#کالم

تعبیر کو ترستی تبدیلی

sohial manj

سہیل بشیر منج

پاکستان تحریک انصاف کی خیبر پختونخوا میں مسلسل چودہ سالہ حکمرانی تاریخ کے ایک ایسے موڑ پر کھڑی ہے جہاں نعروں کی دلکشی اور حقیقت کی تلخی آمنے سامنے آ چکی ہیں  دوہزار تیرا میں تبدیلی کے خواب دکھا کر اقتدار میں آنے والی جماعت کو عوام نے دو دہائیوں کے قریب طویل اور غیر متزلزل اعتماد بخشا تاکہ صوبے میں ایک انوکھا اور پائیدار انتظامی ماڈل قائم ہو سکے  ابتدائی دور میں بااختیار بلدیاتی نظام اصلاحات اور تھانہ کلچر کی تبدیلی جیسے خوشنما دعوے کیے گئے جن کا باقاعدہ ڈھنڈورا بھی پیٹا گیا مگر جیسے جیسے سال گزرتے گئے ادارہ جاتی مضبوطی کا یہ سحر ٹوٹتا چلا گیا  تعلیم اور صحت کے شعبوں میں بلند بانگ دعووں کے باوجود صوبے کا نچلا طبقہ آج بھی علاج معالجے کی بنیادی سہولیات سے محروم اور معیاری تعلیم کی تلاش میں در بدر بھٹک رہا ہے  ہسپتالوں کی حالت زار اور سرکاری سکولوں کی خستہ حالی اس تلخ سچائی کی گواہی دیتی ہے کہ زبانی جمع خرچ کو عملی اصلاحات کا متبادل نہیں بنایا جا سکتا  امن و امان کا معاملہ تو سب سے زیادہ دردناک بن چکا ہے جہاں دہشت گردی کی دوبارہ سر اٹھاتی لہر نے عوام کے سکون اور کاروباری حیات کو مفلوج کر کے رکھ دیا ہے صوبائی قیادت نے اپنے وسائل اور توانائیاں عوام کی جان و مال کے تحفظ پر صرف کرنے کے بجائے ہمیشہ وفاق سے محاذ آرائی اور سیاسی پوائنٹ سکورنگ کی نذر کیں جس کے نتیجے میں صوبے کا انتظامی ڈھانچہ زبوں حالی کا شکار ہوتا چلا گیا  چودہ برس کا یہ لمبا سفر جو ایک سنہری انقلاب کی امید کے ساتھ شروع ہوا تھا بالآخر ادھورے منصوبوں نااہلی اور بدانتظامی کے ایک ایسے اندھیرے موڑ پر ختم ہوا ہے جہاں عام شہری خود کو ٹھگا ہوا محسوس کر رہا ہے  یہ طویل اقتدار اس بات کا روشن ثبوت بن چکا ہے کہ کسی صوبے کی تقدیر محض فصیح و بلیغ تقاریر اور جادوئی نعروں سے نہیں بلکہ ٹھوس کارکردگی اور مخلصانہ اقدامات سے بدلتی ہے ۔خیبر پختونخوا کو دوہزار تیرا میں دیے جانے والے این ایف سی ایوارڈ اور دہشت گردی کے خلاف جنگ کی مد میں موصول ہونے والے اضافی ایک فیصد فنڈز سمیت  کھربوں روپے کا حساب مانگنا آج ہر ذی شعور شہری کا حق بن چکا ہے وفاق سے ملنے والی ان بے شمار گرانٹس اور مالیاتی وسائل کے باجود صوبائی خزانہ آج شدید خسارے اور تاریخی قرضوں کی دلدل میں دسا ہوا نظر آتا ہے بی آر ٹی پشاور جیسے کھربوں روپے کے خطیر اور بظاہر فلیگ شپ منصوبے صوبے کی معاشی منصوبہ بندی پر ایک گہرا داغ بن چکے ہیں جہاں ابتدائی تخمینوں سے کہیں زیادہ رقم پانی کی طرح بہا دی گئی اور انتظامی ناہلی نے عوام کے محنت سے کمائے گئے پیسے کا بے دردی سے ضیاع کیا  یہی حال ضم شدہ قبائلی اضلاع کے لیے ملنے والے اربوں روپے کے خصوصی فنڈز کا ہے جو نچلی سطح تک پہنچنے اور وہاں کے پسماندہ عوام کی محرومیاں دور کرنے کے بجائے کرپشن بدعنوانی اور کاغذات کی حد تک محدو د ہو کر رہ گئے  احتساب اور شفافیت کے تمام دعوے اس وقت دم توڑ گئے جب صوبائی احتساب کمیشن کو اپنے ہی سیاسی مفادات کی قربان گاہ پر ذبح کر دیا گیا  اربوں روپے کی آمدن کے باوجود صوبے میں کوئی بڑا پائیدار معاشی یا صنعتی مرکز قائم نہ ہونا اور نفاذِ قانون کے اداروں کو ضروری وسائل فراہم نہ کرنا اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ صوبائی حکومت کا اولین مقصد عوام کی خوشحالی نہیں بلکہ مالیاتی بدانتظامی کا پردہ چاک ہونے سے بچانا رہا ہے ۔پنجاب اور خیبر پختونخوا کا گزشتہ ساڑھے تین برسوں کا تقابلی جائزہ روشن مستقبل کی سمت اور بے سمت محاذ آرائی کا فرق بالکل عیاں کر دیتا ہے ایک طرف پنجاب میں تعمیر و ترقی کے نئے دور کا آغاز ہوا جہاں جدید انفراسٹرکچر ہسپتالوں کی اپ گریڈیشن تعلیم کے لیے ڈجیٹل اقدامات اور نوجوانوں کے لیے روزگار کے بیش بہا مواقع عملی شکل اختیار کر چکے ہیں جبکہ دوسری طرف خیبر پختونخوا کے ہونہار اور با صلاحیت نوجوان اپنے صوبے میں ایسا کوئی بڑا ترقیاتی معرکہ دیکھنے سے محروم رہے  پنجاب حکومت نے اپنی تمام تر توانائیاں اور وسائل عوام کی خادم بن کر روزمرہ سہولیات کی بہتری اور پائیدار معاشی منصوبوں پر مرکوز رکھیں جس کا براہ راست فائدہ وہاں کے نوجوانوں کو ملا ۔۔ان ساڑھے تین سالوں میں پنجاب حکومت کے نمایاں پروجیکٹس اپنی چھت اپنا گھر سکیم  ۔۔کسان کارڈ  ۔۔چیف منسٹر فری سولر پینل سکیم ، گرین ٹریکٹر سکیم ہمت کارڈ (معذور افراد کے لیے) ، مریم کی دستک ایپ الیکٹرک بس سروس ، ای بائیکس سکیم ہونہار سکالرشپ پروگرام ، سی ایم لیپ ٹاپ سکیم ،?ھیلتھ کارڈ / پنجاب صحت کارڈ ، نگہبان رمضان ریلیف پیکیج  ،آدھی رانی پروگرام ،آسان کاروبار ،پروگرام آیئر
ایمبولینس سروس، 
نواز شریف انسٹی ٹیوٹ آف کینسر ٹریٹمنٹ اینڈ ریسرچ، لاہور (پاکستان کا پہلا سرکاری کینسر ہسپتال) 
نواز شریف انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی سرگودھا،
نواز شریف / مریم نواز انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی، گوجرانوالہ
جناح انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی، لاہور 
مریم نواز انسٹی ٹیوٹ آف پیڈیاٹرک ہیلتھ سائنسز، لاہور
نواز شریف انسٹی ٹیوٹ آف جینیٹک بلڈ ڈزیزز، لاہور
کلثوم نواز کینسر ہسپتال، ڈیرہ غازی خان
مریم نواز میڈیکل کالج اینڈ ٹیچنگ ہسپتال، میانوالی
جب کہ  خیبر پختونخوا کے وسائل کا ایک بڑا حصہ اسلام آباد کی سیاست اور لامتناہی دھرنوں اور جلسوں کی نذر کر دیا گیا  خیبر پختونخوا کی جوان نسل کو اب یہ باریک اور تلخ فرق سمجھنا ہوگا کہ کون سی حکمرانی ان کے ہاتھ میں قلم اور روزگار دیتی ہے اور کون سی سیاست انہیں صرف سیاسی ایندھن کے طور پر استعمال کرتی ہے پنجاب میں روز مرہ ترقی کا سفر دن رات جاری ہے جبکہ خیبر پختونخوا میں سیاسی انتقام اور نعرے بازی نے نوجوانوں کے خوابوں کو گرہن لگا رکھا ہے  اگر صوبے کی نوجوان قیادت اب بھی خاموش رہی تو معاشی ترقی اور روزگار کے وہ تمام مواقع جو پنجاب کے نوجوانوں کا مقدر بن رہے ہیں ان کے ہاتھ سے نکل جائیں گے اور صوبہ پسماندگی کی اتھاہ گہرائیوں میں دھنستا چلا جائے گا۔خیبر پختونخوا کے غیرت مند اور باشعور عوام کے لیے اب وہ فیصلہ کن لمحہ آ پہنچا ہے جہاں انہیں جذباتی نعروں اور بے بنیاد شخصیت پرستی کا خول توڑ کر حقیقت پسندی کا راستہ اختیار کرنا ہوگا  چودہ سالہ طویل تجربے نے یہ بات روزِ روشن کی طرح عیاں کر دی ہے کہ فردِ واحد کی پرستش اور سیاسی وابستگی کی اندھی تقلید نے صوبے کو معاشی تباہی اور انتظامی بدحالی کے سوا کچھ نہیں دیا  صوبے کے غیور نوجوانوں کو اب یہ سوچنا ہوگا کہ ان کا ووٹ محض کسی لیڈر کی انا کی تسکین کا ذریعہ ہے یا ان کی اپنی آنے والی نسلوں کے محفوظ اور روشن مستقبل کی ضامن چابی ہے  اگر آج خیبر پختونخوا کی جوان نسل نے کارکردگی پر مبنی سیاست کو اپنا شعار نہ بنایا تو معاشی دیوالیہ پن اور پسماندگی کی یہ سیاہ رات کبھی ختم نہیں ہوگی وقت کا تقاضا ہے کہ عوام پنجاب کی طرز پر تیز رفتار ترقی اور عملی  طرزِ حکمرانی کو اپنا معیار بنائیں اور ہر اس سیاسی جماعت کو مسترد کر دیں جو ان کے فنڈز کو ذاتی اور سیاسی جنگوں میں جھونک دیتی ہے ترقی اور خوشحالی کا واحد راستہ یہی ہے کہ آئندہ صرف اور صرف کارکردگی تعلیم ٹرانسپورٹ صنعتی پروجیکٹس ریسکیو  صحت کی معیاری سہولیات اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے والی قیادت کا انتخاب کیا جائے اب وقت آ گیا ہے کہ ہر نااہل حکمران سے اس کے پانچ سالہ کام کا حساب مانگا جائے تاکہ خیبر پختونخوا بھی صوبہ پنجاب کی طرح معاشی و صنعتی عروج حاصل کر سکے اور اس خطے کا ہر نوجوان عزت اور وقار سے  سر اٹھا کر اپنے وطن میں ترقی کر سکے۔

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے