکی وفد کی آمد سے قبل راولپنڈی کے نور خان ایئربیس پر امریکی طیاروں کی آمد کا سلسلہ جاری ہے تو دوسری طرف اسلام آباد کا ریڈ زون سخت حفاظتی حصار میں ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اتوار کو اعلان کیا تھا کہ ان کے نمائندے پیر کو پاکستان پہنچ جائیں گے تاہم ایران نے پیر کی صبح کہا ہے کہ اس نے امریکہ سے مذاکرات کے دوسرے دور کے لیے وفد بھیجنے کا ابھی تک فیصلہ نہیں کیا ہے۔
ایرانی دفتر خارجہ کے ترجمان کے اس بارے میں بیان کے باوجود امریکہ اور ایران کے درمیان اسلام آباد میں مذاکرات کے اس دوسرے دور کے حوالے سے سکیورٹی کے انتظامات کو حتمی شکل دے دی گئی ہے جو21 اپریل کو شروع ہونے کا امکان ظاہر کیا جا رہا تھا۔ان مذاکرات کے دوسرے دور کے حوالے سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے یہ بھی کہا تھا کہ اگر دونوں ممالک کے درمیان معاہدہ طے پا جاتا ہے تو وہ پاکستان جا سکتے ہیں۔ ان کے اس بیان کے بعد سکیورٹی انتظامات میں مزید اضافہ کر دیا گیا ہے
پاکستان کی جانب سے تاحال یہ واضح نہیں کیا گیا کہ بات چیت کہاں اور کب ہو گی تاہم مذاکرات کے پہلے دور کو مدِ نظر رکھا جائے تو بظاہر یہی لگ رہا ہے کہ پہلے دور کی طرح اسلام آباد کے ریڈ زون میں واقع سرینا ہوٹل ہی وہ مقام ہو گا جہاں دونوں ممالک کے نمائندے مل بیٹھیں گے۔
بات چیت کے پہلے دور میں جہاں سرینا ہوٹل امریکی وفد کی میزبانی کر رہا تھا وہیں ایرانی وفد کو ریڈ زون میں ہی واقع میریٹ ہوٹل میں ٹھہرایا گیا تھا اور اس بار بھی یہ دونوں ہوٹل حکومتِ پاکستان کی جانب سے حاصل کر لیے گئے ہیں۔ان دونوں ہوٹلوں میں مقیم مہمانوں کو اتوار کی سہ پہر تک کمرے خالی کرنے کے لیے کہہ دیا گیا تھا۔سرینا چوک سے میریٹ چوک تک کا علاقہ یعنی شہر کا ریڈ زون جسے مذاکرات کے پہلے دور کے موقع پر توسیع دے کر زیرو پوائنٹ سے فیصل مسجد تک بڑھا دیا گیا تھا بدستور ایک چھاؤنی کا سا منظر پیش کر رہا ہے۔ اس علاقے میں غیر متعلقہ افراد کا داخلہ منع ہے اور سکیورٹی کے انتظامات پاکستانی فوج نے سنبھالے ہوئے ہیں جس کی معاونت کے لیے اسلام آباد، پنجاب پولیس اور رینجرز کے جوان بھی تعینات ہیں۔پنجاب کے مختلف اضلاع سے لگ بھگ چھ ہزار افسران اور اہلکاروں پر مشتمل نفری کو راولپنڈی، اسلام آباد طلب کیا گیا ہے، جن میں ایلیٹ فورس کے 200 سنائپرز بھی شامل ہیں۔
پاکستان جانے کے حوالے سے پوچھے گئے سوال کا جواب دیتے ہوئے ٹرمپ نے بتایا کہ ‘شاید میں بعد میں کسی اور تاریخ کو چلا جاؤں۔ ہمیں دیکھنا پڑے گا کہ أگےکیا ہوتا ہے۔دوسری جانب ایران کی جانب سے مذاکرات کے لیے ٹیم کے ناموں کا اعلان تو دور کی بات، خود مذاکرات میں شرکت کے حوالے سے بھی مثبت جواب نہیں دیا گیا ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف کی اتوار کو ایران کے صدر مسعود پزشکیان سے ٹیلی فون پر بات چیت کے بعد وزیراعظم ہاؤس نے اس گفتگو کا جو اعلامیہ جاری کیا، اس میں یہ تو درج ہے کہ دونوں رہنماؤں نے خطے کی موجودہ صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا لیکن پاکستان میں ایران امریکہ مذاکرات کے متوقع دوسرے دور سے متعلق کوئی بھی تفصیلات نہیں دی گئیں۔
اسی دورانامریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ ڈیل کی امید ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ جلد بازی میں کوئی بُری ڈیل نہیں کریں گےامریکی صدر نے ڈیل ہونے تک ایران کی بحری ناکہ بندی بھی برقرار رکھنے کا اعلان کردیا اور بتایا کہ جے ڈی وینس، اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کُشنر آج اسلام آباد جا رہے ہیں۔
صدر ٹرمپ نے کہا ایران سے جو معاہدہ کرنے جا رہے ہیں وہ اوباما کے جوہری معاہدے سے بہتر ہو گا، دنیا فخر کرے گی، امریکی صدر نے خبردار کیا کہ بدھ تک ڈیل نہ ہوئی تو جنگ یقینی ہے۔
امریکی صدر نے ایران کے ساتھ ڈیل کیلئےکسی دباؤ میں ہونے سے متعلق میڈیا میں آنے والی خبروں کو غلط قرار دیا۔صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ وہ جنگ بہت بڑے پیمانے پر جیت رہے ہیں، فیک نیوز میڈیا ایران کی جیت کی دعائیں کر رہا ہے لیکن ایسا نہیں ہوگا۔
جہاں تک ایران ۔امریکہ مذاکرات کا تعلق ہے تو اس ضمن میں مثبت اشارے ملے ہیںبرطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز نے سینئر پاکستانی عہدیدار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایران کی جانب سے اسلام آباد مذاکرات سے متعلق مثبت اشارے ملے ہیں۔ رائٹرز کے مطابق پاکستانی عہدیدار نے بتایا کہ انہیں امید ہے ایران امریکاکے ساتھ مذاکرات میں شرکت کرے گا۔رائٹرز کے مطابق ایک سینئر پاکستانی سرکاری عہدیدار نے بتایا کہ ایران کی جانب سے مثبت اشارے موصول ہوئے ہیں، عہدیدار کے مطابق صورتحال کے پیش نظر کوشش کی جا رہی ہے کہ ایران کل یا ایک دو روز میں شروع ہونے والے مذاکرات میں شامل ہو جائے۔
رائٹرز نے ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان اس وقت تہران اور واشنگٹن دونوں کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے تاکہ بات چیت کا عمل آگے بڑھایا جا سکے۔






