دھند میں جمہوریت اور پنجاب میں بلدیاتی الیکشن
پیر مشتاق احمد
پنجاب کی سیاست میں ایک طویل اور صبر آزما انتظار کے بعد الیکشن کمیشن آف پاکستان نے گذشتہ روز پنجاب میں 7 فروری کو بلدیاتی انتخابات کرانے اور خیبر پختون خواہ میں بلدیاتی انتخابات فوری روکنے کے احکامات جاری کئے ہیں جس نے پنجاب بھر کی سیاسی فضا میں ہلچل مچا دی ہے۔ کیس نمبر 10-2025-LGE-P کی سماعت مورخہ 6 نومبر 2026ئ بعنوان "کنڈکٹ آف لوکل گورنمنٹ الیکشنز ان دی پروونس آف پنجاب”کے سلسلے چیف سیکرٹری پنجاب اور سیکرٹری لوکل گورنمنٹ خود کمیشن کے روبرو پیش ہوئے۔حکومت پنجاب کا موقف تھا کہ صوبائی حکومت الیکشن کے لیے مکمل طور پر تیار ہے، ریٹرننگ آفیسرز اور ڈسٹرکٹ ریٹرننگ آفیسرز کی تقرریوں کا تمام ریکارڈ کمیشن کو فراہم کر دیا گیا ہے اور انتظامی طور پر کوئی رکاوٹ باقی نہیں۔ لیکن ساتھ ہی انہوں نے ایک انتہائی زمینی حقیقت کی طرف توجہ دلائی جسے اکثر اسلام آباد میں بیٹھ کر نظر انداز کر دیا جاتا ہے، اور وہ ہے پنجاب کی دھند یعنی فوگ ہے ان کا کہنا تھا کہ دسمبر اور جنوری کے مہینوں میں پنجاب میں دھند اور سردی کی شدت اس قدر ہوتی ہے کہ ٹرانسپورٹ، عملے کی نقل و حرکت اور پولنگ کے انتظامات بری طرح متاثر ہوتے ہیں، لہٰذا الیکشن 20 جنوری 2027ئ کے بعد رکھے جائیں تاکہ شفاف اور پرامن الیکشن کا انعقاد ممکن ہو سکے۔الیکشن کمیشن نے اس استدعا کو محض ایک انتظامی درخواست نہیں سمجھا بلکہ آئین کی روح کے مطابق پرکھا۔ کمیشن نے آئین کے آرٹیکل 140-A جس میں مقامی حکومتوں کا قیام لازم قرار دیا گیا ہے، آرٹیکل 219(d) اور 218(3) جس کے تحت صاف، شفاف اور بدعنوانی سے پاک الیکشن کروانا کمیشن کا آئینی فرض ہے، کا حوالہ دیتے ہوئے فیصلہ سنایا۔ آرڈر کے پیرا نمبر 4 میں وہ تاریخی سطریں درج ہیں جن کا ہر وارڈ اور ہر یونین کونسل کا کارکن منتظر تھا کہ تقریبا” گیارہ سال بعد پنجاب میں پہلے مرحلے کے بلدیاتی انتخابات اب 7فروری 2027ئ کو منعقد ہوں گے، اور حکومت پنجاب اس کے لیے سکولوں کی دستیابی اور ٹرانسپورٹ سمیت تمام انتظامات فراہم کرنے کی پابند ہوگی۔بظاہر تو یہ تاریخ پنجاب کی سیاست میں ایک نئے باب کا آغاز لگتی ہے۔ 2015ئ کے بعد سے پنجاب بلدیاتی نظام کے بغیر چل رہا ہے، جس کا خمیازہ عام آدمی بھگت رہا ہے۔ ایم پی اے اور ایم این اے گلی، نالی اور نلکے کے مسائل میں الجھے رہے اور اصل قانون سازی پیچھے رہ گئی۔ جب یہ نظام بحال ہوگا تو پسماندہ ترین علاقوں میں بھی شہری سہولیات کی فراہمی اور مقامی ترقی کے حوالے سے اس کے گہرے مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔ اجارہ دار سیاست کے علمبردار سرمایہ داروں، سرداروں اور وڈیروں کی سیاست کے ساتھ ساتھ اب ایک غریب، بے سہارا مگر باکردار ورکر کے لیے بھی چیئرمین، وائس چیئرمین اور کونسلر بننے کا دروازہ کھلے گا۔ یہی وہ نرسری ہے جہاں سے کل کا ایم پی اے اور ایم این اے جنم لیتا ہے۔ بلدیاتی نمائندے آنے سے اختیارات کی نچلی سطح پر منتقلی ہوگی، ترقیاتی فنڈز یونین کونسل تک جائیں گے، ٹاو¿ٹ مافیا کا خاتمہ ہوگا اور عوام کو اپنے مسائل کے لیے تختِ لاہور کا محتاج نہیں رہنا پڑے گا۔لیکن یہ تصویر کا ایک رخ ہے۔ تصویر کا دوسرا رخ تلخ ہے کہ شاید یہ اعلان محض ایک رسمی کارروائی سے زیادہ کچھ نہیں، اور اسی لیے میں کہہ رہا ہوں کہ "ھ±نوز دلی دور است”۔اس کی پہلی وجہ خود حکومت پنجاب کی نیت ہے۔ کیا مسلم لیگ ن کی صوبائی حکومت دل سے بلدیاتی الیکشن چاہتی ہے؟ تاریخ گواہ ہے کہ کوئی بھی صوبائی حکومت بلدیاتی اداروں کو بااختیار بنانے میں سنجیدہ نہیں رہی، کیونکہ بلدیاتی نظام فعال ہوتے ہی ایم پی اے اور ایم این اے کے ترقیاتی فنڈز اور اختیارات تقسیم ہو جاتے ہیں۔ دوسری وجہ خود یہ تاریخ ہے۔کہ 7 فروری 2027ئ کے بعد رمضان المبارک اور اس کے فوراً بعد گندم کی کٹائی کا سیزن شروع ہو جائے گا، جو پنجاب کی سیاست میں ہمیشہ الیکشن ملتوی کرنے کا بہانہ بنتا رہا ہے۔ماضی میں بھی چیف سیکرٹری صاحبان اسی طرح الیکشن کمیشن میں پیش ہو کر یقین دہانیاں کراتے رہے ہیں اور ہر بار کوئی نیا بہانہ بنا کر تاریخ آگے بڑھا دی گئی۔ آج دھند کا بہانہ ہے، کل مردم شماری، پرسوں حلقہ بندیاں اور ترسوں فنڈز کی کمی کا رونا ہوگا۔ الیکشن کمیشن نے تو اپنی آئینی ذمہ داری پوری کر کے تاریخ دے دی، لیکن اس تاریخ پر عمل درآمد کروانا حکومت کی نیت سے مشروط ہے۔لہٰذا 7 فروری کی تاریخ کو حتمی سمجھنا سیاسی سادگی ہوگی۔ عوام کے لیے اصل امتحان اب شروع ہوا ہے کہ وہ برادری، قبیلے اور پیسے کی بنیاد پر ووٹ دیں گے یا کارکردگی اور دیانتداری کو معیار بنائیں گے، لیکن اس سے پہلے حکومت کا امتحان ہے کہ وہ عوام کو یہ فیصلہ کرنے کا موقع دیتی بھی ہے یا نہیں۔ جب تک بلدیاتی نمائندے حلف نہیں اٹھا لیتے، تب تک یہی کہنا شاید درست ہوگا کہ پنجاب میں بلدیاتی الیکشن "ھ±نوز دلی دور است”۔ کیونکہ پاکستان کی بڑی سیاسی جماعتوں پیپلز پارٹی،مسلم لیگ ن اور تحریک انصاف نے اپنے ادوار حکومت میں بلدیاتی انتخابات باقاعدہ اور بر وقت نہ کرا? یہ بڑی عوامی اور سیاسی پارٹیاں بنیادی جمہوری نظام سے خائف رہتی ہیں پاکستان میں بلدیاتی نظام کی تاریخ آئینی تقاضوں سے زیادہ حکمرانوں کی سیاسی مصلحتوں کی تاریخ رہی ہے۔ آئین کا آرٹیکل 140-A تمام صوبائی حکومتوں کو پابند کرتا ہے کہ وہ بلدیاتی حکومتوں کا قیام عمل میں لائیں اور سیاسی، انتظامی اور مالی اختیارات نچلی سطح تک منتقل کریں، لیکن پیپلز پارٹی، مسلم لیگ ن اور تحریک انصاف تینوں نے اپنے اپنے ادوار حکومت میں اس آئینی تقاضے کو کبھی دل سے پورا نہیں کیا۔اس کی سب سے بڑی وجہ اختیارات اور وسائل پر قابض رہنے کی خواہش ہے۔ پاکستان میں ایم پی اے اور ایم این اے کی سیاست کا محور ترقیاتی فنڈ، تھانہ کچہری اور نوکریوں کی تقسیم ہے۔ اگر ایک بااختیار میئر، ضلع ناظم یا چیئرمین آ جائے جو اپنے علاقے کا بجٹ خود خرچ کرے اور عوام اسی سے حساب مانگے تو روایتی پارلیمانی سیاست کا ماڈل کمزور ہو جاتا ہے۔ اسی لیے بڑی جماعتیں بظاہر بلدیاتی انتخابات کے نعرے تو لگاتی ہیں لیکن اقتدار میں آ کر انہیں ٹالنے، کمزور قانون بنانے یا بیوروکریسی کے ذریعے چلانے کی راہ اختیار کرتی ہیں جبکہ بیوروکریسی اور پارٹی ڈھانچے کا خوف ہے۔ پاکستان کی بڑی جماعتیں تنظیمی طور پر اس قدر مضبوط نہیں کہ وہ نچلی سطح پر کارکن کو بااختیار بنا سکیں۔ انہیں ڈر ہوتا ہے کہ بلدیاتی انتخابات سے پارٹی کے اندر نئی قیادت ابھر آئے گی جو ٹکٹوں کی تقسیم اور فیصلوں میں حصہ مانگے گی۔ ساتھ ہی صوبائی بیوروکریسی، خصوصاً ڈپٹی کمشنر اور کمشنر نظام، کبھی نہیں چاہتی کہ اس کے اختیارات منتخب بلدیاتی نمائندوں کو منتقل ہوں۔ اسی گٹھ جوڑ نے پنجاب، سندھ اور خیبرپختونخوا میں ہمیشہ ایک کمزور، غیر جماعتی یا فنڈز سے محروم بلدیاتی نظام کو جنم دیا۔سب سے افسوسناک حقیقت یہ ہے کہ آمریت کے ادوار میں بلدیاتی نظام نسبتاً فعال رہا جبکہ جمہوری کہلانے والی حکومتوں میں اسے مسلسل موخر کیا گیا۔ اس سے یہ تاثر گہرا ہوا کہ بڑی سیاسی جماعتیں جمہوریت کا مطلب صرف ایوانوں تک محدود سمجھتی ہیں، گلی محلے کی جمہوریت ان کے لیے بوجھ ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ کراچی سے لے کر راجن پور تک گلی، نالی، صفائی اور پانی جیسے بنیادی مسائل حل طلب ہیں کیونکہ ان کا حل بلدیاتی حکومتوں نے دینا تھا جو کبھی بااختیار بنی ہی نہیں۔یہ تینوں جماعتیں اگر واقعی جمہوری دعوے میں سچی ہیں تو انہیں تسلیم کرنا ہوگا کہ جمہوریت وزیراعظم ہاو¿س سے نہیں، یونین کونسل سے شروع ہوتی ہے ملک میں جمہوری استحکام کے لئے بنیادی جمہوری نظام کو فروغ دینا ہوگا علاقائی ترقی اور عوامی خوشحالی کےلئے باقاعدہ بلدیاتی انتخابات ناگزیر ہیں #






