#کالم

ہنر مند پنجاب، خوشحال پنجاب

rafeh s

رفیع صحرائی

حکومت پنجاب نے نوجوانوں کے مسائل کے حل اور انہیں مکمل طور پر خودکفیل بنانے کے لیے ” پنجاب ہنرمند پروگرام” کا آغاز کیا ہے۔ اس پروگرام کا بنیادی مقصد نوجوانوں کو جدید دور کی ضروریات کے مطابق فنی اور پیشہ ورانہ تربیت فراہم کرنا ہے تاکہ وہ روزگار کے بہتر مواقع حاصل کر سکیں اور ملکی معیشت میں بہتر کردار ادا کر سکیں۔پاکستان بالخصوص پنجاب کو اس وقت جن بڑے معاشی اور سماجی چیلنجز کا سامنا ہے، ان میں بے روزگاری، غربت، مہنگائی اور نوجوانوں میں بڑھتی ہوئی مایوسی نمایاں ہیں۔ ہر سال لاکھوں نوجوان اعلیٰ تعلیمی اداروں سے ڈگریاں لے کر عملی زندگی میں قدم رکھتے ہیں، مگر ان میں سے ایک بڑی تعداد کو اپنی تعلیم اور قابلیت کے مطابق روزگار نہیں ملتا۔ مسئلہ صرف روزگار کے مواقع کی کمی کا نہیں بلکہ تعلیم اور مارکیٹ کی ضرورت کے درمیان بڑھتے ہوئے فاصلے کا بھی ہے۔ ایسے حالات میں نوجوانوں کو محض ڈگری نہیں بلکہ ہنر، مہارت اور عملی تجربہ فراہم کرنا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔اسی ضرورت کو محسوس کرتے ہوئے پنجاب حکومت اور وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی جانب سے اگلے تین برسوں میں 10 لاکھ نوجوانوں کو ہنرمند بنانے کا ہدف بلاشبہ ایک قابلِ تحسین اور دور رس اہمیت کا حامل فیصلہ ہے۔ اگر اس پروگرام کو اس کے حقیقی مقاصد کے مطابق تسلسل، شفافیت اور معیار کے ساتھ آگے بڑھایا گیا تو یہ صرف نوجوانوں کو روزگار فراہم کرنے کا منصوبہ نہیں رہے گا بلکہ پنجاب کی معاشی سمت تبدیل کرنے میں بھی اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔اس پروگرام کی ایک نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ فنی اور پیشہ ورانہ تربیت کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے لیے ٹیکنیکل ٹریننگ اور امتحانات کو ڈیجیٹلائز کیا جا رہا ہے۔ آن لائن رجسٹریشن، ڈیجیٹل امتحانی نظام اور کیو آر کوڈ جیسے اقدامات نہ صرف شفافیت میں اضافہ کریں گے بلکہ تربیت کے عمل کو زیادہ تیز، قابلِ اعتماد اور وسیع بنانے میں بھی مددگار ثابت ہوں گے۔ امتحانات دینے والے امیدواروں کی صلاحیت دو لاکھ سے بڑھا کر چھ لاکھ تک کرنے کا ہدف اس بات کی علامت ہے کہ حکومت محض اعلانات نہیں بلکہ تربیتی نظام کی استعداد بڑھانے پر بھی توجہ دے رہی ہے۔یہ امر بھی حوصلہ افزا ہے کہ پنجاب میں جدید سینٹرز آف ایکسی لینس قائم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ الیکٹریکل، وہیکل، ڈیجیٹل مارکیٹنگ، زراعت، ہیوی مشینری، کلیننگ، ہیلتھ کیئر، ہاسپیٹلٹی اور دیگر شعبوں میں خصوصی تربیت نوجوانوں کو ان شعبوں سے جوڑ سکتی ہے جہاں مقامی اور عالمی سطح پر افرادی قوت کی ضرورت موجود ہے۔دنیا تیزی سے تبدیل ہو رہی ہے۔ مصنوعی ذہانت، ڈیجیٹل مارکیٹنگ، سائبر سکیورٹی، سافٹ ویئر ڈویلپمنٹ، ای کامرس، روبوٹکس، سولر انرجی، الیکٹرک وہیکلز اور جدید صنعتی ٹیکنالوجی مستقبل کے روزگار کے بڑے میدان بن رہے ہیں۔ ہمیں اپنے نوجوانوں کو صرف آج کی نہیں بلکہ آنے والے دس اور بیس برسوں کی مارکیٹ کے لیے تیار کرنا ہوگا۔ اس حوالے سے بین الاقوامی سرٹیفیکیشن اور 13 مختلف زبانوں کی تعلیم کا پروگرام خصوصی اہمیت رکھتا ہے۔ زبان کا علم کسی ہنرمند نوجوان کے لیے بیرونِ ملک روزگار کے دروازے کھول سکتا ہے۔اس پروگرام کا ایک روشن پہلو یہ بھی ہے کہ پنجاب کے تربیت یافتہ ایک الیکٹریشن نے عالمی سطح کے اسکل مقابلے میں چوتھی پوزیشن حاصل کرکے ثابت کیا ہے کہ ہمارے نوجوان صلاحیت میں کسی سے کم نہیں۔ ضرورت صرف یہ ہے کہ انہیں مناسب تربیت، جدید آلات، مواقع اور اپنی صلاحیت دکھانے کا پلیٹ فارم فراہم کیا جائے۔ اعداد و شمار بھی اس پروگرام کی افادیت کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ پنجاب میں اب تک لاکھوں نوجوانوں کی سکل ٹریننگ مکمل ہوچکی ہے اور ایک قابلِ ذکر تعداد روزگار حاصل کرچکی ہے۔ ہزاروں نوجوان بیرونِ ملک بھی ملازمتیں حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔ یہ تجربہ اس بات کا ثبوت ہے کہ اگر تربیت مارکیٹ کی ضرورت کے مطابق ہو تو ہنر واقعی نوجوان کو روزگار سے جوڑ سکتا ہے۔یہاں ایک اہم سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ کیا ہم اس پروگرام کو صرف پنجاب تک محدود رکھیں یا اسے پاکستان کی معاشی طاقت بنانے کی بنیاد بنائیں؟ میری رائے میں اس پروگرام کا اگلا مرحلہ اس سے بھی زیادہ اہم ہونا چاہیے۔ حکومت کو باقاعدہ ایک "اسکلڈ پنجاب، گلوبل پنجاب” پالیسی تشکیل دینی چاہیے، جس کے تحت تربیت مکمل کرنے والے نوجوانوں کو صرف سرٹیفکیٹ دے کر فارغ نہ کیا جائے بلکہ انہیں بیرونِ ملک روزگار کے لیے مکمل رہنمائی، زبان کی تربیت، بین الاقوامی سرٹیفیکیشن، قانونی دستاویزات، ویزا سہولت اور روزگار کے حقیقی مواقع تک رسائی فراہم کی جائے۔ اگر حکومت سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، عمان، بحرین، یورپ، جاپان، جنوبی کوریا اور دیگر ممالک کی ضروریات کا باقاعدہ جائزہ لے کر ان ممالک کی ضرورت کے مطابق ہنرمند افرادی قوت تیار کرے اور سرکاری سطح پر بیرونِ ملک بھجوائے تو اس کے دو بڑے فوائد ہوں گے۔ ایک طرف ہمارے نوجوانوں کو باعزت روزگار ملے گا اور دوسری طرف پاکستان کو قیمتی زرِمبادلہ حاصل ہوگا۔ اس طرح ہنر صرف ایک فرد کا روزگار نہیں بلکہ قومی معیشت کے لیے برآمدی اثاثہ بن جائے گا۔ہمیں یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ بیرونِ ملک جانے والے نوجوان غیر قانونی ایجنٹوں اور جعلی وعدوں کا شکار نہ ہوں۔ حکومت کو سرکاری Skill Export Agency یا موجودہ اداروں کے ذریعے ایک شفاف نظام قائم کرنا چاہیے جہاں بیرونِ ملک ملازمتوں کی تصدیق شدہ معلومات دستیاب ہوں، بھرتی کا عمل شفاف ہو اور نوجوانوں کو استحصال سے محفوظ رکھا جائے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ہنرمند افرادی قوت کی برآمد مستقبل میں پاکستان کے لیے ایک بڑی معاشی صنعت بن سکتی ہے۔دوسری طرف صرف بیرونِ ملک روزگار ہی منزل نہیں ہونی چاہیے۔ ہر نوجوان کا بیرونِ ملک جانا ضروری نہیں۔ بہت سے نوجوان اپنے ہی شہر، ضلع یا گاو¿ں میں ہنر استعمال کرکے باعزت روزگار اور کاروبار شروع کرسکتے ہیں۔ اس مقصد کے لیے ہنر کے ساتھ آسان قرض، کاروباری مشاورت، مارکیٹ تک رسائی، ڈیجیٹل پلیٹ فارم اور مصنوعات کی فروخت کا نظام بھی ضروری ہے۔ ایک تربیت یافتہ نوجوان اگر اپنا چھوٹا سا کاروبار شروع کرکے دو یا تین افراد کو روزگار دے دے تو وہ خود روزگار حاصل کرنے والے سے بڑھ کر روزگار پیدا کرنے والا شہری بن جاتا ہے۔اس پروگرام میں خواتین کی شمولیت بھی انتہائی اہم ہے۔ دیہی خواتین کو انفارمیشن ٹیکنالوجی کے ذریعے گھر بیٹھے روزگار کے مواقع فراہم کرنا ایک مثبت قدم ہے۔ پنجاب کی کروڑوں خواتین میں بے پناہ صلاحیت موجود ہے۔ اگر انہیں ڈیجیٹل مارکیٹنگ، فری لانسنگ، آن لائن تعلیم، ای کامرس، دستکاری، فوڈ پروسیسنگ اور دیگر شعبوں میں تربیت اور مارکیٹ فراہم کی جائے تو وہ نہ صرف اپنے خاندان کی آمدنی میں اضافہ کرسکتی ہیں بلکہ ملکی معیشت میں بھی فعال کردار ادا کرسکتی ہیں۔اسی طرح خصوصی افراد اور خواجہ سرا افراد کو تربیتی پروگراموں میں شامل کرنا ایک فلاحی ریاست کی مثبت علامت ہے۔ معاشرے کا کوئی فرد اگر کام کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے تو اسے صرف جسمانی یا سماجی کمزوری کی بنیاد پر معاشی سرگرمی سے محروم نہیں ہونا چاہیے۔زراعت کے شعبے میں نوجوانوں کی تربیت بھی خاص اہمیت رکھتی ہے۔ پنجاب بنیادی طور پر زرعی صوبہ ہے۔ جدید زرعی مشینری، ڈرپ اریگیشن، سولر ٹیوب ویل، لائیو اسٹاک، ڈیری فارمنگ، پولٹری، فوڈ پروسیسنگ اور زرعی ٹیکنالوجی میں تربیت یافتہ نوجوان دیہی معیشت کو نئی زندگی دے سکتے ہیں۔ کھیت اور ہنر کو ایک دوسرے سے جوڑنا پنجاب کی معاشی ترقی کا ایک مضبوط راستہ بن سکتا ہے۔ تاہم اس پورے پروگرام کی کامیابی کا اصل معیار صرف یہ نہیں ہونا چاہیے کہ کتنے نوجوانوں کو سرٹیفکیٹ دیے گئے، بلکہ یہ ہونا چاہیے کہ کتنے نوجوان مستقل روزگار سے منسلک ہوئے، کتنے کاروبار شروع کرسکے، کتنے بیرونِ ملک گئے اور کتنا زرِمبادلہ ملک میں آیا۔ تربیت کے بعد روزگار کا سراغ رکھنے کے لیے ایک جامع ڈیجیٹل ٹریکنگ سسٹم قائم کیا جانا چاہیے تاکہ ہر پروگرام کے نتائج باقاعدگی سے جانچے جاسکیں۔صنعتی اداروں کو بھی اس عمل میں شریک کرنا ہوگا۔ لاہور، فیصل آباد، سیالکوٹ، گوجرانوالہ اور ملتان جیسے صنعتی مراکز میں تربیتی پروگراموں کو مقامی صنعت کی حقیقی ضرورت کے ساتھ جوڑا جائے۔ صنعت بتائے کہ اسے کس قسم کے ہنرمند درکار ہیں اور تربیتی ادارے اسی ضرورت کے مطابق نوجوان تیار کریں۔ اس طرح "ٹریننگ پہلے، روزگار بعد میں” کے بجائے "مارکیٹ کی ضرورت پہلے، تربیت اس کے مطابق” کا اصول اپنایا جاسکتا ہے۔یہ حقیقت اپنی جگہ اہم ہے کہ حکومت کسی ایک پروگرام سے بے روزگاری اور غربت کا مکمل خاتمہ نہیں کرسکتی، لیکن ایسے اقدامات سمت ضرور متعین کرتے ہیں۔ پنجاب میں دس لاکھ نوجوانوں کو ہنرمند بنانے کا ہدف اگر سیاسی وابستگیوں سے بالاتر ہوکر میرٹ، شفافیت اور معیار کے ساتھ مکمل کیا گیا تو یہ آنے والے برسوں میں پنجاب کی سب سے بڑی انسانی سرمایہ کاری ثابت ہوسکتا ہے۔ آج دنیا میں اصل طاقت صرف قدرتی وسائل نہیں بلکہ انسانی وسائل ہیں۔ جس ملک کے نوجوان تعلیم یافتہ، ہنرمند، باصلاحیت اور جدید ٹیکنالوجی سے آشنا ہوں، وہ عالمی معیشت میں اپنا مقام بنا سکتا ہے۔ پاکستان کے پاس نوجوان آبادی کی صورت میں ایک بہت بڑا اثاثہ موجود ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ اس اثاثے کو بوجھ بننے سے پہلے سرمایہ بنا دیا جائے۔وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف اور پنجاب حکومت کا نوجوانوں کو ہنرمند بنانے کی طرف یہ قدم اسی سمت ایک قابلِ تحسین پیش رفت ہے۔ اب ضرورت اس بات کی ہے کہ 10 لاکھ کا ہدف صرف عدد نہ رہے بلکہ 10 لاکھ باصلاحیت، باعزت اور معاشی طور پر خودمختار نوجوانوں کی حقیقت بنے۔ اگر پنجاب کا نوجوان ہنر مند ہوگا تو گھر مضبوط ہوگا، خاندان خوشحال ہوگا، صنعت کو افرادی قوت ملے گی، بے روزگاری کم ہوگی، غربت میں کمی آئے گی اور معیشت کا پہیہ تیز ہوگا۔ اگر انہی ہنرمند نوجوانوں میں سے لاکھوں کو عالمی مارکیٹ تک رسائی مل گئی تو وہ پاکستان کے لیے قیمتی زرِمبادلہ کمانے والے "انسانی برآمد کنندگان” بھی ثابت ہوسکتے ہیں۔ پنجاب اگر واقعی ہنرمند ہوگیا تو خوشحال پنجاب کا خواب محض خواب نہیں رہے گا، بلکہ ایک قابلِ عمل معاشی حقیقت بن سکتا ہے۔

ہنر مند پنجاب، خوشحال پنجاب

02/11/2026 DAILY SARZAMEEN LAHORE

ہنر مند پنجاب، خوشحال پنجاب

ملکی سیاسی منظرنامہ!

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے