#بغیر زُمرہ

پاکستانی ادب کے معمار: ڈاکٹر شیخ محمد اقبال شخصیت اور فن فارسی شاعری قسط:25

Untitled 13

(شاہد بخاری)
اس میں کلام نہیں کہ تفہیم شعرو ادب کے لئے فارسی زبان کا جاننا انتہائی ناگزیر ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ غزل ہمیں فارسی زبان ہی سے ودیعت ہوئی ہے اور پھر اردو زبا ن کی ڈکشن فارسی سے بے حد متاثر ہے۔ اردو میں فارسی کا کم و بیش ہر لفظ ہی استعمال ہوتا ہے۔یہ ہندوستان کی سرکاری زبان رہی ہے پھر یورپی مصلحتوں کے باعث اسے ختم کر دیا گیا اور پھر ایران بھی کوئی ایسی طاقت نہ بن سکا کہ لوگ فارسی سیکھتے رہتے۔ آہستہ آہستہ فارسی کا چلن ختم ہو گیا لیکن یاد رکھنا چاہیے کہ اردو نظم و نثر کی کماحقہٗ تفہیم ممکن ہی نہیں جب تک کہ قاری کو فارسی زبان کی تفہیم نہ ہو۔
جب ڈاکٹر اقبال نے پڑھنا شروع کیا اس وقت فارسی سکولوں اور کالجوں میں باقاعدہ پڑھائی جاتی تھی اور ایک بڑی تعداد فارسی پڑھتی تھی کیونکہ روایات جلد ختم نہیں ہوتیں اور پھر فارسی کی اہمیت سے بھی انکار کرنا ممکن نہیں تھا نہ اب ممکن ہے۔ شیخ اقبال کے والد ریاضی کے علاوہ سکول میں فارسی بھی پڑھاتے تھے اس لئے شیخ صاحب کو فارسی سیکھنے میں زیادہ دقت نہیں ہوئی۔ فارسی ہے بھی خاص شیریں اور شستہ زبان۔ انہوں نے میٹرک اور ایف اے میں فارسی باقاعدہ پڑھی، بی اے میں فارسی کو آپشنل مضمون کے طو رپر پڑھا اور ایم اے اردو میں تو انہیں فارسی شعراء کا مطالعہ کرنا ہی تھا اور پھر اقبالیات کے حوالے سے اقبال کی تفہیم فارسی شعرو ادب کے بغیر ممکن ہی نہیں تھی، اس لئے ڈاکٹر صاحب نے اقبال کا سارا فارسی کلام پڑھا کیونکہ ان کی پی ایچ ڈی کا موضوع بھی اس کا متقاضی تھا جو یہ تھا:
”The Impact of British poets on Iqbal“تو بھلا فارسی پڑھے بغیر اقبال پر انگریزی شعراء کے تاثرات کا کھوج کیسے لگایا جا سکتا تھا۔ پھر ہم سب جانتے ہیں کہ اصل شاعر جس کی شاعری دل سے پھوٹتی ہو اور روح سے بلند ہوتی ہو وہ زبان کی سرحدوں پر یقین نہیں رکھتا۔ہر ادب اسے اپنی طرف کھینچتا ہے اور وہ کھنچتا چلا جاتا ہے لیکن انگریزی اور فارسی کے حوالے سے ہمارا المیہ یہ رہا ہے کہ اس کے قاری بہت کم ملتے ہیں یا ملتے ہی نہیں۔یہی وجہ ہے کہ انگریزی کا طالب علم ہونے کے باوجود ڈاکٹر اقبال کی انگریزی شاعری کی طرف توجہ بہت تاخیر سے ہوئی لیکن المیہ اب تو یہ ہے کہ کچھ انگریزی سمجھنے والے تو مل جاتے ہیں لیکن فارسی زبان کو سمجھنے والوں کی تعداد شایدانگلیوں پر گنی جا سکتی ہے۔نہ تو فارسی سننے والا رہا ہے نہ پڑھنے والا۔ جو ہوں گے ان میں بھی اشتراکِ ذہنی موجود نہیں۔با ایں ہمہ جانے کیسے ڈاکٹر اقبال سے فارسی کی چند غزلیں ہو گئیں شاید ایسے ہی جیسے اردو اور انگریزی شاعری ہو گئی۔یہ سب قدرت کی دین ہے ایک ذہنی لگاؤ ہے جو از بس اپنی جولانیاں دکھانے لگتا ہے۔
ڈاکٹر صاحب کے سوانح نگارتصور اقبال لکھتے ہیں:
”جس طرح اردو اور انگریزی میں ڈاکٹر صاحب نے خوبصورت شاعری تخلیق کی ہے اسی طرح پنجابی اور فارسی میں بھی اپنے احساسات و جذبات کا کھل کر اظہار کیا ہے،گو ڈاکٹر صاحب کا پنجابی اور فارسی کلام مقدار میں کم ہے لیکن تھوڑا اور ستھرا کے مصداق معیار پر پورا اترتا ہے اور یہی اچھے کلام کی خوبی ہے، اردو کی طرح پنجابی اور فارسی میں بھی ڈاکٹر صاحب نے صحتِ زبان کا بہت خیال رکھا،کہیں بھی گھسے پٹے اور لایعنی الفاظ استعمال نہیں کئے بلکہ انتہائی سادہ اور عام فہم الفاظ منتخب کئے جو ایک عام قاری کی سمجھ میں بھی آ جاتے ہیں۔ میرے نزدیک الفاظ کا چناؤ ہی خوبصورت اور بامقصد شاعری کاموجب ہے……….. اردو، انگریزی اور پنجابی کلام کی طرح آپ کی فارسی شاعری میں بھی عشق، محبت اور رفاقت کے نازک جذبات جہاں سر اٹھاتے نظر آتے ہیں وہیں زندہ عناصر ِفطرت، فطرت کے مظاہر اور مافوق الفطرت عناصر ایک ساتھ خوبصورت فضا کو جنم دیتے ہیں، ڈاکٹر صاحب اپنا تعلق نہ صرف اپنی ذات کے ساتھ استوار رکھتے ہیں بلکہ دوسروں کو بھی اس تعلقِ خاطر کے ساتھ جوڑے رکھنے کی سعی کرتے ہیں اور وہ اس میں خاصے کامیاب ہیں، موصوف جس راہ پر چل کر آئے ہیں بالخصوص بصارت سے محروم شخص تو اس کا تصور بھی نہیں کر سکتا، آپ نے زندگی کو اپنے تابع کیا، کل کو آج اور آج کو کل کی آب وتاب کے ساتھ جاری و ساری رکھا“
نمونہ کلام:
حدیثِ دل شنیدن زندگی است
بچشمِ شوق دیدن زندگی است
اگر پرواز را مقصود دانی
بے بال و پر پریدن زندگی است
سرودن نغمہئ دل جاں نواز است
با آہِ دل تپیدن زندگی است
مبیں سوئے گلستانِ رقیباں
بدشتِ خود دمیدن زندگی است
اگر شوقِ سفر داری ماندیش
بہ منزل خود رسیدن زندگی است
صبا محتاجِ فصلِ گل نہ باشد
بہ موجِ خود وزیدن زندگی است
اگر خواہی حدیثِ دل بگویم
جہانے آفریدن زندگی است
یک خواہشِ بے کار مرا زندگی بخشید
خوابِ دلِ لاچار مرا زندگی بخشید
دیوانگیئ قلب و نظر چیزے دگر است
در گلشنے یک خار مرا زندگی بخشید
بے مصرف و بیکار ہمہ حکمت و دانش
یک نطقِ لبِ یار مرا زندگی بخشید
من بے کس و بے چارہ در ایں رونقِ گیتی
ایں قوتِ اظہار مرا زندگی بخشید
بیگانہ ز ہر لذتِ غم بود دلِ من
صد شکر کہ انکار مرا زندگی بخشید
ایں گلشن و گلزار مرا ہیچ ندانند
نظّارہ سرِ دار مرا زندگی بخشید
یک مرگ کہ تاحال فراموش نہ کردم
یک مرگ کہ یک بار مرا زندگی بخشید
٭٭٭٭
نگاہے بر دلِ من مہرباں شُد
زمینِ جاں فرازِ آسماں شُد
بہ صحنِ چشمِ دل مہتاب آمد
شبِ تاریک مستِ کہکشاں شُد
شکستہ شُد حسیں خوابے کہ دیدم
زمین و آسماں وہم و گماں شُد
بہ فیضِ نکہتِ بادِ تمنا
رہے قدمے نہادم گلستاں شُد
جواں گشتم بہ بزمِ نوجواناں
جہانِ رنگ و بو فصلِ خزاں شُد
قیامت بود آں وقتِ جدائی
سکوتِ جسم و جاں اشکِ رواں شُد
نمی دانم کہ ایں چہ حادثہ است
کہ یک شامِ تمنا داستاں شُد

پاکستانی ادب کے معمار: ڈاکٹر شیخ محمد اقبال شخصیت اور فن فارسی شاعری قسط:25

09/04/2026 Daily Sarzameen Lahore

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے