ڈاکٹر یونس خیال کی ” خیالات” پر اظہار خیال
تحریر : فیصل زمان چشتی
تخلیق اور تنقید ساتھ ساتھ چلتے ہیں تخلیق کو جب تک تنقید نکھارتی نہیں ہے اس کا اصل رنگ و روپ سامنے نہیں آتا دونوں کا چولی دامن کا ساتھ ہے تنقید کے لفظی معنی پرکھ، پرچول اور چھان بین کے ہیں اصطلاحی معنوں میں ایسی رائے جو صحیح اور غلط میں فرق واضح کر دے تنقید کہلاتی ہے اس کا مطلب دو برابر حصوں میں تقسیم کرنے سے بھی لیا گیا ہے کہ مثبت اور منفی پہلو بیان کرنا یعنی پورا پورا انصاف کرنا تنقید کو بعض اوقات صرف منفی مفہوم کے تناظر میں بھی دیکھا جاتا ہے حالانکہ بنیادی طور پر یہ مثبت مفہوم کا حامل ہے اردو شاعری میں تنقید صحیح معنوں میں الطاف حسین حالی سے شروع ہوئی۔ حالی نے شاعری ، ادب ، سماج ،اخلاق ، زندگی، غزل اور نظم کے متعلق اصول وضع کیے۔
تنقید مغرب سے آئی اور اس سے پہلے بھی کچھ تنقیدی کام ہو رہا تھا مگر اصول وضع نہ تھے مغرب میں تنقید نے کئی پہلو بدلے اس کا اثر ہمارے ہاں بھی ہوا یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ تنقید کے مفہوم ، منصب، اس کی ضرورت، اس کی شرائط اور خصوصیات پر مزید کام کرنے کی اشد ضرورت ہے ادب میں تنقید کیا ہے اور ادب اور زندگی میں اس کی کیا اہمیت ہے ان باتوں کو واضح کرنے کی جتنی آج ضرورت ہے اتنی پہلے کبھی نہ تھی اردو میں تنقید میں کمی کی وجہ سے اسے ہمیشہ دوسرے درجے کی چیز سمجھا گیا ہمارے ہاں اردو ادب میں تنقید چونکہ مغرب سے مستعار لی گئی اس لیے سارا کام کاپی پیسٹ سے چلتا رہا اور بظاہر بڑے بڑے نامور نقاد کاپی پیسٹ کی لت کا شکار رہے ۔ دورحاضر میں اس اشد ضرورت کو محسوس کرتے ہوئے ایک نام نابغہ ء روزگار شخصیت، نامور اور ممتاز شاعر اور نقاد و محقق جناب ڈاکٹر فرحت عباس شاہ کا ہے جنہوں نے اردو کی چار سو سالہ تاریخ میں پہلی مرتبہ تنقید کی تھیوری پیش کی ہے اور "اردو کا ادراکی تنقیدی دبستان ” کے نام سے ایک تاریخ ساز کتاب سامنے لائے ہیں جو پچھلے سالوں سے مختلف جامعات اور ادبی حلقوں میں زیر بحث ہے اور اسے تنقید کے میدان میں تازہ ہوا کا جھونکا قرار دیا جا رہا ہے یہ بہت بڑا اور اہم کام تھا فرحت عباس شاہ کی علمی و تنقیدی بصیرت اور ادب سے بے لوث محبت کی وجہ سے ممکن ہوا جس سے تنقید کے میدان میں کئی در وا ہوئے اور آئندگان کو اپنی تہذیب ،روایات، کلچر اور سماج کے مطابق راستے نظر آئیں گے ۔
اتنی لمبی تمہید کا مقصد عہد موجود کے نامور شاعر و ادیب اور نقاد و دانشور جناب ڈاکٹر یونس خیال کی تنقیدی مضامین پر تازہ کتاب "خیالات” کی اہمیت اور افادیت بیان کرنا تھا "خیالات” ڈاکٹر یونس خیال کے خیال و فکر, فہم و فراست اور شعور ادراک کی چشم دید گواہ ہے اور ان کی علمی و ادبی اور تنقیدی بصیرت کا کھلا ثبوت بھی . "خیالات ” ہمیں بتاتی ہے کہ ڈاکٹر یونس خیال ادب سے کتنے مخلص ہیں اور اس سے متعلق کتنے فکرمند رہتے ہیں ڈاکٹر یونس خیال کی پوری زندگی شعر و ادب کی غلام گردشوں میں بسر ہوئی ہے اور ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ پوری زندگی ادب ان کا اوڑھنا اور بچھونا رہا ہے ان کی اس کتاب میں لکھا ہوا ہر مضمون ، ایک ایک سطر اور ایک ایک لفظ ہمارے لیے قابل فکر اور مشعل راہ ہے ۔
ڈاکٹر یونس خیال رقمطراز ہیں کہ "کسی تخلیق کو بنیاد بنا کر تخلیق کار کی دریافت کا عمل اگرچہ مشکل کام ہے لیکن ہو پائے تو تخلیق کار کے فکری اور نفسیاتی جہان تک رسائی کے مراحل آسان ہو جاتے ہیں تخلیق کی پرتیں، حسی رویےاور حدود کا تعین کرنے میں قاری کے نظریے اور زاویے مختلف ہو سکتے ہیں لیکن اچھے تخلیق کار کا عکس کسی نہ کسی طور پر تخلیقی حسن میں جھلکتا ضرور ہے”.
ڈاکٹر یونس خیال سنجیدہ ادبی حلقوں میں نہایت عزت و تکریم سے دیکھے جاتے ہیں ماضی کے بڑے بڑے نام ان کے حلقہ احباب میں شامل رہے اس لیے ان نابغہ روزگار شخصیات کی صحبتوں کا عکس بھی ان کی شخصیت اور تحریروں میں دیکھا جا سکتا ہے۔
ڈاکٹر یونس خیال صرف ایک ادبی شخصیت ہی نہیں بلکہ اپنی ذات میں ایک انجمن ہیں ، ایک ادارہ ہیں اور ادب کی عملی آبیاری کے لیے ہر وقت تیار رہتے ہیں ۔ بڑوں کی تکریم اور جونیئرز سے پیار و محبت کا ان کا انداز لائق تحسین، قابل رشک اور قابل تقلید ہے ۔ ان کا ہمارے درمیان موجود ہونا ایک غنیمت ہے۔ ہمیں ہر لمحے ان کے اقوال، ان کے انداز اور ان کے خیال و فکر سے سیکھنا چاہئیے تاکہ ہم ان کی ادبی فیوض و برکات سے حقیقتاً مستفید ہو سکیں۔ اور آج مجھے یہ بھی کہنے دیجیے کہ ہم”عہد خیال” میں زندہ ہیں۔ ڈاکٹر یونس خیال کی "خیالات ” 24 تنقیدی مضامین اور پانچ ادبی کالمز پر مشتمل ہے جس میں انہوں نے اپنی علمی و ادبی ریاضت کا نچوڑ بیان کیا ہے اس سے ہمارے ہاتھ وہ خزانہ آیا ہے جو صاحبان عقل و شعور اور صاحبان فہم و دانش کے لیے معرفت کا وہ چشمہ ہے جو سب کی علمی و تحقیق پیاس بجھانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
حقیقی تنقید ، تخلیق کو بنیاد بنا کر تخلیق کار کو دریافت کرنے کا وہ عمل ہے جس سے تخلیق اور تخلیق کار دونوں ایک نئے انداز سے قاری کے سامنے اتے ہیں اور نقاد تخلیق کی وہ پرتیں کھولتا ہے وہ جہتیں سامنے لاتا ہے جس سے دونوں کا قد کاٹھ اور مرتبہ اونچا ہو جاتا ہے اس لیے نقاد کی تخلیق اور قاری کے درمیان حیثیت ایک پل کی سی ہے۔ اس ضمن میں ڈاکٹر یونس خیل لکھتے ہیں کہ "اچھی تنقید لکھنے کے لیے ایک متوازن اور مخصوص تنقیدی مزاج کا ہونا بہت ضروری ہے نقاد بادشاہ یا قاضی نہیں ہوتا کہ جو فن پارے کے بارے میں حکم صادر کرے یا فتوے بانٹے بلکہ






