پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر اپوزیشن کا دھرنا
أج کا اداریہ
اسلام آباد پولیس نے پارلیمنٹ لاجز کے سامنے اہلکاروں سے ہاتھا پائی اور جھگڑا کرنے پر تحریک انصاف کے 6 اراکین اسمبلی کو گرفتار کرلیا۔
اسلام آباد پولیس ذرائع کے مطابق پارلیمنٹ لاجز کے باہر اہلکاروں سے ہاتھا پائی اور دست درازی کرنے والے تحریک انصاف کے 2 اراکین قومی اسمبلی اور چار صوبائی اسمبلی کو گرفتار کیا گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق گرفتارہونیوالوں میں ایم این اے شفقت اعوان اور ایم این اے عمر اسلم شامل ہیں۔ اس کے علاوہ ایم پی اے رفعت شاہ، سرفراز ڈوگر، ملک اسد اور طیب راشد کو بھی گرفتار کیا گیا ہے
پولیس کے مطابق ملزمان کے خلاف دہشت گردی، اقدام قتل سمیت 11 دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ ملزمان پر ہنگامہ آرائی،پولیس اہلکاروں پر فائرنگ،اسلحہ چھیننے اور سنگین نتائج کی دھمکیاں دینے کے الزامات ہیں
قبل ازیں اپوزیشن اتحاد (تحریک تحفظ آئین پاکستان) نے کہا تھا کہ مطالبات پورے ہونے تک پارلیمنٹ ہاؤس کا دھرنا جاری رہے گا۔
اپوزیشن اتحاد کے اجلاس کے بعد تحریک انصاف کے رہنما اسد قیصر کی پارلیمنٹ ہاؤس میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہماری مشاورت جاری ہے کہ اگلا لائحہ عمل کیا ہوگا۔
نہوں نے کہا کہ ہم نے مطالبات پورے ہونے تک دھرنا جاری رکھنے کا فیصلہ کیا ہے، ہمارا مطالبہ ہے کہ بانی پی ٹی آئی کے ذاتی معالج کو ان سے ملنے دیا جائے۔
اسد قیصر نے کہا کہ پارٹی رہنماؤں اور فیملی کی بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کروائی جائے۔ اپوزیشن اتحاد کے فیصلے کے بعد پارلیمنٹ کے باہر پھر سے دھرنا شروع کر دیا گیا جس میں پارلیمنٹیرنز نے مرکزی دروازے پر نعرے بازی کی
اسلام آباد میں اپوزیشن جماعتوں کے احتجاج نے سیاسی درجہ حرارت مزید بڑھا دیا ہے جہاں اپوزیشن اراکینِ پارلیمنٹ نے پارلیمنٹ ہاؤس اور کے پی ہاؤس میں احتجاجی دھرنے جاری رکھے ہوئے ہیں۔
پارلیمنٹ ہاؤس کے اندر اپوزیشن کے متعدد رہنما موجود ہیں جن میں اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی، راجہ ناصر عباس اور بیرسٹر گوہر سمیت دیگر اراکین شامل ہیں۔ رہنماؤں کا کہنا ہے کہ وہ اپنے مطالبات کی منظوری تک احتجاج جاری رکھیں گے۔
اپوزیشن لیڈر محمود اچکزئی نے کہاکہ 100 سے زائد اراکین پارلیمنٹ کو آپ یہاں قیدی بنا کر رکھے ہوئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہم دھمکیاں دینے والے نہیں حکومت رابطہ کرے یا نہ کرے دھرنا جاری رہے گا، مطالبات نہ مانے گئے تو رمضان میں بھی دھرنا جاری رہے گا، یہیں پر روزے بھی رکھیں گے اور تراویح بھی پڑھیں گے۔
انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم کو اپوزیشن لیڈر کی حیثیت سے 3 ڈاکٹرز کے ناموں پر مشتمل خط لکھا تھا جبکہ وزیر اعظم نے اس پر کچھ بھی نہیں کیا
دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی سیکرٹری جنرل وقاص اکرم شیخ نے کہا ہے کہ پارٹی کی قیادت کسی بھی وقت اسلام آباد کی جانب مارچ کی کال دے سکتی ہے۔
پشاور پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پی ٹی آئی کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات شیخ وقاص اکرم کا کہنا تھا کہ آج کا دن پی ٹی آئی کے لئے بڑا اہم دن ہے، بانی پی ٹی آئی کی صحت کے حوالے سے سلمان صفدر کی رپورٹ سے قوم پریشان اور سراپا احتجاج ہے۔
انہوں نے کہا کہ آنکھ کے معائنے کے دوران فیملی کی عدم موجودگی سے تکلیف پہنچی ہے اور کتابوں کے حوالے سے ڈاکٹرز کی رائے لینے کی بات سے بھی تکلیف پہنچی ہے، 24 گھنٹے ہونے کے باوجود عدالت نے کوئی تحریری حکم نامہ جاری نہیں کیا۔
شیخ وقاص اکرم نے کہا کہ آنکھ کے علاج کے دوران اہلخانہ کی موجودگی ضروری ہے، سپریم کورٹ کے فیصلے سے تکلیف پہنچنے کے باوجود فیصلہ قبول ہے۔ یہ ایک ناقابل سزا جرم ہے جس کی سزا صوبائی اور وفاقی حکومت کو ضرور ملے گی
انہوں نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی نے صحت کارڈ کے ذریعے کروڑوں لوگوں کو صحت سہولیات دیں لیکن بانی پی ٹی آئی کو تین ماہ تک آنکھ کے قطروں پر رکھا گیا، یہ سب بانی پی ٹی آئی کے ساتھ نہیں بلکہ عوام کے ساتھ کیا جا رہا ہے۔ بانی پی ٹی آئی کا فوری طور پر ذاتی معالج سے علاج کروایا جائے اور وزیر جیل خانہ جات کے خلاف مقدمہ درج ہونا چاہیے۔
شیخ وقاص اکرم نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کی بینائی ختم ہونے کی ذمہ دار یہ فارم 47 کی حکومت ہے، ایک جیلر کی کیا حیثیت ہے کہ وہ ایک سابق وزیراعظم کا علاج نہ کروائے۔ کیا بانی پی ٹی آئی کو اسپتال لے جانے کے بعد وہاں داخل نہیں کروایا جا سکت، یہ حکومت اپنے لیے مسائل پیدا کر رہی ہے
ان کہنا تھا کہ آج ملک بھر میں احتجاج ہو رہا ہے اور قوم نماز جمعہ میں بانی پی ٹی آئی کے لیے دعا کرے، یہ حکمران ایک عذاب کی صورت میں عوام پر مسلط ہو چکے ہیں لیکن بانی پی ٹی آئی نواز شریف کی طرح عوام کو انگوٹھا دکھا کر جانے والے نہیں۔ کور کمیٹی کے اجلاس میں تمام اراکین نے شدید ردعمل کا اظہار کیا اور امید ہے کہ سپریم کورٹ کا حکم نامہ جلد جاری ہوگا۔
کے پی حکومت بانی پی ٹی آئی کی تصویر کی مرہون منت ہے، بانی پی ٹی آئی کی تکلیف پر صوبے کے عوام کو تکلیف ہوتی ہے۔ کسی بھی وقت اسلام آباد مارچ کا اعلان کر سکتے ہیں کیونکہ کور کمیٹی اجلاس میں اراکین نے اسلام آباد مارچ کی رائے بھی دی ہے۔ بانی پی ٹی آئی کی بہنوں سے کسی رکن کو کوئی شکایت نہیں-
یادرہے بانی تحریک انصاف عارضہ چشم میں مبتلا ھیں ۔حکومت ان کاپمز سے چیک اپ کراچکی ہے اور علاج کروانے کا اعلا ن بھی کرچکی ہے






