#کالم

سیاسی اختلاف، مخالفت سے ذاتی دشمنی تک

rafeh s

رفیع صحرائی

سیاست دراصل اختلافِ رائے کو برداشت کرنے، دلیل کے ساتھ اپنا مو¿قف پیش کرنے اور عوام کے بہتر مستقبل کے لیے مختلف راستوں میں سے بہتر راستے کا انتخاب کرنے کا نام ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حقیقی سیاست دان بند گلی میں سے بھی راستا نکال لیتا ہے۔ جمہوریت میں سیاسی جماعتیں ایک دوسرے کی حریف ضرور ہوتی ہیں، ان کی آپس میں دشمنی نہیں ہوتی۔ افسوس کہ ہمارے ہاں گزشتہ کچھ عرصے سے سیاسی اختلاف نے ایسی شدت اختیار کر لی ہے کہ مخالف سیاسی جماعت کا رہنما تو درکنار، اس کا کارکن بھی ذاتی دشمن تصور کیا جانے لگا ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں سیاسی اختلاف اپنی صحت مند حدود سے نکل کر معاشرتی انتشار کا سبب بن جاتا ہے۔ایک زمانہ تھا جب سیاست کو ”جنٹلمین گیم“ کہا جاتا تھا۔ سیاسی رہنماو¿ں کے درمیان شدید اختلافات موجود ہوتے تھے، انتخابات کے دوران ایک دوسرے کے خلاف بھرپور مہم چلائی جاتی تھی، جلسوں میں سخت تقاریر بھی ہوتی تھیں مگر انتخابات ختم ہوتے ہی سیاسی درجہ حرارت معمول پر آ جاتا۔ مخالف رہنما ایک دوسرے کے گھروں میں آتے جاتے، دکھ درد میں شریک ہوتے اور قومی یا علاقائی مفاد کے معاملات پر مل بیٹھتے تھے۔ سیاسی کارکن بھی اپنی جماعت سے وفادار ہوتے ہوئے مخالف جماعت کے کارکن کا احترام ملحوظ رکھتے تھے۔ سب مل جل کر مسائل کے حل اور مفادِعامہ کے لیے کوشش کیا کرتے تھے۔آج منظرنامہ خاصا مختلف ہے۔ سیاست اب بہت سے لوگوں کے لیے محض نظریاتی وابستگی نہیں رہی بلکہ مستقل روزگار اور شناخت بن چکی ہے۔ اس فضا کو قائم کرنے میں غیرذمہ دار سیاست دانوں کا ہاتھ ہونے کے علاوہ سوشل میڈیا کا بھی اہم کردار ہے جس کا فائدہ ملک دشمن عناصر اور ایجنسیوں نے اٹھایا ہے۔ سوشل میڈیا نے سیاسی اختلاف کو ہر گھر تک پہنچا دیا ہے۔ سیاسی رہنماو¿ں کے ایک دوسرے کے خلاف سخت جملے چند لمحوں میں لاکھوں افراد تک پہنچ جاتے ہیں اور پھر کارکن اسی زبان کو مزید شدت کے ساتھ آگے بڑھاتے ہیں۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ دلیل کی جگہ گالی، کارکردگی کی جگہ کردار کشی اور سیاسی مقابلے کی جگہ ذاتی دشمنی لے لیتی ہے۔اب اسے بدقسمتی ہی کہا جائے گا کہ پچھلے دنوں آزاد کشمیر کے عام انتخابات کے دوران چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری بھی اپنی پارٹی کا سیاسی رواداری والا روایتی تشخص برقرار نہ رکھ سکے اور مسلم لیگ ن اور اس کے قائدین کے خلاف زیادہ سخت زبان استعمال کر بیٹھے حالانکہ وہ مرکز میں نہ صرف اس کے اتحادی ہیں بلکہ گلگت بلتستان میں اسی جماعت کے عملی تعاون سے حکومت بھی بنا چکے ہیں مگر آزاد کشمیر میں جیت کی خواہش میں انہوں نے اوور ایکٹنگ کر کے نفرت کی فضا پیدا کر دی۔مسلم لیگ (ن) کے صدر میاں محمد نواز شریف کا یہ کہنا بجا ہے کہ سیاسی مخالفت کو دشمنی میں تبدیل نہیں ہونا چاہیے۔ سیاسی جماعتوں کے درمیان اختلاف فطری ہے، لیکن اختلاف کو اس حد تک نہیں پہنچنا چاہیے کہ باہمی اعتماد، احترام اور جمہوری روایات ہی ختم ہو جائیں۔ وزیر اعظم شہباز شریف نے بھی اس امر کی طرف توجہ دلائی ہے کہ سیاسی اختلافات کو الزامات اور محاذ آرائی کے بجائے جمہوری روایات کے دائرے میں رہنا چاہیے۔ یہی رویہ کسی بھی مہذب جمہوری معاشرے کی پہچان ہوتا ہے۔ہماری سیاسی تاریخ بھی اس حقیقت کی گواہ ہے کہ محاذ آرائی کا انجام کبھی اچھا نہیں ہوا۔ 1990 کی دہائی میں مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی ایک دوسرے کی حکومتیں ختم کرنے کی سیاست میں الجھتی رہیں۔ جمہوری حکومتیں اپنی آئینی مدت پوری نہ کر سکیں، ادارے کمزور ہوئے اور عوام کے اندر جمہوری نظام کے بارے میں مایوسی پیدا ہوئی۔ بعدازاں پرویز مشرف کے دور میں دونوں بڑی جماعتوں نے سیاسی دباو¿ اور انتقامی کارروائیوں کا سامنا کیا تو انہیں احساس ہوا کہ ایک دوسرے کو ختم کرنا کسی کے مفاد میں نہیں۔اسی احساس کا نتیجہ میثاقِ جمہوریت کی صورت میں سامنے آیا۔ یہ اس بات کا اعتراف تھا کہ سیاسی جماعتیں ایک دوسرے کے وجود، مینڈیٹ اور جمہوری حق کا احترام کیے بغیر جمہوریت کو مضبوط نہیں کر سکتیں۔ 2008 کے بعد بھی مرکز اور پنجاب میں مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کے درمیان سیاسی تعاون کی مثالیں سامنے آئیں۔ اس سے ثابت ہوا کہ شدید اختلاف رکھنے والی جماعتیں بھی قومی اور عوامی مفاد کے لیے ایک میز پر بیٹھ سکتی ہیں۔اصل مسئلہ اختلاف نہیں، اختلاف کا طریقہ ہے۔ حکومت کی پالیسی پر تنقید اپوزیشن کا حق ہے اور اپوزیشن کی غلطیوں کی نشاندہی حکومت کی ذمہ داری۔ لیکن تنقید اس وقت خطرناک ہو جاتی ہے جب وہ ذاتی الزامات، کردار کشی اور نفرت انگیز زبان میں تبدیل ہو جائے۔ ٹی وی ٹاک شوز، جلسوں اور خصوصاً سوشل میڈیا پر استعمال ہونے والی زبان کا اثر صرف سیاست دانوں تک محدود نہیں رہتا۔ کارکن اسے اپنے رویے کا حصہ بنا لیتے ہیں اور یوں سیاسی تقسیم معاشرتی تقسیم میں تبدیل ہو جاتی ہے۔ یہ تقسیم ملکی و قومی یکجہتی کے لیے زہرِ قاتل ثابت ہوتی ہے۔یہ بھی سوچنے کی ضرورت ہے کہ اگر سیاسی رہنما اپنے مخالف کو غدار، چور، دشمن یا ملک دشمن قرار دیتے رہیں گے تو ان کے کارکن ایک دوسرے کے بارے میں کیا تاثر قائم کریں گے؟ جب سیاسی اختلاف خاندانوں، برادریوں اور دوستوں کے تعلقات میں دراڑ ڈالنے لگے تو یہ صرف سیاست کا مسئلہ نہیں رہتا بلکہ پورے معاشرے کا مسئلہ بن جاتا ہے۔ سیاست دانوں کا فرض ہے کہ سیاست کو لوگوں کو تقسیم کرنے کے بجائے مسائل کے حل کے لیے استعمال کریں۔ دشمنی کو پیدا کر کے بڑھاوا دینا غیرسیاسی عمل ہے۔آزاد کشمیر جیسے حساس خطے میں سیاسی قیادت کی ذمہ داری مزید بڑھ جاتی ہے۔ بھارت پہلے ہی پاکستان اور آزاد کشمیر کے بارے میں سیاسی و سفارتی پروپیگنڈا کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتا۔ ایسے ماحول میں ہماری سیاسی جماعتوں کو اپنے اختلافات ضرور رکھنے چاہئیں مگر یہ اختلاف دشمن کے لیے تماشہ نہیں بننا چاہیے۔ قومی مفادات پر اتفاقِ رائے اور سیاسی معاملات پر اختلاف، دونوں بیک وقت ممکن ہیں۔ امید ہے وہاں پر اگلے انتخابی مرحلے میں سیاست دان ذمہ داری کا مظاہرہ کریں گے۔اس وقت پاکستان کو سیاسی استحکام کی شدید ضرورت ہے۔ معیشت کی بہتری، سرمایہ کاری میں اضافہ، روزگار کے مواقع، تعلیم و صحت کے مسائل کا حل اور اداروں کا استحکام ایک پرسکون سیاسی ماحول کے بغیر ممکن نہیں۔ حکومت اگر بہتر کارکردگی دکھائے گی تو عوام خود فیصلہ کریں گے، اور اگر کارکردگی ناقص ہو گی تو جمہوری عمل کے ذریعے اسے مسترد بھی کر دیں گے۔ یہی جمہوریت کا حسن ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ تمام سیاسی جماعتیں اپنے کارکنوں کے لیے باقاعدہ ضابط? اخلاق مرتب کریں۔ سوشل میڈیا پر نفرت انگیز مہم، ذاتی حملوں، جھوٹے الزامات اور مخالفین کی تضحیک کی حوصلہ شکنی کی جائے۔ سیاسی جماعتوں کے قائدین خود مثال قائم کریں، کیونکہ کارکن وہی زبان سیکھتے ہیں جو قیادت استعمال کرتی ہے۔ پارلیمان کو بھی ایسا ماحول فراہم کرنا چاہیے جہاں سخت اختلاف کے باوجود ایک دوسرے کے احترام کی روایت برقرار رہے۔حقیقت یہ ہے کہ آج کا سیاسی حریف کل کا اتحادی بھی بن سکتا ہے۔ تاریخ میں ایسے بے شمار مواقع آئے ہیں جب کل کے مخالف آج ایک میز پر بیٹھے نظر آئے۔ اس لیے سیاست میں پل جلانے کے بجائے راستے کھلے رکھنے چاہئیں۔ اقتدار عارضی ہے، سیاسی جماعتیں بھی بدلتی رہتی ہیں، لیکن ریاست، معاشرہ اور عوام مستقل ہوتے ہیں۔پاکستان کو ایسی سیاست کی ضرورت ہے جس میں مقابلہ ضرور ہو مگر دشمنی نہ ہو، تنقید ہو مگر تضحیک نہ ہو، اختلاف ہو مگر نفرت نہ ہو اور سیاسی جنگ ہو مگر قومی یکجہتی متاثر نہ ہو۔ سیاسی جماعتوں کو ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کے بجائے اپنی کارکردگی سے بہتر ثابت کرنا چاہیے۔ آخرکار عوام فیصلہ کریں گے کہ کون بہتر ہے۔سیاسی اختلاف جمہوریت کی خوبصورتی ہے، مگر سیاسی دشمنی جمہوریت کی کمزوری۔ وقت کا تقاضا ہے کہ ہم اختلاف کو برداشت کرنا، مخالف کو عزت دینا اور قومی مفاد کو جماعتی مفاد پر ترجیح دینا سیکھیں۔ یہی رویہ پاکستان میں مضبوط جمہوریت، مستحکم سیاست اور بہتر مستقبل کی بنیاد بن سکتا ہے۔

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے