#کالم

فاز میزائل: دفاعی خود انحصاری کی جانب پاکستان کا ایک اور تاریخی قدم

shaid

شاہد نسیم چوہدری

دنیا کی تاریخ گواہ ہے کہ طاقتور اقوام وہی ہوتی ہیں جو بدلتے ہوئے حالات کے تقاضوں کو سمجھتے ہوئے علم، تحقیق، ٹیکنالوجی اور دفاعی صلاحیتوں میں مسلسل ترقی کرتی ہیں۔ آج کی دنیا میں قومی سلامتی کا تصور محض فوجی افرادی قوت یا روایتی ہتھیاروں تک محدود نہیں رہا بلکہ جدید سائنس، مصنوعی ذہانت، ایرو اسپیس ٹیکنالوجی، میزائل سسٹمز، الیکٹرانک وارفیئر اور جدید ترین دفاعی آلات نے جنگی حکمت عملیوں کی نوعیت ہی تبدیل کر دی ہے۔ ایسے حالات میں پاکستان کی جانب سے مقامی سطح پر تیار کردہ پہلے فضا سے فضا میں مار کرنے والے جدید میزائل ”فاز“ (FAAZ) کا کامیاب تجربہ ایک غیر معمولی اہمیت کا حامل ہے۔یہ کامیابی صرف ایک میزائل کے کامیاب تجربے کی خبر نہیں بلکہ اس قومی عزم کا اظہار ہے کہ پاکستان اپنی دفاعی ضروریات پوری کرنے کے لیے بیرونی دنیا پر مکمل انحصار کرنے کے بجائے اپنی سائنسی اور تکنیکی صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے خود کفالت کی منزل حاصل کرنا چاہتا ہے۔
فاز میزائل کیا ہے اور اس کی اہمیت کیا ہے؟
پاکستان نے 3 نومبر 2026ءکو اپنے پہلے مقامی طور پر تیار کردہ فضا سے فضا میں مار کرنے والے میزائل فاز کا کامیاب تجربہ کیا۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق یہ میزائل جدید ترین ٹرمینل گائیڈنس سسٹم سے لیس ہے اور طویل فاصلے سے فضائی اہداف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس کامیاب تجربے کو پاکستان کی قومی ایرو اسپیس اور دفاعی صلاحیتوں میں ایک اہم سنگ میل قرار دیا گیا ہے۔فضا سے فضا میں مار کرنے والے میزائل (Air-to-Air Missile) بنیادی طور پر جنگی طیاروں سے فائر کیے جاتے ہیں اور دشمن کے جنگی طیاروں یا دیگر فضائی اہداف کو نشانہ بنانے کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔ جدید فضائی جنگ میں ایسے میزائلوں کی اہمیت اس لیے بڑھ جاتی ہے کہ فضائی برتری حاصل کرنے کے لیے صرف بہترین جنگی طیاروں کی موجودگی کافی نہیں ہوتی بلکہ ان طیاروں کو جدید، مو¿ثر اور قابل اعتماد ہتھیاروں سے لیس کرنا بھی ناگزیر ہوتا ہے۔فاز میزائل کا جدید ٹرمینل گائیڈنس سسٹم اس کے ہدف تک پہنچنے کے مرحلے میں رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ تاہم اس کے فاصلے، رفتار، مخصوص گائیڈنس ٹیکنالوجی اور دیگر عملی خصوصیات کے بارے میں تاحال تمام تفصیلات سرکاری طور پر جاری نہیں کی گئیں۔ اس لیے اس کی حقیقی تکنیکی صلاحیتوں کا اندازہ لگاتے ہوئے مستند معلومات کو ہی بنیاد بنانا چاہیے۔
پاک فضائیہ کی دفاعی صلاحیت میں اضافہ
پاکستان کی جغرافیائی صورتحال اور خطے میں بدلتے ہوئے دفاعی حالات کے پیش نظر پاک فضائیہ کا جدید ٹیکنالوجی سے لیس ہونا قومی سلامتی کا ایک اہم تقاضا ہے۔ جنوبی ایشیا میں فضائی طاقت کے توازن، جدید جنگی طیاروں کی شمولیت اور میزائل ٹیکنالوجی میں مسلسل پیش رفت نے فضائی دفاع کو پہلے سے کہیں زیادہ اہم بنا دیا ہے۔فاز میزائل کی کامیاب آزمائش پاک فضائیہ کو مستقبل میں اپنے فضائی ہتھیاروں کے نظام میں مقامی طور پر تیار کردہ ایک اور اہم آپشن فراہم کرنے کی جانب پیش رفت ہے۔ اس سے نہ صرف آپریشنل لچک میں اضافہ متوقع ہے بلکہ مقامی ضروریات کے مطابق ہتھیاروں کی تیاری، دیکھ بھال اور مستقبل میں ان کی مزید بہتری کے امکانات بھی پیدا ہوں گے۔دفاعی خود انحصاری کا ایک بڑا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ کسی ملک کو اپنی اہم دفاعی ضروریات کے لیے ہر وقت بیرونی سپلائرز کی شرائط، برآمدی پابندیوں اور عالمی سیاسی حالات کا محتاج نہیں رہنا پڑتا۔ اگر کوئی ملک اپنے دفاعی نظام کی تحقیق، تیاری اور اپ گریڈیشن کی صلاحیت حاصل کر لے تو وہ اپنی قومی سلامتی کے فیصلے زیادہ خودمختاری کے ساتھ کر سکتا ہے۔
سائنس دان اور انجینئرز اصل قومی سرمایہ
اس کامیابی کا سب سے اہم پہلو ہمارے سائنس دانوں، انجینئرز، محققین اور تکنیکی ماہرین کی محنت ہے۔ ایک جدید میزائل کی تیاری محض دھاتوں کو جوڑنے یا کسی ہتھیار کا ڈھانچہ تیار کرنے کا نام نہیں بلکہ اس کے پیچھے برسوں کی تحقیق، ریاضیاتی حسابات، ایرو ڈائنامکس، الیکٹرانکس، رہنمائی کے نظام، مواد کی سائنس اور بے شمار تکنیکی آزمائشیں شامل ہوتی ہیں۔یہ وہ لوگ ہیں جو اپنی ذہانت، صلاحیت اور پیشہ ورانہ مہارت کو قومی دفاع کے لیے وقف کرتے ہیں۔ ان کی کامیابی ہمیں یہ پیغام دیتی ہے کہ پاکستان کا نوجوان اگر جدید تعلیم، تحقیق اور سائنسی علوم سے وابستہ ہو تو وہ عالمی سطح پر اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا سکتا ہے۔ہم اکثر قومی ترقی کے حوالے سے وسائل کی کمی، معاشی مشکلات اور بیرونی انحصار کا تذکرہ کرتے ہیں، لیکن فاز جیسے منصوبے اس حقیقت کی یاد دہانی کراتے ہیں کہ محدود وسائل کے باوجود مستقل مزاجی، درست منصوبہ بندی اور باصلاحیت انسانی سرمایہ بڑے اہداف حاصل کر سکتا ہے۔ہمیں اپنے سائنس دانوں اور انجینئرز کو صرف کامیابی کے دن مبارک باد دینے تک محدود نہیں رہنا چاہیے بلکہ ان کے لیے تحقیق کے بہتر مواقع، جدید لیبارٹریاں، عالمی معیار کے تعلیمی ادارے اور مالی و ادارہ جاتی سرپرستی بھی یقینی بنانی چاہیے۔
خود انحصاری ہی پائیدار دفاع کی بنیاد ہے
پاکستان نے ماضی میں بھی دفاعی شعبے میں کئی اہم کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ ایٹمی صلاحیت کا حصول، میزائل ٹیکنالوجی میں پیش رفت، الخالد ٹینک، جے ایف 17 تھنڈر طیارے اور مختلف دفاعی نظاموں کی تیاری ہماری دفاعی صنعت کے ارتقا کی نمایاں مثالیں ہیں۔خصوصاً جے ایف 17 تھنڈر منصوبہ اس بات کی مثال ہے کہ بین الاقوامی تعاون، مقامی مہارت اور مسلسل تکنیکی بہتری کو یکجا کرکے ایک ملک اپنی فضائی قوت کو مضبوط بنا سکتا ہے۔ اسی طرح فاز میزائل کی تیاری اور کامیاب آزمائش اس سفر میں ایک نئی جہت کا اضافہ کرتی ہے۔یہاں ایک اہم بات سمجھنے کی ضرورت ہے کہ دفاعی خود انحصاری کا مطلب یہ نہیں کہ دنیا سے ہر قسم کا تکنیکی تعاون ختم کر دیا جائے۔ جدید دنیا میں ترقی یافتہ ممالک بھی تحقیق، مشترکہ منصوبوں اور ٹیکنالوجی کے تبادلے سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔ اصل مقصد یہ ہے کہ بنیادی صلاحیت، اہم ٹیکنالوجی اور فیصلہ سازی کا اختیار ملک کے اپنے اداروں اور ماہرین کے پاس ہو۔فاز کی کامیابی اسی سمت میں ایک حوصلہ افزا پیش رفت ہے۔ تاہم اس کامیابی کو مکمل دفاعی خود کفالت کا آخری مرحلہ سمجھنے کے بجائے ایک مسلسل سائنسی سفر کا اہم آغاز قرار دینا زیادہ مناسب ہوگا۔
قومی قیادت کا اعتراف اور مبارک باد
اس اہم کامیابی پر صدر مملکت، وزیراعظم، چیف آف ڈیفنس فورسز و چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور تینوں مسلح افواج کے سربراہان کی جانب سے سائنس دانوں اور انجینئرز کو مبارک باد دینا اس امر کا اعتراف ہے کہ دفاعی ترقی میں اصل کردار ان باصلاحیت افراد کا ہے جو اپنی محنت اور قابلیت سے قومی سلامتی کے منصوبوں کو عملی شکل دیتے ہیں۔اعلیٰ قیادت کی جانب سے اس کامیابی کی تحسین یقیناً ان ماہرین کی حوصلہ افزائی کا باعث بنے گی۔ تاہم ضروری ہے کہ یہ حوصلہ افزائی مستقل ادارہ جاتی پالیسی کی صورت بھی اختیار کرے تاکہ پاکستان کے نوجوان سائنس دانوں کو اپنی صلاحیتیں منوانے کے لیے بیرون ملک جانے کی مجبوری نہ ہو اور ملک کے اندر ہی تحقیق و ترقی کے وسیع مواقع میسر آ سکیں۔
دفاعی طاقت کے ساتھ معاشی اور علمی طاقت بھی ضروری
یہ بات بھی پیش نظر رہنی چاہیے کہ مضبوط دفاع اور مضبوط معیشت ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ کوئی ملک طویل عرصے تک دفاعی میدان میں ترقی اسی وقت برقرار رکھ سکتا ہے جب اس کی معاشی بنیاد مستحکم ہو، تعلیمی نظام معیاری ہو اور تحقیق و ترقی کے لیے مناسب وسائل مختص کیے جائیں۔پاکستان کو چاہیے کہ دفاعی تحقیق کے ساتھ ساتھ سول ایرو اسپیس، انجینئرنگ، الیکٹرانکس، جدید کمپیوٹنگ اور صنعتی ٹیکنالوجی کے شعبوں میں بھی سرمایہ کاری بڑھائے۔ دفاعی شعبے میں حاصل ہونے والی تکنیکی مہارت کو جہاں مناسب اور قانونی ہو، دیگر صنعتی اور سائنسی شعبوں کی ترقی کے لیے بھی بروئے کار لایا جائے۔یونیورسٹیوں، انجینئرنگ اداروں اور دفاعی تحقیق کے مراکز کے درمیان مضبوط روابط قائم کیے جائیں تاکہ نوجوانوں کو عملی تحقیق کا موقع ملے۔ ہمارے تعلیمی اداروں میں ایسی فضا پیدا ہونی چاہیے جہاں طلبہ صرف ڈگری حاصل کرنے کے بجائے نئے تصورات پیش کریں، تجربات کریں اور مسائل کے مقامی حل تلاش کریں۔
پاکستان کا مستقبل: علم، تحقیق اور خود اعتمادی
فاز میزائل کی کامیاب آزمائش ہمیں یہ سوچنے کا موقع بھی فراہم کرتی ہے کہ پاکستان کی اصل طاقت اس کے وسائل سے بڑھ کر اس کے باصلاحیت انسان ہیں۔ ہمیں اپنے نوجوانوں کو یہ یقین دلانا ہوگا کہ وہ دنیا کی کسی بھی قوم سے کم نہیں۔ ضرورت صرف اس امر کی ہے کہ انہیں معیاری تعلیم، تحقیق کے مواقع، میرٹ پر مبنی نظام اور اپنی صلاحیتیں آزمانے کے لیے سازگار ماحول فراہم کیا جائے۔یہ کامیابی کسی دوسرے ملک کے خلاف جارحانہ عزائم کا اظہار نہیں بلکہ اپنے دفاع کو مضبوط بنانے اور قومی خودمختاری کے تحفظ کی جانب ایک پیش رفت ہے۔ پاکستان ایک ذمہ دار ریاست کی حیثیت سے امن، استحکام اور باہمی احترام کا خواہاں ہے، لیکن امن کی خواہش کے ساتھ دفاعی صلاحیت کا مضبوط ہونا بھی ضروری ہے۔ ایک مستحکم دفاعی نظام ممکنہ خطرات کے مقابلے میں قومی اعتماد اور دفاعی تیاری کو تقویت دیتا ہے۔بلاشبہ فاز میزائل کا کامیاب تجربہ پاکستان کے لیے باعثِ فخر ہے۔ یہ ان سائنس دانوں، انجینئرز اور ماہرین کی محنت کا ثمر ہے جنہوں نے اپنی صلاحیتوں سے قومی دفاع میں ایک نئی پیش رفت ممکن بنائی۔ ہمیں ان تمام گمنام اور نمایاں ہیروز کو خراجِ تحسین پیش کرنا چاہیے جن کی برسوں کی محنت ایسے قومی سنگ میل کی صورت میں سامنے آتی ہے۔لیکن یاد رکھیے! کسی میزائل کا کامیاب تجربہ منزل نہیں بلکہ ایک نئے سفر کا آغاز ہوتا ہے۔ اصل کامیابی اس وقت ہوگی جب پاکستان تحقیق و ترقی کے میدان میں مسلسل آگے بڑھے، اپنی دفاعی صنعت کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرے اور نوجوان نسل کو سائنس و ٹیکنالوجی کے ذریعے قومی ترقی کا فعال حصہ بنائے۔ہمیں اپنے سائنس دانوں پر فخر ہے، اپنے انجینئرز کی صلاحیتوں پر اعتماد ہے اور اس امید کے ساتھ آگے بڑھنا ہے کہ پاکستان کا نام صرف دفاعی کامیابیوں ہی نہیں بلکہ علم، تحقیق، صنعت، معیشت اور انسانی ترقی کے ہر میدان میں روشن ہوگا۔پاکستان کا دفاع مضبوط، سائنس دانوں کا عزم بلند اور وطن کا مستقبل تابناک ہو۔پاکستان زندہ باد!

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے