#کالم

سیاست، عدلیہ اور ہسپتال کے چوراہے پر کھڑا پاکستان

mirza rizwan

مرزا رضوان

پاکستان کی قومی سیاست کا المیہ یہ ہے کہ یہاں ایوانوں سے لے کر جیل کی کوٹھڑیوں تک، اور عدالت کی راہداریوں سے لے کر ہسپتال کے آئی سی یو تک، ہر جگہ سیاست کا رنگ غالب نظر آتا ہے۔ حال ہی میں اعلیٰ عدلیہ کی جانب سے پاکستان تحریکِ انصاف کے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان کو جیل سے اسلام آباد کے شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کرنے کے احکامات جاری کیے گئے، تو یوں لگا جیسے پاکستان کی سیاست میں ایک بار پھر زلزلہ آ گیا ہے۔یہ محض ایک قیدی کے علاج کا معاملہ نہیں رہا، بلکہ اس فیصلے نے اقتدار کے ایوانوں، بالخصوص پاکستان مسلم لیگ (ن) کے خیمے میں ایک غیر معمولی ہیجان اور اضطراب پیدا کر دیا ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر ایک آئینی اور انسانی فیصلے پر حکومت اور اس کے اتحادی اتنے پریشان اور بوکھلاہٹ کا شکار کیوں ہیں؟ اور عدالتی فیصلے کو بدلنے یا اس پر معترض ہونے کے داو¿ پیچ کے پیچھے کون سی سیاسی حکمتِ عملی اور خوف کارفرما ہے؟آئینِ پاکستان کا آرٹیکل 9 اور آرٹیکل 14 ہر شہری کو زندگی اور ذاتی آزادی کا بنیادی حق دینے کے ساتھ ساتھ انسانی وقار کی ضمانت بھی فراہم کرتا ہے۔ جب کسی شہری کو عدالتی حکم کے تحت قید کیا جاتا ہے، تو ریاست اس کی آزادیِ تحرک تو سلب کر لیتی ہے، لیکن اس کے بنیادی انسانی حقوق، بالخصوص صحت اور زندگی کی حفاظت کی ذمہ داری براہِ راست ریاست اور حکومت کے سر آ جاتی ہے۔پاکستان کی سیاسی تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ برسرِ اقتدار آنے والی سیاسی جماعتیں جب اپنے مخالفین کو جیلوں میں ڈالتی ہیں، تو اکثر اوقات طبی سہولیات کو بھی ایک سیاسی ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ ماضی پر نظر دوڑائی جائے تو ذوالفقار علی بھٹو سے لے کر نواز شریف، آصف علی زرداری اور مریم نواز تک، سبھی نے دورانِ قید صحت کے شدید مسائل کا سامنا کیا۔ لیکن جب بھی عدالتوں نے انسانی بنیادوں پر یا طبی بورڈز کی سفارشات پر کسی رہنما کو ہسپتال منتقل کرنے کا حکم دیا، تو مخالف سیاسی دھڑے کی جانب سے تحفظات اور اعتراضات کے انبار لگا دیے گئے۔عمران خان کے معاملے میں بھی یہی تاریخ خود کو دہراتی ہوئی نظر آ رہی ہے۔ سپریم کورٹ کی جانب سے ہسپتال منتقلی کا حکم اصل میں آئینی اور قانونی تقاضوں کی ہی ایک کڑی ہے، جسے ایک عام قانون پسند اور مہذب معاشرے میں معمول کا اقدام سمجھا جانا چاہیے تھا۔ مگر ہماری بدقسمتی یہ ہے کہ ہم نے سیاست کو اس نہج پر پہنچا دیا ہے جہاں کسی رہنما کی بیماری اور علاج بھی شک و شبہ کی نظر سے دیکھے جاتے ہیں۔عدالتی فیصلہ سامنے آتے ہی مسلم لیگ (ن) کی ترجمانوں اور وزرا کی پریس کانفرنسز سے جو تاثر ابھرا، وہ قانون کی بالادستی کا احترام نہیں بلکہ ایک خاص قسم کا سیاسی اضطراب تھا۔ سوال یہ ہے کہ ن لیگ کے بیانیے میں اچانک اتنی تلخی اور تحرک کیوں دکھائی دینے لگا؟ ن لیگ کے لیے عمران خان کا جیل کی تنہائیوں سے نکل کر ہسپتال کے کمرے میں منتقل ہونا سیاسی طور پر انتہائی حساس معاملہ ہے۔ حکومت کو یہ خدشہ لاحق ہے کہ ہسپتال کی منتقلی سے پی ٹی آئی کے کارکنان اور ہمدردوں میں ایک نئی روح پھونک جائے گی۔ میڈیا کی تمام تر توجہ جیل کی سنسان دیواروں سے ہٹ کر ہسپتال کی عمارت پر مرکوز ہو جائے گی، جہاں رہنماو¿ں، وکلا اور حامیوں کی آمد و رفت کا سلسہ شروع ہو سکتا ہے۔ یہ منظرنامہ حکومت کے اس بیانیے کو کمزور کرتا ہے جس کے تحت عمران خان کو سیاسی میدان سے دور رکھنے کی کوشش کی جا رہی تھی۔ 2019 میں جب میاں نواز شریف کے پلیٹلیٹس گرے تھے اور عدلیہ نے ان کی ضمانت اور بیرونی ملک علاج کی اجازت دی تھی، تو اس وقت تحریکِ انصاف کی حکومت نے بھی شدید ردِ عمل کا اظہار کیا تھا اور اسے ‘این آر او’ سے تعبیر کیا تھا۔ آج جب پانسہ پلٹا ہے تو ن لیگ بالکل وہی رویہ دہراتی ہوئی نظر آ رہی ہے۔ سیاست دان اکثر بھول جاتے ہیں کہ جب وہ خود پر بیتنے والے مظالم پر فریاد کرتے ہیں، تو اقتدار میں آ کر دوسروں کے معاملے میں بھی وہی معیار قائم رکھنا ہوتا ہے۔”پاکستان کی سیاست کا سچ یہ ہے کہ یہاں انصاف کی تعریف اس بات پر منحصر ہوتی ہے کہ آپ اقتدار کے ایوان میں بیٹھے ہیں یا جیل کے زلزلہ زدہ صحن میں۔”حکومتی صفوں میں اس بات کا چرچا ہونا اور یہ دعویٰ سامنے آنا کہ "عدالتی فیصلے کے خلاف اپیل کی جائے گی یا اسے بدلنے کی کوشش کی جائے گی”، کئی سنگین آئینی سوالات کو جنم دیتا ہے۔ کیا عدالتوں کے فیصلوں کو اپنے سیاسی مفادات کے سانچے میں ڈھالنا ہی ریاستی حکمتِ عملی بن چکا ہے؟قانونی طور پر ہر فریق کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ عدالتی فیصلے کے خلاف اپیل یا نظرثانی (Review) کی درخواست دائر کرے، لیکن جب اس آئینی حق کو سیاسی تقاریر، جارحانہ پریس کانفرنسوں اور جذباتی بیانات کے ذریعے پیش کیا جاتا ہے، تو اس سے تاثر ملتا ہے کہ حکومت عدلیہ کے ساتھ محاذ آرائی کے موڈ میں ہے۔ عدلیہ پر یہ دباو¿ ڈالنے کی کوشش کی جاتی ہے کہ وہ اپنے فیصلے واپس لے یا ان کی روح کو تبدیل کرے۔جج صاحبان جب طبی رپورٹس، ڈاکٹروں کی مستند رائے اور آئینی شقوں کو سامنے رکھ کر فیصلہ دیتے ہیں، تو ان کا مقصد کسی ایک فریق کو سیاسی فائدہ پہنچانا نہیں ہوتا بلکہ قانون کی مساوی عملداری کو یقینی بنانا ہوتا ہے۔ لیکن جب برسرِ اقتدار جماعتیں کھلے عام فیصلوں کو تبدیل کرنے کے دعوے کرتی ہیں، تو اس سے عام عوام میں عدلیہ کے وقار اور اس کے آزادیِ عمل پر سوالات اٹھنے لگتے ہیں۔ یہ رویہ کسی ایک کیس تک محدود نہیں رہتا بلکہ ملک کے پورے عدالتی نظام کی ساکھ کو نقصان پہنچاتا ہے۔اس تمام صورتِ حال میں ذرائع ابلاغ اور سوشل میڈیا کا کردار بھی انتہائی خطرناک حد تک تقسیم ہو چکا ہے۔ خبریں بریک کرنے کی دوڑ میں اس بات پر تو لمبی بحثیں کی جاتی ہیں کہ سابق وزیراعظم کو کون سے کمرے میں رکھا جائے گا، ان کی حفاظت کے کیا انتظامات ہوں گے اور کون کون ان سے مل سکے گا، لیکن اس بنیادی نکتے کو پسِ پشت ڈال دیا جاتا ہے کہ ایک شہری اور قیدی کا بنیادی حقِ علاج کیا ہے۔حکومت یہ تاثر دینے کی کوشش کر رہی ہے کہ "عمران خان کو عدلیہ سے خاص رعایت مل رہی ہے اور یہ عام قیدیوں کے ساتھ زیادتی ہے”۔پی ٹی آئی کا موقف یہ ہے کہ "عدالت نے بالآخر انصاف کا پرچم بلند کیا ہے اور حکومت کے سیاسی انتقام کو بے نقاب کیا ہے”بیانیے کی اس جنگ نے ملک کے دیگر تمام سنگین معاشی، اجتماعی اور سیکیورٹی چیلنجز کو پسِ پشت ڈال دیا ہے۔ عوام جو تاریخی مہنگائی، بے روزگاری اور بجلی کے بھاری بلوں کے تلے پس رہے ہیں، ان کے لیے یہ بحثیں بے معانی ہو چکی ہیں کہ کون سا لیڈر کس ہسپتال میں منتقل ہو رہا ہے۔ مگر سیاسی اشرافیہ کی تمام تر توانائی اسی بات پر صرف ہو رہی ہے کہ مخالف کو کس طرح زیادہ سے زیادہ دباو¿ میں رکھا جائے۔پاکستان میں جب بھی انتظامیہ (Executive) اور عدلیہ (Judiciary) کے درمیان کسی ایک سیاسی نقطے پر اختلاف پیدا ہوتا ہے، تو ملک آئینی بحران کے دہانے پر پہنچ جاتا ہے۔ سپریم کورٹ کا حکم نامہ انتظامیہ کے لیے ایک پابندِ تعمیل امر ہے۔ اگر حکومت اس حکم کی تعمیل میں لیت و لعل سے کام لیتی ہے یا فیصلے کو ناکام بنانے کے لیے غیر معمولی راستے تلاش کرتی ہے، تو اس سے آئینی اداروں کے درمیان تصادم کا خدشہ پیدا ہو جائے گا۔تاریخ بتاتی ہے کہ جب بھی حکومتوں نے اعلیٰ عدلیہ کے فیصلوں کو کھلے دل سے تسلیم کرنے سے انکار کیا یا ان کی روح کے خلاف کام کیا، اس کا نتیجہ ہمیشہ جمہوری نظام کی کمزوری اور تیسری قوتوں کی مداخلت کی صورت میں نکلا۔ حکومت کو یہ یاد رکھنا چاہیے کہ آئین کی پاسداری ہی اس کی اپنی بقا اور مشروعیت (Legitimacy) کا بنیادی ستون ہے۔ اگر وہ عدالتی احکامات کو محض اس لیے جھٹلانے کی کوشش کرے گی کہ اس سے اس کا سیاسی حریف مضبوط ہوتا ہے، تو وہ خود اپنے پاو¿ں پر کلہاڑی مارے گی۔پاکستان کی تمام بڑی سیاسی جماعتوں کے لیے یہ لمحہ فکریہ ہے۔ آئین اور قانون کوئی ایسی موم کی ناک نہیں ہونے چاہئیں جسے اپنے مفاد کے مطابق موڑ لیا جائے۔ جو قانون آج عمران خان کے لیے لاگو ہوتا ہے، کل کو وہی قانون مسلم لیگ (ن) یا کسی بھی دوسری پارٹی کے رہنماو¿ں کے لیے بھی تحفظ کا ذریعہ بن سکتا ہے،جب ماضی میں ن لیگ اور پیپلز پارٹی کے رہنما جیلوں میں تھے، تو انہوں نے طبی سہولیات کی فراہمی کے لیے عدالتوں کا رخ کیا تھا اور عدالتی احکامات کے تحت ہی انہیں ہسپتالوں میں منتقل کیا گیا تھا۔ اس وقت انہوں نے عدلیہ کے ان اقدامات کو "انصاف اور قانون کی فتح” قرار دیا تھا اور حکومت کے اعتراضات کو "فاشزم” کہا تھا۔ آج وہی جماعتیں جب اقتدار میں ہیں، تو عمران خان کو ملنے والے طبی ریلیف کو "عدالتی تعصب” یا "خصوصی رعایت”کا نام دے رہی ہیں۔ یہ دہرا معیار اس بات کا ثبوت ہے کہ ہماری سیاسی اشرافیہ قانون کے احترام پر نہیں بلکہ صرف اور صرف اپنے سیاسی مفادات پر یقین رکھتی ہے۔سیاست دانوں کو یہ سمجھنا ہو گا کہ سیاسی انتقام اور دہرے معیار کا یہ چرخہ ہمیشہ گھوم کر واپس انہی کی طرف آتا ہے۔ اگر آج آئین اور انسانی حقوق کے بنیادی اصولوں کو اپنے سیاسی حریف کے خلاف پامال کیا جائے گا، تو کل اقتدار کا پانسہ پلٹنے پر یہی ناانصافی ان کا اپنا مقدر بنے گی۔پاکستان کا اصل مسئلہ کسی ایک رہنما یا پارٹی کی پسند و ناپسند کا نہیں، بلکہ آئینِ پاکستان کی بقا اور قانون کی بلا تفریق عملداری کا ہے۔ جب تک برسرِ اقتدار طبقہ عدالتی فیصلوں کو اپنے سیاسی مفاد کی کسوٹی پر پرکھتا رہے گا، اور جب تک صحت جیسے بنیادی انسانی حق کو سیاسی ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جاتا رہے گا، تب تک ملک میں سیاسی و معاشی استحکام آنا ناممکن ہے۔وقت کا تقاضا ہے کہ سیاست، عدلیہ اور ہسپتال کے چوراہے پر کھڑے اس ملک کو دائمی بحران سے نکالنے کے لیے بیانیے کی جنگ ختم کی جائے اور عدالتی احکامات کی روح کے مطابق پاسداری کی جائے۔ کیونکہ آئین اور قانون کی بلا تفریق بالادستی میں ہی ملک کی بقا، جمہوریت کی مضبوطی اور خود سیاسی قیادت کے اپنے مستقبل کا راز مضمر ہے۔

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے